1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

مسلمانوں کے تخلیقی اذہان کی مغرب منتقلی (برین ڈرین)۔۔۔ غزالی فاروق

غزالی_فاروق نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 19, 2021

  1. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    وہی بات۔ تخلیقی اذہان مغرب کی جانب وہاں سائنسی مواقع بہتر ہونے کی وجہ سے جاتے ہیں۔ نہ کہ حکومتی نظام کی وجہ سے۔ اور پاکستان میں تو نہ اسلام کا نظام صحیح طرح نافذ ہے اور نہ ہی انگریز کا نظام۔ ایک ملغوبہ ہے۔ اور کنفیوثن ہے۔ باقی کیا سٹیٹ آف پاکستان سائنسی مواقع پیدا کرنے اور انڈسٹری لگانے میں معاشرے کےآگے بے بس ہے؟ مجھے اس سے شدید اختلاف ہے۔ عوام نے کہاں سائنسی تروی کے خلاف احتجاج اور دھرنے کئے ہیں یا اس کے خلاف بات کی ہے؟ کبھی بھی نہیں۔ آپ پھر مذہب پر تنقید اور سائنس پر تنقید کو مکس کر رہے ہیں۔ اسلام میں سائنس پر تنقید پر کوئی قدغن نہیں۔ اور اسلام میں ریسرچ پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ لیکن اگر کوئی اسلامی ریاست میں اسلام کے خلاف تبلیغ کرے یا خدا اور رسولوں کے رد پر تبلیغ و اشاعت کرے تو یہ اسلام کو روا نہیں۔ لیکن اس کا تعلق سائنس سے ہے ہی نہیں۔ دینیات اور مذہبیات سے ہے۔جو تخلیقی اذہانوں کے برین ڈرین کی وجہ ہے ہی نہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. حسرت جاوید

    حسرت جاوید محفلین

    مراسلے:
    703
    مذہبی قدغن کا مفہوم شاید یہ نہیں کہ لوگ مذہب کے خلاف بات کرنا چاہتے ہیں بلکہ مذہبی دنیا سے باہر سوچنے کی وسعت ہی ان میں پیدا نہیں کی جاتی۔ یہاں تک کہ لوگ کارکردگی کو مذہبی و معاشرتی پیمانوں میں جانچتے ہیں مثلا ایک اچھا سائنسدان اگر مسلمان نہیں یا معاشرتی طورپر 'اعلیٰ' ذات کا نہیں تو ہم اسے یہ کہہ کر تسلیم نہیں کرتے کہ وہ مسلمان نہیں یا چھوٹی ذات کا ہے۔ جب تک آپ اس گھن چکر سے نہیں نکلیں گے اور کام والے بندے کو عزت نہیں دیں گے جو وہ ڈیزرو کرتا ہے وہ کبھی بھی اس ملک میں نہیں ٹھہرے گا۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 22, 2021
    • زبردست زبردست × 1
  3. حسرت جاوید

