فوجی شادی ہال کیوں چلاتے ہیں؟ جسٹس گلزار احمد

جاسم محمد

محفلین
Justice-Gulzar-Ahmed.jpg

فوجی شادی ہال کیوں چلاتے ہیں؟ جسٹس گلزار احمد
4 گھنٹے پہلے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مہنگے کمرشل علاقے میں دفاعی مقاصد کے لیے فراہم کی گئی زمین پر قائم شادی ہالز ہٹانے کے فیصلے پر فوری عمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

‏سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات ختم کرنے کے مقدمے میں عدالت نے سیکرٹری دفاع کی رپورٹ مسترد کر دی ہے ۔

عدالت نے ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹس سے تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور متعلقہ حکام کو شادی ہالز اور تجارتی مراکز گرانے کے حکم پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے کہا کہ آرمی کا شادی ہال چلانے کا کیا جواز بنتا ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آرمی کو کیا اختیار کہ سرکاری زمین کسی فرد کے حوالے کر دے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ شادی ہال کے کرائے کے پیسے شہداء کے خاندانوں کو دیے جاتے ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہمیں کیا پتہ یہ پیسے کہاں جاتے ہیں ۔ جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ ہم مزید وقت نہیں دے سکتے یہ 22 جنوری کا حکم ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت کام کرنا چاہے تو 5 منٹ لگتے ہیں، بلڈوزر پہنچ جاتے اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پتہ ہے کون کیا کررہا ہے یہ کسی ایک پلاٹ کا معاملہ نہیں، راشد منہاس کے علاقے میں فوجی زمین پر شادی ہال اور نیوی کے علاقے میں فیلکن مال بن گیا ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ سب ہٹانا پڑیں گے، فوجیوں کوکیا مسئلہ ہے کہ وہ شادی ہال بنائیں ۔

سماعت کے دوران وکیل رشید اے رضوی اور جسٹس گلزار احمد کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔

وکیل نے کہا کہ آپ کسی کو نہیں سن رہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا اختیار نہیں ۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے غلط بنا ہے توغلط ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے وکیل رشید رضوی سے کہا کہ ”میں توکہیں بھی چھپرا ڈال کر رہ لوں گا، یہ ریٹائرڈ کرنل کون ہیں جو این او سی جاری کررہے ہیں ۔“

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آرمی اتھارٹی سرکاری زمین کسی پرائیوٹ شخص کو کیسے دے سکتی ہے، جو دستاویزات پیش کررہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔

وکیل رشید رضوی نے کہا کہ آپ کور ہیڈ کوارٹر کو نوٹس کردیں ۔ رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ 72 سالہ تاریخ میں تو کسی نے نہیں پوچھا ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چلیں آج تاریخ بدلتے ہیں ۔
 

جان

محفلین
Justice-Gulzar-Ahmed.jpg

فوجی شادی ہال کیوں چلاتے ہیں؟ جسٹس گلزار احمد
4 گھنٹے پہلے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مہنگے کمرشل علاقے میں دفاعی مقاصد کے لیے فراہم کی گئی زمین پر قائم شادی ہالز ہٹانے کے فیصلے پر فوری عمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

‏سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات ختم کرنے کے مقدمے میں عدالت نے سیکرٹری دفاع کی رپورٹ مسترد کر دی ہے ۔

عدالت نے ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹس سے تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور متعلقہ حکام کو شادی ہالز اور تجارتی مراکز گرانے کے حکم پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے کہا کہ آرمی کا شادی ہال چلانے کا کیا جواز بنتا ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آرمی کو کیا اختیار کہ سرکاری زمین کسی فرد کے حوالے کر دے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ شادی ہال کے کرائے کے پیسے شہداء کے خاندانوں کو دیے جاتے ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہمیں کیا پتہ یہ پیسے کہاں جاتے ہیں ۔ جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ ہم مزید وقت نہیں دے سکتے یہ 22 جنوری کا حکم ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت کام کرنا چاہے تو 5 منٹ لگتے ہیں، بلڈوزر پہنچ جاتے اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پتہ ہے کون کیا کررہا ہے یہ کسی ایک پلاٹ کا معاملہ نہیں، راشد منہاس کے علاقے میں فوجی زمین پر شادی ہال اور نیوی کے علاقے میں فیلکن مال بن گیا ہے ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ سب ہٹانا پڑیں گے، فوجیوں کوکیا مسئلہ ہے کہ وہ شادی ہال بنائیں ۔

سماعت کے دوران وکیل رشید اے رضوی اور جسٹس گلزار احمد کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔

وکیل نے کہا کہ آپ کسی کو نہیں سن رہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا اختیار نہیں ۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے غلط بنا ہے توغلط ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے وکیل رشید رضوی سے کہا کہ ”میں توکہیں بھی چھپرا ڈال کر رہ لوں گا، یہ ریٹائرڈ کرنل کون ہیں جو این او سی جاری کررہے ہیں ۔“

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آرمی اتھارٹی سرکاری زمین کسی پرائیوٹ شخص کو کیسے دے سکتی ہے، جو دستاویزات پیش کررہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔

وکیل رشید رضوی نے کہا کہ آپ کور ہیڈ کوارٹر کو نوٹس کردیں ۔ رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ 72 سالہ تاریخ میں تو کسی نے نہیں پوچھا ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چلیں آج تاریخ بدلتے ہیں ۔
زبردست۔ عوام بھی ایسی ہی ہو جائے پاکستان کی تو کیا ہو نہیں سکتا۔
 

جاسم محمد

محفلین
معزز جج صاحب کو تمغہ غداری سے نہیں نوازا گیا ابھی تک؟

کیا پتہ میں بھی شہید ہوجاؤں یا مارا جاؤں، جسٹس گلزار احمد
ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
1662233-justicegulzarahmed-1557401164-113-640x480.jpg

ہم تو پیدا ہی شہید ہونے کے لیے ہوئے ہیں، جسٹس گلزار احمد فوٹو:فائل

کراچی میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے دلچسپ ریمارکس دیے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کراچی میں پارکس اور کھیل کے میدانوں پر قبضہ کرکے شہیدوں کے نام کردیے گئے۔ اس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ شہید کا تو بڑا رتبہ ہوتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہاں شہدا کا بڑا رتبہ ہوتا ہے، ہم شہیدوں میں نمبر ون ہیں کیا پتہ میں بھی شہید ہوجاؤں یا مارا جاؤں۔ تو اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ شہید کیلئے تو بڑی سخت شرائط ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے میں مارا جاؤں تو شہید نہیں ہوں گا؟، ہم تو پیدا ہی شہید ہونے کے لیے ہوئے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد کے جملے پر کمرہ عدالت کشت زعفران بن گیا۔

فاضل جج کا میئر کراچی وسیم اختر سے بھی معنی خیز مکالمہ ہوا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ڈرائیو ان سینما ختم کردیا گیا آپ نے نہیں روکا، اس جگہ پر اتنا بڑا پلازہ بن گا کہ اب سانس لینا بھی مشکل ہے، میئر صاحب آگے آجائیں۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ جوہر میں مال میں آگ لگی رہائشی علاقہ ہونے سے سانس لینے میں مشکلات ہوئی، مجھے بھی ایسی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ جب ہی آپ نے اپنا سیاسی جنازہ نکال لیا ہے۔
 

جان

محفلین
کراچی میں پارکس اور کھیل کے میدانوں پر قبضہ کرکے شہیدوں کے نام کردیے گئے۔
افسوس اس قوم پر جو مذہب کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ناجائز ہر حال میں ناجائز ہی رہے گا چاہے اس پر مسجد ہی کیوں نہ بنا دی جائے۔
 
Top