قرض کی دلدل میں دھنسی بھنگڑا ڈالنے والی قوم

زیرک

محفلین
قرض کی دلدل میں دھنسی بھنگڑا ڈالنے والی قوم​
بزرگوں، سیانوں سے سنا اور اپنے تجربات سے یہی سیکھا ہے کہ قرض بلائے جاں ہے۔ یہ وہ بلا ہے جو قوموں کا مستقبل نگل جایا کرتی ہے۔ کل کسی دوست نے فیس بک پہ میسج کیا کہ 'مبارک ہو کہ پاکستان کو اگلے تین سالوں کے دوران مزید 12 ارب ڈالر کا قرضہ ملنے جا رہا ہے'۔ میں نے کہا ' یہ مبارکباد کا نہیں بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف ہمیں قرض کی دلدل میں ڈبویا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے بوڑھے اور جوان اس پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں'۔ آج کے دور کا قرض اور اگر وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیا جائے تو وہ سب سے پہلے آپ کی کرنسی کی ویلیو میں کمی کی شرط لگا دیتے ہیں جس سے ایک تو پہلے کا لیا ہوا قرض اور اس پر لگا ہوا مارک اپ عرف سود بڑھ جاتا ہے۔ گویا ابھی دھیلا نہیں ملا اور پچھلا قرض بڑھ گیا۔ جب مزید قرض دینے کے مراحل طے ہوتے ہیں تو غریب عوام کو ہی ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ وہ یوں کی بجلی، گیس، پانی اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی نہ صرف قیمتیں بڑھوائی جاتی ہیں بلکہ ان پر ان دیکھے ٹیکسز کی شرح میں بھی اضافہ کروایا جاتا ہے۔ پاکستان کی جو معاشی پوزیشن ہے وہ ایسی ہے کہ جو بھی قرضہ لیا جاتا ہے اس کا ایک بڑا حصہ پچھلے سالوں میں لیے گئے قرضے کے سود کی مد میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ جو تھوڑا بہت قومی خزانے میں آتا ہے اس پر خزانے پر بیٹھے ناگوں کا ٹولہ دانت تیز کیے بیٹھا ہوتا ہے، پھر مختلف پراجیکٹس کے نام پر حصے بخرے کیے جاتے ہیں اور کھا پی کر ڈکار ماری جاتی ہے اور پھر قوم اور قوم کے حکمران اگلا قرضہ لینے تک کے عرصے کے لیے ریچھ کی طرح "ہائیبرنیشن'' میں چلے جاتے ہیں۔ جب جاگتے ہیں تو پھر سے قرض لینے کے لیے لنگوٹ کستے ہیں اور معاشی دلدل میں دھنسی قوم کے سر پر مزید قرض کا بوجھ لادنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کہیں پڑھا تھا اب کتاب کا حوالہ یاد نہیں کہ ''تمہارے حکمران تمہارے اعمال کا نتیجہ ہیں''۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ''اپنے حکمرانوں کو برا مت کہو کہ ان کے دل میرے قبضے میں ہیں، تم اپنے اعمال بدل لو، میں تمہارے حکمرانوں کے دل تمہارے حق میں بدل دوں گا''۔ یہ حکمران کہیں غیب سے نہیں آتے، انہیں ہم عوام ہی منتخب کرتے ہیں لیکن حکمرانوں کے انتخاب میں سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ ذات، برادری، قومیت، ذاتی پسند اور اندھے اجتماعی فیصلے کرتے ہیں جس سے بہتر انسان کا انتخاب ممکن نہیں رہتا۔ ہم ایک پڑھے لکھے، صاف گو اور سچے انسان کا ساتھ نہیں دیتے کہ اس نے ہمارا کوئی غلط کام نہیں کروانا۔ ہم ایسے لوگوں کو چنتے ہیں جو ہمارے سارے الٹے سیدھے کاموں کے لیے ہمارا ساتھ دے۔ قارئین جو آنکھیں بند کر کے آپ کے الٹے سیدھے کر سکتا ہے تو پھر اپنے لیے کیا کچھ کرے گا اس کا اندزہ لگانا مشکل نہیں۔ قصہ مختصر جب تک ہم بہتر انسان کو اپنا منتخب نمائندہ نہیں بنائیں گے تب تک اچھے حکمران بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ دماغوں کے بند کھڑکیاں کھولیے نہیں تو ایک کے بعد دوسرا پہلے سے بڑا قرضہ لینے والے حکمران آتے رہیں گے اور وہ ہمیں ایسی اندھی دلدل میں دھکیل دیں گے کہ جس سے باہر نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔

نوٹ قارئین کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی تیر و تفنگ اٹھا کر حملے کی اجازت دی جائے گی۔
 

جاسم محمد

محفلین
کل کسی دوست نے فیس بک پہ میسج کیا کہ 'مبارک ہو کہ پاکستان کو اگلے تین سالوں کے دوران مزید 12 ارب ڈالر کا قرضہ ملنے جا رہا ہے'۔ میں نے کہا ' یہ مبارکباد کا نہیں بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف ہمیں قرض کی دلدل میں ڈبویا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے بوڑھے اور جوان اس پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں'
پچھلی حکومت نے قوم کو 40 ارب ڈالر مزید قرضوں میں ڈبویا۔ تب نہ کسی کو تنقید کا خیال آیا نہ کوئی غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ ساری تنقید تحریک انصاف حکومت کے لئے ہے جو سابقہ حکومتوں کے لادھے ہوئے بوجھ اٹھانے کیلئے مزید قرضے لے رہی ہے۔ تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جائے۔
 

فرقان احمد

محفلین
قرض کی دلدل میں دھنسی بھنگڑا ڈالنے والی قوم​
بزرگوں، سیانوں سے سنا اور اپنے تجربات سے یہی سیکھا ہے کہ قرض بلائے جاں ہے۔ یہ وہ بلا ہے جو قوموں کا مستقبل نگل جایا کرتی ہے۔ کل کسی دوست نے فیس بک پہ میسج کیا کہ 'مبارک ہو کہ پاکستان کو اگلے تین سالوں کے دوران مزید 12 ارب ڈالر کا قرضہ ملنے جا رہا ہے'۔ میں نے کہا ' یہ مبارکباد کا نہیں بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف ہمیں قرض کی دلدل میں ڈبویا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے بوڑھے اور جوان اس پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں'۔ آج کے دور کا قرض اور اگر وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیا جائے تو وہ سب سے پہلے آپ کی کرنسی کی ویلیو میں کمی کی شرط لگا دیتے ہیں جس سے ایک تو پہلے کا لیا ہوا قرض اور اس پر لگا ہوا مارک اپ عرف سود بڑھ جاتا ہے۔ گویا ابھی دھیلا نہیں ملا اور پچھلا قرض بڑھ گیا۔ جب مزید قرض دینے کے مراحل طے ہوتے ہیں تو غریب عوام کو ہی ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ وہ یوں کی بجلی، گیس، پانی اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی نہ صرف قیمتیں بڑھوائی جاتی ہیں بلکہ ان پر ان دیکھے ٹیکسز کی شرح میں بھی اضافہ کروایا جاتا ہے۔ پاکستان کی جو معاشی پوزیشن ہے وہ ایسی ہے کہ جو بھی قرضہ لیا جاتا ہے اس کا ایک بڑا حصہ پچھلے سالوں میں لیے گئے قرضے کے سود کی مد میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ جو تھوڑا بہت قومی خزانے میں آتا ہے اس پر خزانے پر بیٹھے ناگوں کا ٹولہ دانت تیز کیے بیٹھا ہوتا ہے، پھر مختلف پراجیکٹس کے نام پر حصے بخرے کیے جاتے ہیں اور کھا پی کر ڈکار ماری جاتی ہے اور پھر قوم اور قوم کے حکمران اگلا قرضہ لینے تک کے عرصے کے لیے ریچھ کی طرح "ہائیبرنیشن'' میں چلے جاتے ہیں۔ جب جاگتے ہیں تو پھر سے قرض لینے کے لیے لنگوٹ کستے ہیں اور معاشی دلدل میں دھنسی قوم کے سر پر مزید قرض کا بوجھ لادنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کہیں پڑھا تھا اب کتاب کا حوالہ یاد نہیں کہ ''تمہارے حکمران تمہارے اعمال کا نتیجہ ہیں''۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ''اپنے حکمرانوں کو برا مت کہو کہ ان کے دل میرے قبضے میں ہیں، تم اپنے اعمال بدل لو، میں تمہارے حکمرانوں کے دل تمہارے حق میں بدل دوں گا''۔ یہ حکمران کہیں غیب سے نہیں آتے، انہیں ہم عوام ہی منتخب کرتے ہیں لیکن حکمرانوں کے انتخاب میں سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ ذات، برادری، قومیت، ذاتی پسند اور اندھے اجتماعی فیصلے کرتے ہیں جس سے بہتر انسان کا انتخاب ممکن نہیں رہتا۔ ہم ایک پڑھے لکھے، صاف گو اور سچے انسان کا ساتھ نہیں دیتے کہ اس نے ہمارا کوئی غلط کام نہیں کروانا۔ ہم ایسے لوگوں کو چنتے ہیں جو ہمارے سارے الٹے سیدھے کاموں کے لیے ہمارا ساتھ دے۔ قارئین جو آنکھیں بند کر کے آپ کے الٹے سیدھے کر سکتا ہے تو پھر اپنے لیے کیا کچھ کرے گا اس کا اندزہ لگانا مشکل نہیں۔ قصہ مختصر جب تک ہم بہتر انسان کو اپنا منتخب نمائندہ نہیں بنائیں گے تب تک اچھے حکمران بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ دماغوں کے بند کھڑکیاں کھولیے نہیں تو ایک کے بعد دوسرا پہلے سے بڑا قرضہ لینے والے حکمران آتے رہیں گے اور وہ ہمیں ایسی اندھی دلدل میں دھکیل دیں گے کہ جس سے باہر نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔

نوٹ قارئین کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی تیر و تفنگ اٹھا کر حملے کی اجازت دی جائے گی۔
کافی حد تک متفق!
 

زیرک

محفلین
پچھلی حکومت نے قوم کو 40 ارب ڈالر مزید قرضوں میں ڈبویا۔ تب نہ کسی کو تنقید کا خیال آیا نہ کوئی غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ ساری تنقید تحریک انصاف حکومت کے لئے ہے جو سابقہ حکومتوں کے لادھے ہوئے بوجھ اٹھانے کیلئے مزید قرضے لے رہی ہے۔ تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جائے۔
مسٹر جاسم آپ نے تحریر میں کہیں تحریک انصاف یا عمران خان کا نام دیکھا ہے؟ جناب میری تحریر عمومی رنگ لیے ہوئے ہے، الحمدللہ میں ایک غیر جانبدار انسان ہوں اور میں نے یہ غیر جانبداری بڑی مشکل اور تگ و دو کے بعد حاصل کی ہے۔ آپ بھی آنکھوں سے پارٹی کی پٹی ہٹا کر پڑھیے گا پھر آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی۔
 

جاسم محمد

محفلین
مسٹر جاسم آپ نے تحریر میں کہیں تحریک انصاف یا عمران خان کا نام دیکھا ہے؟ جناب میری تحریر عمومی رنگ لیے ہوئے ہے، الحمدللہ میں ایک غیر جانبدار انسان ہوں اور میں نے یہ غیر جانبداری بڑی مشکل اور تگ و دو کے بعد حاصل کی ہے۔ آپ بھی آنکھوں سے پارٹی کی پٹی ہٹا کر پڑھیے گا پھر آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی۔
بھائی آپ کی تحریر سابقہ حکومتوں کی کارکردگی کے مطابق درست ہے۔ البتہ اسے تحریک انصاف حکومت کی طرف سے لئے گئے حالیہ سعودی قرض پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ سابقہ حکومتوں میں لئے گئے قرضوں کا اب آڈٹ ہوگا۔ اور قوم کے سامنے لایا جائے گا کہ ان کے نام پر لئے گئے قومی قرضے گئے تو گئے کہاں؟
 

زیرک

محفلین
بھائی آپ کی تحریر سابقہ حکومتوں کی کارکردگی کے مطابق درست ہے۔ البتہ اسے تحریک انصاف حکومت کی طرف سے لئے گئے حالیہ سعودی قرض پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ سابقہ حکومتوں میں لئے گئے قرضوں کا اب آڈٹ ہوگا۔ اور قوم کے سامنے لایا جائے گا کہ ان کے نام پر لئے گئے قومی قرضے گئے تو گئے کہاں؟
برادر میری یہ تحریر سارے قرضے لینے والوں کے بارے میں ہے، اگر آپ کی حکومت نے قرضہ نہیں لیا تو وہ اس صف میں شامل نہیں لیکن اگر لیا ہے تو وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ آئندہ چند مہینوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی کہ کون کتنے پانی میں ہے؟
 

