اقتباسات غلام بھیک نیرنگ کی کتاب " اقبال کے بعض حالات " سے اقتباس

سید زبیر

محفلین
غلام بھیک نیرنگ کی کتاب " اقبال کے بعض حالات " سے اقتباس​
" ۱۹۰۵ کے موسم گرما میں اقبال نے مزید تعلیم کے لیے انگلستان جانے کا ارادہ کیا ۔انہوں نے اپنی روانگی کی تاریخ مجھ کو لکھ دی تھی اور یہ طے ہوگیا تھا کہ میں ان کو خدا حافظ کہنے کے لیے دہلی میں ملوں گا ا اتفاق کی بات کہ دہلی میں ان سے ملنے کی جو تاریخ تھی س سے پہلے روز شملہ میں میرا ایک مقدمہ برائے سماعت مقرر تھا ۔اس وقت تک شملہ اور کالکا کے درمیان ریل نہ تھی ۔محکمہ ڈاک کے انتظام سے دو اسپہ تانگے چلا کرتے تھے مسافر انھی تانگوں میں آیا جایا کرتے تھے ، لیکن مسافروں کے تانگے صرف دن میں چلا کرتے تھے ڈاک کا تانگہ شام کے چھے بجے شملہ سے روانہ ہو کر کالکا تک کا دوتہائی یا نصف راستہ بعد غروب آفتاب طے کرتا تھا اور پہاڑ کی سڑک پر رات کا یہ سفر جس میں گھوڑے ڈاک کو بروقت پہنچانے کے لیے فروٹ جاتے تھے خطرناک سمجھا جاتا تھا اس لیے اگر کوئی مسافر ڈاک کے تانگے میں سفر کرنا چاہتا تھا تو اس سے مطبوعہ اقرار نامے پر دستخط کرائے جاتے تھے جس کا مضمون یہ تھا کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے گا تو گورنمنٹ کسی ضرر جسمانی یا نقصان جان کا ہرجانہ ادا کرنے کی ذمہ دار نہ ہوگی۔ میں اس روز عدالت کے کام کی وجہ سے دن کے تانگے میں سفر نہیں کر سکتا تھا مگر اقبال سے ملنے کے لیے دہلی اسی شام کو جانا ضروری تھا اس لیے میں نے اس اقرار نامے پر دستخط کردئیے اور عدالت میں اپناکام ختم کرنے کے بعد ڈاک کے تانگے میں کالکا روانہ ہوگیا شائد آدھا ہی راستہ طے ہوا تھا کہ سورج چھپ گیا اور تھوڑی ہیدیر میں بالکل اندھیرا ہو گیا جب کالکا تین چار میل رہ گیا تو ایک جگہ کھیت میں آگ جلتی دیکھ کر گھوڑے چمکے اور بے قابو ہو کر تانگے کو سڑک کے دائیں جانب کو لے چلے آگے ایک چھوٹا سا پل تھا ایک پہیہ اس کی سینڈھ پر چڑھ گیا اور تانگہ الٹ گیا ، بم ٹوٹ گیا گھوڑوں کی راسیں ڈرائیور کے ہاتھ سے چھوٹ گئیں اور تانگے کو وہیں چھوڑ کر ٹوٹے ہوئے بم کے ساتھ جتے ہوئے گھوڑے ہوا ہو گئے ڈاک کے تھیلے سڑک پر پھیل گئے ڈرائیور کو چوٹ آئی اور سواریوں کو بھی چوٹ آئی چنانچہ میرا بھی گھٹنا چھل گیا اور خون جاری ہو گیا ۔ یہ سب کچھ ہوا مگر اس وقت سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اب دہلی جانے کے لیے ریل کیونکر ملے گی آدھ گھنٹے کے بعد کالکا کی طرف سے بگل سنائی دیا اور اس سے چند منٹ بعد ایک خالی تانگہ آن پہنچا داک کے تھیلوں اور سواریوں کو لیکر اس دوسرے تانگے والے نے ڈاک گاڑی کے چلنے سے پیشتر کالکا کے اسٹیشن پہنچا دیا اور سب نے خدا کا شکر ادا کیا چنانچہ اپنا زخمی گھٹنا لیے ہوئے میں حسب وعدہ دہلی پہنچ گیا اور حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی (قدس سرہ) کے آستانے پر حاضر ہوگیا ۔ وہاں اقبال مل گئے ان کے ساتھ شیخ نذر محمد بی اے اسسٹنٹ انسپیکٹر مدارس تھے جو اقبال سے بے حد محبت کرتے تھے اقبال اور شیخ صاحب موصوف خواجہ حسن نظامی کے مہمان تھے ۔ دہلی میں اقبال کے ٹھہرنے کا مقصد یہ تھا کہ حصول برکت کے لیے حضرت محبوب الٰہی کے مزار شریف پر حاضری دی جائے اور التماس دعا کی جائے چنانچہ اقبال حاضر ہوئے ہم لوگ ہمراہ تھے اقبال نے حضرت محبوب الٰہی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک نظم پڑھی جو بانگ درا میں التجائے مسافر کے نام سے شائع ہوئی ایک اور نظم بھی اس وقت پڑھی تھی جس کا صرف یہ مصرعہ یاد ہے ' لاج رکھ لینا میں اقبال کا ہم نام ہوں ' اس مصرع میں خواجہ اقبال کی طرف اشارہ تھا جو حضرت محبوب الٰہی کے خادم تھے اور اس وقت اس تلمیح کا خاص لطف اٹھایا گیا تھا مگر اب وہ دو بسری نظم بانگ درا سےغائب ہے شائد بعد میں غور کرنے پر اقبال نے اس کو معیار سے فروتر قراردیا ہو اور شائع کرنا مناسب نہ سمجھا ہو "​
 

تلمیذ

لائبریرین
بہت خوبصورت اقتباس ہے،سید زبیر صاحب۔ جزاک اللہ۔
اگر آپ نے جناب راشد اشرف کی پوسٹ کردہ حالیہ کتاب 'اقبال کے چند جواہر ریزے' ڈاؤن لوڈ نہیں کی تو براہ کرم ضرور کریں، آپ کواس میں علامہ صاحب کی زندگی سے متعلق ایسے حالات وواقعات پڑھنے کو ملیں گے جن میں سے بعض آپ کے لئے بھی شاید نئے ہوں۔
 

سید زبیر

محفلین
بہت خوبصورت اقتباس ہے،سید زبیر صاحب۔ جزاک اللہ۔
اگر آپ نے جناب راشد اشرف کی پوسٹ کردہ حالیہ کتاب 'اقبال کے چند جواہر ریزے' ڈاؤن لوڈ نہیں کی تو براہ کرم ضرور کریں، آپ کواس میں علامہ صاحب کی زندگی سے متعلق ایسے حالات وواقعات پڑھنے کو ملیں گے جن میں سے بعض آپ کے لئے بھی شاید نئے ہوں۔
جزاک اللہ ، سر! ابھی دیکھتا ہوں
 
Top