غزل ۔ دل دیا ہے تو پھر اتنا کر دے ۔ چوہدری محمد علی مضطر عارفی

محمداحمد

لائبریرین
کچھ عرصہ پہلے فاتح بھائی نے چوہدری محمد علی مضطر عارفی کی دو غزلیں پسندیدہ کلام میں پیش کی تھیں ۔ جو بہت لاجواب تھیں۔ آج ویب پر ہی مضطر عارفی صاحب کی ایک غزل اور ملی ہے سوچا یہاں پیش کر دی جائے۔
​
غزل​
​
دل دیا ہے تو پھر اتنا کر دے​
اِس کو کچھ اور کشادہ کر دے​
​
بھر نہ جائے کہیں سہلانے سے​
زخم کو اور بھی گہرا کر دے​
​
کہیں ایسا نہ ہو میرا سایہ​
تیری تصویر کو دھندلا کر دے​
​
پھر پسِ پردۂ گردِ ایّام​
کوئی لمحہ نہ اشارہ کر دے​
​
میں ہوں شرمندۂ خوابِ غفلت​
مر چکا ہوں، مجھے زندہ کر دے​
​
بھول جائے نہ مرا نام مجھے​
اس کو الزام پہ کندہ کر دے​
​
فرطِ حیرت سے کہیں آئینہ​
تیری صورت کو نہ سجدہ کر دے​
​
چڑھ بھی اے آنکھ کے سچّے سورج!​
اب تو پلکوں پہ اجالا کر دے​
​
مل نہ جائے کہیں آوازوں میں​
میری آواز کو رسوا کر دے​
​
مجھ کو ڈر ہے کہ یہ میرا آنسو​
تیرے دامن کو نہ مَیلا کر دے​
​
میں تجھے دل تو دِکھا دوں مضطرؔ​
تُو اگر اس کا نہ چرچا کر دے​
​
چوہدری محمد علی مضطرؔ​
​

-
 

نایاب

لائبریرین
بہت خوب شراکت محترم احمد بھائی
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب کہا ہے
مل نہ جائے کہیں آوازوں میں​
میری آواز کو رسوا کر دے۔​
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت شکریہ احمد صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے۔
بہت خوب شراکت محترم احمد بھائی
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب کہا ہے
مل نہ جائے کہیں آوازوں میں​
میری آواز کو رسوا کر دے۔​

بہت شکریہ وارث بھائی اور نایاب بھائی۔

خوش رہیے۔
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top