فکرِ نو ۔۔۔ برائے اصلاح

شاہد شاہنواز

لائبریرین
میں نے فیس بک پر "فکرِ نو" کے عنوان سے ایک پیج بنایا تھا، جس میں بہت سی شاعری شامل کی گئی تھی۔ آج غور کرتا ہوں تو اس میں سے کچھ شاعری کام کی ہے، کچھ بالکل بے کار اور کچھ قابل اصلاح بھی ہے۔ میں اس لڑی میں وقتا فوقتا اپنی شاعری پوسٹ کرتا رہوں گا اور اس پر آپ سے رائے اور اگر ممکن ہو تو اصلاح لیا کروں گا۔ تو اس سلسلے میں کی پہلی قسط اصلاح کے لیے حاضر ہے:
1)
کہتے رہے کہ ظلم ہوا اور برا ہوا
انصاف کی کسی نے مگر بات تک نہ کی
اکیسویں صدی میں ہے یہ پتھروں کا عہد
یا پتھروں کے عہد میں اکیسویں صدی؟
2)
روکنا چاہا بھی مجھ کو عشق سے تو کس جگہ
جس جگہ ہر مسکراہٹ دل کو دِہلانے لگے
اُس نے بس اِتنا کہا شاہد کچھ ان سے سیکھ لو
قبر سے مردے سبھی اُٹھ اُٹھ کے سمجھانے لگے
3)
پل پل جیتی مرتی ہے یہ پل پل سوتی جگتی ہے
دُنیا والوں کو بھی دُنیا لمحہ لمحہ ٹھگتی ہے
منظر اِتنا اُجلا کب ہے جتنا اُجلا دِکھتا ہے
اِتنی سیدھی بات کہاں ہے جتنی سیدھی لگتی ہے
(مجھے اس کی بحر بھی معلوم نہیں ، کہ کیا ہے۔۔۔)
4)
باطل کے مکر کو ہم جھٹلا رہے ہیں بے شک
حق بات کی تو مسلم تکذیب نہیں کرتے
تعمیر تو کرتے ہیں ہم اہلِ چمن گلشن
تخریب نہیں کرتے تخریب نہیں کرتے
5)
کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات
اور پھر وقت کی قیمت کیا ہے؟
حسنِ انسان کی رفعت کے لیے
رب کو فرصت کی ضرورت کیا ہے؟
6)
گر ہدایت سے دور ہوتا میں
اپنی خواہش مجھے خدا لگتی
اس کے جلووں سے جو نہ ملتی ضیا
زندگی صورتِ قضا لگتی

ممکن ہو تو یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ ان میں سے قطعات کون سے ہیں اور محض "دو شعر" کون سے؟
 
باطل کے مکر کو ہم جھٹلا رہے ہیں بے شک
حق بات کی تو مسلم تکذیب نہیں کرتے
تعمیر تو کرتے ہیں ہم اہلِ چمن گلشن
تخریب نہیں کرتے تخریب نہیں کرتے
پہلا مصرع بحر
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن میں ہے جبکہ باقی تین مصرعے
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات
اور پھر وقت کی قیمت کیا ہے؟
حسنِ انسان کی رفعت کے لیے
رب کو فرصت کی ضرورت کیا ہے؟
حسن کو س متحرک کے ساتھ باندھا ہے۔
پل پل جیتی مرتی ہے یہ پل پل سوتی جگتی ہے
دُنیا والوں کو بھی دُنیا لمحہ لمحہ ٹھگتی ہے
منظر اِتنا اُجلا کب ہے جتنا اُجلا دِکھتا ہے
اِتنی سیدھی بات کہاں ہے جتنی سیدھی لگتی ہے
(مجھے اس کی بحر بھی معلوم نہیں ، کہ کیا ہے۔۔۔)
بحر ہندی ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات
ممکن ہے فاعلاتن فعلاتن فعلن کے طور پر ہو۔ اکثر بتدیان اان دونوں (یعنی فاعلاتن مفاعلن فعلن) کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔۔

حق بات کی تو مسلم تکذیب نہیں کرتے
پہلا ٹکڑا مفعول فاعلاتن کے وزن پر ہو گیا ہے مفعول مفاعیلن نہیں۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
پہلا مصرع بحر
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن میں ہے جبکہ باقی تین مصرعے
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
حسن کو س متحرک کے ساتھ باندھا ہے۔
بحر ہندی ہے۔

کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات
ممکن ہے فاعلاتن فعلاتن فعلن کے طور پر ہو۔ اکثر بتدیان اان دونوں (یعنی فاعلاتن مفاعلن فعلن) کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔۔
حق بات کی تو مسلم تکذیب نہیں کرتے
پہلا ٹکڑا مفعول فاعلاتن کے وزن پر ہو گیا ہے مفعول مفاعیلن نہیں۔
کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات
اس کے چاروں مصرعے فاعلاتن فعلاتن فعلن کے طو ر پر ہی دیکھے تھے۔ ۔کیا اس بحر کے اعتبار سے چاروں درست ہیں؟
اسی طرح:
باطل کے مکر کو ہم جھٹلا رہے ہیں بے شک ۔۔
اگر اس کا تجزیہ میں aruuz.com کی مدد سے کروں تو دو نوں نتائج سامنے آتے ہیں۔
وہ اس طرح کہ اگر واحد یہی مصرع تقطیع کے لیے دیا جائے تو آپ کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ یہ مفعول فاعلاتن ہے۔ لیکن باقی کے تین اس کے ساتھ کردوں تو وہ چاروں کی ایک ہی بحر بتاتا ہے یعنی مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن۔
گویا یہاں ویب سائٹ کا انجن بھی میری ہی طرح سوچ رہا ہے کہ یہ مصرع دونوں طرح ٹھیک ہے، جو بعض جگہ تو ممکن ہوتا ہے، اکثر نہیں ہوسکتا۔
یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ہم کس اصول کی بناء پر یہ فیصلہ کریں کہ اس کی بحر مفعول فاعلاتن ہے، مفعول مفاعیلن نہیں ہے؟
یہی سوال برادر@مزمل شیخ بسمل کے لیے بھی ہے، اور @سیّد ذیشان کے لیے بھی، تاکہ اگر ویب سائٹ میں کوئی مسئلہ ہے تو اس کو بھی درست کر لیا جائے۔
 
کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات
اس کے چاروں مصرعے فاعلاتن فعلاتن فعلن کے طو ر پر ہی دیکھے تھے۔ ۔کیا اس بحر کے اعتبار سے چاروں درست ہیں؟
اسی طرح:
باطل کے مکر کو ہم جھٹلا رہے ہیں بے شک ۔۔
اگر اس کا تجزیہ میں aruuz.com کی مدد سے کروں تو دو نوں نتائج سامنے آتے ہیں۔
وہ اس طرح کہ اگر واحد یہی مصرع تقطیع کے لیے دیا جائے تو آپ کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ یہ مفعول فاعلاتن ہے۔ لیکن باقی کے تین اس کے ساتھ کردوں تو وہ چاروں کی ایک ہی بحر بتاتا ہے یعنی مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن۔
گویا یہاں ویب سائٹ کا انجن بھی میری ہی طرح سوچ رہا ہے کہ یہ مصرع دونوں طرح ٹھیک ہے، جو بعض جگہ تو ممکن ہوتا ہے، اکثر نہیں ہوسکتا۔
یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ہم کس اصول کی بناء پر یہ فیصلہ کریں کہ اس کی بحر مفعول فاعلاتن ہے، مفعول مفاعیلن نہیں ہے؟
یہی سوال برادر@مزمل شیخ بسمل کے لیے بھی ہے، اور @سیّد ذیشان کے لیے بھی، تاکہ اگر ویب سائٹ میں کوئی مسئلہ ہے تو اس کو بھی درست کر لیا جائے۔
کچھ نہیں اس کے حسن کی اوقات

حسن کی جگہ فاع لکھ کر دیکھیں۔

باطل کے مکر کو ہم

یہاں بھی مکر کی جگہ فاع لکھ کر دیکھیں۔

یہ الفاظ بر وزن فعل بھی مستعمل ہیں لیکن تب ان کے معانی بدل جاتے ہیں۔
مصرع
حق بات کی تو مسلم تکذیب نہیں کرتے

میرے خیال سے درست ہے
حق بات:مفعول
کِ تو مسلم : مفاعیلن
تکذیب: مفعول
نہیں کرتے: مفاعیلن
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
صرف نمبر 4 اور 5 میں غلطی پائی گئی۔۔۔
گویا ۔۔۔باقی کے اشعار کو درست سمجھا جائے؟
1)
کہتے رہے کہ ظلم ہوا اور برا ہوا
انصاف کی کسی نے مگر بات تک نہ کی
اکیسویں صدی میں ہے یہ پتھروں کا عہد
یا پتھروں کے عہد میں اکیسویں صدی؟
2)
روکنا چاہا بھی مجھ کو عشق سے تو کس جگہ
جس جگہ ہر مسکراہٹ دل کو دِہلانے لگے
اُس نے بس اِتنا کہا شاہد کچھ ان سے سیکھ لو
قبر سے مردے سبھی اُٹھ اُٹھ کے سمجھانے لگے
3)
پل پل جیتی مرتی ہے یہ پل پل سوتی جگتی ہے
دُنیا والوں کو بھی دُنیا لمحہ لمحہ ٹھگتی ہے
منظر اِتنا اُجلا کب ہے جتنا اُجلا دِکھتا ہے
اِتنی سیدھی بات کہاں ہے جتنی سیدھی لگتی ہے
(مجھے اس کی بحر بھی معلوم نہیں ، کہ کیا ہے۔۔۔)
6)
گر ہدایت سے دور ہوتا میں
اپنی خواہش مجھے خدا لگتی
اس کے جلووں سے جو نہ ملتی ضیا
زندگی صورتِ قضا لگتی
 
Top