میرا ہنر ہے جو بهی سچ ہو بول لیتی ہوں - برائے اصلاح

میرا ہنر ہے جو بهی سچ ہو بول لیتی ہوں
بلا دریغ ہی لبوں کو کهول لیتی ہوں

وہ کر رہا ہو گفتگو جو دوستوں کی طرح
میں محبت کا اس میں رنگ گهول لیتی ہوں

میری زبان روح و دل یہ جو بهی کہتے ہیں
ضمیر سے ہر ایک بات تول لیتی ہوں

وہ لاکھ چهپ رہا ہو آڑ میں سوالوں کی
میں اس کا دل جوابوں سے ٹٹول لیتی ہوں
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
بول لیتی ہوں، کسی قدر شاید عیب تنافر کا سبب ہو کہ نہ ہو یا اساتذہ جانیں، میرے حساب سے آپ اس کو بدل بھی سکتی ہیں، اس طرح
مرا ہنر ہے جو بھی سچ ہو ، بولتی ہوں میں
کہ بے دریغ لبوں کو بھی کھولتی ہوں میں (بے دریغ سنا ہے میں نے تو)
۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
 
بول لیتی ہوں، کسی قدر شاید عیب تنافر کا سبب ہو کہ نہ ہو یا اساتذہ جانیں، میرے حساب سے آپ اس کو بدل بھی سکتی ہیں، اس طرح
مرا ہنر ہے جو بھی سچ ہو ، بولتی ہوں میں
کہ بے دریغ لبوں کو بھی کھولتی ہوں میں (بے دریغ سنا ہے میں نے تو)
۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

"
عیب تنافر" کیا ہوتا ہے؟​

جی بے دریغ ہی ہوگا۔
آپ کا ائڈیا اچھا لگا مجھے۔ ۔ بولتی ہوں میں، کھولتی ہوں میں۔ ایسے کیا جا سکتا ہے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
وہ کر رہا ہو گفتگو جو دوستوں کی طرح
میں محبت کا اس میں رنگ گهول لیتی ہوں

کوئی کرے بھی گفتگو جو دوستوں کی طرح
تو محبت کا اس میں رنگ گھولتی ہوں میں ۔

میری زبان روح و دل یہ جو بهی کہتے ہیں
ضمیر سے ہر ایک بات تول لیتی ہوں
۔۔۔زبان و روح و دل ۔۔۔ یہ کی جگہ تو ہوسکتا ہے۔۔۔
۔۔۔ تولتی ہوں میں ۔۔۔

وہ لاکھ چهپ رہا ہو آڑ میں سوالوں کی
میں اس کا دل جوابوں سے ٹٹول لیتی ہوں
÷÷÷ جواب ہی سے اس کا دل ٹٹولتی ہوں میں ۔۔۔
لیکن اگر ٹٹول لیتی ہوں اور بول لیتی ہوں اساتذہ کی نظر میں جائز ہو، تو وہی بہتر ہے۔۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
جس حرف پر ایک لفظ ختم ہورہا ہو اسی سے دوسرا شروع کرنا، مجھے یہ عیب نہیں خوبی محسوس ہوتی تھی اور میری پوری کتاب اس سے بھری پڑی ہے۔ ویسے آپ کے کیس میں یہ زیادہ ابھر کر سامنے نہیں آیا، ہوسکتا ہے میرا ہی وہم ہو کیونکہ جس حرف پر آپ نے ختم کیا وہ ساکن ہے، متحرک نہیں ہے۔
 
بہت بہت شکریہ آپ کا!


وہ کر رہا ہو گفتگو جو دوستوں کی طرح
میں محبت کا اس میں رنگ گهول لیتی ہوں

کوئی کرے بھی گفتگو جو دوستوں کی طرح
تو محبت کا اس میں رنگ گھولتی ہوں میں ۔ (یہ پڑھ کر شرم آ گئی مجھے حضور، مطلب بدل گیا ہے بات کا۔ میں ایک شخص کی بات کرنا چاہ رہی ہوں :p)

میری زبان روح و دل یہ جو بهی کہتے ہیں
ضمیر سے ہر ایک بات تول لیتی ہوں
۔۔۔ زبان و روح و دل ۔۔۔ یہ کی جگہ تو ہوسکتا ہے۔۔۔
۔۔۔ تولتی ہوں میں ۔۔۔ (جی بالکل بہتر رہے گا)

