نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم ٪20 ایڈوانس کی شرط سامنے آ گئی

زیرک

محفلین
نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم ٪20 ایڈوانس کی شرط سامنے آ گئی
نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم ٪20 ایڈوانس کی شرط سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم منصوبے میں مکان حاصل کرنے کے خواہشمند افراد پر لازم ہو گا کہ ان کے نام پہلے سے کوئی مکان نہ ہو اور ان کو مکان کی کل لاگت کا ٪20 ایڈوانس میں ادا کرنا ہو گا اور انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سکیم میں حاصل کئے گئے مکان کی قسطیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی بھی استطاعت رکھتے ہوں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت مکان خریدنے کے خواہشمند افراد اگر زیادہ ایڈوانس دینا چاہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ہوں گے۔
 

فرقان احمد

محفلین
نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم ٪20 ایڈوانس کی شرط سامنے آ گئی
نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم ٪20 ایڈوانس کی شرط سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم منصوبے میں مکان حاصل کرنے کے خواہشمند افراد پر لازم ہو گا کہ ان کے نام پہلے سے کوئی مکان نہ ہو اور ان کو مکان کی کل لاگت کا ٪20 ایڈوانس میں ادا کرنا ہو گا اور انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سکیم میں حاصل کئے گئے مکان کی قسطیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی بھی استطاعت رکھتے ہوں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت مکان خریدنے کے خواہشمند افراد اگر زیادہ ایڈوانس دینا چاہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ہوں گے۔
گو کہ تجویز اپنی جگہ نہایت معقول ہے تاہم اس طرح مکانات کی تعداد بہت زیادہ کم ہونے کا امکان ہے اور مزید یہ کہ اس آئیڈیا میں پہلے جیسی کشش بھی نہیں رہے گی۔ دانشوران تو پہلے ہی بتا اور سمجھا چکے ہیں کہ اس پراجیکٹ میں بہت سے جھول ہیں اور ہوم ورک کی بھی شدید کمی ہے۔ تاہم، اب رفتہ رفتہ اس آئیڈیا کو ریشنلائز کیا جا رہا ہے اور اس مرحلے پر ایسا کر لیا جائے تو حکومت مزید سبکی سے بچ سکتی ہے۔
 

زیرک

محفلین
گو کہ تجویز اپنی جگہ نہایت معقول ہے تاہم اس طرح مکانات کی تعداد بہت زیادہ کم ہونے کا امکان ہے اور مزید یہ کہ اس آئیڈیا میں پہلے جیسی کشش بھی نہیں رہے گی۔ دانشوران تو پہلے ہی بتا اور سمجھا چکے ہیں کہ اس پراجیکٹ میں بہت سے جھول ہیں اور ہوم ورک کی بھی شدید کمی ہے۔ تاہم، اب رفتہ رفتہ اس آئیڈیا کو ریشنلائز کیا جا رہا ہے اور اس مرحلے پر ایسا کر لیا جائے تو حکومت مزید سبکی سے بچ سکتی ہے۔
جلد بازی میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے کیے گئے سیاسی فیصلوں میں ہمیشہ جھول ہوا کرتی ہے۔ سیاسی فیصلوں میں تکنیکی خرابیاں ہوتی ہیں جنہیں بعد میں دور کیا جاتا ہے جس سے پروگرام کی اساس پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ ٪20 ایڈوانس کی شرط سے غربت کی لکیر سے نیچے بستے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اس شرط سے متوسط طبقہ ہی فیض یاب ہو سکتا ہے، لیکن افسوس اصل حقدار غریب اس کے فیض سے محروم ہی رہیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
، لیکن افسوس اصل حقدار غریب اس کے فیض سے محروم ہی رہیں گے۔
غریبوں کے لئے سوشل ہاؤسنگ کی سکیمیں دیگر ترقی پزیر ممالک جیسے چین میں بھی لائی گئیں۔ لیکن افسوس ان گھروں کی لاگت اتنی زیادہ تھی یا وہ مکانات اتنی گمنام مقامات پر بنائے گئے کہ حکومت کی طرف سےہر قسم کی پیشکش کو عوام نے خود ہی رد کردیا۔ آج ان ویران نو آبادیوں کو بھوت قصبوں یا شہروں کا نام دے دیا گیا۔
 

