عوام کے مخلص نمائندوں کا سامنے آنا سوالیہ نشان...تحریر: میر اکرام …لندن

چوہدری نثار کی ڈگری کا مسئلہ ہو یا جمشید دستی کا آرٹیکل 62اور 63 میں ناہل ہونا اور تین سال قید کی سزا ہونا اور پھر رات و رات اس ملک کی عدالتوں سے باعزت بری ہونا ،اس سے ایک بات تو واضع ہوگئی ہے کہ اگر پاکستان کے ادارے چاہیں اور حکومت چاہیں تو کسی بھی چیز کو ناممکن سے ممکن اور ممکن کو ناممکن بنا سکتی ہے ۔
یہ بددیانت اور بے ایمان سیاست دان کبھی بھی اس لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کو حل نہیں کریں گے کیونکہ کچھ نے تو رینٹل پاور پلانٹ کی کرپشن جو کرنی تھی ، لوڈ شیڈنگ کے اس مسئلہ کو حل کرنے کے ہزار طریقہ موجو د ہیں کے جس کے زریعے سے پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ،سب سے آسان ترین طریقہ جس کے لئے ہم کو کسی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں وہ یہ کہ دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر پاکستان میں موجود ہیں ، اور اُس کے ذریعے سے اتنی بجلی پیدا کی جاتی ہے کے اگلے 500 سال تک پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان بھی نہیں ہوگا اگر لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی تو پاکستان میں تجارت کو فروغ ملے گا ، کارخانے دن رات کام کریں گے غریب عوام کو روزگار ملے گا ، ملکی خزانے میں ٹیکس آئے گا ملک دن دگنی و رات چگنی ترقی کی طرف گامزن ہوگا اور غریب عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئیگی ، جب ملک میں تجارت فروغ پکڑے گی ، تو تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنی تعلیم کے مطابق بہتر سے بہتر روزگار کے مواقع مہیا ہونگے اور جب تجارت میں فروغ آئے گا تو باقی دنیا کے تجارتی و کاروباری ادارے ، کاروبار کیلئے پاکستان کی منڈیوں کا رخ کرینگے ، اس سے پاکستان دنیا میں اپنے آپ کا ایک کامیاب اور مستحکم ملک کی حیثیت سے اپنی پہچان کو بلند کریگا ، اور وہ پاکستانی جو دیارِ غیر میں آبا د ہیں وہ بھی باخوشی و اطمینان کیساتھ اپنی سرمایہ کاری کریں گے ۔ ایسا سب کچھ تب ہی ہوگا کہ جب ہم ان بد دیانت اور کرپٹ سیاستدانوں کو اپنے ملک سے پاک کریں گے اور ہم صیحح طورسے اپنے ووٹ کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کو بھی ان بد دیانت سیاستدانوں کے خلاف بلند کرینگے ۔
اسی طرح سے ہم لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ پر غور کریں ، کیونکہ یہ مسئلہ عوام کیلئے بہت بڑی پریشانی کا باعث ہے اس مسئلہ پر کبھی بھی کوئی بھی سیاستدان یا کوئی بھی سیاسی جماعت راتو ں رات اس مسئلہ کو حل نہیں کریگی جس طرح انہوں نے جمشید دستی کے معاملہ کو حل کیا کیونکہ یہ مسئلہ عوام کیلئے پریشانی کا باعث ہے ، اور جب عوام مستقل پریشان نہ رہے گی تو ان سیاستدانوں کی روٹی روزی و ان کی دکانداری کن وعدوں پر چلے گی ۔
اگر مسائل حل ہوگئے تو پھر ان جھوٹے سیاستدانوں کی دکانداری کس طرح چلے گی ۔ ان کی سیاسی دکان چلنے کیلئے عوام میں پریشانیوں کا ہونا بہت ضروری ہے ان کا منشور یہ کبھی بھی نہیں رہتا ، جس طرح ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور اسی طرح سے ان سیاسی دوکانوں کے جو منشور ہیں اور دراصل دکھانے کیلئے ہیں ، اصل منشور ان کا یہ ہے کہ عوام کے اندر جتنے مسائل باقی رہیں گے اور ہم بدستور مسائل حل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں گے ، جیسے کوئی بیمار ہوگا تو ڈاکٹر کے پاس جائیگا، ویسے ہی یہ عوام میں مسائل اور مشکلات کا زندہ رکھتے ہیں ، اور وہ ادارے جو سرکار کی طرف سے اُن مسائل کو حل کرنے کیلئے بنائیں گے ہیں ، ان پر یہ بے ایمان سیاستدان جو اپنے آپ کو عوامی نمائندہ کہہ کر اُن اداروں پر اپنا سیاسی دبا و ڈالتے ہیں دراصل ان جھوٹے عوامی نمائندوں نے ووٹ خرید خرید کر اپنے آپ کو عوامی نمائندہ کہلواتے ہیں در اصل یہ کبھی بھی عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بنے اور نہ ہی یہ ان کے منشور کا حصہ ہے ، اُنہی سرکاری اداروں پر یہ مسلت ہوتے ہیں جو عوامی مسائل کے حل کیلئے بنائے گئے ہیں اور اُس میں بھی یہ سیاسی بھرتیاں اور سیاسی چمچوں کو مسلت کر دیتے ہیں جو ان کے اصل منشور کرپشن کو لیکر بدستور غریب عوام کے منہ سے روٹی چھینتے ہیں اور غریب عوام کی زندگیوں میں مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں اور وہی سرکاری افسران جو اُن اداروں کے سربراہ کے طور پر سیاسی سفارشات سے تعینات کےئے جاتے ہیں آئندہ الیکشن میں بھی انہی بددیانت سیاست دانوں کیلئے ان کی الیکشن مہم میں شامل رہتے ہیں بھرپور طریقہ سے ان بد دیانت سیاستدانوں کو دوبارہ حکومت میں لانے کیلئے دن رات تمام سرکاری وسائل ان سیاستدانوں کیلئے مہیا کرتے ہیں ، کہ اگر یہ بددیانت دوبارہ اقتدار میں آئیں گے تو یہ اُسی طرح غریب عوام کا حق لوٹتے رہیں گے یہی سلسلہ چلا آرہا ہے پاکستانی سیاست میں جس کے بل پر آج تک غریب عوام اپنا صحیح عوامی نمائندہ سامنے لا پائی ہے جب تک کہ سیاستدانوں کی گرفت سرکاری محکموں کا قائم ہے ، عوام کا صحیح سچا نمائندہ سامنے آنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ، اس کا واحد حل عوام میں اُس کے حق کا صحیح شعور بیدار کرنا ، شعور اس بات کا کہ جب بھی کہیں بھی نا انصافی دیکھیں تو خاموش نہ بیٹھیں چاہیں وہ ناانصافی آپ کے ساتھ ہو یا کسی بھی انسان کے ساتھ وہ ناانصافی ہو رہی ہو ، ناانصافی کے خلاف آواز کو بلند کریں اور عملی طور پر قانونی کارروائی عمل میں لائیں ، یہی ایک واحد راستہ ہے جو عوام کو متحد ہوکر تیار کرنا پڑیگا ، کیونکہ جو شخص ظالم کو ظلم کرنے سے نہیں روکتا ، وہ بھی ظالم کا ساتھی تصور کیا جاتا ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

 
Top