محمد کاظم ؛ علم و ادب سے وابستہ معتبر ہستیوں نے جس کے تبحر علمی کی گواہی دی۔محمود الحسن

ام اویس نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 3, 2019

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,758
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کاظم صاحب جیسے عالم آدمی سے تعلق کو ہمیشہ اپنی کسی نیکی کا انعام جانا۔میرا ان سے ملنااس زمانے میں رہا جب ان کی زندگی کا سورج اتارکی جانب گامزن تھا۔ساڑھے چاربرسوں میں ان سے ملاقات زیادہ تران کے گھرمیں رہی لیکن کبھی کبھار وہ لاہور میں کتابوں کی مشہور دکان ’’ریڈنگز‘‘آتے تو بھی ان سے ملنا ہو جاتا۔
    ان سے تعارف اس انٹرویو کے ذریعے سے ہوا جو میں نے ایکسپریس سنڈے میگزین کے لیے کیا۔اس دورکے ہمارے میگزین انچارج عامرہاشم خاکوانی اورمیرا، دونوں ہی کا خیال تھا کہ ایک تو صاحبان علم کو انٹرویو کیا جائے اوران میں سے بھی ترجیحاًوہ حضرات ہمارا ہدف ہونا چاہییں جوگوشہ نشین ہیں۔ ایک بار ایسے افرادکی فہرست بنائی تواس میں کاظم صاحب کا نام سرفہرست رہا، جن کے بارے میںسناتھا کہ کم آمیزہیں، اورانٹرویونہیں دیتے۔ خیر!جی کڑا کرکے ایک دن کاظم صاحب کو فون ملایا اورمدعا بیان کیا۔
    ایساکورا جواب دیاکہ دوبارہ انٹرویوکی بات کرنے کی کوئی جرات نہ کرے۔تھوڑے دن بعد ہم نے مسعود اشعرصاحب کا انٹرویو کیا جو انھیں اتفاق سے پسند آگیا ۔ہم نے ان کے خود پرقائم اعتماد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، عرض کی کہ کاظم صاحب کا انٹرویوکرنے کی بڑی خواہش ہے ،پر وہ مانتے نہیں۔
    مسعود اشعر صاحب نے بڑے یقین سے کہا کہ بھئی!وہ مانتے کیوں نہیں،ہم ان سے بات کریں گے، ضرور دیں گے وہ انٹرویو۔اس وقت تو ہم نے سمجھا کہ شاید مسعود اشعرصاحب اپنی دوستی پرکچھ زیادہ ہی بھروسہ کرکے یہ بات کررہے ہیں مگر انھوں نے کاظم صاحب سے بات کی اورنہ جانے ان سے کیا کہاکہ وہ انٹرویوپرآمادہ ہوگئے۔ انٹرویوشائع ہوا توکاظم صاحب کے خیالات لوگوں کو بہت پسند آئے، اور سچی بات ہے مجھے پھرکبھی کاظم صاحب کے انٹرویوجتنا فیڈ بیک نہ ملا۔کاظم صاحب بھی اس کاوش سے خوش ہوئے۔

    [​IMG]

    ایک دن ازراہ تفنن کہنے لگے کہ آپ نے مجھے مشہورکردیا اورمیری سوسائٹی کے لوگوں کو اب معلوم ہوا ہے کہ میں کوئی پڑھا لکھا آدمی ہوں۔چوکھٹوں کی صورت میں اپنے خیالات کی پیشکش انھیں بے حد پسند آئی۔

    میرے ساتھ بات چیت میں کاظم صاحب نے جماعت اسلامی چھوڑنے کی وجوہات پرجس دن روشنی ڈالی،اس سے اگلے روزفون پر مجھ سے کہنے لگے کہ جماعت سے متعلق ان کی باتیں شائع نہ کی جائیںتو بہترہے ، کہیں جماعت والے برا نہ مان جائیں۔میں نے ان سے کہاکہ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے مسئلہ پیدا ہو اوراب توجماعت اسلامی کے کردارپراس سے کہیں زیادہ تند لہجے میں لکھا اور بولا جاتا ہے اوریوں بھی آپ نے ذاتی حوالے سے بات کی ہے۔انھوں نے میری بات مان لی۔

    کاظم صاحب نے ایک باربتایا کہ ابوالخیرمودودی کے بارے میں ان کی یادداشتوں کو ممتازادیب شمس الرحمٰن فاروقی نے جماعت اسلامی (انڈیا) کی ناراضی کے ڈر سے اپنے رسالے ’’شب خون‘‘میں چھاپنے سے معذرت کرلی تھی۔یہ تحریربعد میں’’سمبل ‘‘ میںعلی محمد فرشی نے جوں کی توں چھاپ دی۔کاظم صاحب کے فکری سفرکا آغازمولانا مودودی کی تعلیمات کے زیراثرہوا۔’’پردہ ‘‘سمیت مولانا مودودی کی چھ کتابوںکو انھوں نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا۔بعد ازاں جماعت اسلامی اوراس کے بانی سے جن دووجوہات کی بنیاد پروہ دورہوگئے، ان کے بارے میں انھوں نے انٹرویو میں بتایا:

