قوّتِ جاذبہ تھی اِس دل میں۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے۔

السلام علیکم
ایک عرصے کے بعد ایک چھوٹی بحر کی غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں۔
فاعلن فاعلن مفاعیلن
اساتذہء کِرام بطور خاص
جناب الف عین صاحب،
احباب محفل اور تمام دوستوں سے اصلاح ، توجہ اور رہنمائی کی درخواست ہے۔
*******............********............********
0. دُکھتے دل میں کَسک رَواں رکھتے
تِشنہ وعدوں کا گر بَیاں رکھتے

1. تیری نظروں کی ہی امانت تھا
دل بچا کر بتا کہاں رکھتے ؟

2. اتنی نزدیکیوں سے کیا پایا ؟
کچھ تَو رشتوں میں دُوریاں رکھتے

3. قوّتِ جاذبہ تھی اِس دل میں
ورنہ دریائے غم کہاں رکھتے

4. شامِ غم کی ہَوا کے دامن میں
تیری یادوں کی دھجّیاں رکھتے

5. تیرے متوالے دَار پر کھنچ کر
تیری انگڑائی جاوداں رکھتے

6. کاش، ثمرِ بہشت لب، رُخ پر
جاں فِزائی کے کچھ نشاں رکھتے

7. تیری یادوں کو ہی مٹا ڈالا
ذہن میں واہمہ کہاں رکھتے

8. باندھتے حَوصلہ یُوں بَچوں کا
خواب دِکھلا تے ،کَہکَشاں رکھتے!

9. اور خوابوں کے اُس سفینے میں
شوق و مِحنت کے بادباں رکھتے

10. اُن کے دل کے نِگارخانے میں
بحرِ اِمکان بےکَراں رکھتے

11. سِلسلے ختم اب کئے کاشف
کتنی رِشتوں میں تِلخِیاں رکھتے؟

سیّد کاشف
*******............********............********
 
بہت عمدہ۔ ہر غزل بہترین!! خیالات کو جس طرح الفاظ کی شکل دی ہے وہ انتہائی متا ثر کن ہے۔۔
میں چونکہ عروض و تقطیع کو(فی الحال) بغیر مطالعہ کے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں سو جب آپ کی غزل کو "عروض" کے سیکشن میں تقطیع کی تو یہ رپورٹ آئی۔
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن

۔اساتذہ سے رہنمائی کی استدعا ہے
آپ کی غزل کو بلا اجا زت مثال کے لیے استعمال کیا امید ہے آپ در گزر فرمائیں گے۔
 
بہت عمدہ۔ ہر غزل بہترین!! خیالات کو جس طرح الفاظ کی شکل دی ہے وہ انتہائی متا ثر کن ہے۔۔
میں چونکہ عروض و تقطیع کو(فی الحال) بغیر مطالعہ کے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں سو جب آپ کی غزل کو "عروض" کے سیکشن میں تقطیع کی تو یہ رپورٹ آئی۔
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن

۔اساتذہ سے رہنمائی کی استدعا ہے
آپ کی غزل کو بلا اجا زت مثال کے لیے استعمال کیا امید ہے آپ در گزر فرمائیں گے۔
محبّت جناب کی۔ :)
 

الف عین

لائبریرین
ردیف ہر جگہ درست فٹ نہیں ہو رہی۔ ویسے کبھی کبھی محاوروں سے گریز کرنا اچھا بھی لگتا ہے مگر اتنا بھی نہیں۔ ذرا ایک بار اور بقول آسی بھائی اپنے اشعار کے ساتھ کچھ وقت گزارو تو خود ہی بہتر کر سکتے ہو۔
ایک غلطی بھی ہے ثمر کا تلفظ، میم پر سکون نہیں، فتحہ ہے۔
 
Top