حسرت موہانی وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز - حسرت موہانی

کاشفی

محفلین
غزل​
(حسرت موہانی)​
​
وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز​
اک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے ناز​
​
اُس نازنیں پہ ختم ہیں سب شیوہائے ناز​
جس کو بنا کے خود بھی ہے نازاں خدائے ناز​
​
کیا کیا نہ آرزو کے بڑھیں دل میں حوصلے​
رکھ دیں کبھی جو فرقِ ہوس پردہ پائے ناز​
​
اربابِ اشتیاق ہیں اور انتہائے شوق​
حالانکہ حُسن یار ہے اور ابتدائے ناز​
​
کچھ یوں ہی اپنے حُسن پر مغرور تھا وہ شوخ​
کچھ لے اُڑی ہے اور بھی اسکو ہوائے ناز​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top