مدت سے لاپتہ ہے ، اب تو خدا جانے

مخلص انسان

محفلین
مدت سے لاپتہ ہے ، اب تو خدا جانے کیا ہوا
پھرتا تھا ایک شخص جو دیوانہ یہاں وہاں

۔ ۔ ۔
یہ جو لا پتا ہیں ان کا کسی کو پتا ہے ؟
نہیں ۔ ۔ ۔
جو چند ہی لمحوں میں چلتے پھرتے وجود سے ایک " لاپتا شخص " کی فائل میں تبدیل ہوگیا ہے ، کون ہے جو اس کا پتا بتائے گا ۔ ۔ ۔ کوئی نہیں ۔ ۔ ۔
سال کا آغاز ہوتے ہی لبرل افکار رکھنے والے 4 سوشل ورکرز ، انسانی حقوق کے علمبردار راہ چلتے غائب کردیے گئے یا اپنے گھروں سے اغوا کرلئے گئے ، اغوا کار کون تھے کہاں سے آئے اور کہاں گئے اس بات کا جواب نہ تو قانون کے رکھوالوں کے پاس ہے اور نہ ہی آئین سازوں کے پاس ۔ ۔ ۔ وقاص احمد گوریا اور عاصم سعید کو نامعلوم اسلحہ بردار افراد نے 4 جنوری کو اغوا کیا جبکہ جامعہ فاطمہ جناح کے پروفیسر ، مصنف ، سماجی رہنما سلمان حیدر اور نصیر احمد کو بالترتیب 5 اور 6 جنوری کو اغوا کیا گیا ۔ سلمان حیدر کا شمار " جبری طور پر لاپتا " کئے جانے والے افراد کے حق میں آواز اٹھانے والوں میں سرفہرست تھا ۔ سلمان حیدر نے وفاقی دارلحکومت میں بلوچستان اور کراچی میں جبری طور پر لاپتا کئے جانے والے افراد کے حق میں بھر پور آواز اٹھائی اور لاہور سے بیٹھ کر اسلام آباد میں چلائی جانے والی حکومت کے ایوانوں کو لرزہ خیز کیا ۔ فقط یہی نہیں راولپنڈی میں موجود " بڑے دفاتر " میں بھی سلمان حیدر کی آواز سنائی دی گئی ۔ سلمان حیدر کا مطالبہ تھا کہ بلوچستان اور کراچی میں ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے افراد کا ریفرنس داخل عدالت کیا جائے اور ان کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے جبکہ وہ افراد کو لاپتا ہیں اگر مجرم ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔ جہاں سلمان حیدر نے ملک میں جاری فرقہ واریت ، تکفیریت اور دہشتگردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی وہیں اپنے قلم کو بھی اپنے مقصد کیلئے جنبش دی ۔ سال 2014ء میں منظر عام پر آنے والی نظم " میں بھی کافر تو بھی کافر" کے خالق بھی سلمان حیدر ہی ہیں ۔ سلمان حیدر کو جمعے کی شام اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ سے اغوا کیا گیا ہے جس کے بعد سے اب تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ ان کی برآمدگی کیلئے کوششیں کریگی ۔ سلمان حیدر کی جبری گمشدگی کے سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہے جو ان کی برآمدگی کیلئے ہر سطح پر احتجاج کر رہی ہے ۔ بدقسمتی سے ارض وطن کا شمار صحافی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کیلئے انتہائی خطرناک ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کا قتل عام اور ان پر حملے " انتہائی عام " سی بات ہے ۔ اسی سبب سے بڑی تعداد میں صحافی اور سماجی کارکنان اپنی جان بچا کر پاکستان چھوڑ کر اہل خانہ سمیت بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال معروف تجزیہ نگار اور قلم کار رضا رومی ہیں جو ایک قاتلانہ حملے میں بچ جانے کے بعد پاکستان سے جا چکے ہیں ۔ دوسری جانب یہ سماجی کارکنان ہیں جو سماجی اور ریاستی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے اٹھاتے خود ہی مظلومیت کی تصویر بن گئے ہیں ۔ لاپتا ہونے والے سلمان حیدر ، نصیر رضا ، وقاص احمد اور عاصم سعید کی گمشدگی کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بغلیں بجاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا افراد کی گشمدگی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں اور وہ اس بارے میں لاعلم ہیں ۔ نصیر رضا جو پولیو کے مریض بھی ہیں ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے انہیں ان کی دکان سے گرفتار کیا جبکہ سلمان حیدر کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی کو جمعے کی شام سلمان کے موبائل نمبر سے ایک میسج ریسیو ہوا جس میں لکھا تھا کہ " میری گاڑی اسلام آباد ایکسپریس وے پر کھڑی ہے ۔ "
سلمان حیدر کی گاڑی تو اہل خانہ کی درخواست پر پولیس نے برآمد کرلی ہے مگر ان کا تاحال معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں اسی طرح سے لاہور سے لاپتا ہونے والے پاکستانی نژاد نیدر لینڈ کے شہری وقاص احمد کو ان کے ساتھی عاصم سعید کے 4 گھنٹے بعد اغوا کیا گیا ۔ چاروں لاپتا افراد کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب سماجی کارکنان کی گمشدگی سے سول سوسائٹی اور درد دل رکھنے والے پاکستانیوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ دوسری جانب سلمان حیدر کے اہل خانہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق لوئی بھیڑ پولیس تھانے میں دفعہ 365 کے تحت گمشدگی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہےکہ سلمان حیدر کے فیس بک اکاونٹ اور موبائل ریکارڈ کی تحقیقات کی جار ہی ہیں ۔
پاکستان میں تیزی کے ساتھ لاپتا ہوتے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر یہ واضح ہوچکا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کو شے وجود نہیں رکھتی جبکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق طرز حکمرانی جاری ہے ۔ سپریم کورٹ میں لاپتا افراد کی تلاش سے متعلق کیس میں کسی قسم کی پیش رفت بھی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں جمع کردہ 889 افراد کی فہرست سال 2016 میں 728 افراد کا اضافہ ہونے کے بعد تعداد 1627 تک جا پہنچی ہے جو گزشتہ 6 سالوں میں سب سے بڑی تعداد ہے ۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق انہیں گزشتہ 6 سال میں لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے 3740 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 2,521 کی سماعت جاری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستان ہے جہاں ادارے جمہوری ہیں ، طرز حکمرانی جمہوری ہے مگر یہاں اپنے حق کیلئے اور کسی مظلوم کی حمایت میں آواز اٹھانے والے کو کب تک " لاپتا " کر کے ٹھکانے لگائے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ کیا یہ چار لاپتا افراد بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے ، شہباز تاثیر اور علی گیلانی کی طرح بازیاب کرائے جا سکیں گے یا پھر عوام ہونے کے ناطے ان کی بھی لاشیں بلوچستان کی کسی پہاڑی میں گڑی ہوئی ملیں گی ؟؟؟
( تحریر : عدیل عابدی )
 

جاسمن

مدیر
اے اللہ بچھڑنے والوں کو خیر خیریت کے ساتھ اپنے پیاروں سے ملا دے۔آمین!
یہ دکھ بہت بڑا دکھ ہے۔صحیح کہتے ہیں کہ مرنے والوں پہ صبر آجاتا ہے لیکن دنیا میں بچھڑنے والوں پہ صبر مشکل ترین ہے۔
یہ سوچ کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہوں گے؟
کسی پل چین نہیں لینے دیتی۔یہ بہت بڑی آزمائش ہے۔
اے اللہ ہم پہ وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم اٹھا نہ سکیں۔آمین!
 
Top