مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل؟

جاسم محمد

محفلین
مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل؟
عباس مہکری
08 دسمبر ، 2019

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کے بعد اس پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف بھی مبینہ کرپشن کے مقدمات میں پھنستے جا رہے ہیں۔ شریف برادران کے بچوں کے خلاف بھی مقدمات ہیں، جن میں سے کسی کو بعد ازاں پارٹی کی قیادت سنبھالنا تھی۔ گزشتہ چار عشروں سے اس ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی اور کئی مرتبہ اقتدار میں رہنے والی اس سیاسی جماعت کا مستقبل کیا ہوگا؟ آج کا ایک اہم سوال ہے۔

چند روز قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کیس میں میاں شہباز شریف، ان کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز اور ان کی دونوں بیگمات کے تمام اثاثے منجمد کر دیے۔ اس کے بعد میاں شہباز شریف نے لندن میں پریس کانفرنس کرکے کہا کہ سپریم کورٹ سے ناکامی کے بعد نیب نیازی گٹھ جوڑ نے ان کی جائیدادیں منجمد کیں۔

میاں شہباز شریف نے، جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، اِن ہائوس تبدیلی کو ملک کے لیے ضروری قرار دیا۔ اس پریس کانفرنس کے اگلے روز وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے میاں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے نئے الزامات عائد کر دیے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں پر نیب مزید ریفرنسز دائر کر سکتا ہے۔

میاں نواز شریف پہلے ہی سیاست کے لیے نااہل قرار دیے جا چکے ہیں۔ ان کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز بیرونِ ملک ہیں۔ ان کے خلاف بھی نہ صرف پاکستان میں مقدمات ہیں بلکہ وہ سیاست میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میاں شہباز شریف اور ان کے بچوں کے پاس چلی جائے گی۔ کچھ حلقے یہ بھی تاثر دے رہے تھے کہ میاں شہباز شریف کے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں اور وہ اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کے بیانیہ سے اتفاق نہیں کرتے ہیں لیکن نیب شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف جس طرح ثبوت اور شواہد جمع کر رہا ہے اور وہ جس طرح مقدمات میں جکڑ رہے ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ میاں شہباز شریف کے لیے نرم گوشہ ہونے کا تاثر درست نہیں ہے۔

یہ صورت حال اگر کچھ عرصہ برقرار رہی تو شریف پولیٹکل ڈائے نیسٹی (DYNASTY) کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے اس طرح کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری پر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے بچوں کی طرح مقدمات نہیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے اہم رہنما لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ ان میں خواجہ آصف، سینیٹر پرویز رشید، مریم اورنگزیب، سردار ایاز صادق اور رانا تنویر شامل ہیں۔ یہ رہنما لندن میں اپنی پارٹی کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور صدر میاں شہباز شریف سے مشاورت کریں گے اور ان کی رہنمائی حاصل کریں گے۔ خصوصاً پارلیمانی امور سے متعلق ان کی ’’گائیڈ لائن‘‘ حاصل کریں گے۔

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون سازی کے معاملے میں پھنسی ہوئی ہے۔ اسے سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ باور کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کرے گی لیکن اس معاملے پر حکومت سے تعاون کی صورت میں نہ تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو کسی قسم کا بڑا ریلیف ملنے کی توقع ہے اور نہ حکومت کوئی ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا ’’لندن پلان‘‘ کیا بنتا ہے۔ یہ پلان کچھ بھی ہو، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پاکستان آکر ہی اپنی سیاست کرنا پڑے گی اور ان پر جو الزامات عائد ہوئے ہیں، ان کا عدالتوں میں سامنا کرنا ہوگا۔ ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے نہ صرف الزامات ہیں بلکہ مقدمات بھی قائم ہیں۔ قانون کے مطابق جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہو، وہ بے گناہ ہے لیکن سیاست میں یہ اصول نہیں چلتا۔ سیاسی رہنمائوں کو لوگ اس وقت تک بے گناہ تصور نہیں کرتے، جب تک وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت نہ کر دیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میاں نواز شریف کے علاج کے لئے میاں شہباز شریف کو بھی لندن جانا پڑا اور ان دونوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے دیگر قائدین بھی لندن گئے ہیں مگر انہیں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے وطن آنا ہوگا۔ نہ صرف ایک پولیٹکل ڈائے نیسٹی کیلئے مشکل صورت حال ہے بلکہ پاکستان کی سیاست کیلئے بھی آزمائش کا دور ہے۔

