فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن برائے اصلاح

فیضان قیصر

محفلین
صبح ہوگئی ہے اب اسکو رات کرنا ہے
روز کی اذِیت سے آج پھر گزرنا ہے

آپ کو محبت ہونے لگی ہے مجھ سے جاں
آپ کو بھی کیا میری طرح سے بکھرنا ہے

حیف! اسکی قسمت میں ہے خزاں کی ویرانی
آمدِ بہاراں پر جو بھی گل نکھرنا ہے

عشق میں تمھاری ناکامی کی سزا یہ ہے
روز تم کو جینا ہے روز تم کو مرنا ہے

فیض آپ پاسکتے ہیں جنابِ ملّا سے
بس وہی نہ کیجئے جو وہ کہے کہ کرنا ہے

گھر چلو خدارا فیضان بات کو سمجھو
اس طرح سے سردی میں کیا ٹھٹر کے مرنا ہے
 

الف عین

لائبریرین
ایک بات یہ گرہ میں باندھ لو کہ جو بحر دو ٹکڑوں میں ہو، اس کی تقطیع کرتے وقت خیال رہے کہ کوئی لفظ بلکہ بہتر ہو کہ کوئی فقرہ درمیان میں نہ ٹوٹے۔ ایک یک حصے میں بات مکمل ہو جائے۔
فاعلن مفاعیلن دو بار میں ہر بار اسی طرح بات مکمل ہو جائے تو بہتر ہے۔
مطلع درست ہے۔ لیکن اس کے بعد دوسرے ہی شعر میں ہو ۔ نے ، لفظ ٹوٹ گیا ہے۔
تیسرے شعر میں میں، ہے‘ میں فقرہ ٹوٹتا ہے۔
چوتھے شعر میں ’ناکامی‘ لفظ ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
پانچویں کے دونوں مصرعوں میں فقرہ تقسیم ہو رہا ہے۔
مقطع میں تخلص ہی فیض، اور آن میں ٹوٹ گیا ہے۔
 

فیضان قیصر

محفلین
ایک بات یہ گرہ میں باندھ لو کہ جو بحر دو ٹکڑوں میں ہو، اس کی تقطیع کرتے وقت خیال رہے کہ کوئی لفظ بلکہ بہتر ہو کہ کوئی فقرہ درمیان میں نہ ٹوٹے۔ ایک یک حصے میں بات مکمل ہو جائے۔
فاعلن مفاعیلن دو بار میں ہر بار اسی طرح بات مکمل ہو جائے تو بہتر ہے۔
مطلع درست ہے۔ لیکن اس کے بعد دوسرے ہی شعر میں ہو ۔ نے ، لفظ ٹوٹ گیا ہے۔
تیسرے شعر میں میں، ہے‘ میں فقرہ ٹوٹتا ہے۔
چوتھے شعر میں ’ناکامی‘ لفظ ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
پانچویں کے دونوں مصرعوں میں فقرہ تقسیم ہو رہا ہے۔
مقطع میں تخلص ہی فیض، اور آن میں ٹوٹ گیا ہے۔
بہت شکریہ جناب بہت ہی اچھی بات سکھائی آپ نے آج۔ یعنی اس شکل میں یہ اشعار قابلِ قبول نہیں سمجھے جائیں ؟
 
Top