انٹرویو نایاب بھائی سے باتیں کریں

مقدس

لائبریرین
نایاب بھیا بالکل بھی نہیں
اصل میں ، میں آج کل آؤٹ آف ٹاؤن ہوں
اس لیے ایک ہفتے کا کہا ہے جب تک ہماری واپسی ہے ان شاءاللہ
 

نایاب

لائبریرین
محترم بھائی روحانی بابا
دلی معذرت کہ آپ کی اس پوسٹ بارے لکھنا سچ میں ذہن سے نکل گیا ۔
آج نظر پڑی ہے ۔
نایاب جی میں آپ کا کوئی امتحان نہیں لے رہا ہوں پتہ نہیں آپ کو کیوں یہ مغالطہ ہوگیا ہے آپ اب بڑے بوڑھیوں کی طرح نصیحتیں کرنے لگے ہیں تو ہم خاموش ہوجاتے ہیں ورنہ ہمارے علاقہ میں جو بزرگ بننے کی کوشش کرتا ہے ہم اس کو یہی کہتے ہیں کہ میرے بھائی میرے دوست ایک اچھا انسان ضرور بنولیکن بزرگ بننے کی کوشش مت کرو
میرے محترم بھائی اک تو انسان غلطی کا پتلا ہے ۔
اور دوسرے تحریری گفتگو اکثر ایسے احساسات پیدا کر دیتی ہے ۔ جیسے مجھے لگا کہ آپ میرا امتحان لے رہے ہیں ۔
بہت معذرت کہ آپ کو میری بات نا صحانہ بزرگی کی حامل و طالب محسوس ہوئی ۔
خدا گواہ کے میرا قصد کہیں بھی بزرگ بننے کا نہیں تھا ۔
مجھے تو کوئی بزرگ کہے تو مجھے اپنا بڑھاپا ستانے لگتا ہے ۔
پھر ہزار جتن کرتے خود کو یقین دلاتا ہوں کہ
ابھی تو میں جوان ہیں ۔
میرے محترم بھائی اچھا انسان تو بہت دور کی بات ہے
ابھی تو مکمل طور پر میں انسان ہونے کی منزل تک نہیں پہنچا ۔
ابھی تو راہ میں ہوں اور آپ جیسی علم و فضل کی حامل ہستیوں کی رہنمائی کا طالب

نایاب بھائی یہ تو ایک سائنسی علم ہے جسطرح کہ علم ریاضی تمام سائنسی علوم کی ماں ہے اسی طرح علم نجوم بھی تمام روحانی علوم کی ماں ہے پتہ نہیں آپ کو اس میں گمراہی والی کونسی بات نظر آتی ہے۔
محترم بھائی بلا شبہ آپ نے بالکل درست کہا کہ کوئی بھی علم گمراہی کا سبب نہیں ہوتا ۔
سب علوم اس سچے علیم کی جانب ہی سے انسان کو عطا ہوئے ہیں ۔
یہ الگ بات کہ کچھ علوم کے سیکھنے کو اس پاک ذات نے اک فتنے اور گمراہی سے منسلک قرار دے دیا۔
میں نے جو لفظ " گمراہی " اپنی پوسٹ میں ان علوم بارے تحریر کیا ۔
اس کی بنیاد " خاصاں دی گل " پر قائم تھی ۔
ان علوم بارے گفتگو بہت توجہ و احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے ۔
کہ کہیں کوئی کچے ذہن کا بنا کسی استاد و رہبر کی رہنمائی سے سنی پڑھی بات کو
اپنی خام عقل سے آزماتے کسی نقصان کا شکار نہ ہو جائے ۔

اب نیچے بیان کی گئی تمثیل میں ذرا اپنے آپ کو دیکھیں کہ آپ کس درجہ پر ہیں کیونکہ جس بندے کا جو علم ہوتا ہے ضروری نہیں کہ دوسرے بندے کا علم یا مشاہدہ بھی اسی درجے کا ہو ۔اس کی مثال اس طرح ہے کہ کسی مشروبات بنانے والی کمپنی نے اپنی مصنوعات کی Advertisement کے لیئے اپنے ملازم کو کسی ایسے Restaurant بھیجا جو کہ بَر لبِ سڑک واقع تھا اس ملازم(مصور) نے ریستوران کی عمارت کی دیوار پرایک قدِ آدم تصویربنانی شروع کی اور جب تصویر بالکل مکمل ہونے کے قریب ہوگئی یعنی Final Touchesدینے لگا تو ایک آدمی نے دیکھا کہ کتنی خوبصورت تصویر ہے ۔پھر دیکھا کہ یہ تصویر تو پنسل (مؤ قلم) کے ذریعے بن رہی ہے وہ بہت خوش ہوا کہ چلو میں نے اس کام کی حقیقت جان لی کہ یہ ساری تصویر قلم نے بنائی ہے ۔اس نے جب یہ بات دوسرے آدمی کو بتائی تو اس نے کہا کہ تونے دیکھنے میں غلطی کی، میں تو اس قلم کو انگلیوں کا تابع دیکھتا ہوں ۔تیسرے نے کہا کہ میں ان انگلیوں کو دماغ کا تابع دیکھتا ہوں جن سے ایک لطیف روحانی پیغام انگلیوں کو ملتا ہے ۔
پہلا آدمی حکیم تھا اس نے طبائع کی بنیادگرمی،سردی،تری اور خشکی پر رکھی ۔(یعنی آتش ، آب ، باداورخاک پریعنی عناصر اربعہ پر) دوسرا ماہرِ فلکیات تھا اس نے دیکھا کہ یہ چاروں طبائع یا عناصر تو ستاروں کے تابع ہیں ۔ اور تیسرا روحانی یعنیSpiritualist صاحبِ مشاہدہ نے دیکھا کہ یہ ستارے تو فرشتوں کے تابع ہیں ۔(یعنی جبرائیل ،عزرائیل ،میکائیل اور اسرافیل )
آپ کی تمثیل " قلم ۔ ہاتھ کی انگلیاں ۔ اور دماغ کا رہنمائی کرنا "
اس تمثیل کی تشریح میں آپ نے حکمت ۔ فلکیات ۔ اور روحانی مشاہدے کو شامل کیا ۔
۔ آپ نے اس تمثیل کے ظاہر پرتوجہ رکھتے اسے حکمت ۔ فلکیات و روحانیات سے منسلک کر دیا ۔
اس تمثیل میں صاحب تمثیل نے " کن سے لیکر فیکون کے مکمل ہونے تک " کے سب اسباب کی نشان دہی فرمائی ۔
اس تمثیل میں " کن کی صدا "کا مرکز دماغ ہے ۔
"ہاتھ اور قلم کی حرکات " فیکون کو وجود میں لانے کے اسباب ہیں ۔
اور تصویر " فیکون کی مکمل صورت اک تخلیق ہے ۔
اس میں طبائع کو منسلک کرتے ذکر کرنا مجہول ہے ۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کچھ بروج کے بارے میں بیان کر دیا جائے ۔
زمین اور نظامِ شمسی کے ارکان کی گردش کا ایک راستہ مقرر ہے ۔اس مقررہ راستے کو بارہ حصوں میں تقسیم کر لیا گیا ہے ۔ہر حصہ کا نام برج ہے ۔
اللہ تبارک تعالیٰ سورۂِ بروج میں فرماتے ہیں ۔وَالسَّماء ذَاتِ الْبُرُوج۔اور اسی طرح سورہ فرقان میں فرماتے ہیں تبارک الذی جعل فِی السَّمَاء بَرُوجا۔(بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے)اور سورۃ حجر میں فرماتے ہیں۔وَلَقَدجَعَلْنَا فِی السَّمَاء بَرُوجًا وَّ زَیَّنَّاھَا لِلْنٰظِرِینْ۔ہم نے آسمان پر بروج بنائے جو دیکھنے والوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں۔
اور جو یہ بروج کے نام رکھ دیئے گئے ہیں مثلاً سرطان (کیکڑہ ) تو اس کی وجہ یہ ہے فلک میں اس مقام پر ستارے اس طرح واقع ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے کیکڑہ ہو
فخرالدین رازیؔ المقلب بہ ستینی کی تصنیف حَدَائِقِ الاَنْوَارْ فِی حَقَائِقُ الاَسْرَار نے 7ستاروں کا جب وہ بروج میں آتے ہیں عجیب احوال بیان کیئے جن کو پڑھ کر عقل کو سرگردانی ہوتی ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیائے سعادت میں رقم طراز ہیں کہ جو بھی علم ہندسہ اور علم نجوم کی حقیقت سے انکار کرتا ہے وہ جاہل مطلق ہے ۔۔۔ پھر آگے چل کر وہ اس کی پوری تشریح فرماتے ہیں ۔ لیجئے آپ بھی پڑھیئے
فرض کرو ایک بہت بڑاہال نما گول کمرہ ہے جس کے بارہ دروازے ہیں کمرے کے اردگرد سات گھڑ سوار ہیں اور مسلسل گردش میں ہیں اور دروازوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ کیا حکم آیا چاہتا ہے ۔
ان سے تھوڑا ہی دور چار سپاہی جن کے ہاتھ میں چار کمندیں ہیں ان گھڑ سواروں کا منہ تکتے ہیں ہر دروازے پر ایک افسر بیٹھا ہوا ہے ۔اس کمرے کے درمیان میں افسرِ اعلیٰ کو جو حکم ملتا ہے وہ ان بارہ ماتحتوں میں سے جس کو مناسب اور موزوں خیال کرتا ہے اسے حکم دیتا ہے وہ دروازے پر جا کر گھڑ سواروں میں سے جس کو مناسب اور موزوں خیال کرتا ہے اسے حکم دیتا ہے ۔ اور گھڑ سوار چار سپاہیوں میں سے جس کو مناسب اور موزوں خیال کرتا ہے اسے حکم دیتاہے۔یہ
پیادے جیسا کہ انھیں حکم ملتا ہے ویسا ہی کرتے ہیں کسی کو اذیت اور کسی کو انعام عطا کرتے ہیں۔
افسرِ اعلیٰ عرش ہے۔ ۱۲ دروازے بروج ہیں ۔سات گھڑ سوار سات ستارے ہیں ۔چار سپاہی ۴عناصر ہیں یعنی آتش ،باد، آب اور خاک اور چار کمندیں چار طبیعتیں ہیں یعنی گرمی تری سردی اور خشکی۔اب جب کسی کا دل دنیاسے اچاٹ ہوجائے اس کی مثال ایسے ہے کہ دل انتہائی نرم ہو جاتا ہے اور ذرا ذرا سی بات پررقت طاری ہوجاتی ہے اور انسان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے (بوجہ لاعلمی) اب اگر اسے کسی حکیم کو دکھائیں تو وہ کہے گا کہ یہ مرض خفقان ہے دماغ کو خشکی چڑھ گئی ہے ۔اس کو افتیموں (آکاش بیل) کا جوشاندہ پلاؤ۔اور وجہ اس کی یہ بیان کرے گا کہ موسمِ سرما کی سرد خشک ہوا (یعنی سردیوں کے موسم میں جب ہونٹ وغیر ہ پھٹنے لگتے ہیں )اس بیماری کا سبب ہے ۔جب تک موسمِ بہار نہ آئے گا اور ہوا میں رطوبت نہ آئے گی مریض اچھا نہ ہوگا ۔
اور جب کسی ماہرِ فلکیات کو دکھائیں گے( تو وہ چونکہ ان طبیبوں سے زیادہ جانتا ہے ) اس لیئے وہ کہے گا کہ یہ مرض عطارد و زحل یامریخ کی منحوس مشاکلت کی وجہ سے ہے (یعنی نظرِ تربیع)اور جب تک عطارد مشتری کے ساتھ سعد نظر(نظرِ تثلیث )نہ بنائے گا مرض رفع نہ ہوگا ۔
یہ سب درست کہتے ہیں کیونکہ ذَالِکَ مَبْلَغُھُم مِن الْعِلْمِ۔(ان کا مبلغِ علم یعنی علمی سرمایہ اتنا ہی ہے)۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اوپر سے اس کے متعلق سعادت کا حکم آیا تو گھڑ سواروں کو یعنی ستاروں کے ذریعے سپاہیوں یعنی عناصر اربعہ میں ایک سپاہی کو حکم ہوا کہ خشکی کی کمند اس پر پھینک کر اس کو کھینچ لیا جائے ۔
علم نجوم تو ایک عظیم سائنس ہے پرانے زمانے کے اطباء کو زائچہ نویسی میں اتنی مہارت تامہ تھی اور ان کی وجدانی صلاحیت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ صرف چہرہ دیکھ کر مرض بتا دیتے تھے اور شافی علاج کردیا کرتے تھے۔اور تو اور اگر پرانے زمانے کی طب کی کتب کا مطالعہ کریں تو جڑی بوٹی کے اکھاڑنے کا وقت بھی دیا ہوتا تھا کہ کس برج کی ساعت میں اکھاڑنی ہے۔
قصہ مختصر تقریبا ایک ہفتہ پہلے میں ایک جگہ پر افطاری کی دعوت پر گیا تو ادھر ایک بچہ تقریبا 6ماہ کا تھا اس کے سَر میں معمولی سی کھرنڈ نکلی ہوئی تھی ۔میں نے اس بچے کے باپ کو کہا کہ یہ چیز ایک دم تیزی سے پھیلے گی اور اگر بچے کی صحت چاہتے ہوتو پھر میزریم 30 دوا اس کو دن میں تین مرتبہ پلادو انشاء اللہ بچہ ٹھیک ہوجائے گا اس کے باپ نے توجہ نہ دی آج اس کا فون آیا تھا کہ مسئلہ خراب ہوگیا ہے کیا کروں میں نے ڈیٹ آف برتھ مانگی اور جو اس وقت میں نے نتیجہ اخذ کیا تھا ہوبہو وہی نکل یعنی شمس مریخ کے ساتھ نظر مقابلہ بنا رہا تھا اور درمیان میں ایک نحس نظر زحل کی بھی تھی اور ساتھ ہی شمس کی انتر دشا یعنی نظر اوسط چل رہی تھی۔۔۔ ۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علم نجوم سیکھنے کے بعد کہانتیں وغیرہ نہیں کرنی چاہیئے ہیں باقی اس علم سے اگر میڈیکل پوانٹ آف ویو سے کچھ مدد لے لی جائے تو ایمان پر کچھ حرف نہیں آتا ہے۔
نایاب محمود احمد غزنوی الف نظامی

