لاہور میں وکلاء کا امراض قلب کے اسپتال پر حملہ، آپریشن تھیٹر میں توڑ پھوڑ

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 11, 2019

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,203
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    سب وکلا اس بات پر غور کریں کہ جب ہسپتال میں ایک وکیل کے ساتھ ڈاکٹر یا ہسپتال کے عملہ نے بدسلوکی کی تو وہ ایک وکیل کا انفرادی ایشو تھا اس انفرادی ایشو کو وکلا کا ایشو کیوں بنایا گیا؟
    اگر اس وکیل کے ساتھ بد سلوکی کی گئی تھی تو وکیل اس بد سلوکی کے خلاف ذاتی حیثیت میں قانونی کاروائی کرتا ، ملوث ڈاکٹروں کے خلاف استغاثہ دائر کرتا ، ایف آئی آر درج کرواتا۔ بہت سے راستے تھے کوئی بھی راستہ اختیار کر کے قانونی کاروائی کرتا لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ ایک یا دو وکیلوں کے انفرادی معاملہ کو وکلا نے بار کونسل کے تمام وکلا کا ایشو بنا دیا
    ایسے ظاہر کیا گیا کہ جیسے ڈاکٹروں نے بار کونسل پہ حملہ کر دیا ہے
    یہاں سے جہالت پر مبنی گندی سیاست کی ابتدا کی گئی اور پھر بات بڑھتی گئی

    باقی سب باتیں بعد کی ہیں کہ ڈاکٹرز نے اشتعال دلایا ، یہ کیا اور وہ کیا ۔
    یہ ردیف قافیے بعد کے ہیں اس سارے معاملے کی ابتدا وکلا نے کی جنہوں نے ایک وکیل کے انفرادی ایشو کو سارے وکلا کا ایشو بنا کر ہسپتال پہ حملہ کیا اور اس حملہ کے نتیجہ میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کو تباہ کیا گیا۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    876
    زیادہ نقصان ۔۔؟؟ جن کے اپنے چلے گئے ان کا کیا ۔۔۔؟؟؟
     
    • متفق متفق × 1
    • غمناک غمناک × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    بالکل صحیح کہا۔ یہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی خود وکلا نے ہسپتال میں دیگر مریضوں کی طرح قطار میں کھڑے ہونے پر شروع کی تھی۔ جس کا انجام کل تین مریضوں کی ناحق ہلاکت پر ختم ہوا۔ فریقین بدمعاش وکلا اور ینگ ڈاکٹر ہیں۔ رگڑا حکومت کو جا رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح ان مریضوں کے جبڑوں میں گولیاں نہیں مروائی تھی۔ موقع پر پولیس کی نفری موجود تھی مگر بعض مشتعل وکلا ہسپتال کے پچھلے دروازے سے داخل ہو گئے اور مین گیٹ کھلوا کر باقی بدمعاش وکیلوں کو اندر آنے دیا۔ جنہوں نے ہسپتال میں گھس کر دما دم مست قلندر کر دیا۔
     
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    پی آئی سی واقعہ پر وکلا اور ڈاکٹرز کا ایک دوسرے کیخلاف احتجاج، عوام پس گئے
    ویب ڈیسک جمعرات 12 دسمبر 2019
    [​IMG]
    پنجاب بار کونسل اور خیبر پختونخوا بار کونسل کی اپیل پر وکلا کی گرفتاریوں کے خلاف ہڑتال فوٹو:فائل

    لاہور: پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملے کے افسوس ناک واقعے کے بعد وکلا اور ڈاکٹرز دونوں اپنی اپنی انا پر اڑ گئے اور ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

    پنجاب بار کونسل اور خیبر پختونخوا بار کونسل کی اپیل پر پی آئی سی حملے میں ملوث 39 وکلا کی گرفتاری، پولیس تشدد اور ڈاکٹرز کے رویے کے خلاف دونوں صوبوں میں وکلا ہڑتال کررہے ہیں۔ اس موقع پر وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور مقدمات کی سماعت کے لیے پیش نہیں ہوئے۔

    وکلا نے عدالتوں اور کچہریوں کے دروازے بند کردیئے جس کے نتیجے میں ہزاروں مقدمات التوا کا شکار ہوگئے اور ہزاروں سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی وکلا برادری کالے کوٹ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور پولیس کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ اس حوالے سے ریلیاں نکالی جارہی ہیں اور احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔

    اس موقع پر وکلا نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے وکلا پر تشدد میں ملوث ڈاکٹروں کی گرفتاری اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب ڈاکٹرز بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ امراض قلب کا اسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) بند ہے اور ڈاکٹرز و طبی عملہ غیر حاضر ہے۔

    دیگر شہروں کے سرکاری اسپتالوں میں بھی یوم سیاہ منایا جا رہا ہے اور ینگ ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں۔ مختلف ڈاکٹرز تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور وکلا گردی کے خلاف نعرے لگائے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور گرینڈ ہیلتھ الائنس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کالی پٹیاں باندھ کر کام کریں گے۔ انہوں نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار،وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت،وزیر صحت یاسمین راشد سے مستعفی ہونے اور 24 گھنٹوں میں سیکورٹی بل آرڈیننس لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

    ڈاکٹرز کے احتجاج کی وجہ سے ہزاروں مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زندگی کے 2 اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کے اس افسوس ناک رویے کی قیمت عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔
     
  6. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    2,323
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Pensive
    پھر وہی بات۔
    کیا یہ دونوں حضرات پولیس والے ہیں جنہوں نے وکلا کو گرفتار کرنا تھا۔
     