    ’’مولانا امین احسن اصلاحی کے جماعت سے الگ ہونے پرجماعت کی علمی فضا متاثر ہوئی۔جماعت میں وہ لوگ زیادہ نمایاں ہوگئے جن کا ذہن علمی سرگرمیوں کے بجائے سیاست میں زیادہ چلتاتھاجس سے جماعت کا مزاج اسلامی اوراصلاحی کے بجائے سیاسی ہوتا گیا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ 1964ء میں میرے آٹھ سالہ بیٹے کا انتقال ہواجس کی موت نے مجھے توڑکررکھ دیا۔

    اس صدمے پران لوگوں نے میری دلجوئی کی جن سے نظریاتی اعتبارسے میرا اختلاف تھا لیکن اگرکسی نے میرے ساتھ تعزیت نہ کی اور مشکل کی اس گھڑی میں میری خبرنہ لی تووہ جماعت اسلامی تھی۔مولانا مودودی نے اظہار افسوس کے لیے نہ مجھے خط لکھانہ ہی کسی ذریعے سے پیغام دیااور نہ مجھ سے مل کرافسوس کیاحالانکہ میں مولانا مودودی کی بیشترتحریروں کا اردو سے عربی زبان میں ترجمہ کرچکا تھااور ان سے خاصے عرصہ سے میرا تعلق تھا۔اس زمانے میں مغربی فلسفہ کا بھی خوب مطالعہ کیاتو کچھ اس کا بھی اثرتھاکہ میں جماعت اسلامی کے اثرسے نکل گیا۔

    [​IMG]

    مولانا مودودی کوجب میری ناراضی کی اطلاع ملی توانھوں نے مجھے کھانے پربلایااورکہا کہ ’میں اس لیے آپ سے تعزیت کے لیے نہ آسکا کہ آپ سرکاری ملازم ہیں، میرے ملنے سے کہیں آپ حکومت کی لسٹ میں نہ آجائیں، کراچی میں میرا برادرنسبتی بھی سرکاری ملازم ہے،میں اس سے ملنے سے بھی مجتنب رہتا ہوں۔‘ اس بات نے مجھے مطمئن نہ کیا اور مجھے یہ عذرلنگ ہی لگا۔اس کے بعد وہ آمدم برسرمطلب پرآگئے اورکہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ تفہیم القران کا عربی میں ترجمہ کریں۔
    وہ مجھ سے ترجمہ اس لیے کروانا چاہتے تھے کہ عربوں نے ترجمے کے لیے میرانام تجویزکیا لیکن اب میں یہ کام کرنا نہ چاہتا تھا۔مولانا مودودی مصررہے اورمیں ٹالتا رہا۔میں نے ان کو بتایاکہ جدید عربی ادب پڑھنے سے میرا اسلوب اب پہلے والا نہیں رہا۔اس پرمولانا مودودی کہنے لگے، آپ یہ بات مجھ سے نہ کہیں، میں جانتا ہوں آپ کسی بھی زمانے کی عربی لکھ سکتے ہیں۔
    میں نے سرکاری مصروفیات کا بھی عذرکیا لیکن وہ مانے نہیں،اور اپنے ساتھیوں سے کہاکہ قاہرہ سے کاظم کو اہم تفاسیرمنگواکردیں لیکن وہ تفاسیرمجھ تک نہ پہنچیں اورنہ ہی اس کے بعد انھوں نے مجھ سے ترجمے کے بارے میں کہا۔وہ بڑے ذہین آدمی تھے،انھوں نے اندازہ کرلیا تھاکہ میں اب یہ کام نہیں کروںگا کیونکہ جب پہلے مجھے مودودی صاحب کے کام کا ترجمہ کرنے کو کہا جاتا تو میرے چہرے پرچمک آجاتی۔اب وہ کہہ رہے تھے تومیں انکار کررہا تھا۔‘‘
    عجب بات ہے، کاظم صاحب اگرفکری سفرکے ابتدائی زمانے میں مولانا مودودی کی کتابوں کا ترجمہ کرتے رہے توزندگی کے آخری برسوں میں ان کے فکری مخالف ڈاکٹرفضل الرحمٰن کی تین کتابوں کو مسعود اشعرصاحب کی تحریک پرانھوں نے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا۔یہ کتابیں’’مشعل‘‘ نے ’’اسلام اور جدیدیت‘‘، ’’قران کے بنیادی موضوعات‘‘ اور’’اسلام‘‘ کے نام سے شائع کیں۔ کاظم صاحب کا عربی زبان سے ناتا دو اتفاقات کا مرہون منت رہا۔ان میں سے ایک انھیں وقتی طورپرعربی سے دورلے گیا تو دوسرے اتفاق نے اس زبان سے اٹوٹ تعلق کی بنیاد رکھ دی۔
    ان دو واقعات کے بارے میں انٹرویو میں تومختصراً بتایا لیکن’’ ایکسپریس‘‘ نے جب معروف شخصیات کی زندگی کے دو تین یادگارواقعات پر مشتمل سلسلہ ’’بھلا نہ سکے ‘‘شروع کیا تواس کے لیے میں نے کاظم صاحب کو زحمت دی توانھوں نے عربی سے اپنے شغف کی بنا پڑنے سے متعلق دوواقعات کوقدرے تفصیل سے بیان کیا۔
    محمد کاظم کے بقول: ’’انسان کی زندگی میں کوئی ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل کے رکھ دیتا ہے۔ایسا واقعہ مجھے اس وقت پیش آیاجب میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرکے نویں جماعت میں داخل ہوا۔ہمارا سکول واقع احمد پورشرقیہ میں آٹھویں جماعت کا امتحان ریاست بہاولپورکا ایک بورڈ لیتا تھا۔میں اس امتحان میں اونچے نمبر لے کرکامیاب ہوا تھااور اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔نویںجماعت میں اختیاری مضمون کے طورپرمیں نے عربی کا انتخاب کیا۔