میرے محترم بھائی
یہ نجوم کیا ہیں ؟
یہ بروج کیا ہیں ؟
ان کا مقصد خلق کیا ہے؟
ان سوالوں کا جواب آپ نے خود مندرجہ بالا سرخ تحریر میں دے دیا ہے ۔
قران پاک کے نزول کے بعد ان نجوم و بروج سے منسلک تمام سعد و نحس ساقط قرار پائے ۔
اگر ان نجوم ان بروج کے سعد و نحس ہونے میں کچھ حقیقت ہوتی تو کیا
اللہ تعالی واضح نہ فرما دیتے کہ نظام شمسی کی گردش کے علاوہ انسانوں کے لیئے ان میں فائدے ہیں ۔؟
اگر ان نجوم و بروج کے علوم میں کچھ حقیقت بھی تھی تو اللہ نے اسے نزول قران کے بعد
کہانت سے منسوب کرتے باطل گمان قرار دے دیا ۔
اگرہم قصہ حضرت ایوب علیہ السلام کی تفسیر پر غور کریں
تو ان بروج و نجوم کے سعد و نحس ہونے کی حقیقت کھلے طور عیاں ہو جاتی ہے ۔
جب آپ نے اپنی وفادار زوجہ کی زبانی اک کلمہ وہم و گمانی سن کر
اپنی صحت یابی کے ساتھ بطور نذر سو کوڑے مارنے کی نیت کر لی ۔
میرے محترم بھائی میں ان علوم کی حقیقت کو نہیں جھٹلا رہا ۔
شاید درج ذیل واقعہ میری سوچ کو واضح کر دے ۔
اک صاحب علم نے جو کہ ان علوم میں مشہور و معروف تھے مجھے اک واقعہ سنایا تھا کہ
اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو فرمایا کہ
فلاں بستی کو الٹ کر تباہ و فنا کردو ۔
منشا الہی سے جبرائیل علیہ السلام عرض کی کہ اے اللہ
میں تو اس بستی میں رہنے والوں کو تیرا تابعدار پاتا ہوں
اور تو نے ان پر اپنے علم کا خزانہ لٹا رکھا ہے ۔
اب انہیں تباہ کرنے کی حکمت تو ہی جانتا ہے ۔
اللہ نے فرمایا کہ میرے عطا کردہ علم کو انہوں نے اپنی گمراہی کا سبب بنا لیا ہے ۔
اور ان کا بچہ بچہ کہانت کرتا ہے ۔
جبرائیل علیہ السلام تباہی کا پروانہ لیکر اس بستی میں پہنچے ۔
بستی کے باہر صحرا میں انہوں نے اک بچے کو بکریاں چراتے دیکھا ۔
آپ بغرض امتحان اس کے قریب گئے ۔
بچے نے ادب و احترام کے ساتھ آپ کی تواضح کی اور پوچھا کہ
اجنبی لگتے ہو ۔ کس غرض سے ادھر آئے ہو ،
آپ نے کہا کہ مجھے جبرائیل علیہ السلا م کی تلاش ہے اگر تم علم رکھتے ہو تو میری رہنمائی کر دو
اس بچے نے اپنے ہاتھ میں پکڑی لکڑی سے ریت پر دو چار لکیریں کھینچیں ۔
اور کہنے لگا کہ وہ اس وقت آسمان پر تو نہیں ہیں ۔ یہیں اس صحرا میں اک چرواہے کے قریب موجود ہیں
اس صحرا میں میرے علاوہ کوئی چرواہا نہیں اور میں تو جبرائیل ہوں نہیں سو آپ ہی جبرائیل ہیں ۔
جبرائیل علیہ السلام اس بچے سے یہ سن کر اللہ کی پاکی بیان کرتے اللہ کے حکم کو بجا لائے ۔
اور بستی کو تباہ کر دیا ۔
اور مجھے آپ کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ
علم نجوم سیکھنے کے بعد کہانتیں وغیرہ نہیں کرنی چاہیئے
باقی اس علم سے اگر میڈیکل پوانٹ آف ویو سے کچھ مدد لے لی جائے
تو ایمان پر کچھ حرف نہیں آتا ہے۔
میں نے اسی سوچ کے زیر اثر ان علوم کو سیکھا ۔
اک عمر برباد کی ۔ اور زندگی کی شام پر آ کر یہ حقیقت کھلی کہ
اگر ہم فرمان قرانی
"واذا مرضت ہو یشفین " پر اپنے یقین کو کامل کر لیں ۔
" لا علمنا " کے ذکر سے قلب کو منور کر لیں تو یقین کریں بنا
کسی حساب و کتاب و زائچہ کے سب حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔
اور اس نجوم و بروج پر نگاہ رکھنے کے جھنجھٹ سے بھی جان چھٹ جاتی ہے ۔
میرے محترم بھائی مجھے اک طالب علم گمان کیجئے گا ۔
جزاک اللہ خیراء
 
محترم بھائی روحانی بابا
دلی معذرت کہ آپ کی اس پوسٹ بارے لکھنا سچ میں ذہن سے نکل گیا ۔
آج نظر پڑی ہے ۔

میرے محترم بھائی اک تو انسان غلطی کا پتلا ہے ۔
اور دوسرے تحریری گفتگو اکثر ایسے احساسات پیدا کر دیتی ہے ۔ جیسے مجھے لگا کہ آپ میرا امتحان لے رہے ہیں ۔
بہت معذرت کہ آپ کو میری بات نا صحانہ بزرگی کی حامل و طالب محسوس ہوئی ۔
خدا گواہ کے میرا قصد کہیں بھی بزرگ بننے کا نہیں تھا ۔
مجھے تو کوئی بزرگ کہے تو مجھے اپنا بڑھاپا ستانے لگتا ہے ۔
پھر ہزار جتن کرتے خود کو یقین دلاتا ہوں کہ
ابھی تو میں جوان ہیں ۔
میرے محترم بھائی اچھا انسان تو بہت دور کی بات ہے
ابھی تو مکمل طور پر میں انسان ہونے کی منزل تک نہیں پہنچا ۔
ابھی تو راہ میں ہوں اور آپ جیسی علم و فضل کی حامل ہستیوں کی رہنمائی کا طالب


محترم بھائی بلا شبہ آپ نے بالکل درست کہا کہ کوئی بھی علم گمراہی کا سبب نہیں ہوتا ۔
سب علوم اس سچے علیم کی جانب ہی سے انسان کو عطا ہوئے ہیں ۔
یہ الگ بات کہ کچھ علوم کے سیکھنے کو اس پاک ذات نے اک فتنے اور گمراہی سے منسلک قرار دے دیا۔
میں نے جو لفظ " گمراہی " اپنی پوسٹ میں ان علوم بارے تحریر کیا ۔
اس کی بنیاد " خاصاں دی گل " پر قائم تھی ۔
ان علوم بارے گفتگو بہت توجہ و احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے ۔
کہ کہیں کوئی کچے ذہن کا بنا کسی استاد و رہبر کی رہنمائی سے سنی پڑھی بات کو
اپنی خام عقل سے آزماتے کسی نقصان کا شکار نہ ہو جائے ۔


آپ کی تمثیل " قلم ۔ ہاتھ کی انگلیاں ۔ اور دماغ کا رہنمائی کرنا "
اس تمثیل کی تشریح میں آپ نے حکمت ۔ فلکیات ۔ اور روحانی مشاہدے کو شامل کیا ۔
۔ آپ نے اس تمثیل کے ظاہر پرتوجہ رکھتے اسے حکمت ۔ فلکیات و روحانیات سے منسلک کر دیا ۔
اس تمثیل میں صاحب تمثیل نے " کن سے لیکر فیکون کے مکمل ہونے تک " کے سب اسباب کی نشان دہی فرمائی ۔
اس تمثیل میں " کن کی صدا "کا مرکز دماغ ہے ۔
"ہاتھ اور قلم کی حرکات " فیکون کو وجود میں لانے کے اسباب ہیں ۔
اور تصویر " فیکون کی مکمل صورت اک تخلیق ہے ۔
اس میں طبائع کو منسلک کرتے ذکر کرنا مجہول ہے ۔


میرے محترم بھائی
یہ نجوم کیا ہیں ؟
یہ بروج کیا ہیں ؟
ان کا مقصد خلق کیا ہے؟
ان سوالوں کا جواب آپ نے خود مندرجہ بالا سرخ تحریر میں دے دیا ہے ۔
قران پاک کے نزول کے بعد ان نجوم و بروج سے منسلک تمام سعد و نحس ساقط قرار پائے ۔
اگر ان نجوم ان بروج کے سعد و نحس ہونے میں کچھ حقیقت ہوتی تو کیا
اللہ تعالی واضح نہ فرما دیتے کہ نظام شمسی کی گردش کے علاوہ انسانوں کے لیئے ان میں فائدے ہیں ۔؟
اگر ان نجوم و بروج کے علوم میں کچھ حقیقت بھی تھی تو اللہ نے اسے نزول قران کے بعد
کہانت سے منسوب کرتے باطل گمان قرار دے دیا ۔
اگرہم قصہ حضرت ایوب علیہ السلام کی تفسیر پر غور کریں
تو ان بروج و نجوم کے سعد و نحس ہونے کی حقیقت کھلے طور عیاں ہو جاتی ہے ۔
جب آپ نے اپنی وفادار زوجہ کی زبانی اک کلمہ وہم و گمانی سن کر
اپنی صحت یابی کے ساتھ بطور نذر سو کوڑے مارنے کی نیت کر لی ۔
میرے محترم بھائی میں ان علوم کی حقیقت کو نہیں جھٹلا رہا ۔
شاید درج ذیل واقعہ میری سوچ کو واضح کر دے ۔
اک صاحب علم نے جو کہ ان علوم میں مشہور و معروف تھے مجھے اک واقعہ سنایا تھا کہ
اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو فرمایا کہ
فلاں بستی کو الٹ کر تباہ و فنا کردو ۔
منشا الہی سے جبرائیل علیہ السلام عرض کی کہ اے اللہ
میں تو اس بستی میں رہنے والوں کو تیرا تابعدار پاتا ہوں
اور تو نے ان پر اپنے علم کا خزانہ لٹا رکھا ہے ۔
اب انہیں تباہ کرنے کی حکمت تو ہی جانتا ہے ۔
اللہ نے فرمایا کہ میرے عطا کردہ علم کو انہوں نے اپنی گمراہی کا سبب بنا لیا ہے ۔
اور ان کا بچہ بچہ کہانت کرتا ہے ۔
جبرائیل علیہ السلام تباہی کا پروانہ لیکر اس بستی میں پہنچے ۔
بستی کے باہر صحرا میں انہوں نے اک بچے کو بکریاں چراتے دیکھا ۔
آپ بغرض امتحان اس کے قریب گئے ۔
بچے نے ادب و احترام کے ساتھ آپ کی تواضح کی اور پوچھا کہ
اجنبی لگتے ہو ۔ کس غرض سے ادھر آئے ہو ،
آپ نے کہا کہ مجھے جبرائیل علیہ السلا م کی تلاش ہے اگر تم علم رکھتے ہو تو میری رہنمائی کر دو
اس بچے نے اپنے ہاتھ میں پکڑی لکڑی سے ریت پر دو چار لکیریں کھینچیں ۔
اور کہنے لگا کہ وہ اس وقت آسمان پر تو نہیں ہیں ۔ یہیں اس صحرا میں اک چرواہے کے قریب موجود ہیں
اس صحرا میں میرے علاوہ کوئی چرواہا نہیں اور میں تو جبرائیل ہوں نہیں سو آپ ہی جبرائیل ہیں ۔
جبرائیل علیہ السلام اس بچے سے یہ سن کر اللہ کی پاکی بیان کرتے اللہ کے حکم کو بجا لائے ۔
اور بستی کو تباہ کر دیا ۔
اور مجھے آپ کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ
علم نجوم سیکھنے کے بعد کہانتیں وغیرہ نہیں کرنی چاہیئے
باقی اس علم سے اگر میڈیکل پوانٹ آف ویو سے کچھ مدد لے لی جائے
تو ایمان پر کچھ حرف نہیں آتا ہے۔
میں نے اسی سوچ کے زیر اثر ان علوم کو سیکھا ۔
اک عمر برباد کی ۔ اور زندگی کی شام پر آ کر یہ حقیقت کھلی کہ
اگر ہم فرمان قرانی
"واذا مرضت ہو یشفین " پر اپنے یقین کو کامل کر لیں ۔
" لا علمنا " کے ذکر سے قلب کو منور کر لیں تو یقین کریں بنا
کسی حساب و کتاب و زائچہ کے سب حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔
اور اس نجوم و بروج پر نگاہ رکھنے کے جھنجھٹ سے بھی جان چھٹ جاتی ہے ۔
میرے محترم بھائی مجھے اک طالب علم گمان کیجئے گا ۔
جزاک اللہ خیراء

