نئی غزل نمبر 5 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین

محترم اساتذہ کرام جناب الف عین،
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن
محمد احسن سمیع: راحل
ایسے وہ میرے پاس سے آیا گزر گیا
جیسے کہ سر سے ابر کا سایا گزر گیا

تائی گزر گئی میری شادی بھی رک گئی
سونے پہ سہاگہ کہ پھر تایا گزر گیا

کرتے ہیں دور سے سلام سب جانتے ہیں لوگ
جس نے بھی ان سے ہاتھ ملایا گزر گیا

کرنا نہیں کسی کا بھروسہ کہا تھا نا
کر کے وہ سارے گھر کا صفایا گزر گیا

نا جانے کیا کیا رنگ دکھائے گی زندگی
ماضی نے ہم کو خوب رلایا گزر گیا

عرصہ ہوا اس شوخ کی باتیں نہیں سنتے
شارؔق ہے زمانے میں خدا یا گزر گیا​
 

الف عین

لائبریرین
اس میں بھی دو بحروں کو خلط ملط کر دیا گیا ہے جیسا کہ کسی اور غزل میں بھی میں نے کہا تھا
 

الف عین

لائبریرین
مطلع درست ہے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
میں
عرصہ ہوا اس شوخ کی باتیں نہیں سنتے
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
میں
دوسرا مصرع نصف
شارؔق ہے زمانے میں
بھی اسی بحر میں ہے، لیکن
خدایا گزر گیا( اس کے معنی جو بھی ہوں)
مفاعیل فاعلن وان پر ہے جو مطلع کا وزن ہے۔ کیونکہ زمین یہی ہے، اس لئے مکمل غزل مطلع کی بحر میں ہی ہونی ضروری ہے
 
Top