نواز شریف کے نادہندہ ہونے کا ثبوت

اگر پورے ملک میں یہ مسائل ہیں تو پھر ثابت ہوتا ہے کہ جو جو ملک برسر اقتدار ہے وہ تباہی اور بربادی کا حصہ دار ہے۔

سادہ طریقہ سے لیں تو یہی ظاہر ہوتا ہے
مگر جو لوگ آصل میں اقتدار میں ہیں ان کی کوتاہی ہے۔ جو لوگ اصل میں اقتدار میں ہیں ان کو اقتدار سے ہٹانا اہم بات ہے۔ یہی تبدیلی ہوگی۔ میری دانست میں پی ٹی ائی ان ہی لوگوں کو اقتدار میں رکھنے کا باعث بنے گی جو ان خرابیوں کے اصل ذمہ دار ہیں۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
15 اپریل تک تو یہی نظر آ رہا ہے کہ ن لیگ پہلے نمبر پر آئے گی، پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر آئے گی، تیسرے نمبر پر آنے کے لیے تحریک انصاف کو بہت جدوجہد کرنا پڑے گی ۔۔۔ تیسری پوزیشن کے لیے سخت مقابلہ ہو گا ۔۔۔ تحریک انصاف کے چاہنے والوں کو شاید یہ بات بعید از قیاس معلوم ہو لیکن آثار سے تو یہی معلوم ہوتا ہے ۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے پاس ووٹ بنک نہیں ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ پارٹی منظم نہیں ہو سکی۔ لے دے کر میڈیا چینلز پر اشتہاری مہم چلائی جائے گی اور دو تین بڑے جلسوں پر انحصار کیا جائے گا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اتنے کم عرصے میں ایک بڑی لہر کا پیدا ہونا نہایت مشکل ہے ۔۔۔ دیکھتے ہیں تحریک انصاف کے دیوانوں کی طرف سے "غیر متفق" کی کتنی ریٹنگز آتی ہیں۔ :)
 

ساجد

محفلین
ساجد صاحب یا تو آپ بہت سادہ ہیں یا پھر ویسے ہی بحث کو طول دے رہے ہیں
بات صرف اتنی ہے کہ پنجاب کے سابق حکمران عوام کی توقعات پر پورے نہیں اُترے حالانکہ اُن کے ہاتھ کسی کے اشتراک یا الحاق سے بندھے ہوئے نہیں تھے اس لیے اُسے مطلق العنان لکھا
وہ اپنی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان و مال کی حفاظت کو نبھانے سے قاصر رہے
مزید یہ کہ بجلی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی کی طرف توجہ دینے سے قاصر رہے
وہ اس قابل بھی نہ تھے کہ پنجاب میں دیگر صوبوں کے مساوی لوڈشیڈنگ کا شیڈول بنوا لیتے
اُن کے ممبران اسمبلی جرائم میں ملوث بھی رہے اور انصاف کی فراہمی میں روکاوٹ بھی بنتے رہے بیڈ گورنس کی اتنی اعلیٰ مثال شاذ ہی ملے گی
عمران خان ایک سیاسی راہنما ہے ۔ اُس نے اپنی جماعت میں نچلے درجے تک جمہوری عمل کو فروغ دینے کی روایت ڈالی ہے
جو اس سے پہلے صرف جماعت اسلامی کا امتیاز تھا
اب آپ اور ن لیگ کے مداحین کی توجہ صرف اس بات پرہے کہ عمران خان حکومت نہیں بنا سکے گا اس لیے اُسے نظر انداز کرنا عقلمندی کا تقاضا ہے
جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ تبدیلی کے لئے پہلا قدم ہم نے ہی اُٹھانا ہے جس نے ہمارے جان و مال کی حفاظت نہیں کی جس نے ہماری بنیادی ضروریات پوری نہیں کیں اُسے مسترد کرنا اور نئے لوگوں کو موقع دینا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے
میں اس حق میں ہوں کہ دو بار سے زیادہ وزیرِ اعظم یا وزیرِ اعلیٰ بننے پر پابندی برقرار رہنی چاہیئے تھی اس سے آپ کی سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوری رویوں کو فروغ ملتا
زرقا بہن مجھے صرف یہ بتائیے کہ میں نے آپ سے بات کرتے وقت کہاں اور کب نواز شریف یا کسی اور پارٹی کی حمایت کے لئے کہا؟؟؟۔ اگر آپ جمہوریت کی بات کرتی ہیں تو آپ کو اپنے اندر برداشت بھی پیدا کرنا ہو گی اور بات کو پوری طرح سمجھنے کی عادت اپنانا ہو گی۔ ایک ہی بات کو بار بار دہرانا اور دوسروں کے بارے میں خود ہی سے رائے قائم کرنا اورا س رائے کی بنیاد پر اعتراضات اٹھاتے جانا دراصل بحث کو طول دینے کا سبب بنتا ہے ۔
کسی بھی سیاسی پارٹی پر انضباطی و انتظامی ناکامی کے حوالے سے لکھنے کے لئے میرے پاس آپ سے کہیں زیادہ مواد موجود ہے لیکن اس سے کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا ۔
جذبات میں بہتے ہوئےایک بار پھر مجھے ن لیگ کے مداحین میں شمار کرنے کا شکریہ۔
والسلام
 

