فراق نرم فضا کی کروٹیں دل کو دُکھا کے رہ گئیں

مومن فرحین

لائبریرین
نرم فضا کی کروٹیں دل کو دُکھا کے رہ گئیں
ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں

شام بھی تھی دھواں دھواں، حسن بھی تھا اُداس اُداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری
مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چُرا کے رہ گئیں

حسنِ نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر
تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے رہ گئیں

تب کہیں کچھ پتہ چلا صدق و خلوصِ حسن کا
جب وہ نگاہیں عشق سے باتیں بنا کے رہ گئیں

تیرے خرامِ ناز سے آج وہاں چمن کھلے
فصلیں بہار کی جہاں خاک اڑا کے رہ گئیں

پوچھ نہ ان نگاہوں کی طُرفہ کرشمہ سازیاں
فتنے سُلا کے رہ گئیں فتنے جگا کے رہ گئیں

تاروں کی آنکھ بھی بھر آئی میری صدائے درد پر
ان کی نگاہیں بھی تِرا نام بتا کے رہ گئیں

اف یہ زمیں کی گردشیں آہ یہ غم کی ٹھوکریں
یہ بھی تو بخت خفتہ کے شانے ہلا کے رہ گئیں

اور تو اہل درد کو کون سنبھالتا بھلا
ہاں تیری شادمانیاں ان کو رلا کے رہ گئیں

یاد کچھ آئیں اس طرح بھولی ہوئی کہانیاں
کھوے ہوئے دلوں میں آج درد اٹھا کے رہ گئیں

ساز نشاط زندگی آج لرز لرز اٹھا
کس کی نگاہیں عشق کا درد سنا کے رہ گئیں

تم نہیں آئے اور رات رہ گئی راہ دیکھتی
تاروں کی محفلیں بھی آج آنکھیں بچھا کے رہ گئیں

جھوم کے پھر چلیں ہوائیں وجد میں آئیں پھر فضائیں
پھر تری یاد کی گھٹائیں سینوں پہ چھا کے رہ گئیں

قلب و نگاہ کی یہ عید اف یہ مآل قرب و دید
چرخ کی گردشیں تجھے مجھ سے چھپا کے رہ گئیں

پھر ہیں وہی اداسیاں پھر وہی سونی کائنات
اہل طرب کی محفلیں رنگ جما کے رہ گئیں

کون سکون دے سکا غم زدگان عشق کو
بھیگتی راتیں بھی فراقؔ آگ لگا کے رہ گئیں​
 
آخری تدوین:
Top