لمے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ۔ محسن بھوپالی

شیزان

لائبریرین
​
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​
گزار دیں گے اِسی خوشگوار یاد کے ساتھ​
​
یہ ذوق و شوق فقط لُطفِ داستاں تک ہے​
سفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ​
​
زمانہ جتنا بکھیرے، سنوَرتا جاؤں گا​
ازل سے میرا تعلق ہے خاک و باد کے ساتھ​
​
اُسے یہ ناز، بالآخر فریب کھا ہی گیا​
مجھے یہ زعم کہ ڈُوبا ہوں اعتماد کے ساتھ​
​
بڑھا گیا مرے اشعار کی دلآویزی​
تھا لُطفِ ناز بھی شامل کِسی کی داد کے ساتھ​
​
گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی محسن​
سفر میں جیسے رہے کوئی گردباد کے ساتھ​
​
محسن بھوپالی​
"گردِ مُسافت" سے انتخاب​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top