وہ خوگر ہیں اگر جور و جفا کے - مضطر بدایونی

کاشفی

محفلین
غزل​
(جناب مضطر بدایونی)​
​
وہ خوگر ہیں اگر جور و جفا کے​
تو بندے ہم بھی ہیں صبر و رضا کے​
​
میں قربان آپ کے ظلم و ستم پر​
میں صدقے آپ کی جور و جفا کے​
​
پریشان پھر رہی ہیں کیوں نگاہیں​
اُٹھا دیں مل کے سب پردے حیا کے​
​
نہیں بیباکیاں اچھی ستم گر​
ابھی دن ہیں ترے شرم و حیا کے​
​
پڑے گا صبر مضطر کا کسی دن​
بہت پچھتاؤ گے اس کو سَتا کے​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top