جوش مفلسوں کی عید

حسان خان

لائبریرین
اہلِ دوَل میں دھوم تھی روزِ سعید کی​
مفلس کے دل میں تھی نہ کرن بھی امید کی​
اتنے میں اور چرخ نے مٹی پلید کی​
بچے نے مسکرا کے خبر دی جو عید کی​
فرطِ محن سے نبض کی رفتار رک گئی​
ماں باپ کی نگاہ اٹھی، اور جھک گئی​
​
آنکھیں جھکیں کہ دستِ تہی پر نظر گئی​
بچے کے ولولوں کی دلوں تک خبر گئی​
زلفِ ثبات، غم کی ہوا سے بکھر گئی​
برچھی سی ایک، دل سے جگر تک اتر گئی​
دونوں، ہجومِ غم سے ہم آغوش ہو گئے​
اک دوسرے کو دیکھ کے خاموش ہو گئے​
​
(جوش ملیح آبادی)​
۱۹۳۲ء​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top