1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

متفرق تُرکی ابیات و اشعار

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 26, 2017

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عُثمانی شاعر «شیخ غالب» کی ایک تُرکی بیت میں «مُلکِ کشمیر» کا ذِکرِ خَیر مُلاحظہ کیجیے:

    فِکر سبزانِ پری‌صُورت‌له پُردۆر سینه‌میز
    رونُمادېر کِشوَرِ کشمیردن آیینه‌میز

    (شیخ غالب)

    ہمارا سینہ پری‌صُورت سبز (گندُم‌گوں یا تر و تازہ) زیباؤں کے تماشا و نظارہ کی فِکر سے پُر ہے۔۔۔۔ ہمارا آئینہ مُلکِ کشمیر سے (کا) چہرہ دِکھاتا ہے۔
    (شاعر نے خود کے سینے کو آئینۂ کشمیرنُما سے تشبیہ دی ہے۔)

    Fikr-i sebzân-ı perî-sûretle pürdür sînemiz
    Rû-nümâdır kişver-i Keşmîrden âyînemiz
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فارسی-تُرکی شعری دُنیا میں شہرِ «اِصفہان» اپنے بہترین سُرمے کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ سُرمہ تقویتِ بینائی کی غرَض سے استعمال ہوتا آیا ہے، اور اِس کی چشمِ سیاہ کے ساتھ بھی مُناسبت ہے۔ شاید اِسی وجہ سے ایک عُثمانی-بوسنیائی شاعر «بۏسنالې ثابِت» نے اپنے ایک تُرکی مصرع میں معشوقِ خود کی چشمِ سیاہ کو «اِصفہانی» پُکارا ہے:

    چشمِ سیاهې‌نوڭ روِشی اِصفهان‌لې‌دور
    (بۏسنالې ثابِت)


    اُس کی چشمِ سیاہ کی روِش اِصفہانی ہے

    Çeşm-i siyâhınuñ revişi Isfahânlıdur
    (Bosnalı Sâbit)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    زبانِ فارسی تو خَیر «کشمیر» اور «کشمیریوں» کی اپنی زبان تھی، لہٰذا اگر کشمیر کے خُوب‌رُو «سیاه‌چشمانِ کشمیری» فارسی شاعروں کے دل کھینچتے آئے ہیں تو یہ کوئی تعجُّب کی چیز نہیں ہے۔ جالبِ توجُّہ چیز شاید یہ ہے کہ شاعرانِ تُرک‌زبان بھی «سیاه‌چشمانِ کشمیری» کے دِل‌باختہ و مفتون نظر آتے ہیں۔ دیارِ آذربائجان کے ایک تُرکی شاعر «نعمت‌الله کِشوَری» پانچ صدیوں قبل زیبایانِ کشمیری کی سِتائش میں کہتے ہیں:

    وطن‌دین ای دریغا کیم منی آواره قېلدې‌لار
    سیه‌چشمانِ کشمیری گُل‌اندامانِ قِپچاقی

    (کِشوَری)

    اے دریغا! کہ «سیاہ‌چشمانِ کشمیری» اور «گُل‌اندامانِ قِپچاقی» نے مجھ کو وطن سے آوارہ کر دیا!

    Vatandın ey dirîgâ kim meni âvâre kıldılar
    Siyeh-çeşmân-ı Keşmîrî gül-endâmân-ı Kıpçakî

    (Kişverî)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بعض اوقات تُرکی عامّہ‌پسند نغمے بھی کوئی اُمیدافزا پیغام دے جاتے ہیں۔ مجھ کو ایک تُرکی نغمہ بِسیار پسند ہے، اور اُس نغمے کی دو سطریں کئی روز سے میری زبانوں پر ہیں جو ایسے ہی ایک رجائیت‌پسندانہ پیغام پر مُشتَمِل ہیں:

    قۏرقمام، قارا گۆن قارارېپ قالماز
    بیر یۏلونو بولوروز، گۆزه‌ل اینجه


    میں نہیں ڈرتی، تاریک روز [ہمیشہ] تاریک‌شُدہ نہ رہے گا
    ہم [بِالآخر] اِک راہ پا لیں گے، خُوب و نازُک۔۔۔

    Korkmam, kara gün kararıp kalmaz
    Bir yolunu buluruz, güzel ince


    بعد میں معلوم ہوا کہ «قارا گۆن قارارېپ قالماز» (تاریک روز، تاریک‌شُدہ نہیں رہتا/نہ رہے گا) ایک تُرکی ضرب‌المثَل ہے، اور یہ اِس مفہوم میں استعمال ہوتی ہے کہ: اِنسان کا پُررنج زمانہ دوام نہیں کرتا اور دائماً نہیں رہتا، بلکہ اُس کے عقَب میں پُرشادمانی روز بھی آ جاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    (مصرع)
    "قېزېل‌دان اۏلسا دا قه‌فه‌س، زیندان‌دېر"
    (یحییٰ شَیدا)

    قفَس خواہ زر سے [بنا ہوا] ہو، تب بھی وہ زِندان ہے

    Qızıldan olsa da qəfəs, zindandır

    (Yəhya Şeyda)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    عئشق اۏلسون آزادلېق سئوه‌ن اینسان‌لارا من‌دن
    عئشق اۏلسون اۏ کس‌لر کی، دیفاع ائتدی وطه‌ن‌دن

    (یحییٰ شَیدا)

    آزادی سے محبّت کرنے والے اِنسانوں پر میری طرف سے آفرین ہو!
    اُن اشخاص پر آفرین ہو کہ جِنہوں نے وطن کا دِفاع کیا!

