1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

غزل : دربدری کا دور ہے ، حرفِ سخن سرا میں رہ - اختر عثمان

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 21, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,095
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    دربدری کا دور ہے ، حرفِ سخن سرا میں رہ
    معنی و مدعا میں جی ، رقص و رَمِ صبا میں رہ

    شیشۂ تاکِ تازہ میں موج ِ مئے ہنر کہاں
    کہنہ خُمار میں اتر ، نشّۂ پیش پا میں رہ

    روشنی اور تیرگی دَور بہ دَور ساتھ ہیں
    وقتِ نبود و بُود ہے ، لمحۂ سُرمہ سا میں رہ

    نام و نمود کی ہوَس خوب سہی پہ تا بہ کے
    خود میں کوئی صدا لگا ، کوچۂ اکتفا میں رہ

    پیرہنِ بقا سخن ، طعنہ زنِ فنا سخن
    تا نہ ورق بنے کفن ، نکہتِ گُل ! قبا میں رہ

    اوّل و آخر ایک ہیں ، مست الست ایک سے
    خواہشِ انتہا جھٹک ، لذّتِ ابتدا میں رہ

    وہ جو کہیں رہٹ پہ تھی جی کی مہیب سائیں سائیں
    اے دِل اُسی فضا میں رو ، اے دِل اُسی ہَوا میں رہ

    کنجِ وفا شعار میں خوئے ہوَس کہیں نہیں
    شاخِ جنوں پہ پھُول پھل ، میرے دل و دعا میں

    اخترِؔ سوختہ نفس اور کوئی جگہ نہیں
    طیبہ و کعبہ سے نکل کوفہ و کربلا میں رہ
    اختر عثمان
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. عباد اللہ

    عباد اللہ محفلین

    مراسلے:
    1,264
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    :redheart::redheart::redheart:
     

اس صفحے کی تشہیر