ساجد

محفلین
ساجد، مجھے امید نہیں تھی کہ ایسا ناپختہ تجزیہ کریں گے آپ۔ پی پی کو فائدہ ہوگا ، پی پی کا حشر دیکھیے گا ذرا چند ہی دنوں میں اور پھر بتایئے گا کہ فائدہ کس کو ہوا اور نقصان کسے۔

پی پی میدان میں ہی نہیں ہے اور اس حقیقت کا عمران اور نواز دونوں کو بخوبی علم ہے اس لیے دونوں کی توپوں کا رخ ایک دوسرے کی جانب ہی ہے پی پی کی طرف نہیں ۔

ق لیگ اب گرد راہ ہے جو کسی کے جوتوں سے لگ کر کہیں پہنچنے کی کوشش میں ہے مگر کہیں پہنچ بھی جائے تو رہے گی جوتوں کی خاک ہی۔
محب یہ تو 11 مئی کو ہی فیصلہ ہو گا کہ کون کہاں کھڑا ہے لیکن آپ کے مراسلے کا آخری فقرہ کپتان کا لہجہ لئے ہوئے ہے ۔:)
 

ساجد

محفلین
بڑی سادہ سی بات ہے ساجد ، کہ مقابلہ پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ ہے پی پی کے ساتھ نہیں اور دوسرا پی پی نے اپنی تباہی کے لیے خود ہی کافی سامان کر لیا ہے، توجہ اس حریف پر دینے کی ضرورت ہے جو میدان میں طاقت کے ساتھ کھڑا ہے ۔ زرداری کے بارے میں بار بار عمران کہہ چکا ہے کہ اس نے جتنا نقصان اپنی ہی پارٹی کو پہنچا دیا ہے کسی اور نے نہیں پہنچایا ۔ ہزاروں دفعہ اس کے سوئس اکاؤنٹس کی بات کر چکا ہے اور اب بھی بار بار یہ دہراتا رہتا ہے کہ زرداری نے سب کی قیمت لگا دی اور سب کو اس حمام میں ننگا کر دیا۔ آپ پتہ نہیں کیا سننا چاہ رہے ہیں۔

مشرف کے بارے میں بھی کئی بار بات کر چکا ہے اور ابھی 11 اپریل کے پروگرام میں کاشف عباسی سے بات کرتے ہوئے ہی کہا ہے کہ اب نواز شریف جو بہت شور مچاتا تھا ، اب سعودیہ چکر لگانے کے بعد کن کے اشاروں پر آواز ہی نہیں نکال رہا ۔