نایاب بھائی آپ نے کہا​
قران پاک کے نزول کے بعد ان نجوم و بروج سے منسلک تمام سعد و نحس ساقط قرار پائے
مجھے تو اس بات کانہیں پتہ کہ ایسا ہے لیکن میرا تو اس پر کامل یقین ہے کہ ستاروں کے نحس و سعد اثرات اللہ تبارک تعالیٰ کے چار فرشتوں جبرائیل میکائیل اسرافیل اور عزرائیل کے زیر اثر ہیں شائد گمان اغلب ہے کہ آپ کو یہ بھی نہ ہو پتہ ہو کہ فرشتوں کی کتنی اقسام ہیں بہرحال علم کی کمی کی وجہ سے آپ جس چیز کو کہانت کی وجہ سے باطل اور گمان قرار دیتے ہیں۔ جو کہ مجھے قرآن شریف میں تو کہیں نظر نہیں آیا شائد میری علم کی کمی ہو لیکن اگر نص میں کہیں آیا ہے تو اس کی وجہ ستاروں کو اختیار کُل کا حامل قرار دیتے ہوئے ایسے عقیدہ کو باطل اور کہانت کہا گیا ہے ۔اس مقصد کے لیئے میں اپ کو ابو الفراج ابنِ جوزی کی تصنیف تلبیس ابلیس پڑھنے کا مشورہ دونگا۔جس میں ستاروں سے متعلق شرکیات و کاہنوں کا تفصیلاً بیان مؤجود ہے۔​
پتہ وہ کونسے صاحب علم تھے جنہوں نے آپ کو یہ لکیروں والی سُنی سنائی بات بغیر تحقیق کیئے آگے بیان کردی ہے۔۔۔۔۔البتہ لکیروں واے علم کو علم رمل کہتے ہیں اور یہ علم دانیال علیہ السلام پر نازل ہوا تھا ۔۔۔۔بہرحال چونکہ آپ اس علم کے متعلق کچھ جانتے ہی نہیں ہیں تو مزید بات کرنا وقت کے ضیاع کے مترادف ہے ورنہ آپ کو مثالوں سے سمجھا دیا جاتا کہ کیسے اس علم کے ذریعے سپر کمپیوٹر بنا ہے اور کمپیوٹر کی لینگوئج کیسے علم الرمل کی اشکال سے مناسبت رکھتی ہے۔​
جہاں تک آپ کے عمر ضائع کرنے کی بات ہے تو نایاب جی مجھے افسوس ہے کہ آپ نے عمر ضائع کی اور اصل حقیقت تک نہ پہنچ سکے بقول شاعر​
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل​
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں​
لیکن بہرحال علم نجوم ایک عظیم سائنس ہے اور بیماریوں کا اس سے پتہ چلتا ہے اور اگر کوئی گردش حالات کامارا آپ سے علمی مدد لینے آجائے تو اتنا یاد رکھیں کہ وہ من جانب اللہ ہوتا ہے ورنہ ہم نے ایسے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے زائچہ میں زحل منحوس پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ بدحالی کا شکار ہیں تو ہمارے کہنے پر وہ عمل نہیں کرتے نہ پتھر پہنتے ہیں حالانکہ پتھر بھی اللہ کی ہی پیدا کردہ مخلوق ہے اور اس میں الیکٹران پروٹان اور نیوٹران کی ایک خاص ردھم سے حرکت بھی اس قادر و حکیم کی قدرت اور حکمت کی صناعی کا نمونہ ہے جو کہ ہاتھ کی جلد سے مَس ہوکر سٹون تھراپی کے نقطہ نظر سے شفا کا باعث بن سکتی ہے۔لیکن وہ آپ والی بات دہراتے ہیں کیونکہ اُن کے نصیب میں شفاء نہیں لکھی ہوتی ہے اور ان کی کتاب زندگی سبقت کرتی ہے جس کا قرآن شریف میں ان الفاظ میں ذکر آیا ہے​
لکل اجل کتاب​
اور مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ اپ نے اس آیت "واذا مرضت ہو یشفین " کو کیسے اپنے نقطہ نظر سے تطبیق دے دی ہے۔۔۔۔۔میرے بھائی جب آپ بیمار پڑتے ہیں تو کیا ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتےا؟؟؟؟ یا ایمان کے ماشاء اللہ اُس درجہ پر فائز ہیں کہ آپ کا توکل اور اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات پر ایمان اتنا کامل اور عقیدہ اتنا متزلل ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ جس نے مجھے بیماری دی ہے وہی مجھے شفا دے گا ۔۔۔کیونکہ آپ کے بیان کے مطابق تو یہی محسوس ہوتا ہے۔برسبیل تذکرہ ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔۔۔​
پیر مہر علی شاہ صاحب ایک مقام پر تشریف فرما تھے کہ ایک نابینا علم تشریف لائے اور کہا کہ آپ قرآن شریف کی آیات کی تشریح اپنے آپ سے گھڑتے اور بیان کرتے ہیں آپ میرے ساتھ صرف لفظی ترجمہ پر بات کریں تو تب مانوں اپ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔​
آپ اس آیت کا ترجمہ کریں اور پھر بتائیں کہ کیا اس کی تشریح کے لیئے مجازی الفاظ کی ضرورت ہے یا نہیں اور یہ آیت تلاوت فرمائی مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمِیٰ فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی۔جو یہاں اندھا سو وہ وہاں بھی اندھا۔یعنی اگر کوئی اس دنیا میں اندھا ہے تو کیا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور اگر اندھا ہوگا تو وہ اللہ کا دیدار کیسے کرے گا تو اُس نابینا عالم سے کچھ جواب نہ بن پڑا اور وہ مارے شرمندگی کے اٹھ کر بغیر کوئی لفظ کہے چلے گئے۔​
ایک مرتبہ پہلے بھی آپ کو کہا تھا کہ جب آپ آیت قرانی یا حدیث کا استعمال کریں تو پورا لکھا کریں لیکن آپ پھر وہی کام کر گئے ہیں جناب اپ نے جو اوپر آیت کے دو جملے لکھے ہیں " لا علمنا " تو میرے ناقص علم کے مطابق ان کا شان نزول کچھ اس طرح سے ہے​
اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ ونَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سَاجِدِیْنَ۔ص:۷۲(اے فرشتو! جب میں اس کو بناد کر پورا کردوں اور اپنی روح کو اُس کے اندر پھونک دوں اُس وقت تم سب اُس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا )اللہ تبارک تعالیٰ نے قالب آدم کو چشم زدن میں پیدا کرکے میدانِ کبریائی میں ڈال دیا چنانچہ کالبد نے تھوڑے عرصے میں قلب کے نور کو قبول کیا جس کی خبر مخبر صادق ﷺ نے اس فرمان میں دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی مٹی کو چالیس روز اپنے ہاتھ سے خمیر کیا ہے ہر دس روز دس نعمتیں آدم پر فرماتا تھا یعنی ان نعمتوں کی برکت سے آدم کے قلب میں سے ارکان کی جمادیت بالکل جاتی رہی خدا کے وعدہ کے چالیس روز پورے ہوئے اور ان ہی چالیس روز کا نمونہ وہ چالیس روزے تھے جن کا موسیٰ علیہ السلام کے حق میں ذکر فرمایا ہے۔
واضح ہو کہ آدم علیہ السلام کا ظہور مٹی سے تھا پھر اس نے اوج عقل کی طرف حرکت کی پس جب نورِ عقل نے اُس پر طلو ع کیا تو آدم زمین عبودیت میں اللہ کا خلیفہ بن گیا اور زمینِ جہالت سے اُ س نے علوم شریعت و حقیقت کے آسمان پر ترقی کی ۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فر ما کر عالم میں ڈال دیا اور فرشتوں اور رُسکان ملاء اعلیٰ (یعنی اعلیٰ مقام کے فرشتے)سے کہا اِنِی جَاعِلُ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَہ۔ میںزمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں اور تم سب اس کی خدمت اور متابعت کے لیے تیار ہوجاؤجب فرشتوں نے یہ آواز سنی تو اپنے اپنے مقامات سے نکل کر آدم علیہ السلام کے کالبد کو دیکھنے لگے اور اُس کالبد کو جو بے جان پڑا تھا کو دیکھ کر خیال کرنے لگے کہ اور حیوانوں کی طرح یہ بھی ایک حیوان ہوگا چونکہ فرشتے زمین کے باشندوں کی قتل و غارت دیکھ چکے تھے اور انہیں معلوم تھا کے زمین پر رہنے والے مفسد ہوتے ہیں ۔لہٰذا انھوں نے پروردگار سے عرض کی اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّعُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ(بقرۃ۔۳۰) (کیاتو اس قوم کو زمین پر پیدا کرے گا جو طرح طرح کے فساد پیدا کرے گی اور اس سے خون
ریزیاں ہونگی اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ،حمد کرتے ہیں اور تقدیس کرتے ہیں۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں نے کہا کہ ہم ارواح طیبہ اور نفوس طاہرہ کے ساتھ زندہ ہیں اور زمین کا رہنے والا خبیث زندگانی کیسا تھ زندہ کیا جائے گاتو سوائے اعمال قباحت کے اور کچھ نہ کرے گا ۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے فرشتوں کو اس بد گمانی سے منع فرمایا اور کہا اِنِی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (بقرۃ۔۳۰) اس معاملے میں،میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے )خالق کائنات کا یہ جواب سن کر فرشتوں نے عاجزانہ لہجہ میں کہاسُبحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْم۔(بقرۃ۔۳۲)(پرودگار! تیری ذات پاک ہے جو کچھ تو نے ہمیں علم دیا ہے اس سے زائد ہم کچھ نہیں جانتے تو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔)
جب آدم علیہ السلام سے نفس کلی وابستہ ہوا تب عقل کلی بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی اور تمام علوم اس کی روح میں منقش ہوگئے اور کل اسرار آدم کے قلب پر ظاہر ہوئے پس یہ عقل اور نفس کی امداد سے عالم ،زندہ اور بولنے والا بن گیا اور علم و عمل کے استحکام سے حکیم ہوگیا تب اللہ تبارک تعالیٰ نے اس کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایااَنبئونی بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلََٓائِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ بقرۃ:۲۱ مجھ کو ان چیزوں کے نام بتاؤ اگر تم اس خیال میں سچے ہو کہ ہم آدم علیہ السلام سے افضل ہیں اُس وقت فرشتے سمجھے کہ انہوں نے واقعی اپنے قیاس میں غلطی کی تھی پس فرشتوں نے سجدہ کیا۔
جس کو آپ پتہ نہیں کس جہالت والی لاعلمی پر چسپان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔​
 
میرے خیال میں نایاب بھائی نے کوئی ایسی غلط بات نہیں لکھی جسکی بناء پر انہیں یوں مطعون کیا جائے۔۔۔:)
نازاں نہ ہو خرد پہ، جو ہونا ہے وہی ہو
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے
 

نایاب

لائبریرین
میرے خیال میں نایاب بھائی نے کوئی ایسی غلط بات نہیں لکھی جسکی بناء پر انہیں یوں مطعون کیا جائے۔۔۔ :)
نازاں نہ ہو خرد پہ، جو ہونا ہے وہی ہو
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے
محمود بھائی جب علم کا سفر جاری ہو تو اکثر ایسی معطونیاں بطور تمغہ نصیب ہوتی ہیں ۔
محترم روحانی بابا بھائی کا اپنا انداز گفتگو ہے ۔
اور گفتگو جب علم کی راہ پر ہو تو " جہالت و لاعلمی " کے عنوان اس کو مدلل اور مستحکم راہ پر رکھنے میں معاون ہوتے ہیں ۔
 

نایاب

لائبریرین
محترم بھائی روحانی بابا
آج نیٹ اشتراک کا آخری دن ہے ۔ کسی پل بھی اس عالمی گاؤں سے رابطہ منقطع ہونا ممکن ہے ۔
جیسے ہی نیٹ اشتراک ری نیو ہوتا ہے ۔ آپ سے گفتگو جاری رہے گی ۔
 
محمود بھائی جب علم کا سفر جاری ہو تو اکثر ایسی معطونیاں بطور تمغہ نصیب ہوتی ہیں ۔
محترم روحانی بابا بھائی کا اپنا انداز گفتگو ہے ۔
اور گفتگو جب علم کی راہ پر ہو تو " جہالت و لاعلمی " کے عنوان اس کو مدلل اور مستحکم راہ پر رکھنے میں معاون ہوتے ہیں ۔
محمود احمد غزنوی صاحب مطعون تو نہیں کیا جارہا ہے بلکہ دلیل اور برہان سے بات ہورہی ہے۔یاد رکھیں بحیثیت انسان وہ اور آپ دونوں میرے لیئے محترم ہیں ورنہ طعنہ زنی تو صنف نازک کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔:biggrin:
 

