میرے دل میں، تیرے بُت سے، روحانی ایجاد ہوئی! ۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے !

السلام علیکم
آج پھر ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ استاد محترم جناب الف عین سر اور احباب محفل سے اصلاح اور رہنمائی کی درخواست ہے۔ غزل بحرِ ہندی میں ہے۔

تجھ سے محبت کے جذبے کی وَجدانی ایجاد ہوئی!
میرے دل میں، تیرے بُت سے، روحانی ایجاد ہوئی!

پہلے سب معمول کا تھا، سب من مرضی کا ہوتا تھا
جیسے جیسے بڑے ہوئے تو حیرانی ایجاد ہوئی!

جب تک دیکھا نہیں تھا اس کو دو روحوں کا رشتہ تھا
اس کو دیکھ کے عشق میں خواہش جسمانی ایجاد ہوئی!

پہلے جان کی قیمت تھی اور دل بھی مہنگے ہوتے تھے
تیری ہیچ نگاہی سے پھر ارزانی ایجاد ہوئی!

کائنات کے رنگ تھے پھیکے، جاذبیت بس نام کی تھی
ان سب میں پھر روح پڑی اور نسوانی ایجاد ہوئی!

پہلے میری طرح کے تھے، سب خوب بھروسہ کرتے تھے
دھوکا کھانے پر، آنکھوں سے نگرانی ایجاد ہوئی!

جو صرف تصور میں تھا اپنا اس کو پانے نکلے جب
اس پَل سے ہی باقاعدہ نادانی ایجاد ہوئی!

خلد سے باہر آنے پر جو حال تھا چشمِ آدم کا
اس دن سے، اس حالت سے، تَر دامانی ایجاد ہوئی!

پہلے سکوں تھا جل میں تھل سا، جس دن پہلی ناؤ بنی
سات سمُندر جاگ اٹھے اور طغیانی ایجاد ہوئی!

حسن نہیں ہے کوئی مکمل کاشف دعوہ کرتے تھے
اس کو دیکھ کے مان لیا کہ، "لاثانی ایجاد ہوئی ! "

سیّد کاشف
 

الف عین

لائبریرین
غزل کا بیانیہ اکثر اشعار میں جم نہیں رہا۔ مطلع تو قطعی سمجھ میں نہیں آتا کہ کس نے ایجاد کیا؟
تجھ سے محبت کے جذبے کی وَجدانی ایجاد ہوئی!
میرے دل میں، تیرے بُت سے، روحانی ایجاد ہوئی!
؟
پہلے سب معمول کا تھا، سب من مرضی کا ہوتا تھا
جیسے جیسے بڑے ہوئے تو حیرانی ایجاد ہوئی!
///شعر بہت خوب ہے لیکن "من مرضی " محاورہ معیاری اردو نہیں شمالی ہندوستان کے ہندی چینلز کی زبان ہے۔

جب تک دیکھا نہیں تھا اس کو دو روحوں کا رشتہ تھا
اس کو دیکھ کے عشق میں خواہش جسمانی ایجاد ہوئی!
۔۔ٹھیک
پہلے جان کی قیمت تھی اور دل بھی مہنگے ہوتے تھے
تیری ہیچ نگاہی سے پھر ارزانی ایجاد ہوئی!
//ہیچ نگاہی والی بات سمجھ میں نہیں آتی

کائنات کے رنگ تھے پھیکے، جاذبیت بس نام کی تھی
ان سب میں پھر روح پڑی اور نسوانی ایجاد ہوئی!
/// نسوانی کیا چیز؟؟ اس کا مونث ہونا ضروری ہے

پہلے میری طرح کے تھے، سب خوب بھروسہ کرتے تھے
دھوکا کھانے پر، آنکھوں سے نگرانی ایجاد ہوئی!
//شاید یہ کہنا تھا کہ پہلے سب سیدھے سادے تھے اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے تھے ۔ لیکن الفاظ مکمل بات نہیں کہہ پا رہے ہیں