زیرک

محفلین
غریبوں کے لئے سوشل ہاؤسنگ کی سکیمیں دیگر ترقی پزیر ممالک جیسے چین میں بھی لائی گئیں۔ لیکن افسوس ان گھروں کی لاگت اتنی زیادہ تھی یا وہ مکانات اتنی گمنام مقامات پر بنائے گئے کہ حکومت کی طرف سےہر قسم کی پیشکش کو عوام نے خود ہی رد کردیا۔ آج ان ویران نو آبادیوں کو بھوت قصبوں یا شہروں کا نام دے دیا گیا۔
پاکستان میں بڑھتی آبادی، گھروں کی کمی، شہروں میں مہنگی زمینوں اور تعمیراتی اخراجات کو دیکھتے ہوئے زیادہ مناسب ہو گا کہ افورڈایبل بنیادوں پر گھروں کی بجائے فلیٹ بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ گھروں کے مقابلے فلیٹوں کی لاگت بھی کم ہوتی ہے اور اس لیے زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ 5 یا 4 منزلہ عمارات پر مبنی فلیٹس بنائے جائیں۔ جس سے جگہ بھی کم درکار ہو گی، تعمیراتی اخراجات بھی کمی ہوں گے اور خریدار کے لیے بھی سہولت ہو گی۔
 

جاسم محمد

محفلین
گھروں کے مقابلے فلیٹوں کی لاگت بھی کم ہوتی ہے
سستے فلیٹس چین میں بھی بنائے گئے تھے مگر لوگوں نے دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ آج زیادہ تر گھر خالی پڑے ہیں یابیرونی سرمایہ کاروں نے قیمتیں بڑھنے(منافع) کی غرض سے لے رکھے ہیں۔
سرکار کے تعمیر کردہ گھروں کا فائدہ صرف اسی صورت ہو سکتا ہے جب عوامی دلچسپی کے ساتھ ساتھ ان کو خریدنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔
چین معاشی لحاظ سے بہت مضبوط ملک ہے۔ وہ سرکاری وسائل کا نقصان برداشت کر سکتا ہے۔ البتہ پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ ہاؤسنگ سکیم میں نقصان یا گھاٹاملک برداشت نہیں کر پائے گا۔ اور اپنے ساتھ پوری معیشت کو لے ڈوبے گا۔
 

زیرک

محفلین
سستے فلیٹس چین میں بھی بنائے گئے تھے مگر لوگوں نے دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ آج زیادہ تر گھر خالی پڑے ہیں یابیرونی سرمایہ کاروں نے قیمتیں بڑھنے(منافع) کی غرض سے لے رکھے ہیں۔سرکار کے تعمیر کردہ گھروں کا فائدہ صرف اسی صورت ہو سکتا ہے جب عوامی دلچسپی کے ساتھ ساتھ ان کو خریدنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔
چین میں اس سکیم کے تحت کوئی بھی خریدار یہ فلیٹس خرید سکتا تھاجس کی وجہ سے یہ سکیم زیادہ کامیاب نہ ہو سکی، لیکن پاکستانی سکیم میں یہ مثبت بات ہے کہ صرف غریب حقدار اور پہلے سے مکانوں یا گھروں کے مالک یہ جائیداد نہیں خرید سکیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ٪20 کی پخ لگانے سے اصل غریب طبقہ اس کے ثمرات سے محروم ہو جائے گا اور اس طرح یہ برین چائلڈ بھی برین ڈیتھ کا شکار ہو جائے گا۔ اس سکیم کی کامیابی اسی میں ہے کہ پہلے اسے اس کے خریدار کی استطاعت کے حساب سے آسان بنایا جائے۔کئی مثالیں ایسی ہی جیسے ممبئی میں سلم یا کچی بستی والوں سے ایک حصہ لے کر وہاں ان کو فلیٹس بناکر دئیے گئے، اور یوں زمین کے قابضین یا مالک، سرمایہ کار، بلڈر اور خریدار کی ٹرائیکا کی وجہ سے اس سکیم کو کچھ کامیابی ملی ہے۔ یاد رہے کہ اکثر شہروں کی کچی بستیوں کی زمینیں اب بڑی قیمتی ہو گئی ہیں کیونکہ اب یہ شہر کے اندر آ گئی ہیں۔ اکثر کچی بستی والوں کو عدالت نے مالکانہ حقوق بھی دیے ہوئے ہیں۔ ممبئی کی طرز پر کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت بڑے شہروں میں یہ سکیم شروع کی جا سکتی ہے۔
 
Top