    [​IMG]

    انھی دنوں میرے گھروالوں کو کسی وجہ سے بہاولپورجانا پڑا۔آٹھویں جماعت میں میری اعلیٰ کارکردگی کی اطلاع وہاں میرے بزرگوں کو پہلے ہی مل چکی تھی۔میرے اہل خانہ مجھے ایک ماموں سے ملانے کے لیے لے گئے جو بہاولپورکی عدالت میں جج کے عہدے پر فائز تھے۔ ماموں نے میری پیٹھ تھپکی اورمجھے شاباش دی۔ساتھ ہی انھوں نے مجھ سے پوچھا،اچھا تواب نویں جماعت میں کون سا مضمون لینے کا ارادہ ہے؟میں نے کہا عربی کا مضمون میں نے لے بھی لیا ہے۔ اس پروہ جلال میں آگئے اور سرائیکی میں اپنی گونج دارآوازمیں پکارے، ’’کیناں کیناں(بالکل نہیں، بالکل نہیں)تمھیں سائنس کا مضمون لینا ہوگا۔اب براہ مہربانی واپس جاکرعربی کے بجائے سائنس کا مضمون لو۔تمھیں آگے بھی سائنس ہی پڑھنی ہے۔‘‘
    میرے یہ ماموں بڑے دبدبے والے تھے۔انھوں نے جس طرح مجھے عربی کا مضمون لینے سے روکا مجھے یوں لگاجیسے میرے متعلق یہ حکم ان کی عدالت سے صادرہوا ہے، جس سے سرتابی کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔میں نے احمد پورشرقیہ واپس آکرمیٹرک میں سائنس کا مضمون لے لیا۔ میٹرک کرنے کے بعد ایف ایس سی کے امتحان میں میری فرسٹ ڈویژن نہ آسکی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انجینئرنگ میں داخلے کے لیے بہاولپور میں جو مقابلہ ہوامیںاس میں کامیاب نہ ہوسکا۔میرے بزرگ مجھے انجینئرنگ میں بھیجنے پربضد تھے۔
    انھوں نے مجھے علی گڑھ یونیورسٹی بھیج دیاتاکہ وہاں انجینئرنگ میں داخلے کے لیے امتحان میں شامل ہوکراپنی قسمت آزمائی کروں۔ اس امتحان میں خوش قسمتی سے میری کارکردگی اچھی رہی اوراس پرمیں انجینئرنگ کی کلاس میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگیا۔اب میں سوچتاہوں کہ اگرہم لوگ ان دنوں ماموں سے ملنے نہ جاتے اورمیٹرک میں اختیاری مضمون کے بارے میں ان کا حکم نہ سنتے تو یہی ہونا تھاکہ میں میٹرک اورایف اے اوراس کے بعدبی اے میں عربی پڑھتاچلا جاتا اورشاید بی اے یا ایم اے کے بعد کسی سکول کا ہیڈ ماسٹریاکسی کالج میں لیکچرارکے عہدے پرتعینات ہو جاتا۔ اس ایک واقعہ نے میری زندگی کا دھاراہی بدل دیااورمجھے ایک ٹیچر کے بجائے انجینئر بنا دیا۔
    ایک عجیب اتفاق ہے اور اتفاق سب عجیب ہی ہوتے ہیں۔ میرے عربی زبان سیکھنے کی ابتدا علی گڑھ سے ہوئی۔ یہ اتفاق یوں ہوا کہ ہمارے انجینئرنگ کورس کے دوسرے سیشن میں ہمیں موسم گرما کی صرف دس چھٹیاں دی گئیں۔ میں نے سوچا کہ اتنی محدود تعطیلات میں دور دراز کا سفر کرکے بہاولپور جانا اور واپس آنا، اس میں زحمت زیادہ ہوگی اور گھر والوں کے ساتھ چند ہی روز گزارنے میں کوئی زیادہ طمانیت حاصل نہیں ہوگی۔ چناں چہ میں نے ان چھٹیوں میں ہوسٹل ہی میں رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
    انہی دنوں میں نے کسی اخبار میں ندوۃ العماء لکھنؤ کے کسی ادارے کی طرف سے عربی سکھانے کے لیے ایک کتابچے کا اشتہار دیکھا۔ کتابچے کا نام تھا ’’عربی زبان کے دس سبق‘‘ میں فارغ تو تھا ہی، سوچا کہ لاؤ ان دنوں میں عربی کے یہ دس سبق ہی پڑھ لیتے ہیں۔ کتابچہ میں نے منگوا لیا، اور اس کے ہاتھ میں آتے ہی اسے تن دہی سے پڑھنا شروع کردیا۔ میں نے دو دو سبق روزانہ پڑھ کے اور ان کی مشقیں حل کرکے اسے پانچ ہی روز میں ختم کردیا۔
