عزیز حامد مدنی غزل : صورتِ زنجیر موجِ خوں میں اک آہنگ ہے - عزیز حامد مدنی

غزل
صورتِ زنجیر موجِ خوں میں اک آہنگ ہے
آگہی کی حد پہ اک خوابِ جنوں سے جنگ ہے

جانے کن چہروں کی لو تھی جانے کس منظر کی آگ
نیند کا ریشم دھواں ہے خوابِ شعلہ رنگ ہے

اک جنوں خانے میں خود کو ڈھونڈتا ہے آدمی
خود طوافی میں بھی خود سے سیکڑوں فرسنگ ہے

طوقِ آہن سے گلوئے عشق میں تارِ حریر
شاخِ گل دستِ شقی میں ہو تو چوبِ سنگ ہے

ساکنانِ دہر ملتی ہے کہیں ایسی مثال
کیا نشہ آنکھوں میں ہے ، کیا قد ہے ، کیسا رنگ ہے

مار و کژدم سے بیاباں زاد تحریریں ہیں پُر
موجِ معنی گم ہوئی ریگِ رواں فرہنگ ہے

آگ کو گلزار کر دے اس دعا کا وقت ہے
ورنہ خوئے آدمیت آدمی پر ننگ ہے

بوئے گل رخصت ہوئی شاید یہ ہو ختمِ بہار
ٹوٹتی لَے میں بکھرتی صوتِ شب آہنگ ہے

ایک مرکز پر ضدیں یک جا ہیں اور گردش میں ہیں
یہ زمانے کا تغیر عالمِ نیرنگ ہے
عزیز حامد مدنی
 
Top