غزل : کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہے - اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 25, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہے
    جو دیکھتے ہی پرندوں کی جان سُوکھتی ہے

    مجھ ایسا شخص اگر تشنگیِ اہلِ وفا
    رقم کرے تو قلم کی زبان سُوکھتی ہے

    تری نگہ کی نمی مجھ تک آئے بھی کیسے !
    ہَوا کی سانس کہیں درمیان سُوکھتی ہے

    چمک دمک ہے ، مہک ہے مری ذرا کی ذرا
    لہو کی لہر ہے ، سو کوئی آن سُوکھتی ہے

    یہ اور بات کہ پہلے ہو اَبر سے سیراب
    مگر زمین سے پہلے چٹان سُوکھتی ہے
    اختر عثمان
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 26, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,853
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اس مصرع میں ٹائپو ہے شاید۔ الف زاید کو حذف کردیجیے۔

    یہ اور بات کہ پہلے ہو ابر سے سیراب


    کیا خوب صورت غزل ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر