عمر بن عبدالعزیز کا آخری خطبہ

ساتواں انسان نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2021

  1. ساتواں انسان

    ساتواں انسان محفلین

    مراسلے:
    375
    خلیفۃ المسلمین امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ( رح ) نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ :
    " لوگو ! تم بیکار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دئیے گئے ، یاد رکھو وعدہ کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالی فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کے لیے نازل ہوگا ۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بےنصیب اور بدبخت ہوگیا وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا جو اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا اور جنت سے روک دیا گیا ۔ جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن وہ عذاب رب سے بچ جائے گا جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے ۔ اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے ۔ اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کے لیے بےتکان خرچ کررہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کررہا ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے اگلے ہلاک ہوئے جن کے قائم مقام اب تم ہو ۔ اسی طرح تم بھی مٹا دئیے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوارثین کے دربار میں حاضری دے گی ۔ لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہورہے ہو اور اپنے قدموں اپنی قبر کی طرف جارہے ہو ۔ تمہارے پھل پک رہے ہیں ۔ تمہاری امیدیں ختم ہورہی ہیں ۔ تمہاری عمریں پوری ہورہی ہیں ۔ تمہاری اجل نزدیک آگئی ہے ۔ تم زمین کے گڑھوں میں دفن کردیئے جاؤ گے جہاں نہ کوئی بستر ہوگا نہ تکیہ ۔ دوست احباب چھوٹ جائیں گے ۔ حساب کتاب شروع ہوجائے گا ۔ اعمال سامنے آجائیں گے ۔ جو چھوڑ آئے ہو وہ دوسروں کا ہوجائے گا ۔ جو آگے بھیج چکے ہو اسے سامنے پاؤ گے ۔ نیکیوں کے محتاج ہوگے ۔ بدیوں کی سزائیں بھگتو گے ۔ اے اللہ کے بندوں ! اللہ سے ڈرو ۔ اس کی باتیں سامنے آجائیں اس سے پہلے ۔ موت تم کو اچک لے جائے اس سے پہلے جوابدہی کے لیے تیار ہوجاؤ ۔ "
    ( تفسیر ابن کثیر ، ج 3 ، ص 585 )
     

اس صفحے کی تشہیر