وہ لاکھ چهپ رہا ہو آڑ میں سوالوں کی
میں اس کا دل جوابوں سے ٹٹول لیتی ہوں
÷÷÷ جواب ہی سے اس کا دل ٹٹولتی ہوں میں ۔۔۔ (ہاں جی ایسے بہت بہتر ہے۔۔)



لیکن اگر ٹٹول لیتی ہوں اور بول لیتی ہوں اساتذہ کی نظر میں جائز ہو، تو وہی بہتر ہے۔۔
 

الف عین

لائبریرین
بول لیتی ہوں وغیرہ ردیف بھی درست ہے، لیکن رواں نہیں، اس سے تو شاہد کا مشورہ بہتر ہے، بولتی ہوں میں۔ اب ’آن لائن‘ اصلاح ممکن ہے۔ اس لئے ۔۔۔
مرا ہنر ہے جو بھی سچ ہو ، بولتی ہوں میں
کہ بے دریغ لبوں کو بھی کھولتی ہوں میں
۔۔دوسرا مصرع شاہد کس طرح تقطیع کر رہے ہیں؟ میرا مشورہ یوں ہوگا۔
کہ بے دریغ ہی/بھی لبوں کو کھولتی ہوں میں

وہ کر رہا ہو گفتگو جو دوستوں کی طرح (اس کو کیوں بدلنے کا مشورہ دیا ہے شاہد نے؟ ضرورت نہیں اس کی)
تو محبت کا اس میں رنگ گھولتی ہوں میں
//اس کو بھی تقطیع کر کے دیکھیں! بہر ھال بہتر اور رواں صورت یوں ہو گی
تو چاہتوں کا اس میں رنگ گھولتی ہوں میں

میری زبان روح و دل یہ جو بهی کہتے ہیں (میری نہیں، مری کا محل ہے یہاں)
شاہد کا مشورہ پھر اوزان سے خارج ہو گیا ہے، بہتر یوں ہو گا
مری زبان و روح و دل تو جو بھی اب کہیں
ضمیر سے ہر ایک بات تولتی ہوں میں

وہ لاکھ چهپ رہا ہو آڑ میں سوالوں کی
جواب ہی سے اس کا دل ٹٹولتی ہوں میں
//درست، البتہ سوالوں کا ’وں‘ کا احزاف اچھا نہیں لگ رہا ہے
وہ لاکھ چھپ رہا ہو پردہء سوال میں
کیسا رہے گا؟
 
جانے کیوں ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں روانی کی کمی ہے۔ یا پھر شاید ہم اسے مناسب بحر اور وزن میں گنگنا نہیں پا رہے۔ خیر ہم نے کچھ یوں توڑا مروڑا ہے اسے۔۔۔ شاید پہلے والی بحر بھی اب قائم نہیں رہی لیکن ہم کیوں پروا کریں، ہمیں کون سی شاعری آتی ہے بھلا! :)

میرا ہنر ہے جو بھی ہو سچ بولتی ہوں میں
اور بے دریغ اپنا دہن کھولتی ہوں میں
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
سعود، یہ بحر مفاعلن مفاعلن مفاعلن فعول میں ہے۔ اس کو ابے ٹھک ٹھک میں ترجمہ کر لو!!
استاد محترم! یہ کوئی نئی زبان ہے؟؟ پاکستان میں تیس پینتیس زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے درجن بھر کے نام تو ہمیں معلوم ہوں گے۔ انڈیا میں اس سے دگنی یا تگنی ہوسکتی ہیں ، لیکن ایک زبان کا اتنا لمبا نام؟؟ اور سعود تو ہمیں کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔۔
جانے کیوں ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں روانی کی کمی ہے۔ یا پھر شاید ہم اسے مناسب بحر اور وزن میں گنگنا نہیں پا رہے۔ خیر ہم نے کچھ یوں توڑا مروڑا ہے اسے۔۔۔ شاید پہلے والی بحر بھی اب قائم نہیں رہی لیکن ہم کیوں پروا کریں، ہمیں کون سی شاعری آتی ہے بھلا! :)

میرا ہنر ہے جو بھی ہو سچ بولتی ہوں میں
اور بے دریغ اپنا دہن کھولتی ہوں میں
پکڑے گئے۔ انہی کو استاد محترم سعود کہہ رہے تھے۔ بھائی ابے ٹھک ٹھک کون سی زبان ہوتی ہے بھلا؟ آپ کو معلوم ہے؟؟
 
Top