غالب کی زمین میں ایک حقیر سی کاوش۔۔۔

کیوں نویدِ سحر نہیں آتی
رات جاتی ہے پر نہیں آتی
جب کہ چاہا کبھی برا نہ ہنوز
کیوں خوشی میرے گھر نہیں آتی
مر کے ہم جس پہ روز جیتے تھے
اب وہ صورت نظر نہیں آتی
اور کس طور سے رہوں زندہ
تیری کوئی خبر نہیں آتی
کس کو پڑتا ہے فرق ،تیرےبن
سانس اپنی اگر نہیں آتی
چارہ اپنا سوائے موت نہیں
وہ بھی اے چارہ گر نہیں آتی
اب بتادے مقام ایسا کوئی
یاد تیری جدھر نہیں آتی
کیوں کسی سے گلا کروں اجلؔال
قدر ان ہی کوگر نہیں آتی
الف عین
محمد یعقوب آسی
فاتح
محمد وارث
محمد خلیل الرحمٰن
مزمل شیخ بسمل
متلاشی
شوکت پرویز
محمد بلال اعظم
محمد اسامہ سَرسَری
 
بلا تمہید۔
اس غزل میں کچھ مسائل ہیں!۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنی بات ’’پورے طور پر‘‘ کر نہیں پایا۔ اس کو شاید عجزِ بیان کہتے ہیں۔

کیوں نویدِ سحر نہیں آتی
رات جاتی ہے پر نہیں آتی
مقصود تو یہ ہے کہ رات جاتی ہے مگر سحر نہیں آتی، تاہم دوسرا مصرع اس کو پورے طور پر بیان نہیں کر پا رہا۔ مطلع کے بارے میں میری رائے سن لیجئے کہ یہ غزل کی اٹھان ہوا کرتا ہے۔ سو، اسے بہت جاندار ہونا چاہئے، بلکہ ایسا کہ قاری یا سامع کو اپنی گرفت میں لے لے۔

جب کہ چاہا کبھی برا نہ ہنوز
کیوں خوشی میرے گھر نہیں آتی
کبھی اور ہنوز کا اشتراک الجھن پیدا کر رہا ہے۔ پہلے مصرعے کے مفہوم میں تھوڑا سا تغیر کر کے اسے یوں کر لیا جائے کہ ہم نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تو پھر ہم خوشی سے کیوں محروم ہیں۔ توجہ فرمائیے گا۔

مر کے ہم جس پہ روز جیتے تھے
اب وہ صورت نظر نہیں آتی
یہاں بھی پہلا مصرع کمزور لگ رہا ہے۔ ہم جس پر مرتے ہیں، اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں۔ الفاظ اس مفہوم کا ساتھ نہیں دے رہے۔

اور کس طور سے رہوں زندہ
تیری کوئی خبر نہیں آتی
مناسب ہے۔ تاہم ’’کس طور سے‘‘ کے بارے میں اہلِ زبان احباب کی رائے لے لیجئے گا۔

کس کو پڑتا ہے فرق ،تیرےبن
سانس اپنی اگر نہیں آتی
پہلے مصرعے میں آپ کے پاس دو اختیار تو سامنے سامنے موجود ہیں جن کو آپ نے استعمال نہیں کیا۔ ’’کسے پڑتا ہے فرق، تیرے بغیر‘‘۔ یہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ مفہوم کا جزوِ ثانی دو حصوں میں بٹ گیا، کچھ پہلے مصرعے میں اور کچھ دوسرے میں بیان ہوا۔ اگر قاری کوما پر رکے نہیں تو ’’تیرے بغیر کسے فرق پڑتا ہے‘‘ ظاہر ہے یہ شاعر کا مقصود نہیں۔ مقصود تو یہ ہے کہ اگر تیرے بغیر ہماری سانس بند ہوتی ہے تو کسی کو کیا۔

چارہ اپنا سوائے موت نہیں
وہ بھی اے چارہ گر نہیں آتی
میں یہاں ’’سوائے مرگ‘‘ کی سفارش کرتا ہوں۔

اب بتادے مقام ایسا کوئی
یاد تیری جدھر نہیں آتی
جدھر، معنوی تقاضا جہاں یا جب کا ہے اور جدھر کا لفظ قافیے کا جبر ٹھہرا؟ ۔

