غالب غالب کی ایک غزل۔۔۔ حسب حال

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔ
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

صدا بہار شاعری۔۔۔۔۔
 
Top