سیاست دانوں کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا بہرحال جواب دینا ہوگا۔ ایک طرف ملک میں غربت، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف سیاستدانوں پر اربوں ڈالرز کے اثاثے بنانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ ملک میں موجودہ سیاسی توازن کو بگاڑ سکتے ہیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل؟
عباس مہکری
08 دسمبر ، 2019

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کے بعد اس پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف بھی مبینہ کرپشن کے مقدمات میں پھنستے جا رہے ہیں۔ شریف برادران کے بچوں کے خلاف بھی مقدمات ہیں، جن میں سے کسی کو بعد ازاں پارٹی کی قیادت سنبھالنا تھی۔ گزشتہ چار عشروں سے اس ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی اور کئی مرتبہ اقتدار میں رہنے والی اس سیاسی جماعت کا مستقبل کیا ہوگا؟ آج کا ایک اہم سوال ہے۔

چند روز قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کیس میں میاں شہباز شریف، ان کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز اور ان کی دونوں بیگمات کے تمام اثاثے منجمد کر دیے۔ اس کے بعد میاں شہباز شریف نے لندن میں پریس کانفرنس کرکے کہا کہ سپریم کورٹ سے ناکامی کے بعد نیب نیازی گٹھ جوڑ نے ان کی جائیدادیں منجمد کیں۔

میاں شہباز شریف نے، جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، اِن ہائوس تبدیلی کو ملک کے لیے ضروری قرار دیا۔ اس پریس کانفرنس کے اگلے روز وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے میاں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے نئے الزامات عائد کر دیے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں پر نیب مزید ریفرنسز دائر کر سکتا ہے۔

میاں نواز شریف پہلے ہی سیاست کے لیے نااہل قرار دیے جا چکے ہیں۔ ان کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز بیرونِ ملک ہیں۔ ان کے خلاف بھی نہ صرف پاکستان میں مقدمات ہیں بلکہ وہ سیاست میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میاں شہباز شریف اور ان کے بچوں کے پاس چلی جائے گی۔ کچھ حلقے یہ بھی تاثر دے رہے تھے کہ میاں شہباز شریف کے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں اور وہ اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کے بیانیہ سے اتفاق نہیں کرتے ہیں لیکن نیب شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف جس طرح ثبوت اور شواہد جمع کر رہا ہے اور وہ جس طرح مقدمات میں جکڑ رہے ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ میاں شہباز شریف کے لیے نرم گوشہ ہونے کا تاثر درست نہیں ہے۔

یہ صورت حال اگر کچھ عرصہ برقرار رہی تو شریف پولیٹکل ڈائے نیسٹی (DYNASTY) کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے اس طرح کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری پر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے بچوں کی طرح مقدمات نہیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے اہم رہنما لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ ان میں خواجہ آصف، سینیٹر پرویز رشید، مریم اورنگزیب، سردار ایاز صادق اور رانا تنویر شامل ہیں۔ یہ رہنما لندن میں اپنی پارٹی کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور صدر میاں شہباز شریف سے مشاورت کریں گے اور ان کی رہنمائی حاصل کریں گے۔ خصوصاً پارلیمانی امور سے متعلق ان کی ’’گائیڈ لائن‘‘ حاصل کریں گے۔

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون سازی کے معاملے میں پھنسی ہوئی ہے۔ اسے سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ باور کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کرے گی لیکن اس معاملے پر حکومت سے تعاون کی صورت میں نہ تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو کسی قسم کا بڑا ریلیف ملنے کی توقع ہے اور نہ حکومت کوئی ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا ’’لندن پلان‘‘ کیا بنتا ہے۔ یہ پلان کچھ بھی ہو، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پاکستان آکر ہی اپنی سیاست کرنا پڑے گی اور ان پر جو الزامات عائد ہوئے ہیں، ان کا عدالتوں میں سامنا کرنا ہوگا۔ ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے نہ صرف الزامات ہیں بلکہ مقدمات بھی قائم ہیں۔ قانون کے مطابق جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہو، وہ بے گناہ ہے لیکن سیاست میں یہ اصول نہیں چلتا۔ سیاسی رہنمائوں کو لوگ اس وقت تک بے گناہ تصور نہیں کرتے، جب تک وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت نہ کر دیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میاں نواز شریف کے علاج کے لئے میاں شہباز شریف کو بھی لندن جانا پڑا اور ان دونوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے دیگر قائدین بھی لندن گئے ہیں مگر انہیں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے وطن آنا ہوگا۔ نہ صرف ایک پولیٹکل ڈائے نیسٹی کیلئے مشکل صورت حال ہے بلکہ پاکستان کی سیاست کیلئے بھی آزمائش کا دور ہے۔

