عمران سیریز نمبر 4

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

قیصرانی

لائبریرین
"ان کے بارے میں بھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جعلی ہوں۔۔۔ یا ان میں بھی ایک آدھ پیکٹ اصلی نوٹوں کا چلا گیا ہو! اب تو اصلی اور نقلی مل جل کر رہ گئے ہیں۔ میری ہمت نہیں پڑتی کہ ان میں سے کسی نوٹ کو ہاتھ لگاؤں۔"

"مگر اس لڑکی نے تمہارے نوٹ کس طرح اڑائے ہوں گے!"

"اوہ۔۔۔!" عمران کی آواز پھر دردناک ہو گئی۔ "میں بڑا بدنصیب آدمی ہوں۔ بلکہ اب مجھے یقین آگیا ہے کہ میں احمق بھی ہوں۔۔۔ تم ٹھیک کہتی ہو! ہاں تو کل سردی زیادہ تھی نا۔۔۔ میں نے السٹر پہن رکھا تھا اور پندرہ بیس پیکٹ اس کی جیبوں میں ٹھونس رکھے تھے!"

"تم احمق سے بھی کچھ زیادہ معلوم ہوتے ہو۔" روشی جھلا کر بولی۔

"نہیں سنو تو! میں نے اپنی دانست میں بڑی عقل مندی کی تھی! ایک بار کا ذکر ہے میرے چچا سفر کر رہے تھے۔ ان کے پاس پندرہ ہزار روپے تھے جو انہوں نے سوٹ کیس میں رکھ چھوڑے تھے! سوٹ کیس راستے میں کہیں غائب ہو گیا! جب سے میرا یہ معمول ہے کہ ہمیشہ سفر میں ساری رقم اپنے پاس ہی رکھتا ہوں۔ پہلے کبھی ایسا دھوکا نہیں کھایا۔ یہ پہلی چوٹ ہے!"

"لیکن آخر اس لڑکی نے تم پر کس طرح ہاتھ صاف کیا تھا؟"

"یہ مت پوچھو! میں بالکل الو ہوں!"

"میں جانتی ہوں کہ تم الو ہو! مگر میں ضرور پوچھوں گی!"

"ارے اس نے مجھے الو بنایا تھا! کہنے لگی تمہاری شکل میرے دوست سے بہت ملتی ہے جو پچھلے سال ایک حادثے کا شکار ہو کر مر گیا! اور میں اسے بہت چاہتی تھی! بس پندرہ منٹ میں بے تکلف ہو گئی!۔۔۔ میں کچھ مضمحل سا تھا! کہنے لگی کیا تم بیمار ہو! میں نے کہا نہیں۔ سر میں درد ہو رہا ہے! بولی لاؤ چمپی کردوں۔۔۔چمپی سمجھتی ہو!"

"نہیں میں نہیں جانتی۔" روشی نے کہا۔

عمران اس کے سر پر چمپی کرنے لگا۔

"ہٹو! میرے بال بگاڑ رہے ہو!" روشی اس کا ہاتھ جھٹک کر بولی۔

"ہاں تو وہ چمپی کرتی رہی اور میں ویٹنگ روم کی آرام کرسی پر سو گیا! پھر شائد آدھے گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی۔۔۔ وہ برابر چمپی کئے جا رہی تھی۔۔۔ سچ کہتا ہوں وہ اس وقت مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی طرح ساری زندگی چمپی کئے جائے۔۔۔ ہائے۔۔۔ پھر اے بی سی ہوٹل ملنے کا وعدہ کرکے مجھ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئی!"