باباجی

محفلین
روحانی بابا نایاب

آپ دونوں کی گفتگو پڑھی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ تو سوچا ہم بھی کچھ بولنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بات ہو رہی ہے علوم کی تو علوم بر حق ہیں ۔ علوم کی اقسام ہیں سفلی و نوری اور حضرت انسان کا اوج کمال دیکھیئے کہ ان کو اپنی مرضی سے استعمال بھی کرتے ہیں ۔
اب میں آؤں گا ریا کاری کی طرف یعنی اپنی بات کروں گا :p
نایاب بھائی نے بہت خوب بات کی " واذا مرضت فھوٰہ یشفین" کسی لفظی غلطی کی معذرت
بے شک وہی شفاء دیتا ہے ، لیکن بھائی جی ڈائریکٹ تھوڑی آنا ہے اس نے ، وسیلہ بنا ڈاکٹر اور آپ ٹھیک ہو گئے لیکن اس میں سراسر امر ربی شامل ہے
، اور کوئی ایسا کام ایسی تبدیلی ایسی حرکت نہیں ہے جس میں امر ربی شامل نہ ہو ۔
اور اب آپ کی بات ہوگی روحانی بابا تو مجھے معلوم ہے کہ آپ کچھ علوم پر دسترس رکھتے ہیں ۔ اور ان کہ ذریعے مخلوق خدا کی خدمت بھی کر تے ہیں لہذٰا آپ کی بات کے وزن میں کوئی شک نہیں ۔ نایاب بھائی نے جو بتایا ہمیں جبرائیل والا قصہ ، اس میں سبق ہے بہت پیارا کہ علوم حاصل کریں اسّے فائدہ حاصل کریں
لیکن حد سے تجاوز نہ کریں ۔
اب میں اپنا کچھ ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں جو آپ دونوں کی سوچ سے مطابقت رکھتا ہے۔
ہوا یوں کہ مجھ غریب پر ایک اللہ کے بندے نے مہربانی کی ، وہ خود ماشاءاللہ بہت پڑھی لکھی شخصیت ہیں تو پتا نہیں ایک دن ان کے من میں کیا سمائی کہ مجھے بلا بھیجا ، میں حاضر ہوگیا تو فرمانے لگے کہ کچھ سیکھنا ہے تو میں نے کہا کہ بھائی مجھے تو حکم ہے پیروں کا کہ
" سِکھدا رہیں کِدے سِکھ نا جاویں"
تو جناب مجھے علم جفر کا ایک فارمولہ عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ پریکٹس کرو لیکن کسی کو بتانا نہیں جو پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لینا
تو میں نے سیکھنا شروع کیا اسی طرح ایک دن میں نے ایک شخص کے حوالے سے وہ فارمولہ بطور پریکٹس اپلائی کیا تو جواب صفر آیا
فارمولہ چینج کرکے دیکھا تو بھی صفر آیا۔ میں نے استاد جی سے بات کی تو انہوں نے بھی چیک کیا نتیجہ صفر آیا تو جناب پتا چلا کہ علم کے حوالے سے اس کی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں اور اللہ کی کرنی کے وہ ایک ہفتے کی اندر وفات پا گیا اور علم کی سچائی پر مہر لگ گئی ۔ لیکن پھر میں نے پریکٹس چھوڑدی کے دل میں تھوڑا کبر آگیا ۔
کچھ عرصے بعد میرا جانا ہوا اپنے پیر بھائی اور فاضلی سلسلے کی 7 گدیوں کے حالیہ بزرگ جناب صوفی شفیق صاحب سے تو وہاں کچھ ذکر ہوا علم جفر کے حوالے سے تو صوفی صاحب نے فرمایا کہ ہر حال اور ہر کام میں امر ربی شامل ہے۔ روحانی بابا کو یقیناً پتا ہوگا کہ علم جفر میں اصل چیز فارمولہ ہوتا ہے۔
تو جناب صوفی صاحب نے فرمایا کہ ایک آدمی اپنی تکلیف کی شکایت لے کر ایک علم جفر کے ماہر کے پاس گیا ، استاد جی نے اس کی تکلیف سنی اور فارمولہ لگا کر پتا لگایا کے کہ کوئی جسمانی تکلیف ہے ۔ یہ سن کر وہ آدمی چلا گیا اور علاج کر وا کر صحتیاب ہو کر پھر استاد علم جفر کے پاس آیا کہ حضور اب میں ٹھیک ہوں تو آپ اپنے علم کے ذریعے پتا کریں کہ کیا واقعی ٹھیک ہوں تو جناب فارمولہ لگایا گیا تو وہی بیماری کا اشارہ ملا ۔ اب تو جناب مسئلہ پیدا ہو گیا علم کہتا ہے کہ بیماری ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اور صاحب بیماری بھی کہتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں ۔
اب یہاں تو میرا کنفیوز ہونا بنتا ہے ۔ لیکن جناب اصل بات امرِ ربی ہے ۔ اصل بات یقین کی ہے کہ یقین کامل تو پیر کامل ۔
ہمارا ایمان بھی تو ایمان باالیقین و ایمان باالغیب ہے ۔ نہ دیکھا نہ بھالا سنا اور یقین لے آئے ۔
یہاں میں آجکل کے نام نہاد پیر صاحبان کی بات کروں گا کہ کس خوبصورتی سے اپنا دامن بچا جاتے ہیں ۔ کام ہوگیا پیر صاحب کا کمال کام نہ ہوا اللہ کی مرضی :)
تو صاحبان آپ دونوں اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہیں
روحانی بابا آپ کو پتا ہے کہ میں بے ربط ہو جاتا ہوں تو میری پوسٹ کا تانا بانا خود ہی جوڑ لینا آپ
 