سیاست دانوں کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا بہرحال جواب دینا ہوگا۔ ایک طرف ملک میں غربت، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف سیاستدانوں پر اربوں ڈالرز کے اثاثے بنانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ ملک میں موجودہ سیاسی توازن کو بگاڑ سکتے ہیں۔
مہکری صاحب پیپلز پارٹی کے لیے ہمیشہ سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ دراصل، اس وقت اصل مقابلہ عمران خان بمقابلہ شہباز شریف چل رہا ہے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا میاں نواز شریف اور مریم نواز صاحبہ کو سیاست سے باہر رکھ کر شہباز شریف کو مرکز میں اعلیٰ عہدے پر پہنچانا چاہتا ہے جب کہ ایک بڑا دھڑا عمران خان صاحب کو سپورٹ کرنا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی تو فی الوقت پاور گیم میں شامل ہی نہیں ہے۔ شاید مستقبل بعید کے تناظر میں لکھا گیا کالم ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا میاں نواز شریف اور مریم نواز صاحبہ کو سیاست سے باہر رکھ کر شہباز شریف کو مرکز میں اعلیٰ عہدے پر پہنچانا چاہتا ہے
اس کا مطلب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا شہباز شریف کی طرح ذہنی مریض ہے۔ یہ تو بہت تشویش کی بات ہے :(
 

جاسم محمد

محفلین
دوسرے دھڑے کے بارے میں بھی یہی گمان رکھنے میں کچھ زیادہ حرج نہ ہے۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ تین بار نواز شریف کو اقتدار میں لائی اور تینوں بار اس نے ان کو اتنا ذلیل کیا کہ اسے آئینی مدت سے پہلے گھر بھجوانا پڑا۔ یعنی بار بار اپنا منہ شریف خاندان کے ہاتھوں کالا کروانے کے بعد ابھی بھی اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا ان کو دوبارہ حکومت سونپنے کے حق میں ہے! ایسوں کو ذہنی مریض نہ کہوں تو کیا کہوں؟
 

فرقان احمد

محفلین
ملٹری اسٹیبلشمنٹ تین بار نواز شریف کو اقتدار میں لائی اور تینوں بار اس نے ان کو اتنا ذلیل کیا کہ اسے آئینی مدت سے پہلے گھر بھجوانا پڑا۔ یعنی بار بار اپنا منہ شریف خاندان کے ہاتھوں کالا کروانے کے بعد ابھی بھی اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا ان کو دوبارہ حکومت سونپنے کے حق میں ہے! ایسوں کو ذہنی مریض نہ کہوں تو کیا کہوں؟
اسٹیبلشمنٹ تو محبوبہ بنی بیٹھی ہے، اب جو عاشق بھی منت ترلے کر کے اسے منا لے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیونکہ دوسرے دھڑے کی چوائس 'نااہلوں کا ٹولہ' ہے!
سیاست میں نااہلیت معروضی نہیں انفرادی ہوتی ہے۔ آپ جسے نااہلی سمجھتے ہیں یا کہتے ہیں وہ دوسروں کے نزدیک اہلیت کی نشانی ہے۔
جیسے سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے متفقہ طور پر نواز شریف کو نااہل کیا۔ لیکن ان کے حواری آج بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے اہل ترین حکمران ہیں :)
 

جان

محفلین
سیاست میں نااہلیت معروضی نہیں انفرادی ہوتی ہے۔ آپ جسے نااہلی سمجھتے ہیں یا کہتے ہیں وہ دوسروں کے نزدیک اہلیت کی نشانی ہے۔
جیسے سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے متفقہ طور پر نواز شریف کو نااہل کیا۔ لیکن ان کے حواری آج بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے اہل ترین حکمران ہیں :)
بالکل، ایک دھڑے کے نزدیک خان صاحب اور ان کی ٹیم نااہل نہیں ہے کیونکہ وہ 'ہم راضی تو جگ راضی' کے کلیے پہ یقین رکھتے ہیں اور دوسرے دھڑے کے نزدیک 'نااہلوں کا ٹولہ' ہے کیونکہ وہ اس سے تھوڑا آگے سوچتے ہیں!
 

