( فاعلن مفاعیلن )

رہبروں کی شکلوں میں،
رہزنوں کی کثرت تھی،
بد گماں کِیا مجھ کو،
رہبَری سے اپنوں کی۔

رہزنی کا تو خدشہ،
ہر وقَت ہی منڈلایا،
چھانتا بھی گر (میں) سانپ
آستیں سے کِتنوں کی۔

مَر کے بھی نہ مِٹ پائے،
حق پہ جاں بحَق جو تھے،
قاتلوں کو ہیبت تھی،
وحشتوں سے سپنوں کی۔

چل پڑا تھا جوں جوں میں،
راہِ حق بجانب تو،
زور بڑھ ہی جاتا تھا،
سمتِ شر سے رقنوں کی۔

کیا سکوں ملے عَاصِمؔ،
گِھر گیا ہوں سازش سے،
کیا گِلہ ہو غیروں سے،
زَخم سہہ کے اپنوں کی۔
_________________________

کچھ ہے زینتِ دنیا،
کچھ ہے منصبی دھوکا،
سب عیاں تھے طبقے پر،
اولین قَرنوں کی۔

ہر صَحابی غازی تھے،
یا شہید اکثر تھے،
رہ گئی جواںمردی،
آج ہو کے دھرنوں کی۔

کیا ہے وجہۂِ بربادی،
صاحبِ امن ہی کی،
کیوں پڑی ہے یہ امّت،
لذّتوں میں مَٹنوں کی۔

کیوں ہے زینتِ طاقاں،
دھول میں لدی قُرآں،
کیوں بنی تیری دنیا،
کمپيوٹر کے بَٹنوں کی۔

چھوڑ غیر کا دَر اب،
جوڑ پھر سے ناطئہِ رب،
محسنِ زمانہ بن،
کاٹ جڑ کو فِتنوں کی۔
 

یاسر شاہ

محفلین
بھائی عاصم السلام علیکم !

آپ کی نظم اپنی درست جگہ پر نہیں لہٰذا اساتذہ کی توجہ نہ حاصل کر پائی -بہر حال آپ کی یہ کوشش مثبت خیالات کی ترجمان ہے ' لائق تحسین ہے - قوافی جو آپ نے باندھے ہیں یعنی :اپنوں 'سپنوں 'دھرنوں ' قرنوں وغیرہ جائز نہیں البتہ باتوں' شکلوں'اپنوں وغیرہ قوافی کی گنجائش ہے -چونکہ قوافی کا تقرر تخلیق کی ابتدا میں ہوتا ہے چنانچہ آپ پہلے بند کو کچھ اس طرح کی شکل دے کر قوافی کی راہ اپنے لئے کشادہ کر سکتے ہیں :

نقل رہزنوں نے کی (مصرعہ مثال کے طور پہ پیش کیا ہے -بہتر آپ سوچ سکتے ہیں )
رہبروں کی شکلوں کی
بد گماں کِیا مجھ کو،
رہبَری سے اپنوں کی

اب آپ میری ناقص رائے کی حد تک مذکورہ بالا ہر قافیہ آگے باندھ سکتے ہیں-یعنی موجودہ اپنے قوافی کو برقرار بھی رکھ سکتے ہیں تاہم مٹنوں 'بٹنوں وغیرہ قوافی نہ ہی باندھیں تو اچھا -

آپ کی نظم میں سرخ رنگ سے وزن کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور نیلے رنگ سے زبان و بیان کی غلطیوں کی -انہیں درست کر لیجئےگا -یہ بند پسند آیا :

ہر صَحابی غازی تھے،
یا شہید اکثر تھے،
رہ گئی جواںمردی،
آج ہو کے دھرنوں کی۔

خوب-ما شاء اللہ -اللھمّ زد فزد
 

یاسر شاہ

محفلین
( فاعلن مفاعیلن )

رہبروں کی شکلوں میں،
رہزنوں کی کثرت تھی،
بد گماں کِیا مجھ کو،
رہبَری سے اپنوں کی۔

رہزنی کا تو خدشہ،
ہر وقَت ہی منڈلایا،
چھانتا بھی گر (میں) سانپ
آستیں سے کِتنوں کی۔

مَر کے بھی نہ مِٹ پائے،
حق پہ جاں بحَق جو تھے،
قاتلوں کو ہیبت تھی،
وحشتوں سے سپنوں کی۔

چل پڑا تھا جوں جوں میں،
راہِ حق بجانب تو،
زور بڑھ ہی جاتا تھا،
سمتِ شر سے رقنوں کی۔

کیا سکوں ملے عَاصِمؔ،
گِھر گیا ہوں سازش سے،
کیا گِلہ ہو غیروں سے،
زَخم سہہ کے اپنوں کی۔
_________________________

کچھ ہے زینتِ دنیا،
کچھ ہے منصبی دھوکا،
سب عیاں تھے طبقے پر،
اولین قَرنوں کی۔

ہر صَحابی غازی تھے،
یا شہید اکثر تھے،
رہ گئی جواںمردی،
آج ہو کے دھرنوں کی۔

کیا ہے وجہۂِ بربادی،
صاحبِ امن ہی کی،
کیوں پڑی ہے یہ امّت،
لذّتوں میں مَٹنوں کی۔

کیوں ہے زینتِ طاقاں،
دھول میں لدی قُرآں،
کیوں بنی تیری دنیا،
کمپيوٹر کے بَٹنوں کی۔

چھوڑ غیر کا دَر اب،
جوڑ پھر سے ناطئہِ رب،
محسنِ زمانہ بن،
کاٹ جڑ کو فِتنوں کی۔
 
بھائی عاصم السلام علیکم !

آپ کی نظم اپنی درست جگہ پر نہیں لہٰذا اساتذہ کی توجہ نہ حاصل کر پائی -بہر حال آپ کی یہ کوشش مثبت خیالات کی ترجمان ہے ' لائق تحسین ہے - قوافی جو آپ نے باندھے ہیں یعنی :اپنوں 'سپنوں 'دھرنوں ' قرنوں وغیرہ جائز نہیں البتہ باتوں' شکلوں'اپنوں وغیرہ قوافی کی گنجائش ہے -چونکہ قوافی کا تقرر تخلیق کی ابتدا میں ہوتا ہے چنانچہ آپ پہلے بند کو کچھ اس طرح کی شکل دے کر قوافی کی راہ اپنے لئے کشادہ کر سکتے ہیں :

نقل رہزنوں نے کی (مصرعہ مثال کے طور پہ پیش کیا ہے -بہتر آپ سوچ سکتے ہیں )
رہبروں کی شکلوں کی
بد گماں کِیا مجھ کو،
رہبَری سے اپنوں کی

اب آپ میری ناقص رائے کی حد تک مذکورہ بالا ہر قافیہ آگے باندھ سکتے ہیں-یعنی موجودہ اپنے قوافی کو برقرار بھی رکھ سکتے ہیں تاہم مٹنوں 'بٹنوں وغیرہ قوافی نہ ہی باندھیں تو اچھا -

آپ کی نظم میں سرخ رنگ سے وزن کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور نیلے رنگ سے زبان و بیان کی غلطیوں کی -انہیں درست کر لیجئےگا -یہ بند پسند آیا :

ہر صَحابی غازی تھے،
یا شہید اکثر تھے،
رہ گئی جواںمردی،
آج ہو کے دھرنوں کی۔

خوب-ما شاء اللہ -اللھمّ زد فزد



جزاک اللہ۔۔۔
 
Top