ملا عمر ہمارے امیر المومنین البغدادی ہمارے خلیفہ ہیں، ام حسان

اوشو

لائبریرین
عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی کے والد مولانا عبداللہ کے پاکستانی و افغانی طالبات سے عشروں پرانے تعلقات تھے جو ملا عمر کی پیروکاری کو تسلیم کرتے ہیں

یہ حقیقت ہے یا ٹائپنگ کی غلطی؟
میرا خیال ہے یہاں لفظ "طالبان" ہونا چاہیے۔
 

عثمان

محفلین
نہیں ، ایسی بات نہیں مشرف سے نفرت اپنی جگہ۔ لیکن لال مسجد واقعہ بھی ریاست سے بغاوت کی ایک شکل تھا جسے آپریشن کے ذریعے نمٹایا گیا۔
کیا آپ ام حسان اور مشرف دونوں کو برابری کی بنیاد پر انصاف کے حصول کا حقدار نہیں سمجھتے؟
یا بلوچ باغیوں اور سندھی قوم پرستوں کو بھی انصاف کے حصول کے لئے برابری کا حق نہیں؟
ام حسان پر تو ریاست نے وہ احسان کیا ہے جو کیا ہی کبھی کسی ریاست نے بدمعاشوں کے ساتھ کیا ہوگا۔ ڈھاٹے باندھے مورچہ زن غنڈے ہفتہ بھر افواج پاکستان اور پولیس پر گولیاں برسانے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں پانچ پانچ ہزار وصول کرنے کا وعدہ لے کر بورے بسترے کاندھوں پر لٹکائے خراماں خراماں اپنے گھروں کو چلدیے۔ کیا ریاست کے بدمعاشوں اور باغیوں کے خلاف ایسا احسان آپ نے پہلے کبھی دیکھا ہے۔ :)
 
ام حسان پر تو ریاست نے وہ احسان کیا ہے جو کیا ہی کبھی کسی ریاست نے بدمعاشوں کے ساتھ کیا ہوگا۔ ڈھاٹے باندھے مورچہ زن غنڈے ہفتہ بھر افواج پاکستان اور پولیس پر گولیاں برسانے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں پانچ پانچ ہزار وصول کرنے کا وعدہ لے کر بورے بسترے کاندھوں پر لٹکائے خراماں خراماں اپنے گھروں کو چلدیے۔ کیا ریاست کے بدمعاشوں اور باغیوں کے خلاف ایسا احسان آپ نے پہلے کبھی دیکھا ہے۔ :)
پہلے ریاست نے ام حسان پر احسان کیا اور اب مشرف پر احسان کر رہی ہے اسے عدالت میں پیش نا کرکے۔ میرا خیال ہے ریاست کو یہ احسان ، احسان کھیلنا بند کرنا چاہئے اور انصاف کی طرف بڑھنا چاہئے۔
ام حسان پر احسان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ضرورت انصاف کرنے کی ہے برابری کی بنیاد پر
ام حسان یا لال مسجد کے معاملے اور مشرف کو عدالت میں لانے میں کیا حرج ہے؟ یہ دونوں عدالت میں آئیں اور ثابت کریں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ، کون ظالم اور اور کون مظلوم
جب ام حسان عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرے گی تو یہ بات اسٹیبلش ہوگی کہ ام حسان جیسے باغی بھی ریاست پاکستان اور اس کے آئین کو مانتے ہیں اور اس کی عدالت کو مانتے ہیں۔
جب مشرف بھی عدالت میں پیش ہوگا تو یہ ثابت ہوگا کہ پاکستان میں کوئی مقدس گائی نہیں ہے اور سب پاکستانی برابری کی بنیاد پر عدالت اور قانون کو جواب دہ ہیں!
یہ ایک مثال بنے گی دوسرے موجودہ اور آئندہ باغیوں کے لئے
اکثر لوگ قانون کو ہاتھ میں اسی وقت لیتے ہیں جب انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالت سے انصاف کی امید نہیں ہوتی۔
 
آخری تدوین:
Top