    Eşq olsun azadlıq sevən insanlara məndən
    Eşq olsun o kəslər ki, difa etdi vətəndən

    (Yəhya Şeyda)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ایرانی آذربائجانی شاعر «یحییٰ شَیدا» نے مندجۂ ذیل تُرکی ابیات «صدّام حُسین» کو مُخاطَب کر کے اُس وقت کہی تھیں جب «صدّام» نے اسّی کے عشرے میں مملکتِ ایران پر یورِش کی تھی اور یہ دو ابیات شاعر کی ایک تُرکی نظم «صدّامېن تحمیلی جنگی» (صدّام کی تحمیل‌کردہ جنگ) سے مأخوذ ہیں۔ لیکن میں اِن ابیات کو «کشمیریوں» کی آواز بنتے ہوئے اور «کشمیریوں» کے سِتم‌گار دُشمنوں کو مُخاطَب کر کے «کشمیریوں» کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ «کشمیریوں» کی آواز دو ہفتوں سے جبراً خاموش ہے، لہٰذا مُحِبّان و طرف‌دارانِ مِلّتِ «کشمیری» ہی کو «کشمیریوں» کی آواز بننا پڑے گا۔

    ال چک وطه‌نیم‌دن، ایتیل ائی دۆشمه‌نِ غددار
    ائی نیفره‌ته شایان، ابه‌دی لعنه گیریفتار
    چک قان‌لې الین تۏرپاغېمېزدان، داغېمېزدان
    ائی تۆلکۆصیفه‌ت، چېخ چؤله، شئر اۏیلاغېمېزدان
    (یحییٰ شَیدا)


    میرے وطن سے دست کھینچ لو! دفع ہو جاؤ! اے دُشمنِ بے‌رحم و جفاکار!۔۔۔۔۔ اے شایانِ نفرت! [اور] اے ابدی لعنت میں گِرِفتار!۔۔۔۔ اپنے دستِ خُونیں کو ہماری خاک و سرزمین سے اور ہمارے کوہ (کوہسار) سے [دُور] کھینچ لو!۔۔۔ اے [دُشمنِ] رُوباہ‌صِفَت، ہماری شیروں کی منزل‌گاہ سے خارِج ہو کر [اپنے] بیابان کی طرف چلے جاؤ!
    × رُوباہ = لومڑی

    Əl çək vətənimdən, itil ey düşməni-qəddar
    Ey nifrətə şayan, əbədi lə'nə giriftar
    Çək qanlı əlin torpağımızdan, dağımızdan
    Ey tülküsifət, çıx çölə, şer oylağımızdan
    (Yəhya Şeyda)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,216
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مغربی تُرکی میں «خُدا» کو «تانرې» کہتے ہیں، جو آذربائجانی گُفتاری زبانچوں میں «تارې» کی شکل میں بھی رائج ہے۔ دیارِ آذربائجان میں جب «سنی تانرې/تارې!» (تم کو خُدا!) بولا جاتا ہے تو اِس کا مفہوم «تم کو خُدا کی قسم!» ہوتا ہے، اور یہ فارسی کے «تو را خُدا!» کا لفظی ترجمہ ہے، جو ایرانی فارسی میں اِسی مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ قَسمیہ عِبارت میں نے تا حال تُرکیہ کی تُرکی میں استعمال ہوتے نہیں دیکھی، اور یہ آذربائجان سے مخصوص ہے۔

    =============

    ایرانی آذربائجانی شاعر «شهریار تبریزی» کی ایک تُرکی بیت دیکھیے:

    قۏرخوم بودو یار گلمه‌یه بیردن آچېلا صۆبح
    باغرېم یارېلار صۆبحۆم آچېلما سنی تارې!
    (شهریار تبریزی)


    مجھے خَوف یہ ہے کہ یار نہیں آئے گا اور ناگہاں صُبح طُلوع ہو جائے گی
    میرا جِگر [و قلب] پھٹ جائے گا۔۔۔ اے میری صُبح! طُلوع مت ہوؤ! تم کو خُدا کی قسم!

    Qorxum budu yar gəlməyə, birdən açıla sübh,
    Bağrım yarılar, sübhüm, açılma səni Tarı!
     

اس صفحے کی تشہیر