جاں نثار اختر نظم : مسافر - جاں نثار اختر

مسافر
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا
جوانی کی وادی کے خنداں نظارے
محبت کے گردوں کے رقصاں ستارے
تجھے راستے میں کریں گے اشارے
کہ آ ہم سکھائیں تجھے دل لگانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

حسینوں پہ بجلی گراتا گزر جا
تمنّا کے شعلے بجھاتا گزر جا
نظر سے نظر یوں ملاتا گزر جا
تجھے جیسے آتا نہیں مسکرانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

اشارے سے تجھ کو بلا لے نہ ساقی
تجھے میکدہ میں بٹھا لے نہ ساقی
ترے دل میں یہ بات ڈالے نہ ساقی
کہ یہ زندگی کیا ہے پینا پلانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

پکارے گی مطرب کی ہر تان تجھ کو
ڈبو دے نہ نغموں کا طوفان تجھ کو
ہو خود ساز و بربط کا ارمان تجھ کو
سمجھ لے کہ یہ زندگی ہے ترانا!
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

مناظر کی دیوی نہ جادو جگائے
قدم تیرے پکڑیں نہ باغوں کے سائے
نظر ہو کلی ہاتھ جوڑے نہ آئے
تخیل کا رنگین دھوکا نہ کھانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

بہت راہ میں خانقاہیں ملیں گی
مشائخ کی تفریح گاہیں ملیں گی
مذاہب کی پُر پیچ راہیں ملیں گی
نہیں جن میں منزل کا کوئی ٹھکانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

سرِ راہ غدار اکثر ملیں گے
تہ آستیں جن کے خنجر ملیں گے
بہت تجھ کو ایسے بھی رہبر ملیں گے
فقط یاد ہے جن کو رستہ بھلانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

اٹھیں گی گرجتی گھنیری گھٹائیں
ڈکاریں گی کیا کیا اندھیری فضائیں
نگل جائیں گی راہ کالی بلائیں
تجھے بھی نہ ظلمت بنا لے نشانا
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا

کوئی تجھ کو باغی کہے بھی تو کیا ہے
جوانی مظالم سہے بھی تو کیا ہے
زمیں پر ترا خوں بہے بھی تو کیا ہے
یہ تیرا زمانا ہے تیرا زمانا !
مسافر کہیں راہ مت بھول جانا
جاں نثار اختر
 
Top