عمران کی آواز تھرا گئی۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اب رو دے گا۔

"ہائیں بدھو تم اس کے لئے رو رہے ہو جس نے تمہیں لوٹ لیا۔" روشی ہنس پڑی۔

"ہائیں! میں رو رہا ہوں" عمران اپنے دونوں گالوں پر تھپڑ مارتا ہوا بولا۔ "نہیں میں غصے میں ہوں! جہاں بھی ملی اس کا گلا گھونٹ لوں گا۔"

"بس کرو میرے شیر بس کرو۔" روشی اس کا شانہ تھپکتی ہوئی بولی۔

"اب تم میرا مذاق اڑا رہی ہو۔" عمران بگڑ گیا۔

"نہیں مجھے تم سے ہمدردی ہے! لیکن میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر جوئے میں بھی تم جعلی نوٹ ہارے ہو تو اب وہاں گذر نہیں ہوگا! کچھ تعجب نہیں کہ مجھے اس کے لئے بھی بھگتنا پڑے۔"

"نہیں تم پروا نہ کرو۔ تمہارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا! میں لاکھوں روپے خرچ کردوں گا۔"

روشی کچھ نہ بولی۔۔۔ وہ کچھ سوچ رہی تھی۔

"میرا خیال ہے کہ یہاں ایک ٹیلیفون بوتھ ہے۔" عمران نے کہا اور ڈرائیور سے بولا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
"گاڑی روک دو۔"

ٹیکسی رک گئی۔ روشی اور عمران اتر گئے۔

بوتھ خالی تھا! روشی نے ایک بار پھر عمران سے پوچھا کہ اسے کیا کہنا ہے عمران نے اس سلسلے میں کچھ دیر قبل کہے ہوئے جملے دہرائے۔ روشی فون میں سکہ ڈال کر نمبر ڈائیل کرنے لگی اور پھر عمران نے اس کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے۔

وہ ایک ہی سانس میں وہ سب کچھ دہرا گئی، جو عمران نے بتایا تھا! پھر خاموش ہو کر شائد دوسری طرف سے بولنے والی کی بات سننے لگی۔

"دیکھئے!" اس نے تھوڑی دیر بعد ماؤتھ پیس میں کہا۔ "مجھے جو کچھ بھی معلوم تھا میں نے بتا دیا! اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی! ویسے مجھے بھی اس کے متعلق تشویش ہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے! بظاہر بیوقوف اور پاگل معلوم ہوتا ہے۔"

"آیا کہاں سے ہے!" دوسری طرف سے آواز آئی۔

"وہ کہتا ہے کہ دلاور پور سے آیا ہوں۔"

"کیا وہ اس وقت تمہارے پاس موجود ہے!"

"نہیں باہر ٹیکسی میں ہے! میں ایک پبلک بوتھ سے بول رہی ہوں۔ اس سے بہانہ کرکے آئی ہوں کہ ایک سہیلی تک ایک پیغام پہنچانا ہے۔"

"کل رات سے قبل بھی اس سے کبھی ملاقات ہوئی تھی۔"

"نہیں کبھی نہیں!" روشی نے جواب دیا۔

"کیا اسے میرا خط دکھایا تھا۔"

"نہیں۔۔۔ کیا دکھا دوں؟" روشی نے پوچھا لیکن اس کا کوئی جواب نہ ملا۔

دوسرے طرف سے سلسلہ منقطع کردیا گیا تھا۔ روشی نے ریسیور رکھ دیا۔ عمران نے فورا ہی انکوائری کے نمبر ڈائیل کیے۔

"ہیلو انکوائری!"

"ہیلو" دوسری طرف سے آواز آئی۔

"ابھی پبلک بوتھ نمبر چھیالیس سے کسی کے نمبر ڈائیل کئے گئے ہیں! میں پتہ چاہتا ہوں۔

"آپ کون ہیں۔"

"میں ڈی ایس پی سٹی ہوں!" عمران نے کہا۔

"اوہ۔۔۔ شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے!" دوسری طرف سے آواز آئی۔ "چھیالیس بوتھ سے تقریبا آدھے گھنٹے سے کوئی کال نہیں ہوئی۔"

"اچھا شکریہ!" عمران نے ریسیور رکھ دیا اور وہ دونوں باہر نکل آئے۔

"تم ڈی ایس پی سٹی ہو۔" روشی ہنسنے لگی۔

"اگر یہ نہ کہتا تو وہ ہرگز کچھ نہ بتاتا۔" عمران نے کہا۔

"لیکن اس نے بتایا کیا!"

