غزل برائے اصلاح "معفول مفاعلن فعولن"

ہو عشق کی جو کہانی توبہ
پھر آپ کی ہو زبانی توبہ

الفاظ کی یہ روانی توبہ
تیری شعلہ بیانی توبہ

اک تو وہ گلابی آنچل اللہ
اس پہ ہو پھر جوانی توبہ

معصوم کمال کے ہیں صاحب
اور آنکھوں میں ہو پانی توبہ

حسنِ کافر بھی خوب تھا یار
اس پہ وہ بے زبانی توبہ

ہاں کمسنی میں کمال تھی وہ
لیکن اس پہ جوانی توبہ

معلوم ہوا ہے ہم کو یہ اب
کے لڑکی تھی خاندانی توبہ


سر الف عین

 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
ایک سوال
تیری شعلہ بیانی توبہ
اس کا وزن
مفعولن فاعلن فعولن
ہے اور میری غزل مفعول مفاعلن فعولن کے وزن پر ہے تو کیا اس کو درست لیے جائے سکتا ہے
کہا جا سکتا ہے میرے خیال میں۔
یہ دوسری بات ہے کہ اس کے قافیہ ردیف میں ہی ’نی‘ کو ’نِ‘ کر دینا اچھا نہیں لگ رہا مجھے تو۔
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top