    • متفق متفق × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    گرفتار تو موقع پر موجود پولیس آپریشنز کے انچارج نے ہی کرنا تھا۔ البتہ ان کو ہدایات وزیر اعلیٰ کے فرمان پر فیاض چوہان دے رہے تھے۔ حکومت نے حتی الوسع کوشش کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تاریخ نہ دہرائی جائے۔ اسی لئے ریاستی طاقت کا استعمال کم سے کم کیا گیا۔ یہی وجہ ہے تین مریضوں کے علاوہ اور کوئی اموات نہیں ہوئی جو کہ وکلا کی غنڈہ گردی اور ڈاکٹروں کی بزدلی کا نتیجہ تھی۔
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    وزیراعظم کا فیاض چوہان کو فون، پی آئی سی پر حملے کے دوران اُنکے کردار کو سراہا
    [​IMG]
    فوٹو فائل—

    وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز پاکستان انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو رکوانے کے لیے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کے کردار کو خوب سراہا۔

    گزشتہ روز وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد معاملے کے حل کے لیے جائے وقوع پر پہنچے تو مشتعل وکلاء کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ اسپتال جا کر پولیس کی شیلنگ اور پتھراؤ رکوایا، 10 وکیلوں کو میں نے عوام کے تشدد سے بچا کر گرفتار کرایا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو ٹیلی فون کیا اور ان کے حوصلے کو سراہا۔

    ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ آپ بروقت موقع پر پہنچے اور اپنا فرض ادا کیا، گزشتہ روز جو ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس سے حوصلے پست نہیں ہونے چاہئیں۔

    آخر میں وزیر اعظم نے فیاض الحسن چوہان کو لاہور میں رہنے کی ہدایت بھی کی۔

    ملک دشمن طاقتوں نے پی آئی سی واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن بنانے کی کوشش کی
    دوسری جانب فیاض الحسن چوہان نے ایک بیان میں کہا کہ ملک دشمن طاقتوں نے واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی صورتحال بنانے کی کوشش کی۔

    صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ان عناصر کو بے نقاب کیا جن کا تعلق بیگم صفدر اعوان اور حمزہ شہباز سے ہے لیکن بزدار حکومت نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا۔
     
  9. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    876
    سانحہ ماڈل ٹاون کو جواز بناتے رہیں جاسم بھائی اور ایسی کاروائیاں کرتے رہو۔۔۔۔۔۔ شاباش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    نااہل ترین حکومت کا چورن تیار ہے۔
     
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    تنازعہ وکیلوں اور ڈاکٹروں کا۔ حکومت بیچ میں پڑ کر معاملات ٹھیک کروائے۔ عین صلح پر پہنچ کر ایک ینگ ڈاکٹر صلح صفائی کی میٹنگ کا احوال پبلک کر کے وکلا کو اشتعال دلائے۔ حکومت دوبارہ بیچ میں پڑ کر سب کو ٹھنڈا کرے اور حملہ کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالے۔ لیکن پھر بھی نااہل ترین حکومت۔
    واقعی بغض عمران اور فوج لا علاج عارضہ ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    876
    یہ وکیل اور ڈاکٹرز کون ہیں؟؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    مشتعل لاہوری، کٹر ن لیگی۔
     
  14. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مثلاً ؟
    ڈاکٹر ، وکیل، پولیس یا پی آئی سی میں داخل مریض اور ان کے لواحقین۔
     
  15. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    حسن نیازی بھی ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    لاہور کی تقریبا تمام سیٹیں ن لیگ نے جیتی ہیں۔ اکثریت کٹر ن لیگی ہے۔
     
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    مکمل بیان:

    ملک دشمنوں نے پی آئی سی واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن بنانے کی کوشش کی: فیاض چوہان
    [​IMG]
    فوٹو: فائل

    وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے گزشتہ روز پاکستان انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں ہونے والے واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن بنانے کی کوشش قرار دیدیا۔

    فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک دشمن طاقتوں نے واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی صورتحال بنانے کی کوشش کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ان عناصر کو بے نقاب کیا جن کا تعلق بیگم صفدر اعوان اور حمزہ شہباز سے ہے لیکن بزدار حکومت نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا۔

    ذرائع کے مطابق آج وزیر اعظم عمران خان نے فیاض الحسن چوہان کو ٹیلی فون بھی کیا اور پی آئی سی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو رکوانے کے لیے ان کے کردار کو خوب سراہا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز فیاض الحسن چوہان پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچے تو مشتعل وکلاء کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اسپتال جا کر پولیس کی شیلنگ اور پتھراؤ رکوایا، 10 وکیلوں کو میں نے عوام کے تشدد سے بچا کر گرفتار کرایا۔

    [​IMG]

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ وکلاء کی جانب سے مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور جب میں جان بچا کر گیا تو میرے پیچھے فائرنگ بھی کی گئی۔

    صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا صورتحال کی ذمہ داری وکلا اور ان کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے، وکیلوں کے لیڈروں کو پکڑیں گے اور ان کے خلاف ایف آئی آر ہو گی۔
     
  18. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پھر ؟

    کونسا وکیل ان کا کیس لڑے گا اور کس جج کو ہمت ہو گی کہ ان کو سزا دے ؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,316
    اس کے لئے اگر ضرورت پڑی تو خصوصی عدالتیں جیسے انسداد دہشت گرد عدالتیں ہیں بنا کر سزائیں دی جائیں گی۔ وکلا گردی کی اب پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔
     
  20. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس میں فوجی بیٹھے ہوں گے یا پی ٹی آئی والے سیاستدان ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر