نیویارک ٹائمز اور شمس الرحمن فارقی کی گفتگو

افضل حسین

محفلین
محمد خلیل الرحمٰن صاحب لیجئے ترجمہ پیش ہے

شمس الرحمٰن فاروقی نے مشہور شاعر داغ دہلوی کی والدہ محترمہ وزیر خانم کی زندگی اور عہد سے متعلق 984 صفحہ کا ناول "کئی چاند تھے سرے آسمان" کا انگریزی ترجمہ "دی مرر آف بیوٹی " کے نام سے شائع کیا ہے





سوال :

آپ نسبتاً چھوٹے شہر الہ آباد میں رہتے ہیں اور آپ کے کام کو زیادہ تر اردو بولنے والے یا تعلیمی دنیا سے متعلق افراد ہی پڑھتے ہیں ۔ مشہور مصنف آرہن پامک اچانک آپ کی کتاب کو ایک فاضلانہ اور حیرت انگیز تاریخی ناول گردانتے ہیں۔ کیا یہ عالمی ادبی دائرے میں داخل ہونے جیسا ہے؟

جواب:

میں ان ساری باتوں سے متعلق پُر یقین نہیں ہوں ۔ میں خود کو ان ساری توجہات کے لائق نہیں سمجھتا۔ میں نے اپنے مدیر کو کہاتھاکہ میں خود کو چھوٹا سمجھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ مجھے بہت زیادہ عظیم بنارہے ہیں ۔ میں ان چیزوں سے بہت دور ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں اپنے لوگوں کی بہت زیادہ تنقید کا سامنا کیا ہے اور محبت ،ستائش بھی پائی ہے۔اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ میں عالمی ماحول میں ہوں یا الہٰ آبادجیسا پسماندہ شہر میں۔ اگر آرہن پامک میرے متعلق اچھی بات لکھتے ہیں تو مجھے خوشی ہے اور اگر نہیں لکھتے تو کوئی گلہ نہیں۔


سوال

انگریزی میں لکھنے والے عام طور پر عالمی قارئین فرض کیے جاسکتے ہیں۔ گرچہ اردو کم از کم ہندستان میں ڈیرھ سو سال قبل رابطے کی زبان تھی اس کے معاصر ادب مخصوص سامعین رکھتے ہیں ۔ سامعین کی تبدیلی آپ کے ترجمے کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

جواب

یہ ناول اردو وژن سے قدرے طویل ہے کیونکہ مجھے کچھ خاص چیزوں کی وضاحت کرنی تھی۔ اور یہ قطعی ہے کہ اردو کے دوشعر کا ترجمہ انگریزی میں چار پانچ سطروں تک پھیل جاتا ہے۔ترجمہ کا ایک اصول یہ ہے کہ جب تک وہ ترجمہ ترجمہ نہ لگے وہ ناقص ہے۔ مگر میں اس اصول سے قطعی اتفاق نہیں رکھتا کیونکہ جب آپ کوئی مخصوص قسم کی تہذیب اور علامت کو منتقل کررہے ہیں جو کہ بالکل اجنبی ہے ، یہ قارئین کے تئیں غیر منصفانہ ہے کہ آپ اسے ہر وقت یہ احساس دلائیں کہ "ہاں ، میں انگریزی کی شکل میں اعلٰی قسم کی اردو پڑھ رہا ہوں" ۔ جیسے کوئی انگریز عورت ہندوستانی لباس پہنے ہوئے ہو۔

سوال:

قالین بنُنے سے لے کر درباری آداب تک آپ نے انیسویں صدی کی دہلی سے متعلق کیسے تحقیق کی اور اس وقت کی دنیا کو دوبارہ کیسے دکھایا ہے ؟

جواب

میں کوئی باضابطہ رسمی تحقیق نہیں کرتا ۔ جیسے لکھتا گیا اور کچھ خاص تفصیل کی ضرورت محسوس ہوئی تو چند کتابوں سے رجوع کی زیادہ تر تاریخ کے لئے۔یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ ناول ہمیشہ میرے ذہن میں بے ترتیب ، بے شناخت موجود تھا ۔حقائق، یادیں، نقش اور میراذاتی مطالعہ جو اس ناول کو کمپوز کرنےسے پہلے کیا ،یہ ساری چیزیں موجود تھیں۔ایک بے ترتیبی سی تھی بالخصوص اس لئے کہ میں نے وزیر خانم بحثیت اہم کردار ناول لکھنے کا آئڈیا نہیں تھا۔

بے شک ، ماقبل جدید فارسی اور اردو شاعری کی محبت نے مجھے مالامال کیا۔بعد جو میں نے محسوس کیا ہے وہ یہ کہ داستان امیر حمزہ جو کہ زبانی رومانس پر مبنی ہے چھیالیس حجم اور بیالیس ہزار سے زائد صفحات اور دو کڑوڑ سے زائد لفظوں کو میں تقریبا 1980سے پڑھ؂ رہا ہوں، اور کچھ صورتوں میں دوبارہ مطالعہ کیا وہ غیر اردی طور پہ مجھ میں سما گئے۔ میں کولمبیا یونیورسیٹی کے پروفیسر فرانسس پرٹکٹ کا ہمیشہ ممنون رہونگا جنہوں نے میری توجہ اس جانب مبذول کرائی


سوال

آپ نے اردو اور انگریزی دونوں ناولوں کےلئے خود کو انیسویں صدی کے فرہنگ تک محدودکر رکھا ہے۔"دی مرر آف بیوٹی" قابل مطالعہ ہے مگر اردو ناول کیا دیسی اردو داں کے لئے چیلنج نہیں ہے؟