    یہ رسالہ ختم کرکے میں نے اپنے اندر ایک عجیب چیز محسوس کی۔ میں نے محسوس کیا کہ عربی زبان میرے لیے کسی طرح بھی اجنبی نہیں ہے۔ اس کے جراثیم میرے اندر کہیں موجود ہیں۔ چناں چہ اسے پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے جیسے میں اپنی مقامی زبان میں سے کوئی زبان پڑھ رہا ہوں۔ اس رسالہ کی پشت پر چند دوسری کتابوں کا اشتہار تھا۔ قرآن مجید کی پہلی کتاب، قرآن مجید کی دوسری کتاب اور تسہیل العربیہ وغیرہ۔ میں نے یہ کتابیں بھی منگوالیں اور انہیں پڑھنا شروع کردیا۔
    یہ تین چار کتابیں پڑھنے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں میرے اندر اتنی استعداد پیدا ہوگئی کہ میں یونیورسٹی لائبریری میں جاکر خلیجی ریاستوں کا ایک رسالہ ’’العرب‘‘ پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں اسے پوری طرح سمجھ تو نہیں پاتا تھا، لیکن اس میں سے بعض خبریں اور فیچر میں عربی اردو لغت کی مدد سے پڑھ کر سمجھ لیتا تھا، اور خوش ہوتا تھا کہ میں ایک عربی رسالہ پڑھنے کے قابل ہوگیا ہوں۔ انہی دنوں مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک سلسلۂ کتب ’’قصص النبین الاطفال‘‘ (بچوں کے لیے انبیاء کے قصے) بہت ہی آسان زبان میں لکھا ہوا میرے ہاتھ لگا۔ میں نے یہ سلسلہ بھی بڑے شوق اور انہماک سے پڑھ ڈالا۔
    اب عربی زبان میرے دل میں گھر کرگئی تھی اور میں اسے کسی حال میں نہ چھوڑ سکا۔ انجینئرنگ کے آخری امتحان کے دنوں میں بھی میرا دستور العمل یہ رہا کہ جب میں ایک پرچہ دے کر ہوسٹل آتا، تو سب سے پہلے ایک دو گھنٹے عربی پڑھتا اور اس کے بعد اگلے دن کے پرچے کی تیاری شروع کرتا۔ ایک دن میرے روم میٹ نے حیران ہوکر پوچھا کہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کے بارے میں آپ کا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا جب تک واپس آکر میں کچھ دیر کے لیے عربی نہ پڑھوں اگلے مطالعے کے لیے میرا ذہن ہی نہیں کھلتا۔
    وہ میری عجیب سی منطق سن کر حیران ہوا اور خاموش ہوگیا۔ میں اگر چھٹیوں میں علی گڑھ یونیورسٹی سے گھر چلا جاتا تو نہ تو عربی سیکھنے سے متعلق اشتہار میری نظر سے گزرتا اور نہ ہی شاید عربی زبان میں میری دلچسپی قائم ہوتی۔‘‘
    کاظم صاحب کے تبصروں پرمشتمل کتاب’’کل کی بات‘‘کی اشاعت میں میرابھی کردار رہا۔ان سے ایک دن پوچھا ’’آپ کو فنون میں چھپے تبصروں کو کتابی صورت میں چھپوانے کا خیال نہیں آیا؟‘‘ کہنے لگے ’’ پبلشرسے ایک بار کہا تواس نے جواب دیا، کاظم صاحب! تبصرے کون پڑھتا ہے۔‘‘تقاضے پراپنے تبصرے پڑھنے کے واسطے دیے جو میری وساطت سے محمد سلیم الرحمن صاحب کی نظرسے گزرے توانھیں پسند آئے اورانھوں نے القا پبلیکشنزسے انھیں کتابی صورت میں شائع کرنے کی سفارش کردی اور’’کل کی بات‘‘سامنے آگئی۔

    [​IMG]

    احمد ندیم قاسمی سے ان کو گہرا تعلق خاطرتھا۔وہ اگراردو کے صاحب طرز ادیب بنے تواس میں احمد ندیم قاسمی اور’’ فنون ‘‘کا بنیادی کردارتھا۔اردو میں ان کا جو کام کتابی صورت میں سامنے آیا ہے، اس میں سے بیش تر ’’فنون‘‘ میں چھپا۔ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں وہ خاصے حساس تھے، فتح محمد ملک نے جب ان کے، اپنے نام وہ خطوط شائع کردیے جن میں نجی معاملات کا ذکرتھا اور کچھ ناگفتنی باتیں بھی توکاظم صاحب بڑے مضطرب اور خفا نظرآئے۔