"یہی کہ چھیالیسیویں بوتھ سے پچھلے آدھ گھنٹہ سے کوئی کال نہیں ہوئی! مگر روشی تم نے کمال کر دیا!۔۔۔ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی تم نے بھی کیا۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"تم کیا جانو کہ اس نے کیا کہا تھا۔"

"تمہارے جوابات سے میں نے سوالوں کی نوعیت معلوم کر لی تھی۔"

"تم صرف عورتوں کے معاملے میں بیوقوف معلوم ہوتے ہیں۔"

"تم خود بیوقوف!" عمران بگڑ کر بولا۔

"چلو۔۔۔ چلو!" وہ اسے ٹیکسی کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔

"نہیں تم بار بار مجھے بیوقوف کہہ کر چڑا رہی ہو!"

"اس کی آواز بھی عجیب تھی!" روشی نے کہا۔ "ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی بھوکا بھیڑیا غرا رہا ہو! مگر۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔ ایکسچینج کو اس کی اطلاع تک نہ ہوئی!"

"اونہہ مارو گولی!۔۔۔ ہمیں کرنا ہی کیا ہے!" عمران نے گردن جھٹک کر کہا۔

"مجھے تو اب اس لڑکی کی تلاش ہے جس نے میرے نوٹوں میں گھپلا کیا تھا۔"

"نہیں عمران!" روشی بولی۔ "یہ عجیب و غریب اطلاع پولیس کے لئے کافی دلچسپ ثابت ہوگی۔"

"کون سی اطلاع!"

"یہی کہ سکس ناٹ کو رنگ کیا جاتا ہے۔ باقاعدہ کال ہوتی ہے اور ٹیلیفون ایکسچینج کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی!"

"اے روشی۔۔۔ خبردار۔۔۔ خبردار۔۔۔ کسی سے اس کا تذکرہ مت کرنا!۔۔۔ کیا تم سچ مچ اپنی گردن تڑوانا چاہتی ہو! اگر پولیس تک یہ بات پہنچ گئی تو سمجھ لو کہ میں اور تم دونوں ختم کردیئے جائیں گے! وہ کوئی معمولی چور یا اچکا نہیں معلوم ہوتا۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں نے سینکڑوں جاسوسی ناول پڑھے ہیں! ایک ناول میں پڑھا تھا کہ ایک بہت بڑے مجرم نے اپنا ذاتی ٹیلیفون ایکسچینج قائم کر رکھا تھا اور سرکاری ایکسچینج کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی تھی۔"

"تو تم اب اس سے خائف ہوگئے ہو۔"

"خائف تو نہیں ہوں! مگر میں کیا کروں۔۔۔ میں نے جاسوسی ناول میں پڑھا تھا کہ وہ آدمی ہر جگہ موجود رہتا تھا۔۔۔ جہاں نام لو وہیں دھرا ہوا ہے۔۔۔ خدا کی پناہ۔۔۔" عمران اپنا منہ پیٹنے لگا اور روشی ہنسنے لگی اور کافی دیر تک ہنستی رہی پھر اچانک چونک کر سیدھی ہوگئی! وہ حیرت سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔

"تم ہوش میں ہو یا نہیں!" اس نے عمران کی طرف جھک کر آہستہ سے کہا۔ "ہم شہر میں نہیں ہیں۔"

عمران آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔۔۔ کار حقیقتا ایک تاریک سڑک پر دوڑ رہی تھی اور دونوں طرف تک کھیتوں اور میدانوں کے سلسلے بکھرے ہوئے تھے۔

"پیارے ڈرائیور گاڑی روک دو!" عمران نے ڈرائیور سے کہا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اسے اپنی پشت پر شیشہ ٹوٹنے کا چھناکا سنائی دیا اور ساتھ ہی کوئی ٹھنڈی چیز اس کی گردن سے چپک کر رہ گئی۔

"خبردار چپ چاپ بیٹھے رہو!" اس نے اپنے کان کے قریب ہی کسی کو کہتے سنا۔ "تمہاری گردن میں سوراخ ہو جائے گا اور لڑکی تم دوسری طرف کھسک جاؤ!"

