مَردوں والی بات

یوسف-2

محفلین
mard-1.jpg


mard-2.jpg


mard-3.jpg


mard-4.jpg


mard-5.jpg
 

شمشاد

لائبریرین
مردوں والی بات
راشد بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ جب بھی گھڑی کی جانب دیکھتا، اس کی بیوہ ماں کی نگاہ بے اختیار گیٹ کی طرف اٹھ جاتی۔ آج راشدہ کو کالج میں خاصی دیر ہو گئی تھی اور جب تک وہ گھر نہ آ جاتی راشد کھانا کھانے سے انکار ہی کرتا رہتا۔ حالانکہ اسے اخبار کے دفتر جانے میں دیر ہو رہی تھی جہاں وہ بطور پروف ریڈر ملازم تھا۔ اس کی ماں بھی کئی بار دبے لفظوں میں اسے کھانا کھانے اور دفتر جانے کا کہہ چکی تھی مگر راشد کے شدت سے انکار کرنے پر وہ بھی خاموش ہو جاتی اور تشکر بھری نگاہوں سے بیٹے کا چہرہ تکنے لگتی۔ یہ تقریباً روز ہی کا معمول تھا۔
راشد گو راشدہ سے ایک برس چھوٹا تھا مگر ذہانت اور محنت میں راشدہ سے کسی طور کم نہ تھا اسی لئے والدین نے دونوں کو ایک ہی کلاس میں داخل کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ پڑھنے پڑھانے میں دونوں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں میٹرک میں پہنچ گئے۔ اساتذہ کے مشورہ اور بچوں کے رحجانات کو دیکھتے ہوئے ان کے ابو نے انہیں سائنس گروپ میں داخلہ دلا دیا۔ خیال تھا کہ بیٹے کو آگے جا کر انجینئرنگ اور بیٹی کو میڈیکل میں داخلہ دلائیں گے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس روز میٹرک کا نتیجہ متوقع تھا جب راشد اور راشدہ کے ابو دفتر کے لئے گھر سے نکلنے لگے تو ان دونوں نے ایک بار پھر انہیںیاد دلایا کہ اخبار کا سپلیمنٹ نکلتے ہی وہ دفتر سے چھٹی لے کر گھر آ جائیں گے۔ اور انہوں نے بھی وعدہ کر لیا تھا کہ وہ صرف اخبار لے کر نہیں بلکہ مٹھائیوں کے ڈبے بھی لے کر آئیں گے۔ اور جب وہ حسب وعدہ اخبار کا سپلیمنٹ اور مٹھائی کے ڈبے لے کر خوشی خوشی تیز رفتاری سے اسکوٹر چلاتے ہوئے گھر لوٹ رہے تھے کہ اچانک سامنے آ جانے والے ایک بچے کو بچاتے ہوئے مخالف سمت سے آنے والے ایک تیز رفتار ٹرک سے ٹکرا گئے اور جائے حادثہ پر ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
غمزدہ مختصر سا خاندان سرکاری کوارٹر چھوڑ کر ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گیا۔ راشد کے بے حد اصرار اور والد مرحوم کی خواہش کے مطابق راشدہ نے انٹر سائنس پری میڈیکل گروپ میں داخلہ لے لیا جبکہ راشد نے صبح ایک آرٹس کالج میں داخلہ لے کر شام کو ایک اخبار میں ملازمت کر لی۔ اب یہ روز کا معمول تھا کہ راشد کالج سے چھٹی ہوتے ہی گھر آ کر کھانے پر ماں کے ساتھ راشدہ کا انتظار کرتا کیونکہ پریکٹیکل کے باعث ہفتہ میں تین چار دن تاخیر سے گھر لوٹتی جب تک وہ گھر نہ لوٹ آتی راشد نہ تو کھانا کھاتا اور نہ دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلتا۔
آج بھی وہ راشدہ کے انتظار میں ماں کے ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا، تاکہ ماں کی توجہ بھی بٹی رہے اور انتظار کے لمحات بھی با آسانی کٹ جائیں۔ "اماں ایسا لگتا ہے جیسے اس گھر میں ہم ہمیشہ تین ہی افراد رہیں گے" راشد نے پیار بھری نظروں سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"ارے کیا منہ سے بدفال نکالتا ہے۔" ماں نے جھوٹ موٹ کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ "جب میں تیرے لئے ایک چاند سی دلہن لے آؤں گی تو۔۔۔" راشد ماں کا فقرہ درمیان ہی سے اچکتے ہوئے بولا "اماں اس وقت تک باجی کی شادی بھی تو ہو جائے گی۔ اس گھر میں ہم تو پھر تین کے تین ہی رہیں گے ناں!" "ارے بیٹا تو کتنا بھولا ہے۔ دیکھ جب میرا پوتا اس گھر میں آئے گا تو ہم پھر۔۔۔"۔ "مگر اماں!" بیٹے نے شوخ نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا "اس وقت تک تم اللہ میاں کے پاس نہ ۔۔۔"! ارے اب تو میرے۔۔۔۔!" اتنے میں گیٹ کسی نے زور سے دھڑ دھڑایا۔ یہ راشدہ کے گھر آنے کا مخصوص انداز تھا۔ راشد نے ماں کی توجہ بٹاتے ہوئے کہا "اماں۔۔۔ لوباجی بھی آ گئی۔ اب جلدی سے کھانا نکالئے۔ مجھے پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔" کھانا تو پہلے ہی سے تیار تھا۔ بس راشدہ ہی کے آنے کی دیر تھی وہ آئی تو سب کھانے پر بیٹھ گئے اور راشد جھٹ پٹ کھانا کھا کر راشدہ اور ماں کو دسترخوان پر ہی چھوڑ کر یہ جا وہ جا۔
 