جو صرف تصور میں تھا اپنا اس کو پانے نکلے جب
اس پَل سے ہی باقاعدہ نادانی ایجاد ہوئی!
//با قاعیدہ تلفظ ہو رہا ہے تقطیع میں جو درست نہیں

خلد سے باہر آنے پر جو حال تھا چشمِ آدم کا
اس دن سے، اس حالت سے، تَر دامانی ایجاد ہوئی!
//تلمیح جم نہیں رہی

پہلے سکوں تھا جل میں تھل سا، جس دن پہلی ناؤ بنی
سات سمُندر جاگ اٹھے اور طغیانی ایجاد ہوئی!
// خوب ، پسند آیا

حسن نہیں ہے کوئی مکمل کاشف دعوہ کرتے تھے
اس کو دیکھ کے مان لیا کہ، "لاثانی ایجاد ہوئی ! "
///'کہ' کے مسئلے کے علاوہ لا ثانی ایجاد بھی مبہم ہے۔ پہلے مصرع کے 'حسن' کو فاعل مان لیں تو،!
 
استاد محترم ۔۔۔جناب@الف عین سر
تجویز کردہ تبدیلیوں کے بعد غزل حاضر ہے ۔۔۔ کچھ اشعار ابھی درست کرنا باقی ہیں انھیں ان شاء اللہ بعد میں نظر ثانی کے لئے پیش کروں گا ۔۔۔

دل میں محبت کے جذبے کی وَجدانی ایجاد ہوئی
ایسا لگا کہ عشق سے مجھ میں روحانی ایجاد ہوئی

پہلے سب معمول کا تھا، سب اپنے من کا کرتا تھا
جیسے جیسے بڑا ہوا تو، حیرانی ایجاد ہوئی

جب تک دیکھا نہیں تھا اس کو دو روحوں کا رشتہ تھا
اس کو دیکھ کے عشق میں خواہش جسمانی ایجاد ہوئی

پہلے جان کی قیمت تھی اور دل بھی مہنگے ہوتے تھے
تُو نے ہیچ نگاہ ڈالی تو، ارزانی ایجاد ہوئی

پہلے میری طرح کے تھے، سب خوب بھروسہ کرتے تھے
دھوکا کھانے پر، آنکھوں سے نگرانی ایجاد یوئی

جو صرف تصور میں تھا اپنا اس کو پانے نکلے جب
قاعدے میں تو اس پَل سے ہی نادانی ایجاد ہوئی

پہلے سکوں تھا جل میں تھل سا، جس دن پہلی ناؤ بنی
سات سمُندر جاگ اٹھے اور طغیانی ایجاد ہوئی

حسنِ مکمل کچھ بھی نہیں ہے، کاشف دعوہ کرتے تھے
کہہ بیٹھے پھر دیکھ کے اس کو، "لاثانی ایجاد ہوئی ! "
 

الف عین

لائبریرین
مطلع میں دو حرفی کہ کے غلط استعمال کے علاوہ غزل بہتر ہو گئی ہے۔
ایسا لگتا کے
کی جگہ
یوں لگتا ہے،
بہتر نہیں لگتا؟
"نسوانی" شاید نسوانی ہونے کی وجہ سے گلے سے نہیں اتر رہی!
 
مطلع میں دو حرفی کہ کے غلط استعمال کے علاوہ غزل بہتر ہو گئی ہے۔
ایسا لگتا کے
کی جگہ
یوں لگتا ہے،
بہتر نہیں لگتا؟
"نسوانی" شاید نسوانی ہونے کی وجہ سے گلے سے نہیں اتر رہی!
بہتر سر ۔۔۔ مطلع میں تبدیلی کر لیتا ہوں ۔۔۔۔
نسوانی ایجاد کو کاش التوا میں ڈال سکتا ۔۔۔ :p
ویسے اس شعر کو اصلاح کے لئے ذہن میں محفوظ کر لیا ہے ۔۔۔۔
جزاک الله ۔۔۔۔
 
Top