نایاب

لائبریرین
نایاب بھائی آپ نے کہا​
قران پاک کے نزول کے بعد ان نجوم و بروج سے منسلک تمام سعد و نحس ساقط قرار پائے
مجھے تو اس بات کانہیں پتہ کہ ایسا ہے لیکن میرا تو اس پر کامل یقین ہے کہ ستاروں کے نحس و سعد اثرات اللہ تبارک تعالیٰ کے چار فرشتوں جبرائیل میکائیل اسرافیل اور عزرائیل کے زیر اثر ہیں شائد گمان اغلب ہے کہ آپ کو یہ بھی نہ ہو پتہ ہو کہ فرشتوں کی کتنی اقسام ہیں بہرحال علم کی کمی کی وجہ سے آپ جس چیز کو کہانت کی وجہ سے باطل اور گمان قرار دیتے ہیں۔ جو کہ مجھے قرآن شریف میں تو کہیں نظر نہیں آیا شائد میری علم کی کمی ہو لیکن اگر نص میں کہیں آیا ہے تو اس کی وجہ ستاروں کو اختیار کُل کا حامل قرار دیتے ہوئے ایسے عقیدہ کو باطل اور کہانت کہا گیا ہے ۔اس مقصد کے لیئے میں اپ کو ابو الفراج ابنِ جوزی کی تصنیف تلبیس ابلیس پڑھنے کا مشورہ دونگا۔جس میں ستاروں سے متعلق شرکیات و کاہنوں کا تفصیلاً بیان مؤجود ہے۔​
پتہ وہ کونسے صاحب علم تھے جنہوں نے آپ کو یہ لکیروں والی سُنی سنائی بات بغیر تحقیق کیئے آگے بیان کردی ہے۔۔۔ ۔۔البتہ لکیروں واے علم کو علم رمل کہتے ہیں اور یہ علم دانیال علیہ السلام پر نازل ہوا تھا ۔۔۔ ۔بہرحال چونکہ آپ اس علم کے متعلق کچھ جانتے ہی نہیں ہیں تو مزید بات کرنا وقت کے ضیاع کے مترادف ہے ورنہ آپ کو مثالوں سے سمجھا دیا جاتا کہ کیسے اس علم کے ذریعے سپر کمپیوٹر بنا ہے اور کمپیوٹر کی لینگوئج کیسے علم الرمل کی اشکال سے مناسبت رکھتی ہے۔​
جہاں تک آپ کے عمر ضائع کرنے کی بات ہے تو نایاب جی مجھے افسوس ہے کہ آپ نے عمر ضائع کی اور اصل حقیقت تک نہ پہنچ سکے بقول شاعر​
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل​
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں​
لیکن بہرحال علم نجوم ایک عظیم سائنس ہے اور بیماریوں کا اس سے پتہ چلتا ہے اور اگر کوئی گردش حالات کامارا آپ سے علمی مدد لینے آجائے تو اتنا یاد رکھیں کہ وہ من جانب اللہ ہوتا ہے ورنہ ہم نے ایسے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے زائچہ میں زحل منحوس پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ بدحالی کا شکار ہیں تو ہمارے کہنے پر وہ عمل نہیں کرتے نہ پتھر پہنتے ہیں حالانکہ پتھر بھی اللہ کی ہی پیدا کردہ مخلوق ہے اور اس میں الیکٹران پروٹان اور نیوٹران کی ایک خاص ردھم سے حرکت بھی اس قادر و حکیم کی قدرت اور حکمت کی صناعی کا نمونہ ہے جو کہ ہاتھ کی جلد سے مَس ہوکر سٹون تھراپی کے نقطہ نظر سے شفا کا باعث بن سکتی ہے۔لیکن وہ آپ والی بات دہراتے ہیں کیونکہ اُن کے نصیب میں شفاء نہیں لکھی ہوتی ہے اور ان کی کتاب زندگی سبقت کرتی ہے جس کا قرآن شریف میں ان الفاظ میں ذکر آیا ہے​
لکل اجل کتاب​
اور مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ اپ نے اس آیت "واذا مرضت ہو یشفین " کو کیسے اپنے نقطہ نظر سے تطبیق دے دی ہے۔۔۔ ۔۔میرے بھائی جب آپ بیمار پڑتے ہیں تو کیا ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتےا؟؟؟؟ یا ایمان کے ماشاء اللہ اُس درجہ پر فائز ہیں کہ آپ کا توکل اور اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات پر ایمان اتنا کامل اور عقیدہ اتنا متزلل ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ جس نے مجھے بیماری دی ہے وہی مجھے شفا دے گا ۔۔۔ کیونکہ آپ کے بیان کے مطابق تو یہی محسوس ہوتا ہے۔برسبیل تذکرہ ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔۔۔​
پیر مہر علی شاہ صاحب ایک مقام پر تشریف فرما تھے کہ ایک نابینا علم تشریف لائے اور کہا کہ آپ قرآن شریف کی آیات کی تشریح اپنے آپ سے گھڑتے اور بیان کرتے ہیں آپ میرے ساتھ صرف لفظی ترجمہ پر بات کریں تو تب مانوں اپ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔​
آپ اس آیت کا ترجمہ کریں اور پھر بتائیں کہ کیا اس کی تشریح کے لیئے مجازی الفاظ کی ضرورت ہے یا نہیں اور یہ آیت تلاوت فرمائی مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمِیٰ فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی۔جو یہاں اندھا سو وہ وہاں بھی اندھا۔یعنی اگر کوئی اس دنیا میں اندھا ہے تو کیا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور اگر اندھا ہوگا تو وہ اللہ کا دیدار کیسے کرے گا تو اُس نابینا عالم سے کچھ جواب نہ بن پڑا اور وہ مارے شرمندگی کے اٹھ کر بغیر کوئی لفظ کہے چلے گئے۔​
ایک مرتبہ پہلے بھی آپ کو کہا تھا کہ جب آپ آیت قرانی یا حدیث کا استعمال کریں تو پورا لکھا کریں لیکن آپ پھر وہی کام کر گئے ہیں جناب اپ نے جو اوپر آیت کے دو جملے لکھے ہیں " لا علمنا " تو میرے ناقص علم کے مطابق ان کا شان نزول کچھ اس طرح سے ہے​
اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ ونَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سَاجِدِیْنَ۔ص:۷۲(اے فرشتو! جب میں اس کو بناد کر پورا کردوں اور اپنی روح کو اُس کے اندر پھونک دوں اُس وقت تم سب اُس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا )اللہ تبارک تعالیٰ نے قالب آدم کو چشم زدن میں پیدا کرکے میدانِ کبریائی میں ڈال دیا چنانچہ کالبد نے تھوڑے عرصے میں قلب کے نور کو قبول کیا جس کی خبر مخبر صادق ﷺ نے اس فرمان میں دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی مٹی کو چالیس روز اپنے ہاتھ سے خمیر کیا ہے ہر دس روز دس نعمتیں آدم پر فرماتا تھا یعنی ان نعمتوں کی برکت سے آدم کے قلب میں سے ارکان کی جمادیت بالکل جاتی رہی خدا کے وعدہ کے چالیس روز پورے ہوئے اور ان ہی چالیس روز کا نمونہ وہ چالیس روزے تھے جن کا موسیٰ علیہ السلام کے حق میں ذکر فرمایا ہے۔
واضح ہو کہ آدم علیہ السلام کا ظہور مٹی سے تھا پھر اس نے اوج عقل کی طرف حرکت کی پس جب نورِ عقل نے اُس پر طلو ع کیا تو آدم زمین عبودیت میں اللہ کا خلیفہ بن گیا اور زمینِ جہالت سے اُ س نے علوم شریعت و حقیقت کے آسمان پر ترقی کی ۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فر ما کر عالم میں ڈال دیا اور فرشتوں اور رُسکان ملاء اعلیٰ (یعنی اعلیٰ مقام کے فرشتے)سے کہا اِنِی جَاعِلُ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَہ۔ میںزمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں اور تم سب اس کی خدمت اور متابعت کے لیے تیار ہوجاؤجب فرشتوں نے یہ آواز سنی تو اپنے اپنے مقامات سے نکل کر آدم علیہ السلام کے کالبد کو دیکھنے لگے اور اُس کالبد کو جو بے جان پڑا تھا کو دیکھ کر خیال کرنے لگے کہ اور حیوانوں کی طرح یہ بھی ایک حیوان ہوگا چونکہ فرشتے زمین کے باشندوں کی قتل و غارت دیکھ چکے تھے اور انہیں معلوم تھا کے زمین پر رہنے والے مفسد ہوتے ہیں ۔لہٰذا انھوں نے پروردگار سے عرض کی اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّعُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ(بقرۃ۔۳۰) (کیاتو اس قوم کو زمین پر پیدا کرے گا جو طرح طرح کے فساد پیدا کرے گی اور اس سے خون
ریزیاں ہونگی اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ،حمد کرتے ہیں اور تقدیس کرتے ہیں۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں نے کہا کہ ہم ارواح طیبہ اور نفوس طاہرہ کے ساتھ زندہ ہیں اور زمین کا رہنے والا خبیث زندگانی کیسا تھ زندہ کیا جائے گاتو سوائے اعمال قباحت کے اور کچھ نہ کرے گا ۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے فرشتوں کو اس بد گمانی سے منع فرمایا اور کہا اِنِی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (بقرۃ۔۳۰) اس معاملے میں،میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے )خالق کائنات کا یہ جواب سن کر فرشتوں نے عاجزانہ لہجہ میں کہاسُبحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْم۔(بقرۃ۔۳۲)(پرودگار! تیری ذات پاک ہے جو کچھ تو نے ہمیں علم دیا ہے اس سے زائد ہم کچھ نہیں جانتے تو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔)
جب آدم علیہ السلام سے نفس کلی وابستہ ہوا تب عقل کلی بھی اس کی طرف متوجہ ہوئی اور تمام علوم اس کی روح میں منقش ہوگئے اور کل اسرار آدم کے قلب پر ظاہر ہوئے پس یہ عقل اور نفس کی امداد سے عالم ،زندہ اور بولنے والا بن گیا اور علم و عمل کے استحکام سے حکیم ہوگیا تب اللہ تبارک تعالیٰ نے اس کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایااَنبئونی بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلََٓائِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ بقرۃ:۲۱ مجھ کو ان چیزوں کے نام بتاؤ اگر تم اس خیال میں سچے ہو کہ ہم آدم علیہ السلام سے افضل ہیں اُس وقت فرشتے سمجھے کہ انہوں نے واقعی اپنے قیاس میں غلطی کی تھی پس فرشتوں نے سجدہ کیا۔
جس کو آپ پتہ نہیں کس جہالت والی لاعلمی پر چسپان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔​
یہ آگہی یہ علم جنہیں ہم جملہ علوم کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ یہ علوم انسان تک کیسے پہنچے ؟
تمام علوم کی منبع ذات پاک نے ان علوم کو وحی کی صورت اپنے منتخب بندوں تک پہنچایا ۔ اور اس کے منتخب بندوں نے ان علوم کو انسانوں میں عام کیا ۔ ان تمام علوم کی غرض و بنیاد صرف فلاح انسانیت پر قائم تھی ۔
ان علوم کے بارے جو پیغامات انسانوں تک پہنچے وہ صحیفے اور کتب کہلائیں ۔ جن میں چار کتب مکمل علوم کی حامل کہلائیں اور باقی سب صحیفے توحید کے اعلان کے ساتھ مشترک رہتے الگ الگ علوم سے منسلک قرار پائے ۔ زبور ۔ توریت ۔ انجیل ۔ قران پاک ۔ اس سچے علیم و خبیر نے جس نے اپنے منتخب بندوں پر اپنا پیغام وحی کیا تھا اس نے قران پاک کو آخری اور مکمل شفاءو ہدایت کا پیغام دیتے اس کو کسی بھی تحریف کا شکار ہونے سے بچانے کی ذمہ داری اپنی زبان سے خود قران پاک میں بیان فرما دی ۔
اور دیگر پچھلی تمام کتابوں اور صحیفوں پر ایمان رکھنے کا حکم فرماتے ان کتب کے پیغامات و مندرجات کے اتباع کو ممنوع قرار دیتے صرف قران پاک کے اتباع کا حکم فرمایا ۔ اور اس حکم کی وجہ بھی صاف کھلے لفظوں میں بیان فرما دی کہ ان تمام سابقہ کتب و صحیفوں میں غرض و نفس کے ماروں نے تحریف کرتے ان کے پیغام کو مشتبہ کر دیا ۔ اور ابلیس نے ان علوم کو مخلوق خدا کی گمراہی کا اک بڑا سبب بنا دیا ۔ اور ان علوم کے حامل سچے انسان جو ان علوم کو مخلوق خدا کی بھلائی کے لیئے استعمال کرتے تھے ۔ ان انسانوں کے اس دنیائے فانی سے سفر کر جانے کے ان کی شبیہ بنا بتوں کی عبادت کی راہ کھولی ۔ کچھ انسانوں کو ابلیس نے ان علوم سے مخلوق خدا کو دہشت زدہ کرنے اور بہکانے کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ اور وہ جادو و ٹونے کی راہ چل نکلے ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان علوم سے واقف ہونے والوں نے ان علوم کو اپنی نفسانی و مادی خواہشات کے تابع کرتے ان علوم کو اپنی اغراض نفسانی پورا کرنے کی سبیل بنایا ۔
قران پاک نے ان تحریف شدہ پیغامات سے پھیلنے والی جہالت و توہمات سعد و نحس کا قران پاک میں کھلے طور رد فرماتے " ان اللہ علی کل شئی قدیر " کا فرمان سناتے ان تمام توہمات کا رد کر دیا جو کہ نجوم و بروج کے سعد و نحس ہونے پر قائم تھے ۔
اللہ تعالی کے فرمان " کن " کو " فیکون " کی صورت مجسم کرنے تک کے جملہ اسباب کو اس کے حکم کے تحت کتنے فرشتے قائم کرتے ہیں ۔ یہ صرف اللہ تعالی کی ہی ذات پاک جانتی ہے ۔
ہمیں صرف چار فرشتوں کے ناموں بارے قران پاک آگہی دیتا ہے۔
اور ان کے فرائض کو بیان فرماتا ہے ۔
اور وہ جبرائیل علیہ السلام ۔ میکائیل علیہ السلام ۔ اسرافیل علیہ السلام اور عزرائیل علیہ السلام ہیں ۔ اور ان فرشتوں کو مقرب فرماتا ہے ۔ باقی فرشتوں کے نام و کام بیان کرنے کے لیئے کتنی ضغیم کتاب کی ضرورت ہوتی اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے ۔ کہیں پڑھا تھا کہ ستر ہزار فرشتے عرش معلی پر حاضری دیتے ہیں اور ان کی دوبارہ باری نہیں آتی ۔ قران پاک نے کہیں بھی ان مقرب فرشتوں کو نجوم و بروج کے سعد و نحس سے منسوب نہیں ٹھہرایا ۔
بلا شبہ میں نے اپنی عمر ایسے ہی علوم کے سیکھنے میں ضائع کر دی ۔ ضائع کا لفظ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ اگر میں ان علوم کی بھول بھلیوں میں نہ الجھتا ۔ اور ان پر دسترس حاصل کرنے کی فضولیات میں الجھے بنا صرف قران پاک کی " شفاء و ہدایت " والی صداقت کو تسلیم کرتےاسے سمجھنے اور اس کو فلاح انسانی کے لیئے استعمال کرنے میں مصروف رہتا ۔ تو مجھے آج اپنی عمر ضائع ہونے کا اعتراف نہ کرنا پڑتا ۔
میرے محترم بھائی شیطان نے مجھے ان علوم میں ایسا الجھایا تھا کہ میں اپنے پاس آنے والے کسی بھی سائل سے کبھی اس کی پریشانی پوچھنا ضروری ہی نہ سمجھتا تھا ۔ اور اپنے وہم و گمان میں ابھرے خیال و سوچ کو قیافے کی صورت الفاظ میں بیان کر دیتا تھا ۔ اوروہ میرا معتقد ہو جاتا تھا ۔ میں اسے زحل و مریخ و مشتری کے قصے سنا ۔ زائچہ ۔ طلسم ۔ تعویذ بنا ۔ پتھر پہنا اس کی پریشانی کو بزعم خود دور کر دیتا تھا ۔اور اسے سدا کے لیئے پتھر کے نفح رساں ہونے والی گمراہی میں دھکیل دیتا تھا ۔
جب سچے کلام الہی قران پاک کی جانب متوجہ ہوا تو یہ حقیقت مکمل سامنے آ گئی کہ
انسان پرجو مصیبت آتی ہے چاہے جسمانی ۔ ذہنی ۔ر وحانی ۔ کاروباری ۔ خاندانی لڑائی جھگڑے غرض کہ ہر قسم کی مصیبت انسان کے اپنے گناہوںاور کوتاہیوں کی وجہ سے آتی ہے۔ اس لیے اسے اس سے نجات پانے کے لیے سچی توبہ کرتے اللہ کے ذکر کو اپنا سہارا بنا لینا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا ازالہ کرکے انھیں خوشحال بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
﴾ وَمَا ا صَابَکُم ´ مِّن ´ مُّصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَت ´ ا یدِیکُم ´ وَیَعفُو ´ عَن ´ کَثِیرٍ﴿ [ الشوری : 30]
”اور تمھیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمھارے اپنے کرتوتوں کے سبب سے آتی ہے ۔ اوروہ تمھارے بہت سارے گناہوں سے در گذر بھی کرجاتا ہے ۔ “
توبہ واستغفار بارے اللہ تعالی کا فرمان :
” پس میں ( نوح علیہ السلام )نے کہا : تم سب اپنے رب سے معافی مانگ لو ۔ بلا شبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، مال اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا ، تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا ۔ “( نوح : 10۔ 12)
" ( اَنِیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) 'اے میرے رب! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے '. [الانبیاء : 83] "
یہ لعل یاقوت و مرجان و زمردکیا ہیں ۔؟
ان کی حقیقت بھی قران پاک مکمل طور سے بیان کرتا ہے ۔
کہ یہ اپنے آپ میں منور ہوتے نور کے حامل کیسے ٹھہرے ۔
کائنات میں موجود جملہ جمادات اللہ کی تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتی ہیں ۔
ان کی اس تسبیح و تہلیل سے وہ اللہ ہی پوری کاملیت سے آگاہ ہے ۔
اور وہ عزت و ذلت سے نوازنے پر قادر ذات اپنے فرمان
" و تعز من تشاء و تعزل من تشاء "
کو سچ فرماتے ان پتھروں کو منور فرما دیتا ہے جو کہ اس کی تسبیح و تہلیل کا حق ادا کرتی ہیں ۔
اسی لیئے کچھ صاحب علم ہستیاں جب پتھر پہننے کی اجازت دیتی ہیں تو ان کے پہننے کے ساتھ ساتھ کچھ ذکر خاص بطور زکواۃ حامل پتھر پر فرض قرار دے دیتی ہیں ۔ اور ان صاحب علم ہستیوں کا یہ پتھر پہننے کی اجازت دینابھی درحقیقت " تسبیح "پڑھنے پر راغب کرنا ہوتا ہے ۔ اور یہ پتھر حامل پتھر کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ مجھے ذکر الہی کرنا ہے ۔ اور یہ ذکر ہی اس کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتے گناہوں کی نحوست کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے ۔
فَاذْکُرُوْنِيْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِo
’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘
البقره، 2 : 152
اس حقیقت سے کسی صورت بھی انکار نہیں کہ جسمانی امراض میں یہ پتھر کا انسانی جسم سے تعامل انسان کے لیئے فوائد کا سبب بنتا ہے ۔ لیکن ان پتھروں کے پہننے سے تقدیر بدل جانا قرار دینا صرف اک گمان باطل ہے ۔
" اذا مرضت و ہو یشفین "
میرا کامل یقین ہے کہ
بے شک سب مرض اللہ کی ہی جانب سے ہوتے ہیں اور وہی ان سے شفا دیتا ہے ۔
ڈاکٹر حکیم علماء کے حکم میں جو کہ مجھے میری بیماری کے بارے ممکنہ اسباب سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اور اپنے وجدان کے بل پر مجھے دوا دیتے ہین ۔ اور ساتھ فرما دیتے کہ
" ہو الشافی "
کہ صحت دینا اللہ کی ہی حکمت پر منحصر ہے ۔
مجھے پر لازم ہے کہ میں ڈاکٹر و حکیم کے بتائے گئے اسباب مرض پر غور کرتے احتیاط برتوں ۔
دوا کھاؤں ۔ اور صحت یابی کو اللہ پر چھوڑ دوں ۔
آپ نے جو یہ ولی کامل پیر مہر علی شاہ کا واقعہ تحریر فرمایا ہے کہ
لفظی ترجمے نے ان عالم کو شرمندہ کر دیا کہ
"جو یہاں اندھا سو وہ وہاں بھی اندھا۔"
تو میرے محترم جب انسان کو دوبارہ حشر کے دن اٹھایا جائے گا
تو وہ انسان اپنی اسی مکمل صورت میں اٹھے گا جیساکہ اسے دنیا میں خلق کرتے بھیجا گیا تھا ۔
اور وہ سچا قادر و مالک اگر چاہے گا تو اندھے کو آنکھیں بھی مل جائیں گی ۔ اور بہرے کو کان بھی ۔ اس لیئے یہ لفظی معنی اپنے ظاہری و باطنی معنی میں مکمل صداقت کے حامل ہیں ۔
بحکم الہی کائنات میں پائی جانے والی ہمہ اقسام مٹی کو ملا کر گوندھ کر اک پتلا وجود میں لایا گیا اور اس میں مالک " کن " نے اپنی روح نفخ کر تے فرشوں کو سجدے کا حکم فرما دیا ۔
وہ سچا قادر و مالک اگر چاہتا تو صرف " کن " کہتے اس آدم کے وجود کو صورت عطا فرما دیتا ۔
لیکن وہ اپنی حکمت خود ہی جانتا ہے ۔ اور اسی حکمت کی دلیل یہ فرشتوں کے ساتھ کی جانے والی گفتگو بھی ہے کہ
کہا اِنِی جَاعِلُ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَہ۔ میں زمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں
انھوں نے پروردگار سے عرض کی اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّعُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ(بقرۃ۔۳۰)
(کیاتو اس کو زمین پر پیدا کرے گا جو طرح طرح کے فساد پیدا کرے گی اور اس سے خونریزیاں ہونگی اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ،حمد کرتے ہیں اور تقدیس کرتے ہیں۔)
اللہ نے فرمایا " اِنِی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (بقرۃ۔۳۰) "میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے )
فرشتوں نے کہا " سُبحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْم۔(بقرۃ۔۳۲)
(پرودگار! تیری ذات پاک ہے جو کچھ تو نے ہمیں علم دیا ہے اس سے زائد ہم کچھ نہیں جانتے تو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔)
یہ بھی حکمت الہی کا مظہر ہے ۔ اور اس حقیقت کی دلیل کہ اللہ ہی سچا علیم و خبیر ہے ۔ اسی کی بارگاہ میں اسی کے فرمان کے ساتھ دعا کرنی بہتر ہے کہ وہ چاہے گا تو ہماری لاعلمی ۔ علم یقین میں بدل جائے گی ۔
بلا شک انسان جہل مرکب ہے جب تک توفیق الہی اس پر مہربان ہوتے اس پر علم کو کھول دے ۔
علموں بس کریں او یار
اک الف اللہ تینوں مینوں درکار