جاسم محمد

محفلین
بالکل، ایک دھڑے کے نزدیک خان صاحب اور ان کی ٹیم نااہل نہیں ہے کیونکہ وہ 'ہم راضی تو جگ راضی' کے کلیے پہ یقین رکھتے ہیں اور دوسرے دھڑے کے نزدیک 'نااہلوں کا ٹولہ' ہے کیونکہ وہ اس سے تھوڑا آگے سوچتے ہیں!
شہباز شریف نے پنجاب میں 2008 سے 2018 لگاتار حکومت کی ہے۔ اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی 2008 سے زیر اقتدار ہے۔ اتنے طویل عرصہ میں ان دونوں جماعتوں نے ایسے کونسی اصلاحات کر لی جو موجودہ حکومت 15 ماہ میں نااہلوں کا ٹولہ بن کر سامنے آگئی ہے؟ چونکہ یہ حکومت میٹرو، سڑکیں، پل تعمیر نہیں کر رہی اس لئے نااہل ہے۔ کیا بات ہے۔
 

جان

محفلین
ویسے تحریک انصاف حکومت کا مقابلہ کرپشن سے کم اور ان جھوٹوں سے زیادہ ہے جو ن لیگ نے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے جگہ جگہ پلانٹ کئے ہوئے ہیں۔
سوال صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ میں کون قوم کو زیادہ گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ظاہر ہے یہ مقابلہ پی ٹی آئی ہی جیتی کیونکہ ن لیگ صرف ان پڑھ طبقہ کو بیوقوف بنا سکتی ہے لیکن پی ٹی آئی میں پڑھے لکھوں کو بھی بیوقوف بنانے کی اہلیت ہے! :)
 

جان

محفلین
یہ لیں۔ انصافین نے لندن جا کر بھی شریف خاندان کو نہیں چھوڑا
یہ فخر کرنے والی بات نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے، یہی کام کل اگر آپ اقتدار میں نہ ہوئے اور مقتدر پارٹی کے ارکان خان صاحب پہ اس طرح کی کاروائی کرتے ہیں تو یقینا آپ تب بھی جواز ہی تراشیں گے کیونکہ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ کم لوگوں میں ہوتا ہے! آپ آج جو 'دشمنی' اور 'مخالفت' کا بیج بو رہے ہیں اور اس پہ فخر کر رہے ہیں، کل یہی آپ کے لیے دردِ سر ہو گا! تبدیلی اس طرح نہیں آتی بلکہ سنجیدگی سے مسائل پہ غور کرنے سے آتی ہے اور اس کا پہلا قدم 'اخلاقیات' ہے! :)
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
یہ فخر کرنے والی بات نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے، یہی کام کل اگر آپ اقتدار میں نہ ہوئے اور مقتدر پارٹی کے ارکان خان صاحب پہ اس طرح کی کاروائی کرتے ہیں تو یقینا آپ تب بھی جواز ہی تراشیں گے کیونکہ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ کم لوگوں میں ہوتا ہے! آپ آج جو 'دشمنی' اور 'مخالفت' کا بیج بو رہے ہیں اور اس پہ فخر کر رہے ہیں، کل یہی آپ کے لیے دردِ سر ہو گا! تبدیلی اس طرح نہیں آتی بلکہ سنجیدگی سے مسائل پہ غور کرنے سے آتی ہے اور اس کا پہلا سٹیپ 'اخلاقیات' ہے! :)
وہ کسی نے سپریم کورٹ پر بھی حملہ کیا تھا 1997 میں۔ تب پتا نہیں یہ اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار کہاں چلے گئے تھے۔ چلیں اسے مکافات عمل سمجھ لیں :)
 

جاسم محمد

محفلین
سوال صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ میں کون قوم کو زیادہ گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ظاہر ہے یہ مقابلہ پی ٹی آئی ہی جیتی کیونکہ ن لیگ صرف ان پڑھ طبقہ کو بیوقوف بنا سکتی ہے لیکن پی ٹی آئی میں پڑھے لکھوں کو بھی بیوقوف بنانے کی اہلیت ہے! :)
جب پی پی پی، ن لیگ اور فوج عوام کو بار بار بیوقوف بنا سکتی ہے تو تحریک انصاف کو بھی ایک بار بنا کر دیکھ لینے دیں۔ کم از کم اتنا حوصلہ تو ہونا چاہئے :)
 

جان

محفلین
وہ کسی نے سپریم کورٹ پر بھی حملہ کیا تھا 1997 میں۔ تب پتا نہیں یہ اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار کہاں چلے گئے تھے۔ چلیں اسے مکافات عمل سمجھ لیں :)
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپکی اخلاقیات دوسرے سے مشروط ہیں تو آپ کے اخلاقی تصورات غلط سمت اختیار کر چکے ہیں۔ جو چیز غلط ہے وہ آپ کے لیے بھی اتنی ہی غلط ہے جتنی دوسروں کے لیے اور اگر آپ اس کا موازنہ خود سے کریں گے تو پھر آپ کے پاس خود کو بہتر کہنے کا جواز نہیں رہ جاتا!
 
Top