کیوں کسی سے گلا کروں اجلال
قدر ان ہی کوگر نہیں آتی
اس میں دو تین باتیں ہیں۔ کیوں یا کیا؟ کسی سے گلا کرنا اور کسی کا گلا کرنا، ان میں تھوڑا سا فرق ہے۔ قدر آنا میرے لئے غیرمانوس ہے، آپ جانئے۔

چھوٹی بحر میں مضامین کے ساتھ انصاف کر پانا فی الواقع بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر شاعر ایسا کر گزرتا ہے تو بہت چست شعر نکلتے ہیں۔

میری گزارشات ناگوار گزریں تو اِن کو نظر انداز کر دیجئے گا۔ شعر آپ کا ہے، مضامین آپ کے ہیں، الفاظ کا چناؤ اور در و بست آپ پر ہے اور اختیار آپ کا ہے۔ میں نے جو محسوس کیا بے کم و کاست عرض کر دیا۔
گر قبول افتد زہے عز و شرف
سید اِجلاؔل حسین
 
بلا تمہید۔
اس غزل میں کچھ مسائل ہیں!۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنی بات ’’پورے طور پر‘‘ کر نہیں پایا۔ اس کو شاید عجزِ بیان کہتے ہیں۔

کیوں نویدِ سحر نہیں آتی
رات جاتی ہے پر نہیں آتی
مقصود تو یہ ہے کہ رات جاتی ہے مگر سحر نہیں آتی، تاہم دوسرا مصرع اس کو پورے طور پر بیان نہیں کر پا رہا۔ مطلع کے بارے میں میری رائے سن لیجئے کہ یہ غزل کی اٹھان ہوا کرتا ہے۔ سو، اسے بہت جاندار ہونا چاہئے، بلکہ ایسا کہ قاری یا سامع کو اپنی گرفت میں لے لے۔

جب کہ چاہا کبھی برا نہ ہنوز
کیوں خوشی میرے گھر نہیں آتی
کبھی اور ہنوز کا اشتراک الجھن پیدا کر رہا ہے۔ پہلے مصرعے کے مفہوم میں تھوڑا سا تغیر کر کے اسے یوں کر لیا جائے کہ ہم نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تو پھر ہم خوشی سے کیوں محروم ہیں۔ توجہ فرمائیے گا۔

مر کے ہم جس پہ روز جیتے تھے
اب وہ صورت نظر نہیں آتی
یہاں بھی پہلا مصرع کمزور لگ رہا ہے۔ ہم جس پر مرتے ہیں، اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں۔ الفاظ اس مفہوم کا ساتھ نہیں دے رہے۔

اور کس طور سے رہوں زندہ
تیری کوئی خبر نہیں آتی
مناسب ہے۔ تاہم ’’کس طور سے‘‘ کے بارے میں اہلِ زبان احباب کی رائے لے لیجئے گا۔

کس کو پڑتا ہے فرق ،تیرےبن
سانس اپنی اگر نہیں آتی
پہلے مصرعے میں آپ کے پاس دو اختیار تو سامنے سامنے موجود ہیں جن کو آپ نے استعمال نہیں کیا۔ ’’کسے پڑتا ہے فرق، تیرے بغیر‘‘۔ یہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ مفہوم کا جزوِ ثانی دو حصوں میں بٹ گیا، کچھ پہلے مصرعے میں اور کچھ دوسرے میں بیان ہوا۔ اگر قاری کوما پر رکے نہیں تو ’’تیرے بغیر کسے فرق پڑتا ہے‘‘ ظاہر ہے یہ شاعر کا مقصود نہیں۔ مقصود تو یہ ہے کہ اگر تیرے بغیر ہماری سانس بند ہوتی ہے تو کسی کو کیا۔

چارہ اپنا سوائے موت نہیں
وہ بھی اے چارہ گر نہیں آتی
میں یہاں ’’سوائے مرگ‘‘ کی سفارش کرتا ہوں۔

اب بتادے مقام ایسا کوئی
یاد تیری جدھر نہیں آتی
جدھر، معنوی تقاضا جہاں یا جب کا ہے اور جدھر کا لفظ قافیے کا جبر ٹھہرا؟ ۔