مندرجہ بالا تحریر میں اگر جہالت نظر آئے تو نگاہ کریم رکھتے رہنمائی کی التجا ۔
 

باباجی

محفلین
quote="نایاب, post: 997629, member: 1990"]یہ آگہی یہ علم جنہیں ہم جملہ علوم کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ یہ علوم انسان تک کیسے پہنچے ؟
تمام علوم کی منبع ذات پاک نے ان علوم کو وحی کی صورت اپنے منتخب بندوں تک پہنچایا ۔ اور اس کے منتخب بندوں نے ان علوم کو انسانوں میں عام کیا ۔ ان تمام علوم کی غرض و بنیاد صرف فلاح انسانیت پر قائم تھی ۔
ان علوم کے بارے جو پیغامات انسانوں تک پہنچے وہ صحیفے اور کتب کہلائیں ۔ جن میں چار کتب مکمل علوم کی حامل کہلائیں اور باقی سب صحیفے توحید کے اعلان کے ساتھ مشترک رہتے الگ الگ علوم سے منسلک قرار پائے ۔ زبور ۔ توریت ۔ انجیل ۔ قران پاک ۔ اس سچے علیم و خبیر نے جس نے اپنے منتخب بندوں پر اپنا پیغام وحی کیا تھا اس نے قران پاک کو آخری اور مکمل شفاءو ہدایت کا پیغام دیتے اس کو کسی بھی تحریف کا شکار ہونے سے بچانے کی ذمہ داری اپنی زبان سے خود قران پاک میں بیان فرما دی ۔
اور دیگر پچھلی تمام کتابوں اور صحیفوں پر ایمان رکھنے کا حکم فرماتے ان کتب کے پیغامات و مندرجات کے اتباع کو ممنوع قرار دیتے صرف قران پاک کے اتباع کا حکم فرمایا ۔ اور اس حکم کی وجہ بھی صاف کھلے لفظوں میں بیان فرما دی کہ ان تمام سابقہ کتب و صحیفوں میں غرض و نفس کے ماروں نے تحریف کرتے ان کے پیغام کو مشتبہ کر دیا ۔ اور ابلیس نے ان علوم کو مخلوق خدا کی گمراہی کا اک بڑا سبب بنا دیا ۔ اور ان علوم کے حامل سچے انسان جو ان علوم کو مخلوق خدا کی بھلائی کے لیئے استعمال کرتے تھے ۔ ان انسانوں کے اس دنیائے فانی سے سفر کر جانے کے ان کی شبیہ بنا بتوں کی عبادت کی راہ کھولی ۔ کچھ انسانوں کو ابلیس نے ان علوم سے مخلوق خدا کو دہشت زدہ کرنے اور بہکانے کے طریقوں سے آگاہ کیا ۔ اور وہ جادو و ٹونے کی راہ چل نکلے ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان علوم سے واقف ہونے والوں نے ان علوم کو اپنی نفسانی و مادی خواہشات کے تابع کرتے ان علوم کو اپنی اغراض نفسانی پورا کرنے کی سبیل بنایا ۔
قران پاک نے ان تحریف شدہ پیغامات سے پھیلنے والی جہالت و توہمات سعد و نحس کا قران پاک میں کھلے طور رد فرماتے " ان اللہ علی کل شئی قدیر " کا فرمان سناتے ان تمام توہمات کا رد کر دیا جو کہ نجوم و بروج کے سعد و نحس ہونے پر قائم تھے ۔
اللہ تعالی کے فرمان " کن " کو " فیکون " کی صورت مجسم کرنے تک کے جملہ اسباب کو اس کے حکم کے تحت کتنے فرشتے قائم کرتے ہیں ۔ یہ صرف اللہ تعالی کی ہی ذات پاک جانتی ہے ۔
ہمیں صرف چار فرشتوں کے ناموں بارے قران پاک آگہی دیتا ہے۔
اور ان کے فرائض کو بیان فرماتا ہے ۔
اور وہ جبرائیل علیہ السلام ۔ میکائیل علیہ السلام ۔ اسرافیل علیہ السلام اور عزرائیل علیہ السلام ہیں ۔ اور ان فرشتوں کو مقرب فرماتا ہے ۔ باقی فرشتوں کے نام و کام بیان کرنے کے لیئے کتنی ضغیم کتاب کی ضرورت ہوتی اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے ۔ کہیں پڑھا تھا کہ ستر ہزار فرشتے عرش معلی پر حاضری دیتے ہیں اور ان کی دوبارہ باری نہیں آتی ۔ قران پاک نے کہیں بھی ان مقرب فرشتوں کو نجوم و بروج کے سعد و نحس سے منسوب نہیں ٹھہرایا ۔
بلا شبہ میں نے اپنی عمر ایسے ہی علوم کے سیکھنے میں ضائع کر دی ۔ ضائع کا لفظ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ اگر میں ان علوم کی بھول بھلیوں میں نہ الجھتا ۔ اور ان پر دسترس حاصل کرنے کی فضولیات میں الجھے بنا صرف قران پاک کی " شفاء و ہدایت " والی صداقت کو تسلیم کرتےاسے سمجھنے اور اس کو فلاح انسانی کے لیئے استعمال کرنے میں مصروف رہتا ۔ تو مجھے آج اپنی عمر ضائع ہونے کا اعتراف نہ کرنا پڑتا ۔
میرے محترم بھائی شیطان نے مجھے ان علوم میں ایسا الجھایا تھا کہ میں اپنے پاس آنے والے کسی بھی سائل سے کبھی اس کی پریشانی پوچھنا ضروری ہی نہ سمجھتا تھا ۔ اور اپنے وہم و گمان میں ابھرے خیال و سوچ کو قیافے کی صورت الفاظ میں بیان کر دیتا تھا ۔ اوروہ میرا معتقد ہو جاتا تھا ۔ میں اسے زحل و مریخ و مشتری کے قصے سنا ۔ زائچہ ۔ طلسم ۔ تعویذ بنا ۔ پتھر پہنا اس کی پریشانی کو بزعم خود دور کر دیتا تھا ۔اور اسے سدا کے لیئے پتھر کے نفح رساں ہونے والی گمراہی میں دھکیل دیتا تھا ۔
جب سچے کلام الہی قران پاک کی جانب متوجہ ہوا تو یہ حقیقت مکمل سامنے آ گئی کہ
انسان پرجو مصیبت آتی ہے چاہے جسمانی ۔ ذہنی ۔ر وحانی ۔ کاروباری ۔ خاندانی لڑائی جھگڑے غرض کہ ہر قسم کی مصیبت انسان کے اپنے گناہوںاور کوتاہیوں کی وجہ سے آتی ہے۔ اس لیے اسے اس سے نجات پانے کے لیے سچی توبہ کرتے اللہ کے ذکر کو اپنا سہارا بنا لینا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا ازالہ کرکے انھیں خوشحال بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
﴾ وَمَا ا صَابَکُم ´ مِّن ´ مُّصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَت ´ ا یدِیکُم ´ وَیَعفُو ´ عَن ´ کَثِیرٍ﴿ [ الشوری : 30]
”اور تمھیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمھارے اپنے کرتوتوں کے سبب سے آتی ہے ۔ اوروہ تمھارے بہت سارے گناہوں سے در گذر بھی کرجاتا ہے ۔ “
توبہ واستغفار بارے اللہ تعالی کا فرمان :
” پس میں ( نوح علیہ السلام )نے کہا : تم سب اپنے رب سے معافی مانگ لو ۔ بلا شبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، مال اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا ، تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا ۔ “( نوح : 10۔ 12)
" ( اَنِیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) 'اے میرے رب! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے '. [الانبیاء : 83] "
یہ لعل یاقوت و مرجان و زمردکیا ہیں ۔؟
ان کی حقیقت بھی قران پاک مکمل طور سے بیان کرتا ہے ۔
کہ یہ اپنے آپ میں منور ہوتے نور کے حامل کیسے ٹھہرے ۔
کائنات میں موجود جملہ جمادات اللہ کی تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتی ہیں ۔
ان کی اس تسبیح و تہلیل سے وہ اللہ ہی پوری کاملیت سے آگاہ ہے ۔
اور وہ عزت و ذلت سے نوازنے پر قادر ذات اپنے فرمان
" و تعز من تشاء و تعزل من تشاء "
کو سچ فرماتے ان پتھروں کو منور فرما دیتا ہے جو کہ اس کی تسبیح و تہلیل کا حق ادا کرتی ہیں ۔
اسی لیئے کچھ صاحب علم ہستیاں جب پتھر پہننے کی اجازت دیتی ہیں تو ان کے پہننے کے ساتھ ساتھ کچھ ذکر خاص بطور زکواۃ حامل پتھر پر فرض قرار دے دیتی ہیں ۔ اور ان صاحب علم ہستیوں کا یہ پتھر پہننے کی اجازت دینابھی درحقیقت " تسبیح "پڑھنے پر راغب کرنا ہوتا ہے ۔ اور یہ پتھر حامل پتھر کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ مجھے ذکر الہی کرنا ہے ۔ اور یہ ذکر ہی اس کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتے گناہوں کی نحوست کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے ۔
فَاذْکُرُوْنِيْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِo
’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘
البقره، 2 : 152
اس حقیقت سے کسی صورت بھی انکار نہیں کہ جسمانی امراض میں یہ پتھر کا انسانی جسم سے تعامل انسان کے لیئے فوائد کا سبب بنتا ہے ۔ لیکن ان پتھروں کے پہننے سے تقدیر بدل جانا قرار دینا صرف اک گمان باطل ہے ۔
" اذا مرضت و ہو یشفین "
میرا کامل یقین ہے کہ
بے شک سب مرض اللہ کی ہی جانب سے ہوتے ہیں اور وہی ان سے شفا دیتا ہے ۔
ڈاکٹر حکیم علماء کے حکم میں جو کہ مجھے میری بیماری کے بارے ممکنہ اسباب سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اور اپنے وجدان کے بل پر مجھے دوا دیتے ہین ۔ اور ساتھ فرما دیتے کہ
" ہو الشافی "
کہ صحت دینا اللہ کی ہی حکمت پر منحصر ہے ۔
مجھے پر لازم ہے کہ میں ڈاکٹر و حکیم کے بتائے گئے اسباب مرض پر غور کرتے احتیاط برتوں ۔
دوا کھاؤں ۔ اور صحت یابی کو اللہ پر چھوڑ دوں ۔
آپ نے جو یہ ولی کامل پیر مہر علی شاہ کا واقعہ تحریر فرمایا ہے کہ
لفظی ترجمے نے ان عالم کو شرمندہ کر دیا کہ
"جو یہاں اندھا سو وہ وہاں بھی اندھا۔"
تو میرے محترم جب انسان کو دوبارہ حشر کے دن اٹھایا جائے گا
تو وہ انسان اپنی اسی مکمل صورت میں اٹھے گا جیساکہ اسے دنیا میں خلق کرتے بھیجا گیا تھا ۔
اور وہ سچا قادر و مالک اگر چاہے گا تو اندھے کو آنکھیں بھی مل جائیں گی ۔ اور بہرے کو کان بھی ۔ اس لیئے یہ لفظی معنی اپنے ظاہری و باطنی معنی میں مکمل صداقت کے حامل ہیں ۔
بحکم الہی کائنات میں پائی جانے والی ہمہ اقسام مٹی کو ملا کر گوندھ کر اک پتلا وجود میں لایا گیا اور اس میں مالک " کن " نے اپنی روح نفخ کر تے فرشوں کو سجدے کا حکم فرما دیا ۔
وہ سچا قادر و مالک اگر چاہتا تو صرف " کن " کہتے اس آدم کے وجود کو صورت عطا فرما دیتا ۔
لیکن وہ اپنی حکمت خود ہی جانتا ہے ۔ اور اسی حکمت کی دلیل یہ فرشتوں کے ساتھ کی جانے والی گفتگو بھی ہے کہ
کہا اِنِی جَاعِلُ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَہ۔ میں زمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں
انھوں نے پروردگار سے عرض کی اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّعُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ(بقرۃ۔۳۰)
(کیاتو اس کو زمین پر پیدا کرے گا جو طرح طرح کے فساد پیدا کرے گی اور اس سے خونریزیاں ہونگی اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ،حمد کرتے ہیں اور تقدیس کرتے ہیں۔)
اللہ نے فرمایا " اِنِی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (بقرۃ۔۳۰) "میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے )
فرشتوں نے کہا " سُبحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْم۔(بقرۃ۔۳۲)
(پرودگار! تیری ذات پاک ہے جو کچھ تو نے ہمیں علم دیا ہے اس سے زائد ہم کچھ نہیں جانتے تو سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔)
یہ بھی حکمت الہی کا مظہر ہے ۔ اور اس حقیقت کی دلیل کہ اللہ ہی سچا علیم و خبیر ہے ۔ اسی کی بارگاہ میں اسی کے فرمان کے ساتھ دعا کرنی بہتر ہے کہ وہ چاہے گا تو ہماری لاعلمی ۔ علم یقین میں بدل جائے گی ۔
بلا شک انسان جہل مرکب ہے جب تک توفیق الہی اس پر مہربان ہوتے اس پر علم کو کھول دے ۔
علموں بس کریں او یار
اک الف اللہ تینوں مینوں درکار

مندرجہ بالا تحریر میں اگر جہالت نظر آئے تو نگاہ کریم رکھتے رہنمائی کی التجا ۔[/quote]
واہ نایاب بھائی کیا انمول بات کی آپ بہت خوب یعنی مجھے لگ رہا ہے کہ میں اسی چیز کی تلاش میں تھا
پتھر پہنے کے حوالے سے بہت ہی پیاری بات کی آپ نے
مجھے بہت شوق ہے پتھر پہنے کا کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میرے بڑے ماموں "سید حسین نعمان" صاحب سے بات کر رہا تھا تو میں نے ان سے کہہ دیا کہ فلاں پتھر مجھے راس نہیں تو انہوں نے غصہ میں اک بات کہی کہ پتھر کو مانتے ہو
، شرع تو سر مانگتی ہے پھر ۔
تو بس تب سے میں بس شوق کے لیئے پہنتا ہوں ۔ آج آپ نے پتھر پہنے کے حوالے سے بہت خوبصورت بات بتائی
روحانی بابا کی بات ٹھیک ہے کہ پتھر پہنے کے اثرات ہوتے ہیں ۔ پر وہ سائنٹیفک ہوتے ہیں روحانی نہیں
یا کسی پتھر پر کوئی بھی سفلی یا نوری پڑھائی کرے تو بھی اس میں ویسے اثرات پیدا ہو جاتے ہیں
 
نایاب بھائی آپ مسلسل موضوع سے ہٹ کر بات کرتے ہیں مجھے تو اب آپ سے بات کرتے ہوئے الجھن محسوس ہورہی ہے پتہ نہیں کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔میں تو ہر چیز کو سائنسی اور عقلی طریقے سے مانتا ہوں اور آپ توکل کی باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔آپ کی گفتگو بے ربط ہے لہٰذا اس گفتگو کو ادھر ہی ختم کرتے ہیں۔دراصل غلطی میری ہے کہ آپ سے الجھ بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیئے آپ بار بار ایک ہی طرح کی بات کو گھما پھرا کر کرتے ہیں جس پر آپ کی ساری پچھلی پوسٹیں دال ہیں
 

