عینک بقلم یوسف ثانی

شمشاد

لائبریرین
عینک
ایک دیہاتی اپنے لیے چشمہ بنوانے شہر گیا۔ ڈاکٹر نے اس کی آنکھیں ٹیسٹ کر کے اس کے لئے ایک چشمہ منتخب کیا تو دیہاتی نے ڈاکٹر صاحب سے کہا۔ ڈاکٹر صاحب! میں یہ عینک لگا کر آسانی سے پڑھ لکھ تو سکتا ہوں نا؟ ڈاکٹر نے جواب دیا ہاں! ہاں کیوں نہیں۔ دیہاتی نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے بغیر عینکوں کے تو مجھے ساری عمر پڑھنا آیا۔ اب میں بھی عینک لگا کر بابو صاحب بن جاؤں گا۔​
دیکھا آپ نے عینک کا کارنامہ! پلک جھپکتے، بلکہ عینک لگاتے ہی ایک دیہاتی بابو صاحب بن جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے عینک اتارتے ہی۔۔۔ ایک سائنس دان ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ یکایک انہیں اپنے کسی اہم خط کو دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ پڑھنے والی عینک تو گھر ہی بھول آئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے وہ خط اپنے ساتھ والے صاحب کو دیتے ہوئے کہا کہ ذرا دیکھنا تو اس میں کیا لکھا ہے؟ موصوف نے ان کی طرح دیکھا اور معذرت کے انداز میں بولے معاف کیجئے گا میں بھی آپ ہی کی طرح ان پڑھ ہوں۔​
عینکوں کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک دھوپ کی عینک جسے عرف عام میں سن گلاس کہتے ہیں ۔ اور دوسری نظر کی عینک۔ جی ہاں اس دوسری قسم کو عرف عام میں پاور گلاس کہتے ہیں۔ اس پاور گلاس کی پھر مزید دو اقسام ہیں۔ ایک قسم وہ ہوتی ہے جو دور کی چیزوں کو واضح کر کے دکھاتی ہے ۔ جبکہ دوسری قسم قریب کی چیزوں کو بڑا اور نمایاں کر کے دکھاتی ہے۔​
 

شمشاد

لائبریرین
جن خواتین و حضرات کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے۔ وہ موخر الذکر قسم کی عینک سے استفادہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی قریب و دور دونوں نظریں کمزور ہوتی ہیں۔ وہ دونوں اقسام کے گلاسز باری باری(حسب ضرورت) استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ترتیب استعمال الٹ ہو جائے تو بڑی دلچسپ صورتحال پیش آتی ہے۔ ایک خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ شاپنگ کر کے واپس آ رہی تھیں کہ محترمہ کے ایک بچہ نے ریڑھی والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ امی مجھے یہ لے دیں پسینے میں شرابور خاتون نے رومال سے چہرہ صاف کیا اور عینک لگاتے ہوئے ریڑھی والے کے پاس آئیں اور ریڑھی والے سے کہا بھئی کیسے کلو دے رہے ہو۔ ریڑھی والے نے پہلے تو مشتبہ نگاہوں سے خاتون کی طرف دیکھا پھر بولا : بیگم صاحب آپ غبارے بھی تول کر خریدیں گے۔ خاتون کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے فوراً عینک تبدیل کی تو پتہ چلا کہ جسے وہ انگور سمجھ رہی تھیں وہ دراصل غبارے تھے۔​
دھوپ کی عینک یوں تو آنکھوں کو دھوپ کی شدت سے محفوظ رکھنے کے لئے ایجاد کی گئی تھی مگر اس اس کا استعمال آشوب چشم کے مریضوں کے علاوہ خواتین خاص خاص مواقع پر کثرت سے کرتی ہیں۔ سن گلاس کے شیشے عموماً رنگین ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو کئی کئی رنگوں پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔ جبکہ پاور گلاس یعنی نظر کی عینک عموماً شفاف شیشوں کی ہوتی ہے۔ مگر خواتین کے پاور گلاس عموماً رنگین ہی ہوتے ہیں تاکہ سن گلاس کا شائبہ رہے اور ان کی بینائی کی کمزوری کا اسرار کھلنے نہ پائے۔​
***********************​
 
Top