    محمد خالد اختر کے ساتھ ان کا گہرا یارانہ رہا، انھی کے زیراثر انگریزی ادب کی طرف راغب ہوئے۔ محمد خالد اختر میرے بھی پسندیدہ ادیب ہیں، اس لیے اکثرگفتگو میں ان کا ذکرآتا۔کاظم صاحب کی لاہور میںکارچوری ہوئی اوراس کی تلاش کے لیے پشاور کے کئی چکرانھوں نے لگائے جو بے سود رہے۔ اس کار میں محمد خالد اخترکی ایک کتاب کا مسودہ بھی تھا جس کی نقل بھی نہیں تھی۔کاظم صاحب بتایا کرتے کہ آفرین ہے ان کے دوست پر جس نے کبھی اشارتاً بھی مسودے کی گمشدگی پرتاسف ظاہر نہیں کیااورہمیشہ گاڑی کے بارے میں پوچھا کیا۔

    ایک باربتایا کہ خالد اخترنے یادداشتیں لکھنا شروع کیںاور ابھی والد کے بارے میں ہی اپنے خاص اسلوب میں لکھا تھا کہ وہ تحریر ان کی بہنوں کے ہاتھ لگ گئی توانھوں نے خفاہوکر ان سے کہا کہ تم کو پڑھا لکھا کراس دن کے لیے بڑا کیا تھا کہ باپ کی بے عزتی کرتے پھرو۔یہ بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ہمارے ہاں سچی آپ بیتی لکھنے کے ضمن میں معاشرتی دباؤلکھنے والے پر اس طریقے سے بھی رہتا ہے۔ ایک بار بڑے مزے سے سنایا کہ ایک بارمحمد خالد اختر نے جب انھیں بتایا کہ وہ نماز پڑھ کر آ رہے ہیںتوکاظم صاحب نے ہنستے ہوئے ان سے کہا کہ تم کو آج نماز کا خیال کیسے آگیا،تو معلوم ہوا بیماربیٹے کی صحت یابی کی دعا کے لیے نمازپڑھی ہے۔

    محمد خالد اخترکے نماز پڑھنے نے جس طرح کاظم صاحب کو حیران کیا ، اس طرح ’اجمل کمال، مولانا روم کے مزار پران کو روتا دیکھ کرحیران ہوئے اور پوچھا کہ یہ ایک دم سے آپ کو کیا ہوگیا؟تواس کا جواب جن کو ایک دم سے کچھ ہوجاتا ہے، ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوتا اور جن کو زندگی بھر ایک دم کچھ نہیں ہوتا ، ان کے لیے اس کیفیت کو سمجھناممکن نہیں ہوتا۔ایک بارمحمد خالد اختر کا بیٹا گاڑی کے ٹائی راڈ کھل جانے کے باعث حادثے سے بال بال بچا تو اس واقعہ کے بارے میں کاظم صاحب کو آگاہ کرتے ہوئے، انھوں نے لکھا ’’منصوراب میرے کہنے پرشکرانے کے نفل پڑھ رہا ہے (اور اپنے Paganism کے باوجود میں بھی پڑھوں گا)زندگی جس پرہم اتنابھرم رکھتے ہیں، بالکل غیر یقینی (Uncertain) ہے۔‘‘

    2011 ء میں ارادہ بنا کہ اردو میں تبصروں پرمشتمل رسالہ جاری کیا جائے۔ اس ضمن میں جن احباب سے تبصرے کے لیے درخواست کی ان میں سے اکثر نے لیت ولعل سے کام لیا ۔صرف چند ایک ہی ایسے نکلے جنھوں نے تبصرے کی ہامی بھری اور پھروعدہ نبھایابھی۔کاظم صاحب اس معاملے میں سب سے کھرے ثابت ہوئے۔میری تجویز کردہ کتاب پر بہت جلد تبصرہ کرکے میرے حوالے کردیا۔کمپوزنگ کے بعد پروف بھی خود دیکھے۔رسالہ بوجوہ نکل نہیں سکا، اس لیے ان کا نیرمسعود کے مضامین پرتبصرہ ایک امانت کی صورت میرے پاس محفوظ ہے۔

    نیرمسعود نے کتاب میں شامل ایک مضمون میں اپنے عزیز دوست اور ممتازمحقق رشید حسن خان کی تدوین کردہ مثنویات شوق پر ’’خواہش زدہ تحقیق‘‘کے عنوان سے مضمون میں کڑی تنقید کی ہے۔ نیرمسعود نے رشید حسن خان کی تحقیق میں جن کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ان کی کاظم صاحب کو ، ان جیسے پائے کے محقق سے توقع نہیں تھی، اس لیے وہ انھیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’جہاں تک میں نے اس معاملے پر غور کیاہے مجھے لگتاہے کہ یہ مضمون رشید حسن خان نے اپنی بڑھتی ہوئی عمرکے اس زمانے میں لکھاہے جب ان میں زیادہ تحقیق وتدقیق کی مشقت جھیلنے کی طاقت نہیں رہی ہوگی۔

    بڑھاپے کی کمزوری کیا ہوتی ہے، یہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ آج کل میں خود اس منزل سے گزر رہا ہوں، اور حالت یہ ہے کہ ایک دن جو پڑھتا ہوں دوسرے دن وہ لوح ذہن سے مٹ جاتا ہے اور لوگوں اور کتابوں کے نام تک یاد نہیں رہتے۔‘‘بڑھتی عمر، بیماری اورقریبی دوستوں کے رفتہ رفتہ گزرجانے سے کاظم صاحب کبھی کبھی کچھ ایسی باتیں بھی کرتے، جن سے مایوسی جھلکتی اورلگتا کہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی عمرکا سفینہ کنارے پرآلگاہے۔زندگی کے آخری برسوں میں قرآن مجید کے ترجمے میں منہمک رہے، جس کی اشاعت میں تاخیرنے انھیں خاصا بے چین کئے رکھا۔صد شکرکہ قرآن پاک کا ان کے قلم سے ہونے والاسلیس اور رواں ترجمہ ان کی زندگی میں ہی چھپ کرسامنے آگیا۔
    ایک باران کے ہاں جانا ہوا توبتایا کہ کچھ ہی دیرقبل وہ کسی طالب علم کے، جو ان پرمقالہ لکھ رہا ہے، بیس سوالوں کا جواب لکھ کرفارغ ہوئے ہیں۔ یہ جوابات دکھائے اور ان کی نقل مجھے بھی دی۔ان میں سے دوجوابات کے ذریعے سے ان کا ادبی نقطہ نظرواضح ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں’’میں کسی خاص نظریاتی تحریک سے متفق اورمتاثرنہیں ہوں۔
    ہرنظریاتی تحریک میں مجھے جو باتیں اچھی لگتی ہیں انھیں قبول کرلیتاہوں اوران کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہوں ٭میرانظریہ فن کچھ نہیں ہے،فن توفن ہوتاہے جس کی بنیادذوق جمال (aesthetic sense)ہے۔وہ کسی نظریے کے تحت تخلیق نہیں کیا جاتا۔فن کا مقصدپڑھنے والوں کو مسرت پہنچاناہوتا ہے۔‘‘
    ہمارے ہاں کے کئی صاحبان علم کے صاحب تصنیف ہونے میں ان کی تکمیلیت پسندی حائل رہی ہے۔بہت سوں نے اگر رسالوں میں کچھ چھپوالیا تو کتابی صورت میں لانے سے پہلے ان میں اضافے ہی کرتے چلے گئے اورتسلی پھربھی نہ ہوئی۔اس قبیل کے لوگوں میں ہری پورہزارہ میں مقیم محمد ارشاد بھی شامل ہیں، جن کی علمیت کا اندازہ’’ فنون ‘‘میں ان کے مضامین سے اہل علم کو بخوبی ہوگیا تھا۔وہ اگرکتاب کے مصنف بنے ہیں تو اس کا سارے کا سارا کریڈٹ محمد کاظم کے سر ہے، جنھوں نے محمد ارشاد کو رباعی سے متعلق کتاب چھپوانے کی تحریک دی، مسودہ پڑھا،اسے پسند کیا،اورپھر چھاپنے کے لیے پبلشر پرزوردیا۔محمدارشاد نے پیش لفظ کے آخری پیراگراف میں اپنی کتاب کی اشاعت میں کاظم صاحب کے کردار کا فراخدلانہ اعتراف کیا ہے۔
    کاظم صاحب نے زندگی بھرجو بھی کام کیا وہ فرسٹ ریٹ کے زمرے میں آتا ہے۔مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی چھ کتابوں کو انھوں نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا، جن کو عرب دنیا میں بھی پذیرائی ملی۔سید سلیمان ندوی،مسعود عالم ندوی، مولانا مودودی، ابو الخیر مودودی اور خورشید رضوی جیسے عالموں نے عربی میں ان کی دستگاہ کو مانا۔ ان کے اردو مضامین کی داداس زبان کے جید ادیبوں نے دی۔ ’’مغربی جرمنی میں ایک برس‘‘ کو اردو کے بہترین سفرناموں میں شمارکیا جا سکتا ہے۔
    تبصرے لکھے تو انگریزی کے دو ممتاز تبصرہ نگاروں محمد سلیم الرحمن اور خالد احمد نے تحسین کی۔ترجمے کا کام انھوں نے تین زبانوں میں انجام دیا۔عربی سے اردو ، اردو سے عربی اور انگریزی سے اردو، ان تینوںطرح کے ترجموں میں اس فن کے ماہرین سے داد وصول کی۔اردو مضامین کا باقاعدہ آغاز ’’فنون‘‘ میں الف لیلہ پرمضمون سے کیا۔ ابوالخیرمودودی نے اس مضمون کو پڑھ کرکاظم صاحب سے کہا’’آپ نے یہ مضمون بڑی محنت سے لکھا ہے۔‘‘ کاظم صاحب کے بقول’’بعد میں ہم نے جاناکہ ان کا اتنا کہہ دینا ہی ان کی بھرپورتحسین کا اندازتھا۔‘‘اس مضمون کی اشاعت سے قبل قاسمی صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ ’’فنون ‘‘کے معیارپرپورا اترتا ہے توجواب ملا کہ یہ’’ فنون ‘‘کے معیار سے کچھ اونچا ہی ہے۔
    عربی کے عالم خورشید رضوی کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا کہ مضمون میںادیب محقق پرغالب ہے یا محقق ادیب پر۔ ’’مضامین۔ عربی ادب میں مطالعے‘‘ کا انتساب ابو الخیر مودودی کے نام ہے۔کاظم صاحب کتاب پیش کرنے گئے تو وہ صاحب فراش تھے۔ پہلے صفحے پراپنا نام دیکھ کرکاظم صاحب سے کہنے لگے ’’آپ نے مجھے بھی مولانا بنادیا۔اس پرکاظم صاحب نے جواب دیا ’’میں نے کئی بارسوچاکہ آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھوں یانہ لکھوں پھرمجھے خیال آیاکہ یہ لقب کہیںتو صحیح استعمال ہونا چاہیے۔‘‘ کاظم صاحب کی مولانا مودودی سے قربت رہی لیکن بعد میں دوری ہوگئی مگر ان کے بڑے بھائی ابوالخیرمودودی سے ان کی وفات تک مراسم رہے۔