ٹیکسی پرانے ماڈل کی تھی اور اس کی اسٹپنی اوپر کی طرف کھلتی تھی۔۔۔ غالبا شروع ہی سے یہ آدمی اسٹپنی میں چھپا ہوا تھا۔ جنگل میں پہنچ کر اس نے اسٹپنی کھولی اور کار کا پچھلا شیشہ توڑ کر ریوالور عمران کی گردن پر رکھ دیا۔

روشی خوفزدہ نظروں سے اس چوڑے چکلے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس میں ریوالور دبا ہوا تھا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
عمران نے جنبش تک نہ کی۔ وہ کسی پتھر کے بت کی طرح بے حس و حرکت نظر آرہا تھا! حتٰی کہ اس کی پلکیں تک نہیں جھپک رہی تھیں۔

کار بدستور فراٹے بھرتی رہی۔ روشی پر غشی سی طاری ہو رہی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا! جیسے کار کا رخ تحت الثرٰی کی طرف ہو۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھیں۔

اچانک اس نے ایک چیخ کی آواز سنی۔۔۔ بالکل اپنے کان کے قریب اور بوکھلا کر آنکھیں کھول لیں! عمران کار کے عقبی شیشے کے ٹوٹنے سے پیدا ہوجانے والی خلا سے اندھیرے میں گھور رہا تھا اور ریوالور اس کے ہاتھ میں تھا۔

"ڈرائیور روکو گاڑی!" عمران نے ریوالور اس کی طرف کرکے کہا۔

ڈرائیور نے پلٹ کر دیکھا تک نہیں!

"میں تم سے کہہ رہا ہوں! اس نے اس بار ریوالور کا دستہ ڈرائیور کے سر پر رسید کردیا۔ ڈرائیور ایک گندی سی گالی دے کر پلٹا لیکن ریوالور کا رخ اپنی طرف دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔

"گاڑی روک دو پیارے!" عمران اسے چمکار کر بولا۔ "تمہارے ساتھی کی ریڑھ کی ہڈی ضرور ٹوٹ گئی ہوگئی کیونکہ کار کی رفتار بہت تیز تھی!"

کار رک گئی۔

"شاباش!" عمران آہستہ سے بولا۔ "اب تمہیں بھیرویں سناؤں یا درگت۔۔۔ یا جو کچھ بھی اسے کہتے ہیں۔۔۔ دھرپت کہتے ہیں شائد۔۔۔ لیکن پڑھے لکھے لوگ عموما دروپد کہتے ہیں!"

ڈرائیور کچھ نہ بولا! وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔

"روشی اس کے گلے سے ٹائی کھول لو!" عمران نے روشی سے کہا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
O​

تھوڑی دیر بعد کار شہر کی طرف واپس جا رہی تھی! روشی اور عمران اگلی سیٹ پر تھے! عمران کار ڈرائیو کر رہا تھا! پچھلی سیٹ پر ڈرائیور بےبس پڑا ہوا تھا۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھ پشت پر اسی کی ٹائی سے باندھ دیئے گئے تھے اور پیروں کو جکڑنے کے لئے عمران نے اپنی پیٹی استعمال کی تھی اور اس کے منہ میں دو عدد رومال حلق تک ٹھونس دیئے گئے تھے۔

سیٹ کے نیچے ایک لاش تھی جس کا چہرہ بھرتا ہو گیا تھا۔

کھڑکی کے شیشوں پر سیاہ پردے کھینچ دیئے گئے تھے۔

روشی اس طرح خاموش تھی جیسے اس کی اپنی زندگی بھی خطرے میں ہو!

وہ کافی دیر سے کچھ بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ابھی تک اسے کامیابی نہیں نصیب ہوئی تھی! لیکن کب تک! کار میں پڑی ہوئی لاش اسے پاگلوں کی طرح چیخنے پر مجبور کر رہی تھی۔

"میرا خیال ہے کہ اب تم سیدھے کوتوالی چلو۔" روشی نے کہا۔

"ارے باپ رے!" عمران خوفزدہ آواز میں بڑبڑایا۔

"نہیں تمہیں چلنا پڑے گا! کچھ نہیں کوئی خاص بات نہیں! ہم جو کچھ بھی بیان دیں گے وہ غلط نہیں ہوگا۔ تم نے اپنی جان بچانے کے لئے اسے نیچے گرایا تھا۔"