    حسرت جاوید محفلین

    مراسلے:
    703
    پاکستان میں کتنے ہزار مدرسے ہیں؟ اور کتنے مدرسوں میں معیاری سائنسی تعلیم دی جاتی ہے یا کم از کم مشاہدوں پہ اکسایا جاتا ہے؟ کیا وہاں یہ تعلیم نہیں دی جاتی کہ جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہی حتمی ہے؟ سائنس کی بنیاد تشکیک سے اور مذہب کی بنیاد ایمان سے شروع ہوتی ہے، کیا اس گیپ کو بھرنے کی صلاحیت ہے ہمارے اساتذہ اور علماء میں؟ لازم نہیں کہ اس کے خلاف دھرنے ہی ہوں یا اس کے خلاف بات ہو تو یہ کہا جائے کہ مشاہداتی ترویج سے روکا جا رہا ہے بلکہ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس کی ترویج ہو کتنی رہی ہے؟ یہ ترویج کسی باہر سے آئے فرد نے تو نہیں کرنی بلکہ اسی معاشرے سے پروان چڑھنی ہے اور معاشرے کی اکثریت کی سوچ ابھی مذہبی تاویلات میں دھنسی ہوئی ہے، ادھر سے فرصت ملے گی تو ادھر کچھ سوچے گی۔
    جہاں تک سٹیٹ آف پاکستان کی بات ہے تو وہ ایک حد تک بے بس ہے۔ ملک میں کسی بھی مواقع پیدا کرنے، انڈسٹری لگانے میں حکومت درج ذیل اقدامات کرتی ہے۔
    • حکومتی کے پاس وسائل ملکی پروڈکشن سے منلسلک ہوتے ہیں اور حکومت انہیں مختلف شعبوں میں بلحاظ ضرورت خرچ کرتی ہے۔
    • حکومتی سرمایہ داروں کو دعوت دیتی ہے اور ان کو لیول پلے فیلڈ مہیا کرتی ہے اور ملک میں امن قائم کرتی ہیں۔
    اول یہ کہ حکومت کے پاس وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اس کے تین بڑے ذرائع ہیں۔
    1. حکومت خود سرمایہ کاری کرے اور منافع کمائے۔
    2. اندرونی نجی شعبوں کی پیداوار کی فروخت پہ ٹیکس اکٹھا کرے۔
    3. باہر سے آنے والی چیزوں پر ٹیکس وصول کرے۔
    پہلے نقطے میں حکومتی مشینری کے شعبوں میں کتنے ادارے ہیں جو پیداوار دے رہے ہیں؟ فوج جو بجٹ کا اتنا بڑا حصہ لیتی ہے اس سے کیا پیداوار ہے اور روزگار کے کیا مواقع پیدا کرتی ہے؟ اس کے علاوہ دیگر سرکاری شعبوں میں بھی پیداوار کی کیا شرح ہے؟ بوجہ مجبوری حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے۔ حکومت کو یقینا چاہیے کہ اس طرح کے اداروں کے اخراجات کو کم سے کم کر کے صنعتی اور سائنسی اداروں کو فروغ دے لیکن جونہی ان ڈیڈ اداروں کے بجٹ پہ کٹ لگتا ہے حکومت 'کرپشن'، 'ملک' اور 'عوام دشمنی کی نذر ہو جاتی ہے اور سول اداروں کے ملازمین بھی لٹھ لے کر میدان میں اتر پڑتے ہیں۔ حکومت بھارت اور دیگر ملکوں کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھاتی ہے تاکہ دفاعی اخراجات کم سے کم ہو جائیں تو دفاعی اداروں کا اسلامی پروپیگنڈہ شروع ہو جاتا ہے اور مذہبی جماعتیں انقلاب کی کال لیے میدان میں اتر آتی ہیں۔ اب اس ساری صورت حال کو باہر کے سرمایہ دار بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ معیشت ملکی امن سے منسلک ہے اور سرمایہ داری اسی 'ایکسپیکٹیشن' پہ چل رہی ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں کوئی بھی سرمایہ دار یہ نہیں چاہتا کہ اس کا سرمایہ ڈوب جائے اس لیے یہاں سرمایہ داری بہت محدود ہوتی ہے۔ دوسرا ذریعہ ٹیکس کا ہے تو اس ملک میں کتنے فیصد افراد ملکی ہمدردی کے تحت ٹیکس دیتے ہیں؟ پاکستانی معاشرے کے تناظر میں کما کر کھانے کو شاید ایک قسم کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے جو کرنا ہے حکومت کرے۔ حکومت ایک حد تک تعاون کر سکتی ہے اگر معاشرے میں پہلے ہی اس طرح کی فضا قائم ہو۔ یہاں فضا اس کے بالکل بر عکس ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    10,297
    موڈ:
    Cheerful
    اگر کسی کے نزدیک سائنسی ترقی کی بنیاد سیاسی اور معاشی استحکام ہے تو یہ تو اسلامی نظام حکومت کے اندر یا باہر دونوں طرح سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اسلامی نظام حکومت کی شرط کچھ اضافی سی نہیں ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,987
    مزید کنفیوژن۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں عبور کا مقصد انسانی ترقی ہے، دنیا پر حکمرانی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,987
    یعنی آپ کی اسلامی ریاست غیر مسلم اقوام پر زور زبردستی قبضے کرنے پہ یقین رکھتی ہے۔ کیا ایسا کرنا عالمی قوانین اور اصول انصاف کے تحت درست ہے؟
     
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  7. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    محترم حسرت صاحب۔ آپ کی بات درست ہوتی اگر پاکستان سے صرف غیر مسلم اچھے اذہان جاتے۔ لیکن جو لوگ جاتے ہیں اُن میں سے غیر مسلموں کو تعداد شاید ایک فیصد بھی نہ ہو کیونکہ ان کی اتنی آبادی بھی نہیں پاکستان میں۔ اکثریت تو مسلم اذہان ہی کی باہر جاتی ہے۔

    باقی پاکستان میں لوگوں کا صرف اس وجہ سے کسی کی تحسین نہ کرنا کہ وہ ہندو یا عیسائی ہے تو یہ یقیناً درست نہیں۔ اور اس کی وجہ اسلامی احکامات کا واضح نہ ہونا ہے۔ باقی قادیانیت کا مسئلہ اور ہے کیونکہ وہ غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس لیے بعض لوگ اُنہیں اس طرح سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ لیکن غیر مسلم اذہان کے چلے جانے کا مسئلہ یہاں زیر بحث ہے ہی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    انسانی ترقی صرف سائنسی ترقی سے ممکن نہیں۔ اس سے مراد انسانی تہذیب میں ترقی بھی ہے۔ مغرب نے سائنس میں ترقی تو حاصل کر لی لیکن مطلق آزادیوں کا نظریہ اپنانے سے ان کی تہذیب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کی چند مثالیں اوپر دی جا چکی ہے۔

    اسلام کا ہدف اسلام کے نظام عدل کا پوری دنیا میں نفاذ ہے۔ اور اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے سائنس میں ترقی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
     
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  9. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    بالکل صحیح فرمایا آپ نے۔ اسلام تو لوگوں کے اجتماعی معاملات کو ریاستی سطح پر منظم کرنے کے نظاموں میں سے ایک نظام ہے۔ باقی ایک نظام لبرلزم یا سرمایہ دارانہ نظام ہے اور دوسرا نظام حیات کمیونزم کا نظام ہے۔

    ان تینوں نظاموں کے ساتھ سائنس میں ترقی ممکن ہے۔ تو ایک مسلمان کو ان تینوں نظاموں میں سے کا نظام کو اپنی ریاست میں نافذ کرنا چاہیے؟ ظاہر ہے وہ نظام جو اُن کے عقیدہ پر مبنی ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کی اکثریت اسلامی نظام کی خواہاں ہے۔ جبکہ صرف مغرب زدہ اذہان اسلام کی بجائے مسلمانوں پر بھی مغربی نظاموں کے نفاذ کی بات کر تے ہیں۔ اور اُن کا یہ مطالبہ مسلمانوں میں ایک شاذ رائے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    محترم شخصی آزادی کا مفہوم وہ نہیں کو آپ یا میں متعین کریں۔ اس کا مفہوم متعین ہے۔ یہ مطلق آزادی ہے جو مغرب نے مذہب بیزاری کے نتیجے میں مذہب سے حاصل کی ہے۔ اس کے مطابق انسان خدا کے احکامات کا پابند نہیں۔ بلکہ خدا کے احکامات سے مطلقاً آزاد ہے۔ آپ خود ہی بتائیں کیا یہ اسلام سے مطابقت رکھتا ہے؟