آپ میرے خیال سے عمران کی مخالفت میں ٹی وی پروگرام بھی ذوق و شوق سے نہیں دیکھ رہے۔ :)
حضرت جو سوالات آپ سے تحریکِ انصاف کے حوالے سے ہوتے ہیں ان کو نواز شریف کے ساتھ نتھی کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔
عمران کے ساتھ میرا کوئی مقدمہ نہیں چل رہا جو میں اس کی مخالفت میں پڑوں۔ دراصل مخالفت تحریکِ انصاف کی طرف سے چل رہی ہے اور میں تو اس مخالفت کے مختلف نکات پر آپ لوگوں سے بات کرتا ہوں۔
کیا آپ میرا کوئی مراسلہ دکھا سکتے ہیں جس میں عمران کو محض تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو؟۔ اس کے برعکس دیکھئے کہ اس دھاگے کا عنوان کیا ہے اور کس لئے شروع کیا گیا۔ ہے نا سوچنے کی بات ؟؟؟ :)
 

زرقا مفتی

محفلین
زرقا بہن مجھے صرف یہ بتائیے کہ میں نے آپ سے بات کرتے وقت کہاں اور کب نواز شریف یا کسی اور پارٹی کی حمایت کے لئے کہا؟؟؟۔ اگر آپ جمہوریت کی بات کرتی ہیں تو آپ کو اپنے اندر برداشت بھی پیدا کرنا ہو گی اور بات کو پوری طرح سمجھنے کی عادت اپنانا ہو گی۔ ایک ہی بات کو بار بار دہرانا اور دوسروں کے بارے میں خود ہی سے رائے قائم کرنا اورا س رائے کی بنیاد پر اعتراضات اٹھاتے جانا دراصل بحث کو طول دینے کا سبب بنتا ہے ۔
کسی بھی سیاسی پارٹی پر انضباطی و انتظامی ناکامی کے حوالے سے لکھنے کے لئے میرے پاس آپ سے کہیں زیادہ مواد موجود ہے لیکن اس سے کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا ۔
جذبات میں بہتے ہوئےایک بار پھر مجھے ن لیگ کے مداحین میں شمار کرنے کا شکریہ۔
والسلام
جی میں نے بھی آپ کو ن کے مداحین سے الگ ہی گنا ۔ بات دہرا ئے بغیر کسی کو قائل کرنا ناممکن ہے۔ برداشت تو الحمداللہ بہت ہے مجھ میں لیکن اپنے موقف سے ہٹنا تو بے وقوفی ہوگی بہت سوچ سمجھ کر کئی سال بعد تحریکِ انصاف کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے تو اس پر انشااللہ قائم رہیں گے
ایک عاقل و بالغ فرد اپنے دل و دماغ سے کام لے کر ہی رائے قائم کر سکتا ہے۔ سُنی سُنائی باتوں پر رائے قائم کرنا تو دانشمندی نہیں
کسی جماعت کی ناکامی کے بارے لکھنے سے مثبت نتیجہ کیوں برآمد نہیں ہوتا؟؟
 
15 اپریل تک تو یہی نظر آ رہا ہے کہ ن لیگ پہلے نمبر پر آئے گی، پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر آئے گی، تیسرے نمبر پر آنے کے لیے تحریک انصاف کو بہت جدوجہد کرنا پڑے گی ۔۔۔ تیسری پوزیشن کے لیے سخت مقابلہ ہو گا ۔۔۔ تحریک انصاف کے چاہنے والوں کو شاید یہ بات بعید از قیاس معلوم ہو لیکن آثار سے تو یہی معلوم ہوتا ہے ۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے پاس ووٹ بنک نہیں ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ پارٹی منظم نہیں ہو سکی۔ لے دے کر میڈیا چینلز پر اشتہاری مہم چلائی جائے گی اور دو تین بڑے جلسوں پر انحصار کیا جائے گا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اتنے کم عرصے میں ایک بڑی لہر کا پیدا ہونا نہایت مشکل ہے ۔۔۔ دیکھتے ہیں تحریک انصاف کے دیوانوں کی طرف سے "غیر متفق" کی کتنی ریٹنگز آتی ہیں۔ :)

