اقبال محاصرۂ ادرنہ ۔ علامہ اقبال

ام اویس

محفلین
یورپ میں جس گھڑی حق وباطل کی چھڑ گئی
حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گیا

گردِ صلیب ، گردِ قمر حلقہ زن ہوئی
شکری حصارِ درنہ میں محصور ہوگیا

مسلم سپاہیوں کے ذخیرے ہوئے تمام
رُوئے امید آنکھ سے مستور ہوگیا

آخر امیرِ عسکرِ ترکی کے حکم سے
" آئینِ جنگ " شہر کا دستور ہوگیا

ہر شے ہوئی ذخیرۂ لشکر میں منتقل
شاہیں گدائے دانۂ عصفور ہوگیا

لیکن فقیہہِ شہر نے جس دم سنی یہ بات
گرما کے مثلِ صاعقۂ طور ہو گیا

" ذمی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام"
فتوٰی تمام شہر میں مشہور ہوگیا

چھوتی نہ تھی یہودو نصارٰی کا مال فوج
مسلم خدا کے حکم سے مجبور ہو گیا​
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top