ملی اک اجنبی سے میں - نظم برائے اصلاح

ملی اک اجنبی سے میں
انوکها سا تها وہ لڑکا
بہت اپنایت سی تهی
چمکتی شوخ آنکھوں میں
گلابی نرم ہونٹوں میں
بڑا ٹھہرا ہوا مدهم سا کچھ انداز تها اس کا
اسی انداز نے اک آگ کو مجھ میں ہوا دی تهی
کہی کچھ بات پهر میں نے
کہے کچھ لفظ پهر اس نے
کچھ ہی لمحوں میں میرے دل میں اس نے یوں جگہ کر لی
ملاقاتیں مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں
تو پهر جتنی بهی ہوں پیاری بہت رنگیں بہت میٹهی
وہ باتیں بهی مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں
تو یوں وہ سلسلہ ٹوٹا
وہ اپنی راہ، میں اپنی ڈگر پہ پهر رواں ہوں پر
وہ اک خاموش سا لڑکا
جو کل تک اجنبی سا تها
ہمیشہ کے لئے دل کے کسی کونے میں آ بیٹھا
 
ملاقاتیں مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں​
تو پهر جتنی بهی ہوں پیاری بہت رنگیں بہت میٹهی​
وہ باتیں بهی مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں​
تو یوں وہ سلسلہ ٹوٹا​

زبردست ہے سارہ، داد خاضر ہے​
 
ملاقاتیں مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں​
تو پهر جتنی بهی ہوں پیاری بہت رنگیں بہت میٹهی​
وہ باتیں بهی مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں​
تو یوں وہ سلسلہ ٹوٹا​

زبردست ہے سارہ، داد خاضر ہے​


جی بہت شکریہ اظہر نذیر صاحب!
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
خوبصورت احساس سے پر نظم.
داد قبول.
محترم! آپ کے اس اقتباس سے لگتا ہے آپ نے داد دی بھی خود اور قبول بھی خود کر لی ۔۔۔ اس مذاق سے قطع نظر ایک اور مذاق ہے۔۔۔
عذر گناہ بدتر از گناہ ۔۔۔ میسج دو بار گیا اور اس کا اعتراض ایک تیسرا میسج بن گیا، یوں محترمہ کی ہیٹ ٹرک مکمل ہوئی، اتنی داد نظم پر نہیں جتنی اس ہیٹ ٹرک پر دینی چاہئے۔۔۔ ویسے ایک بٹن اس کو ڈیلیٹ کرنے کا بھی ہوتا ہوگا، وہی استعمال کرلیا ہوتا(یہ بات ہم بلا تحقیق کہہ رہے ہیں، ہمیں بھی معلوم نہیں بٹن ہے کہ نہیں)
ملاقاتیں مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں​
تو پهر جتنی بهی ہوں پیاری بہت رنگیں بہت میٹهی​
وہ باتیں بهی مگر انجام کو تو آ ہی جاتی ہیں​
تو یوں وہ سلسلہ ٹوٹا​

زبردست ہے سارہ، داد خاضر ہے​

اظہر نذیر بچ گئے۔۔۔ خیر پھر سہی۔۔۔
 
شکریہ شاہد صاحب کمنٹ کے لئے. فون پر یہ سائٹ زیادہ ٹهیک نہیں چلتی مگر مشورہ دینے کا شکریہ. مزمل صاحب کی داد میری نظم ہی کے لئے ہے اور مجهے تو کوئی confusion نہیں ہوئی بلکہ اچهی لگی!

اظہر صاحب کا اپنا انداز ہے داد دینے کا پڑھ کر مزا آتا ہے سو ان کو دوبارہ شکریہ :)
 

الف عین

لائبریرین
کچھ ہی تبدیلیاں:

ملی اک اجنبی سے میں​
انوکها سا تها وہ لڑکا​
چمکتی شوخ آنکھوں میں​
گلابی نرم ہونٹوں میں​
بہت اپنائیت سی تهی​
بڑا ٹھہرا ہوا مدهم سا کچھ انداز تها اس کا​
اسی انداز نے اک آگ کو مجھ میں ہوا دی تهی​
کہی کچھ بات پهر میں نے​
کہے کچھ لفظ پهر اس نے​
تو بس پھر کچھ ہی پل میں میرے دل میں اس نے ایسی کچھ جگہ کر لی​
ملاقاتیں مگر انجام تک تو آ ہی جاتی ہیں​
تو پهر جتنی بهی ہوں پیاری​
بہت رنگیں بہت میٹهی​
وہ سب باتیں مگر انجام تک تو آ ہی جاتی ہیں​
تو یوں وہ سلسلہ ٹوٹا​
وہ اپنی راہ پر​
اپنی ڈگر پر چل رہی ہوں میں​
وہ اک خاموش سا لڑکا​
جو کل تک اجنبی سا تها​
ہمیشہ کے لئے دل کے کسی کونے میں آ بیٹھا​
 
کچھ ہی تبدیلیاں:

ملی اک اجنبی سے میں​
انوکها سا تها وہ لڑکا​
چمکتی شوخ آنکھوں میں​
گلابی نرم ہونٹوں میں​
بہت اپنائیت سی تهی​
بڑا ٹھہرا ہوا مدهم سا کچھ انداز تها اس کا​
اسی انداز نے اک آگ کو مجھ میں ہوا دی تهی​
کہی کچھ بات پهر میں نے​
کہے کچھ لفظ پهر اس نے​
تو بس پھر کچھ ہی پل میں میرے دل میں اس نے ایسی کچھ جگہ کر لی​
ملاقاتیں مگر انجام تک تو آ ہی جاتی ہیں​
تو پهر جتنی بهی ہوں پیاری​
بہت رنگیں بہت میٹهی​
وہ سب باتیں مگر انجام تک تو آ ہی جاتی ہیں​
تو یوں وہ سلسلہ ٹوٹا​
وہ اپنی راہ پر​
اپنی ڈگر پر چل رہی ہوں میں​
وہ اک خاموش سا لڑکا​
جو کل تک اجنبی سا تها​
ہمیشہ کے لئے دل کے کسی کونے میں آ بیٹھا​


بہت شکریہ سر!
 
Top