نایاب

لائبریرین
نایاب بھائی آپ مسلسل موضوع سے ہٹ کر بات کرتے ہیں مجھے تو اب آپ سے بات کرتے ہوئے الجھن محسوس ہورہی ہے پتہ نہیں کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ ۔۔میں تو ہر چیز کو سائنسی اور عقلی طریقے سے مانتا ہوں اور آپ توکل کی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ ۔آپ کی گفتگو بے ربط ہے لہٰذا اس گفتگو کو ادھر ہی ختم کرتے ہیں۔دراصل غلطی میری ہے کہ آپ سے الجھ بیٹھا آپ کا علمی درجہ اس موضوع پر نہ ہونے کے برابر ہے اس لیئے آپ بار بار ایک ہی طرح کی بات کو گھما پھرا کر کرتے ہیں جس پر آپ کی ساری پچھلی پوسٹیں دال ہیں
محترم بھائی روحانی بابا
کیا ہی بہتر ہوتا کہ آپ میری بے ربط گفتگو کو سائنسی عقلی دلائل سے واپس موضوع پے لے آتے ۔
شاید کہ میری اصلاح ہو جاتی ۔ کچھ علم مل جاتا آپ جیسی محترم صاحب علم ہستی سے ۔
بہت معذرت کہ آپ کے لیئے الجھن کا سبب بنی میری گفتگو ۔
اور میرے محترم بھائی میں آپ سے بالکل بھی نہیں الجھا ۔
اور نہ کچھ اپنے ناقص علم سے ثابت کرنے کی کوشش کی ۔
علم کے حامل ہونے کا دعوی کرنا میری مجال کہاں ۔
اور نہ ہی کبھی صاحب علم ہونے کا دعوی کیا ۔
آپ نے اتنی توجہ سے گفتگو فرمائی ۔ اس کے لیئے ازحد شکریہ
جزاک اللہ خیراء
 
باباجی ایک بات یاد رکھیں کہ کیمیا اور مستحصلہ کسی قسمت والے کو ہی ملتا ہے۔۔۔۔بہرحال میں تو اس حوالے ایک بات کہوں گا کہ اگر مستحصلہ درست ہو تو وہ جواب بالکل درست دیتا ہے میرے سامنے ایک صاحب کمال نے جو اب اللہ کو پیارا ہوچکا ہے میری سات پشتوں کا شجرہ نسب نکالا۔(دراصل آپ جسے فارمولہ کہتے ہیں اس قاعدہ کا تکنیکی نام مستحصلہ ہے)۔​
دوسرا جو آپ نے یہ لکھا کہ۔۔۔۔۔۔۔​
ایک آدمی اپنی تکلیف کی شکایت لے کر ایک علم جفر کے ماہر کے پاسگیا ،استاد جی نے اس کی تکلیف سنی اور فارمولہ لگا کر پتا لگایا کے کہ کوئیجسمانی تکلیف ہے ۔ یہ سن کر وہ آدمی چلا گیا اور علاج کر وا کر صحتیاب ہوکر پھر استاد علم جفر کے پاس آیا کہ حضور اب میں ٹھیک ہوں تو آپ اپنے علمکے ذریعے پتا کریں کہ کیا واقعی ٹھیک ہوں تو جناب فارمولہ لگایا گیا تو وہیبیماری کا اشارہ ملا ۔ اب تو جناب مسئلہ پیدا ہو گیا علم کہتا ہے کہبیماری ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اور صاحب بیماری بھی کہتا ہے کہمیں ٹھیک ہوں ۔اب یہاں تو میرا کنفیوز ہونا بنتا ہے ۔
میرے بھائی بابا جی آپ کاہے کو کنفیوز (بے یقینی) ہوگئے دراصل بات یہ ہے کہ علم تو درست ہے لیکن سمجھنے کی بات ہے دراصل جو مرض موذی اور ہٹیلا ہوتا ہے وہ ایک مرتبہ لگ جانے کے بعد کبھی نہیں جاتا ہے صرف یہ ہوتا ہے کہ دوائیوں سے کنڑول ہوجاتا ہے جیسے بواسیر بادی۔ لیکن یہ جڑ سے ختم نہیں ہوتا ہے اسی طرح اگر وہ بندہ ڈاکٹری علاج سے ٹھیک ہوگیا ہے لیکن درحقیقت اس کے اندر مرض کی جو روحانی کیفیت ہے وہ اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اسی لیئے جواب اثبات میں آتا ہے کیونکہ علم جفر کے شعبہ اخبار کا تعلق بھی ظنی علوم سے ہے جس کی ایک شکل جس کا آپ ذکر کرہے ہیں جس کو مستحصلہ کہتے ہیں۔ دوست علم جفر بہت وسیع علم ہے جس کی بہت سی جہتیں ہیں مثلا جفر الجامع، جفر احمر، جفر الاسود۔ جفر الخافیہ اور جفر الخابیہ شمسی کہلاتی ہیں۔​
محترم بابا جی اپ کے ماموں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر اگر وہ کامل ہیں تو انہوں نے آپ کو جو بات کہی اُس پر آپ سمجھ نہیں سکیں ہیں۔۔۔۔بقول سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ​
دین اگر علم وچ ہوندا تے سر سانگاں اُتے چڑھ دے کیوں​
اٹھارہ ہزار عالم اگے حسین دے مر دے ہو۔۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
اور جہاں تک پتھر کی بات ہے تو پتھر تو پتھر ہوتا ہے اس کا نوری اور سفلی سے کیا تعلق۔۔۔۔۔۔​
راہ میں ہزاروں پتھر ہوتے ہیں اُن کو کوئی نہیں پہن لیتا ہے۔۔۔۔۔مخصوص پتھر کے اپنے اثرات ہوتے ہیں اسی لیئے پہنا جاتا ہے ہر ایک کے الیکٹران پروٹان اور نیوٹران کی گردش کا سائیکل ذرا الگ سے ہوتا ہے اسی لیئے اگر کوئی آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتا ہے تو فبھا ورنہ دوسرا پہن لو۔۔۔۔۔اسی کو آپ لوگ دوسرے الفاظ میں نحس اور بخت آور بنادیتے ہو۔۔۔۔میں تو خالصتاً سائنسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہوں۔۔​
باقی کسی پیر،کسی سادھو سنت،بھکشو میں یہ طاقت اور قدرت نہیں کہ پتھروں کے اثرات کو تبدیل کرسکے۔۔۔۔اگر ایسا ہوسکتا تو پھر نیلم یا یاقوت کو ہیرے میں بدل کروڑوں روپے کیون نہ کمائے جائیں۔​
بابا جی آپ اپنے اندر اتنی روحانی طاقت پیدا کریں کہ کسی بھی پتھر کو تالو سے لگاتے ہی آپ کو پتہ چل جائے کہ اس پتھر پر کس اسم کی روشنیاں پڑ رہی ہیں اور آیا یہ آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتا ہے یا نقصان دے گا جیسے کہ کریلے ہر بندہ کھاتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کوئی تو کھا کر آرام سے بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کھا کر تو پانی یا لسی پی پی کر اپنا پیٹ پھلا لیتا ہے۔ حالنکہ کریلہ تو ایک سبزی ہے۔​
 

باباجی

محفلین
باباجی ایک بات یاد رکھیں کہ کیمیا اور مستحصلہ کسی قسمت والے کو ہی ملتا ہے۔۔۔ ۔بہرحال میں تو اس حوالے ایک بات کہوں گا کہ اگر مستحصلہ درست ہو تو وہ جواب بالکل درست دیتا ہے میرے سامنے ایک صاحب کمال نے جو اب اللہ کو پیارا ہوچکا ہے میری سات پشتوں کا شجرہ نسب نکالا۔(دراصل آپ جسے فارمولہ کہتے ہیں اس قاعدہ کا تکنیکی نام مستحصلہ ہے)۔​
دوسرا جو آپ نے یہ لکھا کہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔​
ایک آدمی اپنی تکلیف کی شکایت لے کر ایک علم جفر کے ماہر کے پاسگیا ،استاد جی نے اس کی تکلیف سنی اور فارمولہ لگا کر پتا لگایا کے کہ کوئیجسمانی تکلیف ہے ۔ یہ سن کر وہ آدمی چلا گیا اور علاج کر وا کر صحتیاب ہوکر پھر استاد علم جفر کے پاس آیا کہ حضور اب میں ٹھیک ہوں تو آپ اپنے علمکے ذریعے پتا کریں کہ کیا واقعی ٹھیک ہوں تو جناب فارمولہ لگایا گیا تو وہیبیماری کا اشارہ ملا ۔ اب تو جناب مسئلہ پیدا ہو گیا علم کہتا ہے کہبیماری ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اور صاحب بیماری بھی کہتا ہے کہمیں ٹھیک ہوں ۔اب یہاں تو میرا کنفیوز ہونا بنتا ہے ۔
میرے بھائی بابا جی آپ کاہے کو کنفیوز (بے یقینی) ہوگئے دراصل بات یہ ہے کہ علم تو درست ہے لیکن سمجھنے کی بات ہے دراصل جو مرض موذی اور ہٹیلا ہوتا ہے وہ ایک مرتبہ لگ جانے کے بعد کبھی نہیں جاتا ہے صرف یہ ہوتا ہے کہ دوائیوں سے کنڑول ہوجاتا ہے جیسے بواسیر بادی۔ لیکن یہ جڑ سے ختم نہیں ہوتا ہے اسی طرح اگر وہ بندہ ڈاکٹری علاج سے ٹھیک ہوگیا ہے لیکن درحقیقت اس کے اندر مرض کی جو روحانی کیفیت ہے وہ اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اسی لیئے جواب اثبات میں آتا ہے کیونکہ علم جفر کے شعبہ اخبار کا تعلق بھی ظنی علوم سے ہے جس کی ایک شکل جس کا آپ ذکر کرہے ہیں جس کو مستحصلہ کہتے ہیں۔ دوست علم جفر بہت وسیع علم ہے جس کی بہت سی جہتیں ہیں مثلا جفر الجامع، جفر احمر، جفر الاسود۔ جفر الخافیہ اور جفر الخابیہ شمسی کہلاتی ہیں۔​
محترم بابا جی اپ کے ماموں شائد ایک بالکل ہی عام سے بندے ہیں یا پھر اگر وہ کامل ہیں تو انہوں نے آپ کو جو بات کہی اُس پر آپ سمجھ نہیں سکیں ہیں۔۔۔ ۔بقول سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ​
دین اگر علم وچ ہوندا تے سر سانگاں اُتے چڑھ دے کیوں​
اٹھارہ ہزار عالم اگے حسین دے مر دے ہو۔۔۔ ۔۔ہو۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔​
اور جہاں تک پتھر کی بات ہے تو پتھر تو پتھر ہوتا ہے اس کا نوری اور سفلی سے کیا تعلق۔۔۔ ۔۔۔​
راہ میں ہزاروں پتھر ہوتے ہیں اُن کو کوئی نہیں پہن لیتا ہے۔۔۔ ۔۔مخصوص پتھر کے اپنے اثرات ہوتے ہیں اسی لیئے پہنا جاتا ہے ہر ایک کے الیکٹران پروٹان اور نیوٹران کی گردش کا سائیکل ذرا الگ سے ہوتا ہے اسی لیئے اگر کوئی آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتا ہے تو فبھا ورنہ دوسرا پہن لو۔۔۔ ۔۔اسی کو آپ لوگ دوسرے الفاظ میں نحس اور بخت آور بنادیتے ہو۔۔۔ ۔میں تو خالصتاً سائنسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہوں۔۔​
باقی کسی پیر،کسی سادھو سنت،بھکشو میں یہ طاقت اور قدرت نہیں کہ پتھروں کے اثرات کو تبدیل کرسکے۔۔۔ ۔اگر ایسا ہوسکتا تو پھر نیلم یا یاقوت کو ہیرے میں بدل کروڑوں روپے کیون نہ کمائے جائیں۔​
بابا جی آپ اپنے اندر اتنی روحانی طاقت پیدا کریں کہ کسی بھی پتھر کو تالو سے لگاتے ہی آپ کو پتہ چل جائے کہ اس پتھر پر کس اسم کی روشنیاں پڑ رہی ہیں اور آیا یہ آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتا ہے یا نقصان دے گا جیسے کہ کریلے ہر بندہ کھاتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کوئی تو کھا کر آرام سے بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کھا کر تو پانی یا لسی پی پی کر اپنا پیٹ پھلا لیتا ہے۔ حالنکہ کریلہ تو ایک سبزی ہے۔​
باباجی ایک بات یاد رکھیں کہ کیمیا اور مستحصلہ کسی قسمت والے کو ہی ملتا ہے۔۔۔ ۔بہرحال میں تو اس حوالے ایک بات کہوں گا کہ اگر مستحصلہ درست ہو تو وہ جواب بالکل درست دیتا ہے میرے سامنے ایک صاحب کمال نے جو اب اللہ کو پیارا ہوچکا ہے میری سات پشتوں کا شجرہ نسب نکالا۔(دراصل آپ جسے فارمولہ کہتے ہیں اس قاعدہ کا تکنیکی نام مستحصلہ ہے)۔​
دوسرا جو آپ نے یہ لکھا کہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔​
ایک آدمی اپنی تکلیف کی شکایت لے کر ایک علم جفر کے ماہر کے پاسگیا ،استاد جی نے اس کی تکلیف سنی اور فارمولہ لگا کر پتا لگایا کے کہ کوئیجسمانی تکلیف ہے ۔ یہ سن کر وہ آدمی چلا گیا اور علاج کر وا کر صحتیاب ہوکر پھر استاد علم جفر کے پاس آیا کہ حضور اب میں ٹھیک ہوں تو آپ اپنے علمکے ذریعے پتا کریں کہ کیا واقعی ٹھیک ہوں تو جناب فارمولہ لگایا گیا تو وہیبیماری کا اشارہ ملا ۔ اب تو جناب مسئلہ پیدا ہو گیا علم کہتا ہے کہبیماری ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اور صاحب بیماری بھی کہتا ہے کہمیں ٹھیک ہوں ۔اب یہاں تو میرا کنفیوز ہونا بنتا ہے ۔
میرے بھائی بابا جی آپ کاہے کو کنفیوز (بے یقینی) ہوگئے دراصل بات یہ ہے کہ علم تو درست ہے لیکن سمجھنے کی بات ہے دراصل جو مرض موذی اور ہٹیلا ہوتا ہے وہ ایک مرتبہ لگ جانے کے بعد کبھی نہیں جاتا ہے صرف یہ ہوتا ہے کہ دوائیوں سے کنڑول ہوجاتا ہے جیسے بواسیر بادی۔ لیکن یہ جڑ سے ختم نہیں ہوتا ہے اسی طرح اگر وہ بندہ ڈاکٹری علاج سے ٹھیک ہوگیا ہے لیکن درحقیقت اس کے اندر مرض کی جو روحانی کیفیت ہے وہ اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اسی لیئے جواب اثبات میں آتا ہے کیونکہ علم جفر کے شعبہ اخبار کا تعلق بھی ظنی علوم سے ہے جس کی ایک شکل جس کا آپ ذکر کرہے ہیں جس کو مستحصلہ کہتے ہیں۔ دوست علم جفر بہت وسیع علم ہے جس کی بہت سی جہتیں ہیں مثلا جفر الجامع، جفر احمر، جفر الاسود۔ جفر الخافیہ اور جفر الخابیہ شمسی کہلاتی ہیں۔​
محترم بابا جی اپ کے ماموں شائد ایک بالکل ہی عام سے بندے ہیں یا پھر اگر وہ کامل ہیں تو انہوں نے آپ کو جو بات کہی اُس پر آپ سمجھ نہیں سکیں ہیں۔۔۔ ۔بقول سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ​
دین اگر علم وچ ہوندا تے سر سانگاں اُتے چڑھ دے کیوں​
اٹھارہ ہزار عالم اگے حسین دے مر دے ہو۔۔۔ ۔۔ہو۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔​
اور جہاں تک پتھر کی بات ہے تو پتھر تو پتھر ہوتا ہے اس کا نوری اور سفلی سے کیا تعلق۔۔۔ ۔۔۔​
راہ میں ہزاروں پتھر ہوتے ہیں اُن کو کوئی نہیں پہن لیتا ہے۔۔۔ ۔۔مخصوص پتھر کے اپنے اثرات ہوتے ہیں اسی لیئے پہنا جاتا ہے ہر ایک کے الیکٹران پروٹان اور نیوٹران کی گردش کا سائیکل ذرا الگ سے ہوتا ہے اسی لیئے اگر کوئی آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتا ہے تو فبھا ورنہ دوسرا پہن لو۔۔۔ ۔۔اسی کو آپ لوگ دوسرے الفاظ میں نحس اور بخت آور بنادیتے ہو۔۔۔ ۔میں تو خالصتاً سائنسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہوں۔۔​
باقی کسی پیر،کسی سادھو سنت،بھکشو میں یہ طاقت اور قدرت نہیں کہ پتھروں کے اثرات کو تبدیل کرسکے۔۔۔ ۔اگر ایسا ہوسکتا تو پھر نیلم یا یاقوت کو ہیرے میں بدل کروڑوں روپے کیون نہ کمائے جائیں۔​
بابا جی آپ اپنے اندر اتنی روحانی طاقت پیدا کریں کہ کسی بھی پتھر کو تالو سے لگاتے ہی آپ کو پتہ چل جائے کہ اس پتھر پر کس اسم کی روشنیاں پڑ رہی ہیں اور آیا یہ آپ کی طبیعت سے مطابقت رکھتا ہے یا نقصان دے گا جیسے کہ کریلے ہر بندہ کھاتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کوئی تو کھا کر آرام سے بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کھا کر تو پانی یا لسی پی پی کر اپنا پیٹ پھلا لیتا ہے۔ حالنکہ کریلہ تو ایک سبزی ہے۔​
جی روحانی بابا آپ نے اب کی واضح بات ہر پتھر کے الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان کے الگ الگ اثرات ہوتے ہیں
جو اگر آپ کی باڈی فریکوینسی سے میچ کر گئے توآپ کی اہلیت و قابلیت بڑھ جاتی ہے ۔
لیکن قسمت کے بدلنے سے پتھر کا تعلق ہو تا یہ میں یقین نہیں کرتا ۔
اور آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے میرے ماموں بہت سادہ انسان ہیں اور میں واقعی ان کی بات سمجھ نہیں پایا
اصل میں میرے ماموں ، ہمارے بابا جی کے سب سے پہلے مرید تھے ان کے بعد اور لوگ مرید ہوئے
میرے بابا جی فرمایا کرتے تھے کہ دل ہو تو حسین نعمان جیسا
تو اب ان کی بات میں کیا تھا اصل میں سمجھ نہیں پایا بس یہی سمجھ آئی کہ پتھر کو قسمت بدلنے والی چیز نہ سمجھو
باقی روحانی بابا آپ سے بات چیت رہے گی انشاءاللہ
کچھ آپ سے سیکھنے کو ضرور ملے گا ۔
روحانی بابا
 