جواب

لوگ اسے اس کی وسعت کی وجہ سے پسند کرتے ہیں ۔مگر ہر کوئی شاکی ہے کہ آپ نے کوئی فرہنگ نہیں دیا ، آپ کو فارسی کا ترجمہ دینا چاہئے تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان سے بھی لوگوں نے شکایت کی ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ مقبول نہیں ہے۔اس کے دو ایڈیشن چار سال میں نکل گئے ۔جو اردو ناول کے لئے غیر معمولی ہے۔میں نے شعوری طورپر اس کو ایسی زبان میں لکھا ہے جو کہ آج زیادو تر لوگوں کے فہم سے بالا تر ہے۔ میں اپنے تخیل سے وفادار رہنا چاہتا تھا ۔

سوال

ہندوستانی اور پاکستانی انگریزی کے مصنفین کے درمیان مضبوط ربط ہے۔وہ ایک دوسرے کی کتابوں پر تجزیہ کرتے ہیں، ایک دوسے کی تہواروں میں شرکت کے لئے سفر کرتے ہیں۔ ایک ہی ایوارڈ فہرست شیئر کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے اردو مصنفین کی کیا صورتحال ہے۔

جواب

نجی سطح پر بہت زیادہ دوستی ہے ، کافی آنا جانا لکھنا پڑھنا بھی ہے۔مگر یہ بہت نہیں ہے ۔ میں ایک پاکستانی مصنف یا کتاب کو بہت لگن سے پروموٹ کرسکتاہوں لیکن پاکستانی ادبی ادارے ہندوستانی مصنفین کو اتنی لگن سے پرموٹ کرنے میں جھجھکتے ہیں۔تقریباً ہر اہم مصنف جن کا انتقال پاکستان میں ہوا ہے یا جنہیں پاکستانی خیال کیا جاتا ہے جیسے فیض احمد فیض ، سعادت حسن منٹو سے متعلق ہر کسی نے ہندوستان میں لکھا مگر آپ اس کے مقابلے میں کوئی مثال پاکستان میں نہیں پا سکتے ۔بصورت دیگر وہ لوگ بہت خوش گوار ہیں، وہ آپ کو کھلائیں گے ، پلائیں گے

سوال

آپ نے اے ایس بیٹ اور پیٹر اکرائڈ کے تاریخی افسانوں کی تئیں اپنی دلچسپی کا ذکر کیا ہے۔کیا ہندوستان بالخصوص اس کی مغلیہ تاریخ کے حوالے سے کوئی افسانہ دیکھا آپ نے ؟

جواب

انگریزی میں امیتابھ گھوش کے ناول جو میں نے پڑھے اور پسند کیے "سی آف پاپیز""ریور آپ اسموک" ۔ ان میں بہت ساری تاریخ داخل ہوگئی ہیں۔گرچہ یہ ایک محدود خطہ بنگال میں انیسویں صدی کی شروع اور اٹھارہویں صدی کی آخر کے میں افیم کی تجارت سے متعلق ہیں ۔انہیں اس کے مواد پر یقینی طور پر مکمل گرفت ہے۔

سوال

آپ نے کہا کہ "دی مرر آف بیوٹی"صرف ماضی کا خوشگوار سفر جیسا نہیں ہے ۔ کیا آپ اس متعلق مزید تفصیل بتائیں گے

جواب

میں امید کررہا تھا اگرنوجوان حضرات اس کتاب کا مطالعہ کریں تو خود سے متعلق بہت کچھ جان سکیں گے ۔ وہ کہاں سے آئے، ان کی تشکیل کیسے ہوئی ، بٹوارے کا درد،1857سے قبل کی دنیا سے الگاؤ۔گرچہ یہ ٹوٹ رہا تھا۔ وہ لوگ خود آگاہ دنیا رکھتے تھے۔وہ اپنی قدر و قیمت سے آگاہ تھے ، انکی ثقافت دنیا کی کسی اور سماج اور ثقافت سے مکمل مقابلے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

کسی بھی صور ت میں ہر ماضی کو دوبارہ سیر کرنا قیمتی ہے اگرچہ وہ ممکنہ طور پہ گندا ہو ۔ لیکن یہ ماضی تو گندا نہیں ہے۔یہ ماضی تو معزز ہے۔ یہ ماضی مزید خواندہ ہے، مزید مہذب ۔ زیاہ بنا ٹھنا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ اس کے مطالعہ کی زحمت اٹھائیں گے وہ اسے مطالعے کے لئے ان معنوں میں آسان پائیں گےکہ کہانی چلتی رہتی ہے اور آپکی دلچسپی قائم رکھتی ہے اور باالآخر وہ لوگ جان پائیں گے کہ وہ کہاں سے آئے اور وہ کیا تھا۔
 
مدیر کی آخری تدوین:
بہت خوبصورت ترجمہ ہے جناب۔ بہت داد قبول فرمائیے۔ کئی مرتبہ ہم نے کتب فروش کے پاس ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ دیکھی اور جی للچا گیا، لیکن قیمت دیکھ کر خریدنے سے باز رہے۔ بہر حال کتاب تو خریدنی ہے۔ آج نہیں تو کل سہی۔ کوئی ایک دن ایسا آئے گا جب ہم ہر قسم کے احتیاط کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر اس کتاب کو ضرور خرید لیں گے۔ اب تو آپ کی اس تحریر نے مہمیز کا کام کیا ہے۔ اب اردو اور انگریزی دونوں کتابیں خریدنی ہوں گی۔
 
Top