مسلک اہلحدیث اورتصوف واحسان

کیا آپ کو یاد نہیں غار
پھر اس حدیث میں صوفیت کہاں سے آگئی ،،اولیاء اللہ کا ذکر ہے وہ آپ بھی ہوسکتے ہیں اس محفل کا ہر شخص ہوسکتا،
بہت سے ہندوؤں میں ہے کہ وہ لوگ بنواس جاتے ہیں یعنی اپنی ذندگی کو دنیا کے لوگوں سے ہٹ کرجنگل بیابان میں چلے جاتے ہیں
اور صوفی عمل میں اسطرح کی یکسانیت پائی جاتی ہے
کیا آپ کو یاد نہیں غار حرا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 40 ،40 دن تک کس طرح عبادت کیا کرتے تھے
کیا نعوذباللہ آپ ایسے بھی ہندوؤں کا بنواس کہو گے ؟
 

x boy

محفلین
کیا آپ کو یاد نہیں غار

کیا آپ کو یاد نہیں غار حرا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 40 ،40 دن تک کس طرح عبادت کیا کرتے تھے
کیا نعوذباللہ آپ ایسے بھی ہندوؤں کا بنواس کہو گے ؟
الحمدللہ
الصلواۃ السلام علی رسول اللہ
امابعد،
مجھے تعجب نہیں ہوا آپ کے اس طرح کی باتوں سے کیونکہ مجھے یہی گمان ہوتا ہے ،،
کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذندگی کے بارہ میں پوری معلومات لی،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ معظمہ میں جبرائیل امین علیہ السلام کی ملاقات کے بعد کتنی مرتبہ غار حرا گئے۔
خدیجہ رضی اللہ عنہ کی ذندگی میں کتنی بار گئے اور ان کے بعد کتنی بار گئے۔
ہجرت کے بعد کتنی بار گئے۔
یہ میرے سوال ہیں انکا جواب چاہیے

دوسری بات کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی سنتیں انکے لئے ہی تھیں
جیسے جبرائیل امین کا آنا،
اللہ کاکلام نازل ہونا،
اللہ کی طرف سے راہنمائی ہونا،
چار سے ذائد شادیاں،
صدقہ قبول نہ کرنا، ھدیہ کو قبول کرنا۔
چاند کے دوٹکڑے کرنا،
درختوں کو بلانا اور حاجت کے لئے پردہ کروانا واپس اپنی جگہہ چلے جانا۔
کنواری بکری سے دودھ نکالنا۔
اسراء والمعراج اور اس میں جہنم و جنت دکھانا 17 باتوں کو امت کے لئے پانا۔

اور دیگر سنتیں ہیں جو اس وقت مجھے یاد نہیں جو صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھیں
میں اس بات سے سخت غصے میں ہوں کہ آپ نے ہندو جو کرتے تھے اور ابھی بھی کرتے ہیں اس کوکیسے ملا لیا۔
شاید آپ نے میرے وہ باتیں نہیں پڑھی جو صرف قرآن و حدیث ہے۔
میرے لیے اور میرے مسلمان بھائیوں کے لئے یہ ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہو چاہے ہم کافر ملک میں ہوں یا مسلمانوں کے ساتھ نام مسلم ممالک میں ہوں
ہمیں صرف صرف اپنی ذندگی کو اللہ کے احکامات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں سے بجالانا ہے۔
اللہ کی یہی انسانوں سے چاہت ہے کہ جو قرآن نازل ہوا ، جن پر نازل ہوا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کے ذندگی کے پہلو اور طریقے کو لینا ہے
جیسا کہ اوپر ایک حدیث میں میں نے کوشش کی کہ اس بات کو سمجھ لیں۔
ہمیں دین کو تلاش کرنے کے لئے جنگل میں چلا کاٹنے کی ضرورت نہیں الحمدللہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ موجود ہے اپنی عقل سے ان نورانی
کتابوں میں تدبر حاصل کرنا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ آپ مزید اس طرح کی حرکت نہیں کرینگے ، مسلمانوں کو مسلمان ہی رہنے دو اللہ کے واسطے۔
سیدھے کلمہ پر اسی طرح اقرار اور عمل ہو جسطرح قرون کا طریقہ تھا
نماز ، زکواۃ ، روزہ اور بیت اللہ کا حج اپنی کیفیت اور استطاعت سے ادا کرو۔
صفائی کو اپنے لئے فرض کرلو، ہر چیز کی صفائی، دل و دماغ کی صفائی، جسمانی صفائی ، دوسرے کے معاملات میں مثبت صفائی کیونکہ آدھا ایمان صفائی ہے
دین کے ستون کو کمزور ہونے سے بچو،اور نماز دین کا ستون ہے، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،
معاشرے میں بیروزگاری بہت ہے اپنی مال سے صدقہ زکواۃ دینا ہے تاکہ معاشرے میں امن رہے۔
روزہ سال میں ایک مہینہ ہے اس میں جو سادگی والا عمل ہے اسکو اختیار کرتے ہوئے باقی پورے سال اس کو عمل میں رکھو۔
عیدالاضحی میں بڑھ چڑھ کر قربانی میں حصہ لو، تاکہ ہمارے وہ بھائی جنہوں نے سال بھر گوشت دیکھا ہو گا یا نہیں انکے گھر گوشت سے بھر جائیں۔
یہ میں نے جو لکھا ہے وہ میرا عمل ہے اور میں نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے اور قرآن و حدیث میں یہی اعمال پائے ہیں۔
انتھی۔
 
Top