جی روحانی بابا آپ نے اب کی واضح بات ہر پتھر کے الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان کے الگ الگ اثرات ہوتے ہیں
جو اگر آپ کی باڈی فریکوینسی سے میچ کر گئے توآپ کی اہلیت و قابلیت بڑھ جاتی ہے ۔
لیکن قسمت کے بدلنے سے پتھر کا تعلق ہو تا یہ میں یقین نہیں کرتا ۔
اور آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے میرے ماموں بہت سادہ انسان ہیں اور میں واقعی ان کی بات سمجھ نہیں پایا
اصل میں میرے ماموں ، ہمارے بابا جی کے سب سے پہلے مرید تھے ان کے بعد اور لوگ مرید ہوئے
میرے بابا جی فرمایا کرتے تھے کہ دل ہو تو حسین نعمان جیسا
تو اب ان کی بات میں کیا تھا اصل میں سمجھ نہیں پایا بس یہی سمجھ آئی کہ پتھر کو قسمت بدلنے والی چیز نہ سمجھو
باقی روحانی بابا آپ سے بات چیت رہے گی انشاءاللہ
کچھ آپ سے سیکھنے کو ضرور ملے گا ۔
روحانی بابا
پیارے بابا جی کس بے وقوف نے کہا ہے کہ پتھر قسمت بدلتا ہے۔۔۔۔۔پتہ نہیں آپ قسمت کس کو کہتے ہیں ہم تو اس کو تقدیر کہتے ہیں اور تقدیر کو کوئی بھی نہیں بدل سکتا ہے اس بات پر تو سب کا یقین ہے کہ والقدر خیرہٖ و شرہٖ من اللہ تعالیٰ یعنی اچھی اور بری تقدیر من جانب اللہ ہے۔ اب آپ کی ذہنی سطح اُس درجہ کی نہیں ہے کہ آپ کو تقدیر معلق اور تقدیر مبرم کے متعلق بتایا جائے کہ یہ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔لوح محفوظ کیا چیز ہے اور یہ کس قانون کا پابند ہے۔
 

باباجی

محفلین
پیارے بابا جی کس بے وقوف نے کہا ہے کہ پتھر قسمت بدلتا ہے۔۔۔ ۔۔پتہ نہیں آپ قسمت کس کو کہتے ہیں ہم تو اس کو تقدیر کہتے ہیں اور تقدیر کو کوئی بھی نہیں بدل سکتا ہے اس بات پر تو سب کا یقین ہے کہ والقدر خیرہٖ و شرہٖ من اللہ تعالیٰ یعنی اچھی اور بری تقدیر من جانب اللہ ہے۔ اب آپ کی ذہنی سطح اُس درجہ کی نہیں ہے کہ آپ کو تقدیر معلق اور تقدیر مبرم کے متعلق بتایا جائے کہ یہ کیا ہوتا ہے۔۔۔ ۔لوح محفوظ کیا چیز ہے اور یہ کس قانون کا پابند ہے۔
اگر بتا دیں گے تو شاید میری ذہنی سطح کا درجہ بلند ہو جائے
کیونکہ جاننے کے بعد ہی پتا چلے گا نا کہ میں سمجھا یا نہیں ۔ اور رہی بات قسمت یا تقدیر کی تو روحانی بابا میں نے زیادہ تر لوگ ایسے دیکھے ہیں
جو پتھروں پر خود سے زیادہ یقین رکھتے ہیں ۔ میں بھی رکھتا تھا کہ یہ پہنو تو یہ ہوگا یہ پہنو تو یہ ہوگا ۔ آپ کی اور نایاب بھائی کی باتوں سے کچھ بند کھڑکیاں کھلیں ۔ اس لیئے آپ سے گزارش ہے کہ نوازتے رہیئے۔
 
اگر بتا دیں گے تو شاید میری ذہنی سطح کا درجہ بلند ہو جائے
کیونکہ جاننے کے بعد ہی پتا چلے گا نا کہ میں سمجھا یا نہیں ۔ اور رہی بات قسمت یا تقدیر کی تو روحانی بابا میں نے زیادہ تر لوگ ایسے دیکھے ہیں
جو پتھروں پر خود سے زیادہ یقین رکھتے ہیں ۔ میں بھی رکھتا تھا کہ یہ پہنو تو یہ ہوگا یہ پہنو تو یہ ہوگا ۔ آپ کی اور نایاب بھائی کی باتوں سے کچھ بند کھڑکیاں کھلیں ۔ اس لیئے آپ سے گزارش ہے کہ نوازتے رہیئے۔
بابا جی بنی نوع انسان کی عقول میں فرق عظیم واقع ہوا ہے اور یہ قسام ازل کا تقسیم کردہ امر ہے۔۔۔۔۔دراصل جب اللہ تعالیٰ نے عالم کو پیدا کیا تو اس کے ہر فرد کو اسکی حیثیت کے موافق عقل دی ۔عقلِ انسانیِ جسمانی کو عالمِ جبروت اور عالمِ ملکوت سے مدد ملتی ہے ۔چونکہ اللہ کی طرف ہی روحوں کا عروج ہے لِھٰذا اسی غور و فکر میں عقلوں کے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔روحِ انسانی کے لیئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے فرشتے مقرر کیئے ہیں جو حقائقِ ملکوت اور اسرار غیوب کے حامل ہیں۔ یہ تھا مشت نمونہ از خروارے
آپ کی عقل اور ذہنی سطح کا تو یہ حال ہے کہ اوپر آپ نے ایک بات تحریر کی کہ پتھروں کے اثرات سائنٹیفک ہوتے ہیں روحانی نہیں۔۔۔۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔
جیسا کہ اوپر آپ کے ایک بھائی نے ایک طنزیہ ایک شعر لکھا کہ
توں علموں بس کر یار
ہک الف تینوں درکار
حالانکہ موصوف کو یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کا مطلب کیا ہے اور شاعر نے اس کو کن معنوں میں استعمال کیا ہے
 

نایاب

لائبریرین
بابا جی بنی نوع انسان کی عقول میں فرق عظیم واقع ہوا ہے اور یہ قسام ازل کا تقسیم کردہ امر ہے۔۔۔ ۔۔دراصل جب اللہ تعالیٰ نے عالم کو پیدا کیا تو اس کے ہر فرد کو اسکی حیثیت کے موافق عقل دی ۔عقلِ انسانیِ جسمانی کو عالمِ جبروت اور عالمِ ملکوت سے مدد ملتی ہے ۔چونکہ اللہ کی طرف ہی روحوں کا عروج ہے لِھٰذا اسی غور و فکر میں عقلوں کے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔روحِ انسانی کے لیئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے فرشتے مقرر کیئے ہیں جو حقائقِ ملکوت اور اسرار غیوب کے حامل ہیں۔ یہ تھا مشت نمونہ از خروارے
آپ کی عقل اور ذہنی سطح کا تو یہ حال ہے کہ اوپر آپ نے ایک بات تحریر کی کہ پتھروں کے اثرات سائنٹیفک ہوتے ہیں روحانی نہیں۔۔۔ ۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔ ۔اب آپ جیسی مینٹیلیٹی والے بندے کے ساتھ انسان کیا بات کرے۔
جیسا کہ اوپر آپ کے ایک اور کم علم بھائی نے ایک طنزیہ ایک شعر لکھا کہ
توں علموں بس کر یار
ہک الف تینوں درکار
حالانکہ موصوف کو یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کا مطلب کیا ہے اور شاعر نے اس کو کن معنوں میں استعمال کیا ہے
محترم بھائی روحانی بابا
آپ کی پوسٹ کو "متفق " ریٹنگ مندرجہ بالا سرخ جملوں پر دی ہے ۔
دعا کر دیا کریں کہ ہم کم علم بھی کسی صورت علم کے در تک پہنچ پائیں ۔
جزاک اللہ خیراء
 

باباجی

محفلین
بابا جی بنی نوع انسان کی عقول میں فرق عظیم واقع ہوا ہے اور یہ قسام ازل کا تقسیم کردہ امر ہے۔۔۔ ۔۔دراصل جب اللہ تعالیٰ نے عالم کو پیدا کیا تو اس کے ہر فرد کو اسکی حیثیت کے موافق عقل دی ۔عقلِ انسانیِ جسمانی کو عالمِ جبروت اور عالمِ ملکوت سے مدد ملتی ہے ۔چونکہ اللہ کی طرف ہی روحوں کا عروج ہے لِھٰذا اسی غور و فکر میں عقلوں کے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔روحِ انسانی کے لیئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے فرشتے مقرر کیئے ہیں جو حقائقِ ملکوت اور اسرار غیوب کے حامل ہیں۔ یہ تھا مشت نمونہ از خروارے
آپ کی عقل اور ذہنی سطح کا تو یہ حال ہے کہ اوپر آپ نے ایک بات تحریر کی کہ پتھروں کے اثرات سائنٹیفک ہوتے ہیں روحانی نہیں۔۔۔ ۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔ ۔اب آپ جیسی مینٹیلیٹی والے بندے کے ساتھ انسان کیا بات کرے۔
جیسا کہ اوپر آپ کے ایک اور کم علم بھائی نے ایک طنزیہ ایک شعر لکھا کہ
توں علموں بس کر یار
ہک الف تینوں درکار
حالانکہ موصوف کو یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کا مطلب کیا ہے اور شاعر نے اس کو کن معنوں میں استعمال کیا ہے
بہت مہربانی روحانی بابا آپ کی کہ آپ نے مجھےمیری اوقات یاد دلا دی
اللہ آپ کو خوش رکھے اور آپ کے علمی درجات اتنے بلند ہوں کہ ہم آپ کو چیونٹیوں کی مانند سر اُٹھا کر دیکھیں :)
آپ نے تو ہمیں عالمِ ملکوت و جبروت سے بھی باہر نکال دیا
ظاہر جہاں آپ جیسے علم کے بادشاہ ہوں ( عمل کا ہمیں پتا نہیں) وہاں ہم جیسے کم علم گناہ گار و بدکاروں کا کیا کام :)
آپ کی روحانیت سلامت رہے ۔ آپ کا ذوق سلامت رہے ۔ آپ کی مینٹیلٹی سلامت رہے ۔ آپ کا جلال سلامت رہے
تو آپ ہماری مینٹیلٹی کے مطابق ہی کچھ بتا دیں بابا صاحب
 
Top