"وہ تو سب ٹھیک ہے۔۔۔ مگر پولیس کا چکر!۔۔۔ نہیں یہ میرے بس کا روگ نہیں۔"

"پھر لاش کا کیا ہوگا۔ تم نے اسے وہاں سے اٹھایا کیوں؟ ڈرائیور کو بھی وہیں چھوڑ آئے ہوتے! کار کو ہم شہر کے باہر چھوڑ کر پیدل چلے جاتے۔"

"اس وقت کیوں نہیں دیا تھا یہ مشورہ!" عمران غصیلی آواز میں بولا۔ "اب کیا ہو سکتا ہے اب تو ہم شہر میں داخل ہوگئے ہیں!"

روشی کے ہاتھ پیر ڈھیل ہوگئے اس نے پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ "اب بھی غنیمت ہے پھر وہیں واپس چلو۔"

"تم مجھ سے زیادہ احمق معلوم ہوتی ہو۔ اس بار اگر دس پانچ سے ملاقات ہوگئی تو میرا سرمہ بن جائیگا اور تمہاری جیلی!"

"پھر کیا کرو گے۔"

"دیکھو ایک بات سوجھ رہی ہے۔ مگر میں تمہیں نہ بتاؤں گا اور نہ تم پھر کوئی ایسا مشورہ دوگی کہ مجھے اپنی عقل پر رونا آجائے گا!"

روشی خاموش ہوگئی! اس لئے نہیں کہ لاجواب ہوگئی تھی بلکہ اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا اور حلق میں کانٹے پڑے جا رہے تھے۔

عمران کار کو شہر کے ایک ایسے حصے میں لایا جہاں کرائے پر دیئے جانے والے بہت سے گیراج بنے تھے۔

اس نے کار ایک جگہ روک دی! اور اتر کر ایک گیراج حاصل کرنے کے لئے گفت و شنید کرنے لگا۔ اس نے مینیجر کو بتایا کہ وہ سیاح ہے۔ کارونیشن ہوٹل میں قیام ہے مگر چونکہ وہاں کاروں کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے اس لئے وہ یہاں ایک گیراج کرائے پر حاصل کرنا پڑا ہے۔ بات غیر معمولی نہیں تھی اس لئے اسے گیراج حاصل کرنے میں دشواری نہیں ہوئی۔ اس نے ایک ہفتہ کا پیشگی کرایہ ادا کرکے گیراج کی کنجی اور رسید حاصل کی اور پھر کار کو گیراج میں مقفل کرکے روشی کے ساتھ ٹہلتا ہوا دوسری طرف سڑک پر آگیا۔

"لیکن کا انجام کیا ہوگا۔" روشی بڑبڑائی۔

"صبح تک وہ ڈرائیور بھی مر جائے گا۔" عمران نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔

"تم بالکل گدھے ہو۔" روشی جھلا گئی۔
 

قیصرانی

لائبریرین
"نہیں اب میں اتنا گدھا بھی نہیں ہوں! میں نے اپنا صحیح نام اور پتہ نہیں لکھوایا۔"

"اس خیال میں نہ رہنا۔" روشی نے تلخ لہجے میں کہا۔ "پولیس شکاری کتوں کی طرح پیچھا کرتی ہے۔"

"فکر نہ کرو! ایک ہفتے تک تو وہ گیراج کھلنا نہیں! کیوں کہ میں نے ایک ہفتے کا پیشگی کرایہ ادا کیا ہے اور پھر ایک ہفتے میں۔۔۔ میں نہ جانے کہاں ۃوں گا! ہوسکتا ہے مر ہی جاؤں ہوسکتا ہے اس نامعلوم آدمی کی موت آجائے۔۔۔ بہرحال وہ اپنے دو ساتھیوں سے محروم ہو ہی چکا ہے!"