شمشاد

لائبریرین
دن اسی طرح کٹتے رہے۔ راشد نے انٹر کر کے بی اے میں اور راشدہ نے مطلوبہ مارکس نہ آنے پر بی ایس سی میں داخلہ لے لیا۔ ابھی وہ فائنل ایئر ہی میں تھی ماں بیٹے نے ایک اچھا رشتہ دیکھ کر اسے پیا گھر بھیج دیا۔ بی اے پاس کرتے ہی راشد کو اپنے ہی اخبار میں سب ایڈیٹر کی ملازمت مل گئی۔ گھر میں ذرا خوشحالی آئی تو ماں کو چاند سی بہو لانے کا ارمان دل میں جاگا۔ یوں راشد کی بھی شادی ہو گئی۔ گھر کے بے تکلفانہ ماحول کی جگہ رکھ رکھاؤ نے لے لی۔ راشدہ اب میکے آتی تو ماں اور بھائی کے ساتھ مل کر پہلے کی طرح گھنٹوں بے تکلفانہ گفتگو کرنے کی بجائے بھائی بھابھی سے علیک سلیک کرنے کے بعد ماں کے کمرے میں جا گھستی اور ماں بیٹی گھنٹوں نہ جانے کیا کھسر پھسر کرنے لگتیں۔ ایسے میں راشد اگر گھر میں ہوتا تو اسے بڑی کوفت ہوتی۔ اس کی بیوی کچن میں کھانا پکانے میں مصروف ہوتی تو وہ اپنے کمرے میں تنہا لیٹا بہن اور ماں سے ماضی کی طرح بے تکلفانہ ماحول میں گفتگو کرنے کی تمنا کیا کرتا۔ اس روز بھی وہ جب دفتر جانے کے لیے کھانا کھانے گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ ساتھ والے کمرے سے راشدہ اور ماں کے درمیان باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں جو نسبتاً تیز ہونے کی وجہ سے صاف سنائی دے رہی تھیں۔ غالباً انہیں راشد کے گھر آنے کی اطلاع نہ تھی۔ راشدہ ماں سے اپنے سسرال کی شکایتیں کرتے ہوئے کہہ رہی تھی، "امی وہ میری تو بالکل ہی نہیں سنتے۔ ہر کام ماں اور بہنوں سے پوچھ کر ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی مردوں والی بات تو نہ ہوئی نا!" قبل اس کے کہ بیٹی ماں سے مزید شکوہ شکایت کرتی راشد کی بیگم نے کمرے میں آ کر راشد کے آنے اور کھانا لگ جانے کی اطلاع دی۔ اور یوں بات آئی گئی ہو گئی۔ راشد نے حسب معمول سب کے ساتھ کھانا کھایا اور سب کو گپ شپ کرتا چھوڑ کر دفتر کو روانہ ہو گیا۔
دن اسی طرح ماہ و سال میں تبدیل ہونے لگے۔ اب راشدہ میکے آتی تو اس کی گود میں اس کا بیٹا بھی ہوتا۔ اور وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ دن ماں کے ہاں قیام کرتی۔ ادھر راشد کی بیگم ہنوز اپنی گود ہری ہونے کے انتظار میں تھی۔ راشد کو تو اس بات کی چنداں فکر نہ تھی۔ مگر ماں اور بہن دونوں مل کر راشد کے کان بھرتیں تو وہ بھی کبھی کبھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا۔ اور پھر اس کی اپنی بیگم سے ان بن ہو جاتی مگر وہ بالاخر بیوی ہی کی بات کو معقول پا کر ماں اور بہن کی باتوں کو نظر انداز کر دیتا۔ اور اپنے روز مرہ کے معمول میں گم ہو جاتا۔ یہ دیکھ کر ماں بیٹی دونوں راشد سے روٹھ جاتیں۔
راشد کےرویہ میں کسی تبدیلی کو نہ دیکھ کر بالاخر ماں بیٹی نے راشد سے دو ٹوک گفتگو کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ خوش قسمتی سے انہیں اس بات کا موقع بھی مل گیا۔ راشدہ اس مرتبہ جب میکے آئی تو پتہ چلا کہ بھابھی اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔ ماں بیٹی نے موقع غنیمت جانتے ہوئے راشد کو گھیر لیا۔ راشدہ کہنے لگی : میں کہتی ہوں کیا ہر بات میں بیوی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہو۔ مرد بنو مرد۔ اپنے اندر کچھ تو مردوں والی بات پیدا کرو۔ اور ہاں اب کان کھول کر سن لو۔۔۔۔"
راشدہ بولے جا رہی تھی مگر راشد بظاہر متوجہ ہونے کے باوجود کچھ سننے سے قاصر تھا۔ کیونکہ اس کے کانوں میں راشدہ کے وہ جملے گونج رہے تھے جو اس نے ماں سے اپنے شوہر کے متعلق کچھ عرصہ پہلے کہے تھے : "امی وہ میری تو بالکل ہی نہیں سنتے۔ ہر کام ماں اور بہنوں سے پوچھ کر ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی مردوں والی بات تو نہ ہوئی نا!"
 
Top