غزل برائے اصلاح

مانی عباسی

محفلین
سرخ آنکھیں خشک لب اور چہرے پیلے سے ہیں​
یعنی یہ سب لوگ فرقت کے قبیلے سے ہیں​

گاؤں کی اک لڑکی نے جب سے پیا ہے پانی​
میرے گاؤں کے سب چشمے نشیلے سے ہيں​

مشترک اک شہ تو ہے دونوں کی تصویروں میں​
میری ٹائی نیلی ،تیرے کپڑے نیلے سے ہيں​

ہجر کا طوفان ہستی ہی مٹا ڈالے گا​
میری آنکھیں صحرا ہیں اور خواب ٹیلے سے ہیں۔​

چودھویں کا چاند شاید رو رہا ہے مانی​
سب ستارے(سارے تارے) اس لیے تو گیلے گیلے سے ہیں​
 

شکیب

محفلین
غزل میں وزن نہیں ہے صاحب۔ آپ پہلے وزن سیکھ لیں، بنیادی عروض ابتدا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ یہیں محفل میں کئی لڑیاں وزن سیکھنے کی موجود ہیں۔ آسی صاحب کی آسان عروض کے دس اسباق وغیرہ کتابیں بھی ہیں۔ آگے اللہ اللہ خیر صلا
 
غزل میں وزن نہیں ہے صاحب۔ آپ پہلے وزن سیکھ لیں، بنیادی عروض ابتدا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ یہیں محفل میں کئی لڑیاں وزن سیکھنے کی موجود ہیں۔ آسی صاحب کی آسان عروض کے دس اسباق وغیرہ کتابیں بھی ہیں۔ آگے اللہ اللہ خیر صلا

یہ وہی مانی صاحب ہیں جن کی غزلوں کو اعجاز عبید صاحب نے استادانہ قرار دیا تھا۔ اردو محفل سالانہ مشاعرے میں۔
 

شکیب

محفلین
مجھ سے تو پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔
عروض کی رو سے
پہلا مصرع: فاعلن مفاعلن فاعلن مفاعلان
دوسرا: مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن
دوسرا شعر: تھوڑے سے فرق کے ساتھ بحرِ ہندی
چوتھے شعر کا دوسرا مصرع: فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلا
ٹائی والا شعر مصرع اول: فاعلاتن فاعلن فاعلاتن فاعلن
یہ وہ مصرعے ہیں جو وزن میں ہیں عروض کی سائٹ کی رو سے۔
اور واضح رہے، عروض کی سائٹ ہی کی رو سے۔
 

عباد اللہ

محفلین
شاید بحر کچھ یوں ہو۔۔۔۔
"فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فعلن "
پڑھا مجھ سے بھی نہیں جا رہا البتہ تمام مصارع درست یا غلط مذکوررہ بحر میں تقطع کئے جاسکتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
غیر مستعمل بحروں میں تجربے پسند نہیں کئے جا سکتے، قابل قبول ہو سکتے ہیں اگر ان میں کچھ روانی ہو۔ یہاں روانی بھی نہیں ہے۔
 
Top