روشی کچھ نہ بولی! اس کا سر چکرا رہا تھا۔

عمران نے ایک گزرتی ہوئی ٹیکسی رکوائی! روشی کے لئے دروازہ کھولا اور پھر خود بھی اندر بیٹھا ہوا ڈرائیور سے بولا۔ "وہاٹ ماربل۔"

روشی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی۔

"ہاں" عمران سرہلا کر بولا "وہیں کھانا کھائیں گے! کافی پیئں گے اور تم دو ایک پیگ لے لینا! طبیعت سنبھل جائے گی۔ ویسے اگر چیونگم پسند کرو تو ابھی دوں۔۔۔ اور ہاں ہم وہاں دو ایک راؤنڈ رمبا بھی ناچیں گے۔"

"کیا تم سچ مچ پاگل ہو!" روشی آہستہ سے بولی۔

"ہائیں! کبھی احمق۔ کبھی پاگل! اب میں اپنا گلا گھونٹ لوں گا۔"

روشی خاموش ہوگئی! وہ اس سلسلے میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ لیکن اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ ذہنی انتشار اپنی انتہائی منزلیں طے کر رہا تھا۔

وہ وہاٹ ماربل میں پہنچ گئے!۔۔۔ روشی کا دل چاہ رہا تھا کہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی گھر کی طرف بھاگ جائے۔

عمران اسے ایک کیبن میں بٹھا کر باتھ روم کی طرف چلا گیا! باتھ روم کا تو صرف بہانہ تھا! وہ دراصل اس کیبن میں جانا چاہتا تھا جہاں گاہکوں کے استعمال کرنے کا فون تھا۔

اس نے وہ نمبر ڈائل کئے جس پر انسپکٹر جاوید سے ہر وقت رابطہ کیا جا سکتا تھا۔

"ہیلو!۔۔۔ کون۔۔۔ انسپکٹر جاوید سے ملنا ہے! اوہ آپ ہیں، سنئے میں علی عمران بول رہا ہوں۔ ہاں۔۔۔ دیکھئے۔۔۔ امیر گنج کے گیراج نمبر تیرہ میں جو مقفل ہے آپ کو نیلے رنگ کی ایک کار ملے گی۔۔۔ اس میں دو شکار ہیں! ایک تو مر چکا ہے اور دوسرا شاید آپ کو زندہ ملے۔۔۔ گیراج کی کنجی میرے پاس ہے۔ آپ تلاشی کا وارنٹ لے کر جائیے اور بے دریغ تالا توڑ دیجئے۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔ یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں اسی کے آدمی ہیں! اور نئے کافی رازداری کی ضرورت ہے! اس واقعے کو راز ہی رہنا چاہیئے! مکمل واقعات آپ کو کل صبح معلوم ہوں گے! اچھا شب بخیر!"

عمران ریسیور رکھ کر روشی کے پاس واپس آگیا۔

روشی کی حالت ابتر تھی! عمران نے کھانے سے قبل اسے شیری پلوائی۔۔۔ نتیجہ کسی حد تک اچھا ہی نکلا۔۔۔ روشی کے چہرے پر تازگی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔۔۔ لیکن پھر بھی کھانا اس کے حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔۔۔ اور وہ عمران کو حیرت سے دیکھ رہی تھی! جو کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑا تھا جیسے کئی دن سے بھوکا ہو اور اس کے چہرے پر وہی پرانی حماقت طاری ہوگئی تھی۔

"تم بہت خاموش ہو۔" عمران نے سر اٹھائے بغیر روشی سے کہا۔

"رمبا کی کیا رہی۔۔۔ میں ناچنے کے موڈ میں ہوں۔"

"خدا کے لئے مجھے پریشان مت کرو۔"

"تم عورت ہو یا۔۔۔ ذرا مجھے بتاؤ کہ کیا میں ان کے ہاتھوں مارا جاتا! وہ ہمیں کہیں لے جا کر ہماری چٹنی بنا ڈالتے!"
 