جاسمن

لائبریرین
قرض کی دلدل میں دھنسی بھنگڑا ڈالنے والی قوم​
بزرگوں، سیانوں سے سنا اور اپنے تجربات سے یہی سیکھا ہے کہ قرض بلائے جاں ہے۔ یہ وہ بلا ہے جو قوموں کا مستقبل نگل جایا کرتی ہے۔ کل کسی دوست نے فیس بک پہ میسج کیا کہ 'مبارک ہو کہ پاکستان کو اگلے تین سالوں کے دوران مزید 12 ارب ڈالر کا قرضہ ملنے جا رہا ہے'۔ میں نے کہا ' یہ مبارکباد کا نہیں بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف ہمیں قرض کی دلدل میں ڈبویا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے بوڑھے اور جوان اس پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں'۔ آج کے دور کا قرض اور اگر وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیا جائے تو وہ سب سے پہلے آپ کی کرنسی کی ویلیو میں کمی کی شرط لگا دیتے ہیں جس سے ایک تو پہلے کا لیا ہوا قرض اور اس پر لگا ہوا مارک اپ عرف سود بڑھ جاتا ہے۔ گویا ابھی دھیلا نہیں ملا اور پچھلا قرض بڑھ گیا۔ جب مزید قرض دینے کے مراحل طے ہوتے ہیں تو غریب عوام کو ہی ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ وہ یوں کی بجلی، گیس، پانی اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی نہ صرف قیمتیں بڑھوائی جاتی ہیں بلکہ ان پر ان دیکھے ٹیکسز کی شرح میں بھی اضافہ کروایا جاتا ہے۔ پاکستان کی جو معاشی پوزیشن ہے وہ ایسی ہے کہ جو بھی قرضہ لیا جاتا ہے اس کا ایک بڑا حصہ پچھلے سالوں میں لیے گئے قرضے کے سود کی مد میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ جو تھوڑا بہت قومی خزانے میں آتا ہے اس پر خزانے پر بیٹھے ناگوں کا ٹولہ دانت تیز کیے بیٹھا ہوتا ہے، پھر مختلف پراجیکٹس کے نام پر حصے بخرے کیے جاتے ہیں اور کھا پی کر ڈکار ماری جاتی ہے اور پھر قوم اور قوم کے حکمران اگلا قرضہ لینے تک کے عرصے کے لیے ریچھ کی طرح "ہائیبرنیشن'' میں چلے جاتے ہیں۔ جب جاگتے ہیں تو پھر سے قرض لینے کے لیے لنگوٹ کستے ہیں اور معاشی دلدل میں دھنسی قوم کے سر پر مزید قرض کا بوجھ لادنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کہیں پڑھا تھا اب کتاب کا حوالہ یاد نہیں کہ ''تمہارے حکمران تمہارے اعمال کا نتیجہ ہیں''۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ''اپنے حکمرانوں کو برا مت کہو کہ ان کے دل میرے قبضے میں ہیں، تم اپنے اعمال بدل لو، میں تمہارے حکمرانوں کے دل تمہارے حق میں بدل دوں گا''۔ یہ حکمران کہیں غیب سے نہیں آتے، انہیں ہم عوام ہی منتخب کرتے ہیں لیکن حکمرانوں کے انتخاب میں سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ ذات، برادری، قومیت، ذاتی پسند اور اندھے اجتماعی فیصلے کرتے ہیں جس سے بہتر انسان کا انتخاب ممکن نہیں رہتا۔ ہم ایک پڑھے لکھے، صاف گو اور سچے انسان کا ساتھ نہیں دیتے کہ اس نے ہمارا کوئی غلط کام نہیں کروانا۔ ہم ایسے لوگوں کو چنتے ہیں جو ہمارے سارے الٹے سیدھے کاموں کے لیے ہمارا ساتھ دے۔ قارئین جو آنکھیں بند کر کے آپ کے الٹے سیدھے کر سکتا ہے تو پھر اپنے لیے کیا کچھ کرے گا اس کا اندزہ لگانا مشکل نہیں۔ قصہ مختصر جب تک ہم بہتر انسان کو اپنا منتخب نمائندہ نہیں بنائیں گے تب تک اچھے حکمران بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ دماغوں کے بند کھڑکیاں کھولیے نہیں تو ایک کے بعد دوسرا پہلے سے بڑا قرضہ لینے والے حکمران آتے رہیں گے اور وہ ہمیں ایسی اندھی دلدل میں دھکیل دیں گے کہ جس سے باہر نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔

نوٹ قارئین کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی تیر و تفنگ اٹھا کر حملے کی اجازت دی جائے گی۔

بہت اچھا مضمون ہے۔ فرقان کی طرح میں بھی کافی
حد تک متفق ہوں۔

رہی بات جاسم کی تو@جاسم محمد ! اس مضمون کا آغاز بے شک موجودہ حکومت کے بارے میں ہے لیکن مجموعی طور پہ یہ سب حکمرانوں کے لیے ہے۔
 
Top