    آپ نے فرمایا: "اگر وہ نظریہ آپ کی نظر میں ناکام اور فرسودہ ہے تو وہاں جانے والا قابل دماغ تو بہت پاگل ہے جو ہمارے اس بہترین 'معاشرتی اور خاندانی نظام' کو چھوڑ کر اس ناکام اور فرسودہ نظام میں جانے کو فوقیت دیتا ہے۔"
    لیکن یہاں آپ بھی پاکستان کے نظام اور معاشرے کو اسلامی نظام اور معاشرہ کہ رہے ہیں۔ پاکستان کے نظام اور معاشرے کو تو میں نے بھی غلط لکھا ہے جس کی وجہ سے برین ڈرین ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کا نظام اور معاشرے اسلام کے نظریے پر مبنی ہو تو brain ڈرین نہ ہو۔

    آپ نے فرمایا: "یہ بات انتہائی دلچسپ ہے کہ شخصی آزادی کا نام لیتے ہی ہمارے معاشرے میں عریانی، فحاشی اور خاندانی نطام ہی فورا ذہن میں کیوں آتا ہے؟ کیا بغیر کسی قدغن کے سوچنے اور اظہارِ خیال کرنے کی آزادی دینا شخصی آزادی نہیں ہے؟ یہاں جنسی آزادی کی تو بات ہو ہی نہیں رہی بلکہ ایسے معاشرے کی بات ہو رہی ہے جہاں بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب کے آپ کو سوچنے اور اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔ جنسی آزادی اور خاندانی نظام پہ ایک الگ کالم لکھیے وہاں اس پہ بحث کر لیتے ہیں۔"
    اس سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ آپ مغرب کے شخصی آزادی کے تصور کو سمجھے ہی نہیں۔ اس میں وہ سب شامل ہے جن کا میں نے ذکر کیا۔ آپ کا اُن کو خارج کرنا اپنی اختراع ہے۔ صرف سائنس میں کھل کر سوچنا شخصی آزادی نہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,987
    یعنی اسلامی ریاست میں سائنس پر تنقید جائز ہے لیکن اسلام پر تنقید جائز نہیں۔ ایسے دوہرے معیار کیساتھ کونسی اسلامی ریاست کامیاب ہوگی!؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,987
    مغرب میں سائنسی ترقی اعلی تہذیبی اقدار سے ہی ممکن ہوئی ہے۔
     
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  13. محمد عبدالرؤوف

    محمد عبدالرؤوف لائبریرین

    مراسلے:
    4,438
    :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
    یہ لطیفوں کی لڑی تو نہیں ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 2
  14. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    اسے قبضہ نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ قبضہ جابرانہ ہوتا ہے۔ اور اس میں ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جو مکہ فتح کیا تھا کیا وہ قبضہ تھا؟ اور خلفائے راشدین نے جن جن علاقوں کو اسلامی ریاست میں شامل کیا، کیا وہ قبضے تھے؟ اگر قبضے نہیں تھے تووہ جو بھی تھا وہی اسلامی ریاست کرتی ہے۔ اور اسے علاقوں کو اسلام کے لیے کھولنا کہتے ہیں تا کہ انہیں اسلام کے عادلانہ نظام کے تحت لایا جائے اورلوگوں کو مغرب کے استحصال پر مبنی نظام سے چھٹکارا دلایا جائے بیشک لوگ غیر مسلم ہی کیوں نہ رہیں ۔ عربی میں لفظ "فتح کا اردو ترجمہ "کھولنا" ہے نہ کہ قبضہ کرنا۔

