ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
تلوار کی تعریف بیاں ہو نہیں سکتی
تیز، اتنی کبھی تابِ زباں ہو نہیں سکتی
یہ برق کی مانند رواں ہو نہیں سکتی
ارزاں کبھی یہ جنسِ گراں ہو نہیں سکتی
محصورِ بیاں شعلہ بےباک کہاں ہے
مثل اس کا زمانے میں تہ خاک کہاں ہے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اب خود و زرہ کام میں آتے تھے نہ ڈھالیں
زچ ہو گئے تھے بند تھیں سب زیست کی چالیں
ہاتھوں کو یہ مہلت نہ تھی تلوار نکالیں
گردن کو بچائیں کہ سر و پا سنبھالیں
ایسی تو روانی کبھی دیکھی ہی نہیں تھی
اک نُور کی تھی دھار کہ رُکتی ہی نہیں تھی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
جب فوجِ ستم کو نہ رہا جنگ کا یارا
کرنے لگا ہر ایک لڑائی سے کنارا
بُزدل کوئی اُن میں سے بصد یاس پکارا
اے سبطِ نبی رحم کرو اب تو خدارا
یہ شعلہ شمشیر رہائی نہیں دیتا
آنکھوں میں ہے اندھیرا دکھائی نہیں دیتا
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
یہ سن کے شہِ دیں نے وہیں روک لی شمشیر
گھوڑے سے اُتر آئے بیک نعرہ تکبیر
کام آ گئی اشرارِ ستم پیشہ کی تدبیر
اک مرتبہ سب ٹوٹ پڑے جانبِ شبیر
یوں کام دَغا سے لیا اربابِ دغا نے
سب مل کے چلے شمع امامت کو بُجھانے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
تھا بھوکا پیاسا جو کئی دن کا مسافر
گھر بھر کو لُٹا بیٹھا جو اسلام کی خاطر
خدمت میں محمد کی اُسے ہونا تھا حاضر
شبیر نے مقتل میں کیا سجدہ آخر
سر، بارگہ حق میں جھکائے رہے شبیر
اللہ سے لَو اپنی لگائے رہے شبیر
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
وہ لوگ ابھی رحم کی جو مانگتے تھے بھیک
تھا جن کی نگاہوں میں زمانہ ابھی تاریک
سجدے میں گئے شہ تو ہوئی ظلم کو تحریک
ہاں رعبِ امامت سے نہ آیا کوئی نزدیک
بس دور کے حملوں سے ہی یہ حال کیا تھا
تیروں سے جسدِ شاہ کا ۔۔۔کیا تھا
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
تیروں کے کہیں زخم تھے ، تن میں کہیں پیکاں
پیاسے کا لہو خاک پہ مقتل کی تھا ارزاں
اک حشر سا برپا تھا سر عالم امکاں
احمد کا نواسا تھا جگر خستہ و حیراں
زخمی تھا مگر رُوح میں ایماں کی رو تھی
اس بجھتی ہوئی شمع میں اسلام کی ضو تھی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ہیبت ابھی طاری تھی جگر بند علی کی
پاس آئے یہ ہمت نہیں ہوتی تھی کسی کی
دشمن تھے مگر پھر بھی یہ خواہش تھی سبھی کی
ہم پر نہ پڑے بوند کوئی خون نبی کی
جب شمر نے یہ حوصلہ دیکھا نہ کسی کا
سر کاٹ لیا بڑھ کے حسین ابن علی کا
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
سر کاٹ کے اک بار پکارا وہ ستمگر
یہ کام بھی اب ختم ہوا دیکھ لے لشکر
ہاں لُوٹ لو خیموں کو غریبوں کے سراسر
اب کوئی مزاحم نہیں کس بات کا ہے ڈر
اس قافلے کے سارے نشانات مٹا دو
جب لُوٹ لو خیموں کو تو پھر آگ لگا دو
 
آخری تدوین:

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اس ظلم کو دیکھا کئے سب اہلِ حرم ہائے
احمد کے گھرانے پہ ہوا کیسا ستم ہائے
روشن نہ رہا کوئی چراغ شب غم ہائے
لفظوں کی جگہ خُوں اُگلتا ہے قلم ہائے
اس طرح سر نوک سناں تھا سر شبیر
سورج کی طرح جلوہ فشاں تھا سر شبیر
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
احوال مصائب کا صبا لکھ نہیں سکتا
گھر کیسے محمد کا لُٹا لکھ نہیں سکتا
جو دل پہ گزرتی ہے ذرا لکھ نہیں سکتا
غم سے نہیں اب ہوش بجا لکھ نہیں سکتا
یہ کاوشِ یک ہفتہ جو دے رنگ تو اچھا
روشن رہے تحریر کا آہنگ تو اچھا
 
Top