اب اس پر بندہ مسکرا ہی سکتا ہے کہ پی پی دوسرے نمبر پر اور تحریک انصاف کو تیسرے نمبر کے لیے بھی سخت جدوجہد کرنی ہوگی۔

پہلے نمبر پر آنے کا کہنا کافی مشکل ہے مگر دوسرے نمبر پر تو بہت مضبوط امیدوار ہے تحریک انصاف اور اگر بھرپور مہم چلا کر نوجوانوں کو الیکشن کے دن ووٹ ڈلوانے میں کامیاب ہو گئی تو پہلا نمبر بھی ناممکن نہیں۔
 
سادہ طریقہ سے لیں تو یہی ظاہر ہوتا ہے
مگر جو لوگ آصل میں اقتدار میں ہیں ان کی کوتاہی ہے۔ جو لوگ اصل میں اقتدار میں ہیں ان کو اقتدار سے ہٹانا اہم بات ہے۔ یہی تبدیلی ہوگی۔ میری دانست میں پی ٹی ائی ان ہی لوگوں کو اقتدار میں رکھنے کا باعث بنے گی جو ان خرابیوں کے اصل ذمہ دار ہیں۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ

یہ ڈھول اب کافی پرانا ہو گیا ہے اور روایتی سیاست کرنے والی جماعتوں نے اسے اتنا بجایا ہے کہ اب یہ پھٹ گیا ہے ۔

ہر غلط کام خود کرتے رہو اور لوٹ مار کی انتہا کرکے الزام سارا ایک مفروضہ پر دھر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ پر۔ پہلے یہ ڈھول پی پی اور ایم کیو ایم بجایا کرتی تھیں اب ن لیگ اور باقیوں نے بھی اسی تال پر تھرکنا شروع کر دیا ہے۔
 
حضرت جو سوالات آپ سے تحریکِ انصاف کے حوالے سے ہوتے ہیں ان کو نواز شریف کے ساتھ نتھی کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔
عمران کے ساتھ میرا کوئی مقدمہ نہیں چل رہا جو میں اس کی مخالفت میں پڑوں۔ دراصل مخالفت تحریکِ انصاف کی طرف سے چل رہی ہے اور میں تو اس مخالفت کے مختلف نکات پر آپ لوگوں سے بات کرتا ہوں۔
کیا آپ میرا کوئی مراسلہ دکھا سکتے ہیں جس میں عمران کو محض تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو؟۔ اس کے برعکس دیکھئے کہ اس دھاگے کا عنوان کیا ہے اور کس لئے شروع کیا گیا۔ ہے نا سوچنے کی بات ؟؟؟ :)

جو سوالات تحریک انصاف سے متعلق ہیں وہ سیاسی تناظر میں ہوتے ہیں اور اسی سیاسی تناظر میں دوسری سیاسی جماعتوں سے مقابلہ اور حوالہ پیش کیے بغیر تحریک انصاف کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ تحریک انصاف کسی تنہائی اور علیحدگی میں الیکشن نہیں لڑ رہی کہ جب اس پر بات ہو تو صرف اس کی بات کی جائے اور کسی دوسری پارٹی سے اس کا مقابلہ اور حوالہ نہ دیا جائے۔

میں اب آپ پر یہ الزام نہیں لگا رہا کہ آپ تنقید برائے تنقید کر رہے ہیں مگر آپ جس چیز پر زور دیتے ہیں وہ جزو ہے کل نہیں ۔

میں نے اس دھاگے میں کوشش کی ہے کہ نواز شریف پر ہی بات ہو مگر یار لوگ تحریک انصاف کو گھسیٹ کر لے آتے ہیں جس پر مجھ سمیت دیگر تحریک انصاف کے متفقین کو اعتراض نہیں۔

ویسے آپ کا کیا خیال ہے نواز شریف کے نادہندہ ہونے کے بارے میں؟
 
یہ ڈھول اب کافی پرانا ہو گیا ہے اور روایتی سیاست کرنے والی جماعتوں نے اسے اتنا بجایا ہے کہ اب یہ پھٹ گیا ہے ۔

ہر غلط کام خود کرتے رہو اور لوٹ مار کی انتہا کرکے الزام سارا ایک مفروضہ پر دھر دو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ اسٹیبلشمنٹ پر۔ پہلے یہ ڈھول پی پی اور ایم کیو ایم بجایا کرتی تھیں اب ن لیگ اور باقیوں نے بھی اسی تال پر تھرکنا شروع کر دیا ہے۔

واقعی مفروضہ ہے؟
کیا نواز شریف کا جلاوطن ہونا اور مشرف کا کودتا مفروضہ ہے
کیا مشرف کا گیارہ سال بلاشرکت غیرے حکومت کرنا مفروضہ ہے
کیا ائی جے ائی ایک مفروضہ ہے
کیا ضیا کی گیارہ سال حکومت ایک مفروضہ ہے
کیا جونیجو کی حکومت ایک مفروضہ ہے
کیا ایوب کی دس سال اور مشرقی پاکستان کی تباہی ایک مفروضہ ہے
 
نواز شریف ، بینظیر ، زرداری کی تمام حکومتوں کی کیا کارکردگی رہی۔ جتنی بری حکومت ان لوگوں نے کی ، اتنی آمریت میں بھی نہیں رہی ۔ اس کے نقصانات دوسری طرح کے ہیں۔
 

زرقا مفتی

محفلین
آج ٹویٹر پر ریڈیو پاکستان کے مرتضی سولنگی کی ایک ٹویٹ پڑھی
Murtaza Solangi@murtazasolangi
14m
Tariq Fatemi of PML-N said on @jawabdeyh show last night that his party & PTI can join hands after elections in the national interest!
Expand
یعنی مسلم لیگ ن الیکشن کے بعد وسیع تر ملکی مفاد کے پیشِ نظر پی ٹی آئی سے الحاق کر سکتی ہے
 
محب یہ تو 11 مئی کو ہی فیصلہ ہو گا کہ کون کہاں کھڑا ہے لیکن آپ کے مراسلے کا آخری فقرہ کپتان کا لہجہ لئے ہوئے ہے ۔:)

ساجد ، اگر اتنی کھلی بدعنوانی اور بے شرمی کی حد تک لوٹ کھسوٹ اور ظلم کے بعد آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں انتہائی شائستہ اور دھیمے لہجے میں ان لوگوں کو یاد کروں تو میں برملا کہتا ہوں کہ میں ان بے ضمیروں اور بے شرموں کو کسی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں سمجھتا ۔ یہ بھول چوک سے غلطیاں کرنے والے نہیں بلکہ عادی مجرم ہیں جن کا پیشہ ہی لوٹ مار اور ظلم کا بازار گرم رکھنا ہے۔

ق لیگ ہمیشہ سے ہی فوج کی بی ٹیم بنی رہی ہے اور اب تو آخری درجہ پر اتر کر اپنے عشروں پرانے دشمنوں اور مبینہ طور پر باپ کے قاتلوں سے مل کر مزے سے حکومت کر رہے ہیں۔
اسی طرح پی پی بھی پستی کے گڑھوں میں گر کر بھٹو کے قاتلوں اور بی بی کے قاتل کا نعرہ لگاتے لگاتے اب اتنے تھک گئے ہیں کہ وہ بھی ان سے گلے لگ کر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اس سے زیادہ پستی اور گراوٹ میری نظر میں شاید ہی ممکن ہو مگر یہ لوگ بھی کمال کے ہیں ، میں جب بھی سوچتا ہوں کہ بس یہ گراوٹ کی انتہا ہے یہ مجھے پھر غلط ثابت کر دیتے ہیں۔ :)
 
Top