غزل : کنایہ کار کوئی چشم ِ نیلگوں ہے کہ یوں ۤ۔ اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 16, 2019 11:17 صبح

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,040
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    کنایہ کار کوئی چشمِ نیلگوں ہے کہ یوں
    ہمیں شعور کہاں تھا، حیات یوں ہے، کہ یوں

    جو گِرد باد تھے اب ہیں وہ خاک اُفتاده
    ہوائے دشت صدا زن ہے، یوں سکوں ہے، کہ یوں

    خِرد شعار زمانے کا طرز اپنی جگہ
    ہمیں کچھ اور غرض ہے، ہمیں جنوں ہے کہ یوں

    لہو میں یوں تو لہکتی نہیں ہے کیا کیا لہر
    مگر جو ایک تقاضائے اندروں ہے کہ یوں

    عطائے علم کا یہ قرض کس طرح چُکتا
    سرِ ادب ہے خمیدہ، قلم نگوں ہے کہ یوں

    جہت، جہت کئی معنٰی کھلے تو باغ ہنسا
    نگارِ گُل نے کہا یہ عجب فسوں ہے، کہ یوں

    کہا کہ کیسے بیاں ہوں چراغ و خیمہ و خواب
    دریدہ سینۂ گُل ، دیدہ پُر ز خوں ہے، کہ یوں

    اگر قرینۂ تابندگی نہیں اخترؔ
    تو پِھرجواز ہے کیا اور ضد ہی کیوں ہے، کہ یوں

    اختر عثمان
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏مئی 18, 2019 12:26 شام
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    283
    جھنڈا:
    Pakistan
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,040
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    شکرگزار ہوں منذر رضا صاحب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,839
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    اسے دیکھ لیجیے، ٹائپ درست نہیں ہوا شاید۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر