ابن انشا غزل : اے متوالی بدلی کالی ، رُوپ کا رس برساتی جا - ابنِ انشا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 22, 2019

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    اے متوالی بدلی کالی ، رُوپ کا رس برساتی جا
    دل والوں کی اُجڑی کھیتی ، سُونا دھام بساتی جا

    دیوانوں کا روپ نہ دھاریں ؟ یا دھاریں؟ بتلاتی جا
    ماریں یا ہمیں اینٹ نہ ماریں ، لوگوں سے فرماتی جا

    اور بہت سے رشتے تیرے ، اور بہت سے تیرے نام
    آج تُو ایک ہمارے رشتے مُحبوبہ کہلاتی جا

    پُورے چاند کی رات وہ ساگر، جس ساگر کا اور نہ چھور
    یا ہم آج ڈبودیں تجھ کو ، یا تو ہمیں بچاتی جا

    ہم لوگوں کی آنکھیں پلکیں راہ میں ہیں کچھ اور نہیں
    شرماتی گھبراتی گوری ، اتراتی اٹھلاتی جا

    دل والوں کی دُور پہنچ ہے ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
    ایک نظر بخشیش میں دے کر لاکھ ثواب کماتی جا

    اور تو فیض نہیں کچھ تجھ سے ، اے بے حاصل ، اے بے مہر
    انشاؔ جی سے نظمیں ، غزلیں ، گیت ، کبت لکھواتی جا
    ابنِ انشا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    دلچسپ، ابن انشا کا مخصوص انداز
     

اس صفحے کی تشہیر