منظر بھوپالی منظر بھوپالی: تمہارا لہجہ ہو خوشبوؤں سا، ہمارا لہجہ دعاؤں سا ہو

صائمہ شاہ

محفلین
تمہارا لہجہ ہو خوشبوؤں سا، ہمارا لہجہ دعاؤں سا ہو
جو دوپہر میں بھی ہم ملیں تو، مزاج ٹھنڈی ہواؤں سا ہو

جو مل کے بیٹھیں تو اسطرح ہم کہ جیسے انسان مل رہے ہوں
نہ لفظ نشتر بنیں زباں پر، نہ لہجہ کڑوی دواؤں سا ہو

بچاؤں دنیا کو دھوپ سے میں، تمام خلقت کے کام آؤں
مرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو

اُگیں خوشی کے گلاب کیسے، دہکتے شعلوں کی کھیتیوں میں
کسے پکارے یہ زندگانی، ہر آدمی جب چتاؤں سا ہو

بچا کے رکھنا انا کی دولت، یہی تو پونجی ہے اہلِ دل کی
کبھی بھی اس سے نہ جھک کے ملنا، غرور جس میں خداؤں سا ہو

یہ بے ضمیری میں بے حسی میں،یزید و راون سے بھی ہیں آگے
مری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو
 

عاطف بٹ

محفلین
بچا کے رکھنا انا کی دولت، یہی تو پونجی ہے اہلِ دل کی
کبھی بھی اس سے نہ جھک کے ملنا، غرور جس میں خداؤں سا ہو

بہت خوب!
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہہہ


اُگیں خوشی کے گلاب کیسے، دہکتے شعلوں کی کھیتیوں میں​
کسے پکارے یہ زندگانی، ہر آدمی جب چتاؤں سا ہو​
 

طارق شاہ

محفلین
محترمہ شاہ صاحبہ!
بہت خوبصورت انتخابِ غزل پر بہت سی داد قبول کیجئے

درج ذیل دو مصرعوں میں ٹائپو ہے، انھیں درست کردیا جائے تو کیا ہی بات ہو

"میرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو"

جب کہ صحیح یوں ہوگا کہ :
مِرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو

دوسرا مصرع
"میری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو"
اِس میں بھی میری اسے خارج از بحر کر رہی ہے، مری ہونا چاہئے

مِری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو


ایک بار پھر سے اس پیشکش پر بہت سی داد
تشکّر
 

صائمہ شاہ

محفلین
محترمہ شاہ صاحبہ!
بہت خوبصورت انتخابِ غزل پر بہت سی داد قبول کیجئے

درج ذیل دو مصرعوں میں ٹائپو ہے، انھیں درست کردیا جائے تو کیا ہی بات ہو

"میرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو"

جب کہ صحیح یوں ہوگا کہ :
مِرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو

دوسرا مصرع
"میری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو"
اِس میں بھی میری اسے خارج از بحر کر رہی ہے، مری ہونا چاہئے

مِری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو


ایک بار پھر سے اس پیشکش پر بہت سی داد
تشکّر
شکریہ پسند فرمانے کا
 

فاتح

لائبریرین
محترمہ شاہ صاحبہ!
بہت خوبصورت انتخابِ غزل پر بہت سی داد قبول کیجئے

درج ذیل دو مصرعوں میں ٹائپو ہے، انھیں درست کردیا جائے تو کیا ہی بات ہو

"میرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو"

جب کہ صحیح یوں ہوگا کہ :
مِرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو

دوسرا مصرع
"میری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو"
اِس میں بھی میری اسے خارج از بحر کر رہی ہے، مری ہونا چاہئے

مِری دعا ہے کہ میرا بچہ نہ آج کے رہنماؤں سا ہو


ایک بار پھر سے اس پیشکش پر بہت سی داد
تشکّر
آپ کی بات درست ہے کہ جہاں جہاں وزن میں مری، تری، مرا، ترا، وغیرہ آتا ہو وہاں میری، تیری، میرا، تیرا، وغیرہ لکھنے سے گریز کیا جانا چاہیے لیکن اسے عموماً "خارج از بحر" نہیں کہا جاتا کیونکہ قدیم و جدید کئی کتابوں میں وزن میں مری، تری آنے کے باوجود انھیں میری، تیری، وغیرہ بھی لکھا گیا ہے اور خیال کیا گیا ہے کہ جو قارئین ذوق سلیم اور موزونیِ طبع رکھتے ہیں وہ ان مقامات پر مری و تری ہی پڑھ لیں گے جیسے آئینہ کا لفظ بعض جگہوں پر آئنہ باندھا جاتا ہے لیکن کئی دفعہ کتابت میں آئینہ مکمل شکل میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔
لیکن بہرحال اس بات کی دوبارہ تائید کروں گا کہ "اگر ممکن ہو" تو درمیانی ی کو حذف کر کے وہی لفظ لکھا جانا چاہیے جو وزن میں آ رہا ہے۔
 

طارق شاہ

محفلین
آپ کی بات درست ہے کہ جہاں جہاں وزن میں مری، تری، مرا، ترا، وغیرہ آتا ہو وہاں میری، تیری، میرا، تیرا، وغیرہ لکھنے سے گریز کیا جانا چاہیے لیکن اسے عموماً "خارج از بحر" نہیں کہا جاتا کیونکہ قدیم و جدید کئی کتابوں میں وزن میں مری، تری آنے کے باوجود انھیں میری، تیری، وغیرہ بھی لکھا گیا ہے اور خیال کیا گیا ہے کہ جو قارئین ذوق سلیم اور موزونیِ طبع رکھتے ہیں وہ ان مقامات پر مری و تری ہی پڑھ لیں گے جیسے آئینہ کا لفظ بعض جگہوں پر آئنہ باندھا جاتا ہے لیکن کئی دفعہ کتابت میں آئینہ مکمل شکل میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔
لیکن بہرحال اس بات کی دوبارہ تائید کروں گا کہ "اگر ممکن ہو" تو درمیانی ی کو حذف کر کے وہی لفظ لکھا جانا چاہیے جو وزن میں آ رہا ہے۔
جناب فاتح صاحب!
جواب کے لئے ممنون ہوں
در اصل مرا، مری ، تر،ا تری کا استعمال شاعر وزن (معینہ بحر کی افاعیل ) کی مناسبت ہی کی وجہ سے کرتا ہے ورنہ نثر میں تو اس کا استمعال نہیں
میری بات نہیں سنتا یا میری بات کب سنتا ہے ہی نثر میں لکھیں گے یا یوں ہی گفتگو میں ادا کیا جاتا ہے

فیض صاحب کی شہرہ آفاق نظم
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں مری بوجہ تقاضہٴ بحر ہی ہے
جسے مادام نورجہاں نے با اجازت فیض صاحب
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
کر کے گایا، لیکن وزن کی وجہ سے مری کو مرے ہی کیا جاسکتا تھا ، میرے نہیں۔


اردو لکھتے وقت بھی کبھی کبھی ہم سے یہ غلطی ہو جاتی ہے کہ ہم نے لکھا تو مری ہی تھا مگر گوگل اردو ٹرانسلٹرشن نے میری ٹائپ کردیا

تدوین کا جنھیں اختیار ہے اگر پتہ چلنے پر درست کردیں تو یہ کہ کسی اور جگہ کاپی پیسٹ کی سہولت کی وجہ سے غلط چسپاں نہ ہو
اور مقصد یہی ہے کہ ہم سب ہی ایک دوسرے کے معلومات سے فائدہ حاصل کریں اور اور شاعر کی روح کو بھی خوشحال رکھا جائے

شاہ صاحبہ کا ذوق مجھ سے ہزارہا درجہ بہتر ہے، ٹرانسفر کی غلطیاں تو ہم سب سے ہی ہوتی ہیں، اور ہم سب ہی اس پر قابو پاسکتے ہیں
تائید اور اظہار کے لئے ممنون ہوں
تشکّر
 
Top