قیصرانی

لائبریرین
"میں اس موضوع پر بات نہں کر چاہتی۔" روشی نے اپنی پیشانی رگڑتے ہوئے کہا۔

"میں خود نہیں کرنا چاہتا تھا! خود چھیڑتی ہو اور پھر ایسا لگتا ہے جیسے مجھے کھا جاؤ گی۔"

"عمران ڈیئر۔۔۔ سوچو تو اب کیا ہوگا۔"

"دوسرا بھی مر جائے گا۔۔۔ اور دو چار دن لاشوں کی بدبو پھیلے گی تو گیراج کا تالا توڑ دیا جائے گا اور پھر وہ پکڑا جائے گا جس کی وہ کار ہوگی۔۔۔ ہاہا۔۔۔!"

"اور جو تم انہیں اپنی شکل دکھا آئے ہو۔" روشی بھنا کر بولی۔

"گیراج والوں کو!" عمران نے پوچھا اور روشی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

عمران نے کہا۔ "مگر وہ لوگ تمہاری شکل نہیں دیکھ سکے تھے۔ تم محفوظ رہو گی۔!

"میں تمہارے لئے کہہ رہی ہوں۔" روشی جھپٹ پڑی۔

"میری فکر نہ کرو۔۔۔ میں پٹھان ہوں! جب تک اس نامعلوم آدمی کا صفایا نہ کر لوں اس شہر سے نہیں جاؤں گا۔ ویسے میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔"

"کیوں!" روشی اسے گھورنے لگی۔

"تم بات بات پر میری توہین کرتی ہو! احمق۔۔۔ پاگل اور نہ جانے کیا کیا کہتی رہتی ہو! خود بوری ہوتی ہو اور مجھے بور کرتی ہو۔"

روشی کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

"تم میرے ساتھ رمبا ناچو گی؟" عمران ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا۔

"ہوں! اچھا!" روشی اٹھتے ہوئے بولی۔ "چلو! لیکن یہ یاد رکھنا۔۔۔ تم مجھے آج بہت پریشان کر رہے ہو۔"

وہ دونوں ریکرئیشن ہال میں داخل ہوئے۔۔۔ درجنوں جوڑے رقص کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد عمران او روشی بھی ان کی بھیڑ میں غائب ہو گئے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
O​

دوسرے دن عمران محکمہ سراغرسانی کے سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بیٹھا تھا۔

جس وقت وہ یہاں داخل ہوا تھا اس کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی اور چہرے پر کچھ ایس قسم کا تقدس تھا کہ وہ کوئی نیک دل پادری معلوم ہوتا تھا۔۔۔ آنکھوں پر تاریک شیشوں کی عینک تھی۔۔۔ داڑھی اب بھی موجود تھی لیکن چشمہ اتار دیا گیا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ وہ رپورٹ پڑھ رہا تھا جو عمران نے پچھلی رات کے واقعات کے متعلق مرتب کی تھی۔

"مگر جناب!" سپرنٹنڈنٹ نے تھوڑی دیر بعد کہا۔ "وہ کار چوری کی ہے! اس کی چوری کی رپورٹ ایک ہفتہ قبل کوتوالی میں درج کرائی گئی تھی۔"

"ٹھیک ہے!" عمران سر ہلا کر بولا۔ "اس قسم کی مہموں میں ایسی ہی کاریں استعمال کی جاتی ہیں! میرا خیال ہے کہ یہاں آئے دن کاریں چرائی جاتی ہوں گی!"

"آپ کا خیال درست ہے۔ لیکن وہ کہیں نہ کہیں مل بھی جاتی ہیں! لیکن ایسی کار کے ساتھ کسی آدمی کا بھی پکڑا جانا پہلا واقعہ ہے۔"

"ڈرائیور سے آپ نے کیا معلوم کیا؟" عمران نے پوچھا۔

"کچھ بھی نہیں! وہ کہتا ہے کہ کل شام ہی کو اس کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ وہ دراصل ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے اور اسے صرف تین گھنٹے کام کرنے کی اجرت تین سو روپے پیشگی دے دی گئی تھی۔"

"آہم! تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس سے کچھ معلوم ہونے کی توقع کی جاسکتی وہ ختم ہی ہو گیا۔ خیر۔۔۔ لیکن یہ تو معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مرنے والا کون تھا کہاں رہتا تھا کن حلقوں سے اس کا تعلق تھا۔"

"جاوید اس کے لئے کام کر رہا ہے اور مجھے توقع ہے کہ وہ کامیاب ہوگا۔"

"ٹھیک! اچھا کیا آپ اس بات سے واقف ہیں۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ خیر میں ابھی کیا کہہ رہا تھا!