کیوں کسی سے گلا کروں اجلال
قدر ان ہی کوگر نہیں آتی
اس میں دو تین باتیں ہیں۔ کیوں یا کیا؟ کسی سے گلا کرنا اور کسی کا گلا کرنا، ان میں تھوڑا سا فرق ہے۔ قدر آنا میرے لئے غیرمانوس ہے، آپ جانئے۔

چھوٹی بحر میں مضامین کے ساتھ انصاف کر پانا فی الواقع بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر شاعر ایسا کر گزرتا ہے تو بہت چست شعر نکلتے ہیں۔

میری گزارشات ناگوار گزریں تو اِن کو نظر انداز کر دیجئے گا۔ شعر آپ کا ہے، مضامین آپ کے ہیں، الفاظ کا چناؤ اور در و بست آپ پر ہے اور اختیار آپ کا ہے۔ میں نے جو محسوس کیا بے کم و کاست عرض کر دیا۔
گر قبول افتد زہے عز و شرف
سید اِجلاؔل حسین


استاد آسی صاحب،

آداب عرض ہے۔

سب سے پہلے آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے اپنی نظرِ عنایت اس ناچیز کی غزل پر کی۔

آپ نے جو کہا سہی ہی کہا، اور میں اپنے اندر اتنی ہمت نہیں پاتا کہ آپ کو جواب دے سکوں۔ مطلع واقعی کمزور ہے اور میں عجلت کر گیا۔ کافی دنوں سے کوئی مناسب مطلع سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔ غلطی یہ ہوئی کے مطلع رہنے ہی دیتا۔ دوسرے شعر میں ایک کسر ہے کہ مصرع اول میں بات ادھوری رہ گئی ہے۔۔ باقی اشعار مجھے پسند ہیں۔ اس کو خود پسندی کہہ لیں یا خود فریبی، شاعری، بہر حال ایک تخلیقی عمل ہے۔ کبھی آپ کی تخلیق آپ کو خود اتنی پسند نہیں آتی مگر اوروں کو آ جاتی ہے، تو کبھی اس کے برعکس بھی ہو جاتا ہے۔ یقین رکھیے اس میں انا یا تکبر کا ذرا بھی عمل دخل نہیں۔

ایک اور غلطی مجھ سے یہ ہوئی کہ ایک مشکل زمین میں طبع آزمائی کرنے کی کوشش کی۔ چچا غالب نے اس زمین میں جو کہا جا سکتا تھا پہلے ہی کہہ ڈالا۔ اور میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی کی نقل نہ کر بیٹھوں۔ یوں بھی فی الوقت میری شاری میرے جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں مجھے شعر کہتے۔۔۔

اور آپ کی تنقید ناگوار گزرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر آپ اور دوسرے اساتذہ کرام رہنمائی نہیں کریں گے تو مجھ جیسے نا سمجھ خود میں بہتری کیسے لائیں گے۔ میری کوئی بات بری لگی ہو تو میں معافی چاہتا ہوں، کہ آپ سے گستاخی کرنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا!

بہت شکریہ۔
 
کیوں نویدِ سحر نہیں آتی
رات جاتی ہے پر نہیں آتی
جب کہ چاہا کبھی برا نہ ہنوز
کیوں خوشی میرے گھر نہیں آتی
مر کے ہم جس پہ روز جیتے تھے
اب وہ صورت نظر نہیں آتی
اور کس طور سے رہوں زندہ
تیری کوئی خبر نہیں آتی
کس کو پڑتا ہے فرق ،تیرےبن
سانس اپنی اگر نہیں آتی
چارہ اپنا سوائے موت نہیں
وہ بھی اے چارہ گر نہیں آتی
اب بتادے مقام ایسا کوئی
یاد تیری جدھر نہیں آتی
کیوں کسی سے گلا کروں اجلؔال
قدر ان ہی کوگر نہیں آتی
الف عین
محمد یعقوب آسی
فاتح
محمد وارث
محمد خلیل الرحمٰن
مزمل شیخ بسمل
متلاشی
شوکت پرویز
محمد بلال اعظم
محمد اسامہ سَرسَری
بہت خوب جناب!
یاد فرمانے کا شکریہ۔
بہت اچھی غزل کہی ہے۔ داد قبول فرمائیں۔
 
Top