    کاظم صاحب کو اپنی کتابوں میں ’’عربی ادب میں مطالعے‘‘ سب سے بڑھ کرپسند تھی۔ کچھ بات اب اس کتاب کے بارے میںبحوالہ ڈاکٹرخورشید رضوی ،جنھوں نے’’ فنون‘‘ میں اس کتاب پرنہایت عمدہ مضمون لکھا جس سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں تاکہ کتاب کی اہمیت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوسکے۔’’عربی ادب کے منتشر موضوعات پراس نوعیت کی کتاب اردوتوخیرعربی میں بھی کم کم ملے گی۔ایساآدمی ان کے ہاں بھی عام نہیںجو امراؤالقیس اورمحمود درویش دونوں پریکساں اعتماد ، سہولت اوربصیرت کے ساتھ لکھے۔جدید سے رغبت رکھنے والوں کو عموماً قدیم سے کچھ سروکارنہیں اورقدیم کے چاہنے والے جدید کو مہمل جانتے ہیں۔ہاں طہ حسین کی بعض کتابوں خصوصاً فصول فی الادب والنقد اور حدیث الاربعا سے مجھے اس کتاب کی گہری مماثلت کا احساس ہوا۔
    کیونکہ یہاں بھی نقطہ نظرکا وہی اچھوتاپن، اسلوب کی وہی سلاست،استدلال کی وہی براقی ودل نشینی، نظرکی وہی وسعت اورموضوعات کاوہی تنوع دکھائی دیا جو طہ حسین کا خاصہ ہے۔‘‘اس تبصرے سے کاظم صاحب بہت خوش ہوئے ، جس کا اندازہ ان کے اس خط سے ہوتا ہے، جوتبصرے کی اشاعت کے بعد خورشید رضوی کو انھوں نے لکھا’’فنون کے تازہ شمارے میں اپنی کتاب ’’مضامین‘‘پرآپ کا مقالہ پڑھا اور بے حد شرمندہ اور embarrassed ہوا۔آپ نے اس کتاب کے مندرجات کو جس توجہ اورعنایت سے پڑھا ہے، اورپھران میں سے جو لطیف اور باریک نکتے برآمد کئے ہیں، وہ دلیل ہے، اس محبت کی جوآپ کو نہ صرف عربی زبان وادب سے ہے،بلکہ اس ناچیزسے بھی ہے۔
    آپ کا یہ مضمون پڑھ کرمجھے یوں لگاجیسے مجھے اس سے زیادہ داد ملی ہے جس کا میں مستحق تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل جبران کو بطور ادیب خورشید رضوی زیادہ گردانتے ہیں اور نہ ہی کاظم صاحب ان کو اہمیت دیتے۔ خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ خلیل جبران کوشش کے باوجود ان سے توپڑھا نہیں گیا۔جبران کے تخلیق کردہ ادب کے بارے میں اس کے ایک دوست نے ایک باررائے دی تھی کہ اس میں ایک بدمزہ اوررقت آمیزجذباتیت کے اور کچھ نہیں۔یہ حوالہ کاظم صاحب نے اپنے مضمون میں نقل کیااور اس کے بعدان الفاظ پرصاد کرکے بات ختم کردی۔
    کاظم صاحب کومطالعے اورپھراس میں اوروں کو شریک کرنے کا بہت خیال رہتا جس کی ایک صورت تبصرے بھی ہیںمگروہ ذاتی طورپربھی دوست احباب کواپنی پسند کی تخلیقات کے بارے میں بتاتے اوران سے کسی کتاب کی تعریف سن کر اسے پڑھنے کا اشتیاق ان کے ہاں پیدا ہوجاتا۔معروف افسانہ نگارہاجرہ مسرورکے ایک خط سے پتا چلتا ہے کہ کاظم صاحب ہی نے سولزینتسن کی کتاب ’’کینسروارڈ‘‘ پڑھنے کے لیے انھیں تجویز کی تھی۔
    ایک بارمجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک دیرینہ دوست سے جب بھی ملنے جائیں، ان کے لیے کتاب لے کرجاتے ہیں۔کسی اخباررسالے یا دوست کے ذریعے نئی کتاب کا پتا چلتا تومجھے اسے لانے کے لیے کہہ دیتے اورمیں انھیں مطلوبہ کتاب فراہم کردیا کرتا۔ وفات سے چند دن قبل بھی ان کا فون آیا اورمجھ سے خوشونت سنگھ کے ناول’’ ٹرین ٹوپاکستان‘‘ اورمحمود ہاشمی کا سفرنامہ ’’کشمیراداس ہے‘‘ کی فرمائش کی، کتابوں کوان تک پہنچانے کی سوچ میں تھا کہ اطلاع ملی کہ وہ بیمار ہوکرہسپتال پہنچ گئے ہیں۔
    مسعود اشعرصاحب نے کاظم صاحب تک باریابی کو ممکن بنایااورپھران سے آخری ملاقات ڈاکٹرزہسپتال میں انھی کے ہم راہ ہوئی،جس کے چند روزبعد وہ انتقال کر گئے۔ ہسپتال داخل ہونے سے قبل ان سے آخری ملاقات ریڈنگز پر ہوئی۔ ریڈنگز پر ایک دن کسی صاحب کو کاظم صاحب کی علمی کام کی بیحد تعریف اوریہ کہتے سناکہ کاش! کاظم صاحب سے ملاقات ہو جائے۔ اس روزجب کاظم صاحب گھرکے لیے رخصت ہورہے تھے، وہ صاحب اتفاق سے ادھرموجود تھے ،میں نے سوچا کہ چلو موصوف ان سے مل لیں ،تھوڑی دیرمیں احساس ہوا کہ ہماری نیکی بیچارے کاظم صاحب کے گلے پڑ گئی ہے۔

    [​IMG]

    ان صاحب کو بولنے کا ہیضہ تھا، بس بولتے چلے گئے، کاظم صاحب بیزاری ظاہر کررہے ہیں، اور وہ چپ ہونے میں نہیں آرہے ، میں الگ شرمندہ، ایسے میں مجھے ایک ترکیب سوجھی،میں چپکے سے کاظم صاحب کے عزیز ہارون کے پاس گیا،جوان کی گاڑی ڈرائیورکرکے لایا تھا، اس کو صورتحال سے آگاہ کیا،اور کہا کہ وہ جاکرکاظم صاحب سے کہے کہ دیر ہورہی ہے اوربس اب چلیں۔یہ تدبیرکارگر رہی ، اورمذکورہ باتونی سے ان کی جان چھوٹی۔

    یہ تو ایک صاحب سے کاظم صاحب کو ملوانے کے تلخ تجربے سے متعلق ایک بات ہے لیکن اب خوش گوار یاد کا بھی ذکرکردوں۔ کراچی سے معروف شاعر اور مترجم سید کاشف رضاآئے تو کاظم صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہرکی، میں انھیں موٹرسائیکل پر ان کے ہاں ملوانے لے گیا تو وہ ان سے مل کربیحد خوش ہوئے اورمہمان کواپنی دستخط شدہ تازہ کتاب ’’یادیں اور باتیں‘‘ بڑی محبت سے پیش کی ۔

    8اپریل 2014ء کو کاظم صاحب کے دنیا سے گزرجانے کے بعد امجد اسلام امجد نے اپنے کالم میں لکھا کہ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں میں سے بھی دس میں سے نوکو یہ بتانا پڑتا ہے کہ سید محمد کاظم کون تھے اوران کا کام اور علمی درجہ کیا ہے۔

    محمد کاظم کو علی عباس جلال پوری کی وفات کا تین ہفتے بعد پتا چلاتوانھوں نے دکھ سے لکھا ’’سناہے کسی اردو اخبارمیں ان کے انتقال کی مختصرسی خبرچھپی تھی لیکن جو انگریزی اخبارمیرے ہاں آتا ہے، اس کے لائق مدیروں کے نزدیک یہ کوئی قابل ذکرخبرنہیں تھی کہ فلسفہ وفکرکے اتنے بڑے استاد اورمصنف اس جہان سے گزر گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کاظم صاحب کے ساتھ بھی ہمارے اخبارات نے علی عباس جلالپوری جیساسلوک روا رکھا۔

    ( یہ مضمون پاکستان رائٹرزفورم کے زیراہتمام محمد کاظم کی یاد میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا)

    محمد کاظم؛ علم و ادب سے وابستہ معتبر ہستیوں نے جن کے تبحرعلمی کی گواہی دی - ایکسپریس اردو
     

اس صفحے کی تشہیر