    اوراس سے قطع نظر کہ عالمی قوانین جو بھی ہوں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون قیامت تک کے لیے ہے اور اس میں ردو بدل نہیں۔جبکہ عالمی قوانین آج کچھ اور ہیں، کل کچھ اور تھے اور آنے والے کل میں کچھ اور ہو سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کے قانون پر کسی اور قانون کی بالادستی کو قبول کریں چاہے وہ عالمی قانون ہی کیوں نہ ہو۔ عالمی قانون کو اس وقت تک قبول کیا جائے گا جب تک کہ وہ اللہ کے قانون کے خلاف نہ ہو۔ اختلاف کی صورت میں اللہ کے قانون کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو گی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    10,297
    موڈ:
    Cheerful
    یعنی آپ کا مضمون دو الگ نکات پر مشتمل ہے:
    برین ڈرین روکا جائے۔
    اسلامی نظام حکومت نافذ کیا جائے۔
    برین ڈرین تو محض ایک قانون متعارف کروا کر روکا جا سکتا ہے۔یاد پڑتا ہے کہ نوے کی دہائی تک پاکستان میں پاسپورٹ کے حصول کے لئے جمع کرائے گئے فارم میں اقرار کرنا پڑتا تھا کہ آپ ڈاکٹر یا انجینیئر نہیں۔ آپ کا آدھا مسئلہ تو یہیں حل ہوا۔ ماضی میں سویت یونین اور حال میں شمالی کوریا کے قوانین مزید مثالیں ہیں۔
    اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کو بھی ظاہر ہے کسی شے کی حاجت نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  16. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    اسلامی نظام میں کوئی شخص بیشک اسلام کو باطل دین سمجھ کر غیر مسلم رہے۔اور اپنے عقیدے کے حق میں اور اسلام کے عقیدے کے رد میں اپنے چرچ، گرجا وغیرہ میں تبلیغ کرے۔ لیکن اسلام کے عقائد کے رد کی کھلے عام معاشرے میں تبلیغ و اشاعت کی اسلامی ریاست میں اجازت نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مطابق درست دین صرف اسلام ہے۔ معاشرے میں اس کے خلاف کھلے عام تبلیغ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" ( اچھائی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا) کے عین منافی ہے۔ اس لیے جائز نہیں۔ جس نے یہ کرنا ہے یسلامی ریاست سے باہر جا کر کرے۔ کیا اسلامی ریاست ہی ملی ہے یہ کرنے کو۔

    اور یہ اللہ تعالیٰ کا معیار ہے۔ اور اس کی مرضی جو معیار متعین کرے۔ مسلمان اس کو درست طریقے سے جاننے کا اور اس پر عمل کرنے کا پابندہے۔

    بحرحال یہ بحث موضوع سے بالکل ہٹ کر ہے۔ ہمارے یہاں برین ڈرین کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر بلاگ میں ہوا۔ یعنی بہتر مواقع کا موجود نہ ہونا۔اور اس کی ذمہ دار ریاست ہے نہ کہ معاشرہ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. غزالی_فاروق

    غزالی_فاروق محفلین

    مراسلے:
    44
    اگر ایسا ہے تو مغرب نے پست ترین تہذیبی اقدار اختیار کر کے سائنس میں کیسے ترقی حاصل کر لی ہے؟

    اسی لیے میں نے کہا کہ تہذیب اور سائنس الگ الگ ہیں۔ تہذیب نظریات پر کھڑی ہوتی ہے جس کے ضمن میں لبرلزم اور اسلام کے نظریات آتے ہیں۔ جبکہ سائنس کا ان نظریات سے کویہ تعلق نہیں۔ یہ دونوں نظاموں کے ساتھ چل سکتی ہے۔

    لہٰذا ایک مسلمانوں کو سائنس میں ترقی حاصل کرنے کے لیے اپنے دین سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔
     
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,987
    دفاعی جنگوں میں رقبے بڑھتے نہیں ہیں جبکہ اسلامی جنگوں میں جو فتوحات ہوئی ان سے اسلامی ریاست کے رقبے بڑھ گئے۔ خود فیصلہ کر لیں وہ کیسی جنگیں تھی۔
     
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,987
    یہ اصول مذہبی آزادی و آزادی اظہار کے خلاف ہے۔
     
  20. محمد عبدالرؤوف

    محمد عبدالرؤوف لائبریرین

    مراسلے:
    4,438
    آپ کسی اور کو اپنی بات کہلوانے کے لیے مجبور کیوں کر رہے ہیں، اپنی بات مکمل کیجیے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر