غزل برئے اصلاح (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن)

نوید ناظم

محفلین
درد شاید فزوں بھی ہو سکتا ہے اب
دیکھ ہونے کو یوں بھی ہو سکتا ہے اب

جس کے چہرے پہ خاموشی تھی دوستو
شور اس کے دروں بھی ہو سکتا ہے اب

پتھروں سے نکالے ہے فرہاد' نہر
کوئی ایسا جنوں بھی ہو سکتا ہے اب؟

کر رہے ہو ستم ہم پہ کر لو مگر
اس ستم میں سکوں بھی ہو سکتا ہے اب

زلف اب اور بھی ہو گئی ہے دراز
تجھ پہ اس کا فسوں بھی ہو سکتا ہے اب

وہ نوید آ گئے غیر کی باتوں میں
عشق کا سر نگوں بھی ہو سکتا ہے اب
 
محترم میں کوئی شاعر تو نہیں البتہ میں نے عروض کی ایک کتاب پڑھی ہے اسی کی روشنی میں عرض کرتا ہوں:
درد شاید فزوں بھی ہو سکتا ہے اب
دیکھ ہونے کو یوں بھی ہو سکتا ہے اب
مجھے یاد آ رہا ہے کہ یہ وزن بحر متدارک کا ہے، پہلے شعر کے دونوں مصرعوں میں 'بھی ہوسکتا ہے اب' کو ہُ سکتا ہے 'ہو' کے واو کو حذف کرکے پڑھنا پڑے گا تب 'فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن' کا وزن سلامت رہے گا، یہی حال تمام اشعار کے دوسرے مصرعوں کا ہے۔۔۔ مجھے یاد نہیں کہ شعرا اس طرح کی تبدیلی کو روا مانتے ہیں۔۔۔۔ نیز ان مصرعوں کو پڑھنے میں تکلف سے کام لینا ہوگا، پہلے مصرعے تقریبًا خوب ہیں۔ زبان و بیان پر تو اس میدان کے شہسوار ہی کلام کریں گے۔

یہ محض اظہار خیال ہے؛ اصلاح یا تنقید نہیں۔ میری خواہش ہے کہ مجھے بھی اس فن میں درک حاصل ہو۔
 

الف عین

لائبریرین
کمال میاں نے درست بات کی ہے، اگر عنوان میں ارکان شامل نہیں کیا جاتا تو میں سمجھتا کہ سارے اشعار وزن سے خارج ہیں
 

asifali00733

محفلین
جناب بحرِ متدارک کا رکن '' فاعلن" ہے۔ اور فاعلن کے وزن پر لانے کے لیے آپ اپنے مطلع کے مصرعوںکو اگر یوں بدل لیں تو میرا خیال ہے کہ وزن درست ہو جائے گا
درد شاید فزوں ہو بھی سکتا ہے اب
دیکھ ہونے کو یوں ہو بھی سکتا ہے اب
اس طرح شعر فاعلن کے وزن پر آ جاتا ہے ۔ جہاں تک حروف کے گرنے کی بات ہے تو، الف، و، ہ اور ی کوگرایا جا سکتا ہے
کمال صاحب نے بالکل ٹھیک فرمایا ہے، میں اُن کی تائید کرتا ہوں۔ "ہو" میں سے "واو" کو گرا دیا جائے تو بھی شعر وزن میں آ جاتا ہے؛ میری ناقص ترین رائے تو یہی ہے، باقی اہلِ نظر خوب جانتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

نوید ناظم

محفلین
جناب بحرِ متدارک کا رکن '' فاعلن" ہے۔ اور فاعلن کے وزن پر لانے کے لیے آپ اپنے مطلع کے مصرعوںکو اگر یوں بدل لیں تو میرا خیال ہے کہ وزن درست ہو جائے گا
درد شاید فزوں ہو بھی سکتا ہے اب
دیکھ ہونے کو یوں ہو بھی سکتا ہے اب

سر کیا اب غزل وزن سے خارج ہے؟
 

الف عین

لائبریرین
ہو بھی سکتا ہے اب
ردیف ہو تو درست ہو جاتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ’اب‘ زیادہ تر بھرتی کا لگتا ہے۔
 
ردیف کے بارے میں احباب نے درست فرمایا ہے۔ اصول یہ ہے کہ الفاظ کے اس مجموعے کے اندرحرفِ علت کے اسقاط کا عمل (باستثنائے ہمزہ) ناپسندیدہ ہے جو فعل کی نمائندگی کر رہا ہو۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے، کھا لے گا، رہا ہے، ہو گا وغیرہ میں علیٰ الترتیب ہو، لے، رہا اور ہو کی واؤ، یائے مجہول، الف اور واؤ کا اسقاط معیوب ہے۔ یہ عیب تب اور نمایاں ہو جاتا ہے جب اسقاط کسی دو حرفی لفظ کے اندر واقع ہو جیسا کہ آپ کے ہاں ہوا ہے۔
کسی لفظ کے اندر موجود حرف علت کو گرانا اور زیادہ فاش غلطی ہے۔ مثلاً کالا، نیزہ، چوری وغیرہ کو کلا، نزہ، چری وغیرہ کے وزن پر باندھنا۔ اکثر مبتدی یہ غلطی کرتے دیکھے گئے ہیں۔
پتھروں سے نکالے ہے فرہاد' نہر
کوئی ایسا جنوں بھی ہو سکتا ہے اب؟
زلف اب اور بھی ہو گئی ہے دراز
تجھ پہ اس کا فسوں بھی ہو سکتا ہے اب
ان دونوں اشعار کے مصرع ہائے اولیٰ محلِ نظر ہیں۔ میں پہلے بھی اسی زمرے میں عرض کر چکا ہوں کہ تسبیغ اور اذالہ سالم بحروں میں وارد نہیں ہوتے۔ مناسب ہے کہ یہ بات ذرا کھول کر بیان کر دی جائے۔
سالم اس بحر کو کہتے ہیں جس میں کسی زحاف کا عمل نہ ہوا ہو اور اس کے اصلی ارکان ہی کو استعمال میں لایا جائے۔ مثلاً ہزج سالم اپنی مثمن حالت میں (یعنی شعر میں آٹھ یا مصرعے میں چار ارکان) مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ہے۔ متدارک بھی اگر سالم ہو اور مثمن استعمال کی جائے تو اس کے ارکان فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن ہوں گے۔ سالم کے برعکس مزاحف بحر وہ ہوتی ہے جس میں کسی زحاف کا عمل ہوا ہو۔ مثلاً متدارک میں خبن کا عمل کیا جائے تو متدارک مثمن مخبون (فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن) ایک مزاحف بحر ہو گی۔
تسبیغ سادہ لفظوں میں وہ زحاف ہے جو کسی مصرعے کے آخر میں آنے والے سببِ خفیف کے متحرک اور ساکن حروف کے درمیان ایک الف کا اضافہ کر دے۔ یعنی فع کو فاع بنا دے یا اسی قسم کی تبدیلی پیدا کرے۔ ہزج میں تسبیغ ہو گی تو اس کا آخری مفاعیلن مفاعیلان ہو جائے گا۔ یعنی لُن کے لام اور نون کے درمیان ایک الف بڑھا دی جائے گی۔ اسی طرح متقارب (فعولن بتکرار) میں تسبیغ سے آخری فعولن فعولان ہو جائے گا۔
تسبیغ کے مقابل اذالہ ایک زحاف ہے جو ایسا ہی عمل وتدِ مجموع میں کرتا ہے۔ یعنی اگر کسی مصرعے کے آخر میں وتدِ مجموع موجود ہو تو اس کے دوسرے متحرک اور ساکن کے درمیان ایک الف کا اضافہ کر دیتا ہے۔ رجز (مستفعلن بتکرار) میں اذالے کا عمل آخری رکن کو مستفعلان بنا دیتا ہے اور متدارک (فاعلن بتکرار) میں آخری رکن کو فاعلان۔
اب ہے یوں کہ تسبیغ اور اذالہ کبھی اکیلے نہیں آتے۔ اگر بحر مزاحف ہو یعنی اس پر پہلے ہی کسی اور زحاف کا عمل ہو چکا ہو تبھی وارد ہوتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، سالم بحر میں اصولی طور پر آپ آخری رکن کے ساکن سے پہلے الف کا اضافہ نہیں کر سکتے۔ سالم بحر کو کسی کمی بیشی کے بغیر استعمال کرنا راجح ہے۔ اگر تسبیغ یا اذالہ کا عمل مقصود ہو تو وہ کسی اور زحاف کے عمل کے بعد ہی مناسب ہے۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو مذکورہ بالا دونوں مصرعے ناجائز ہیں۔ پہلے شعر میں نہر اور دوسرے میں دراز کا لفظ اذالے کے عمل کا تقاضا کرتے ہیں جو یہاں ممکن نہیں کیونکہ بحر سالم استعمال کی گئی ہے۔
وہ نوید آ گئے غیر کی باتوں میں
عشق کا سر نگوں بھی ہو سکتا ہے اب
پہلے مصرع کو "وہ نویدؔ آ گئے غیر کی بات میں" کر دیا جائے تو میری ناقص رائے میں زیادہ خوش گوار لگے گا۔
 
آخری تدوین:

نوید ناظم

محفلین
ردیف کے بارے میں احباب نے درست فرمایا ہے۔ اصول یہ ہے کہ الفاظ کے اس مجموعے کے رااندرحرفِ علت کے اسقاط کا عمل (باستثنائے ہمزہ) ناپسندیدہ ہے جو فعل کی نمائندگی کر رہا ہو۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے، کھا لے گا، رہا ہے، ہو گا وغیرہ میں علیٰ الترتیب ہو، لے، رہا اور ہو کی واؤ، یائے مجہول، الف اور واؤ کا اسقاط معیوب ہے۔ یہ عیب تب اور نمایاں ہو جاتا ہے جب اسقاط کسی دو حرفی لفظ کے اندر واقع ہو جیسا کہ آپ کے ہاں ہوا ہے۔
کسی لفظ کے اندر موجود حرف علت کو گرانا اور زیادہ فاش غلطی ہے۔ مثلاً کالا، نیزہ، چوری وغیرہ کو کلا، نزہ، چری وغیرہ کے وزن پر باندھنا۔ اکثر مبتدی یہ غلطی کرتے دیکھے گئے ہیں۔


ان دونوں اشعار کے مصرع ہائے اولیٰ محلِ نظر ہیں۔ میں پہلے بھی اسی زمرے میں عرض کر چکا ہوں کہ تسبیغ اور اذالہ سالم بحروں میں وارد نہیں ہوتے۔ مناسب ہے کہ یہ بات ذرا کھول کر بیان کر دی جائے۔
سالم اس بحر کو کہتے ہیں جس میں کسی زحاف کا عمل نہ ہوا ہو اور اس کے اصلی ارکان ہی کو استعمال میں لایا جائے۔ مثلاً ہزج سالم اپنی مثمن حالت میں (یعنی شعر میں آٹھ یا مصرعے میں چار ارکان) مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ہے۔ متدارک بھی اگر سالم ہو اور مثمن استعمال کی جائے تو اس کے ارکان فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن ہوں گے۔ سالم کے برعکس مزاحف بحر وہ ہوتی ہے جس میں کسی زحاف کا عمل ہوا ہو۔ مثلاً متدارک میں خبن کا عمل کیا جائے تو متدارک مثمن مخبون (فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن فَعِلُن) ایک مزاحف بحر ہو گی۔
تسبیغ سادہ لفظوں میں وہ زحاف ہے جو کسی مصرعے کے آخر میں آنے والے سببِ خفیف کے متحرک اور ساکن حروف کے درمیان ایک الف کا اضافہ کر دے۔ یعنی فع کو فاع بنا دے یا اسی قسم کی تبدیلی پیدا کرے۔ ہزج میں تسبیغ ہو گی تو اس کا آخری مفاعیلن مفاعیلان ہو جائے گا۔ یعنی لُن کے لام اور نون کے درمیان ایک الف بڑھا دی جائے گی۔ اسی طرح متقارب (فعولن بتکرار) میں تسبیغ سے آخری فعولن فعولان ہو جائے گا۔
تسبیغ کے مقابل اذالہ ایک زحاف ہے جو ایسا ہی عمل وتدِ مجموع میں کرتا ہے۔ یعنی اگر کسی مصرعے کے آخر میں وتدِ مجموع موجود ہو تو اس کے دوسرے متحرک اور ساکن کے درمیان ایک الف کا اضافہ کر دیتا ہے۔ رجز (مستفعلن بتکرار) میں اذالے کا عمل آخری رکن کو مستفعلان بنا دیتا ہے اور متدارک (فاعلن بتکرار) میں آخری رکن کو فاعلان۔
اب ہے یوں کہ تسبیغ اور اذالہ کبھی اکیلے نہیں آتے۔ اگر بحر مزاحف ہو یعنی اس پر پہلے ہی کسی اور زحاف کا عمل ہو چکا ہو تبھی وارد ہوتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، سالم بحر میں اصولی طور پر آپ آخری رکن کے ساکن سے پہلے الف کا اضافہ نہیں کر سکتے۔ سالم بحر کو کسی کمی بیشی کے بغیر استعمال کرنا راجح ہے۔ اگر تسبیغ یا اذالہ کا عمل مقصود ہو تو وہ کسی اور زحاف کے عمل کے بعد ہی مناسب ہے۔
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو مذکورہ بالا دونوں مصرعے ناجائز ہیں۔ پہلے شعر میں نہر اور دوسرے میں دراز کا لفظ اذالے کے عمل کا تقاضا کرتے ہیں جو یہاں ممکن نہیں کیونکہ بحر سالم استعمال کی گئی ہے۔

پہلے مصرع کو "وہ نویدؔ آ گئے غیر کی بات میں" کر دیا جائے تو میری ناقص رائے میں زیادہ خوش گوار لگے گا۔
سبحان اللہ۔۔۔ راحیل بھائی آپ نے جس قدر شفقت فرمائی ہے اس کے لیے انتہائی ممنون ہوں۔۔۔ یقین ہے کہ آپ اس کی جزا خدا سے پائیں گے۔۔۔ آپ نے جو بتایا اس کی روشنی میں سفر کو جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہوں انشاءاللہ۔
 
Top