عین سر، سر عظیم

قوسین

محفلین
کوئی راہ نکال اب ملنے کی
حبس بڑھ رہا ہے میرے اندر
تیرے ساتھ جینے کی آرزو لیے
کوئی مر رہا ہے میرے اندر
تم لا حاصل رہو گی یہ غم جاناں
گھر کررہا ہے میرے اندر
دل اب بھی تیری محبت کا
دم بھر رہا ہے میرے اندر
باہر برستی برسات ہے اور
لاوا جل رہا ہے میرے اندر
شام زندگی کی ہونے ہے والی
دن ڈھل رہا ہے میرے اندر
خیر سے خالی ہو گیا ہوں
نہ شر رہا ہے میرے اندر
 

عرفان سعید

محفلین
اساتذہ تو خیر اپنی رائے ابھی دیں گے
اگر آپ شاعری کرنا چاہتے ہیں تو کچھ عروض، اوزان اور قوافی کا مطالعہ کریں۔
 

قوسین

محفلین
ریختا کی جانب سے علمِ عروض کا کورس دیکھ رہا ہوں سر آن لائن، اسی رمضان ہی لکھنا شروع کیا ہے، بہتر کرنا چاہتا ہوں لکھا اپنا، جانتا ہوں بے وزن ہے
 

عظیم

محفلین
کسی نہ کسی بحر میں ہونا لازم ہے۔ تب ہی دوسری چیزوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
مثلاً قوافی کر، مر، بھر اور شر درست ہیں لیکن ان کے ساتھ 'بڑھ' استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح آپ کی ردیف (رہا ہے میرے اندر) درست ہے۔
 
Top