عمران خاموش ہو کر اپنی پیشانی پر انگلی مارنے لگا۔۔۔ وہ دراصل سپرنٹنڈنٹ سے فون نمبر سکس ناٹ کے متعلق گفتگو کرنے جا رہا تھا۔۔۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔

"کیا آپ کوئی خاص بات کہنے والے تھے۔" سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا۔

"وہ بھی بھول گیا!" عمران نے سنجیدگی سے کہا! پھر اس کے چہرے پر نہ جانے کہاں کا غم ٹوٹ پڑا اور وہ ٹھنڈی سانس لے کر دردناک لہجے میں بولا۔"میں نہیں جانتا کہ یہ کوئی مرض ہے یا ذہنی کمزوری۔۔۔اچانک اس طرح ذہنی رو بہکتی ہے کہ میں وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتا ہوں ہو سکت اہے کہ تھوڑی دیر بعد وہ بات یاد ہی آجائے، جو میں آپ سے کہنا چاہتا تھا۔"

سپرنٹنڈنٹ اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھنے لگا! لیکن عمران کے چہرے سے اس کی دلی کیفیات کا اندازہ کرلینا آسان کام نہیں تھا۔

پھر اس کیس کے متعلق دونوں میں کافی دیر تک مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ سپرنٹنڈنٹ نے اسے بتایا کہ اے بی سی ہوٹل کے تین آدمی جعلی نوٹوں سمیت پکڑے گئے ہیں۔ عمران نے نوٹوں کے نمبر طلب کئے سپرنٹنڈنٹ نے دراز سے لسٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دی۔

"نہیں۔" عمران سرہلا کر بولا۔ "اس میں صرف وہی نمبر ہیں جو میں ہوٹل میں ہارا تھا۔ ایک بھی ایسا نمبر نہیں نظر آتا، جو اس آدمی والے پیکٹوں سے تعلق رکھتا ہو!"

"تب تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اے بی سی والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں! ظاہر ہے کہ اگر وہ ہوشیار ہو گیا تو اسے اے بی سی والوں کو بھی نوٹوں کے استعمال سے روک دینا چاہیئے تھا۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"نہیں اس کے بارے میں تو کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا۔" عمران نے کہا۔" ہوسکتا ہے کہ تعلق ظاہر نہ کرنے ہی کے لئے اس نے دیدہ دانستہ ان آدمیوں کو پولیس کے چنگل میں دے دیا ہو!"

"جی ہاں یہ بھی ممکن ہے!" سپرنٹنڈنٹ سرہلانے لگا۔

"فی الحال ہمیں اے بی سی والوں کو نظر انداز کر دینا چاہیئے۔" عمران نے کہا۔

"لیکن اب آپ کیا کریں گے!" سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا۔

"بتانا بہت مشکل ہے۔ میں پہلے سے کوئی طریق کار متعین نہیں کرتا۔ بس وقت پر جو سوجھ جائے! پچھلی رات کے واقعات کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ اب اس کا منتظر ہوں۔"

پھر عمران زیادہ دیر تک وہاں نہیں بیٹھا، کیوں کہ ایک نیا خیال اس کے ذہن میں سر ابھار رہا تھا! وہ وہاں سے نکل کر ایک طرف چلنے لگا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کا بھی اندازہ کرتا جا رہا تھا کہ کہیں کوئی اس کا تعاقب تو نہیں کر رہا۔

اس نے آج بھی سپرنٹنڈنٹ سے روشی کا تذکرہ نہیں کیا تھا! وہ اسے پس منظر ہی میں رکھنا چاہتا تھا۔

کچھ دور چل کر وہ ایک ٹیلیفون بوتھ کے سامنے رک گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا دور دور تک کسی کا پتہ نہیں تھا۔ سڑک زیادہ چلتی ہوئی نہیں تھی۔ کبھی کبھار ایک آدھ کار گزرجاتی تھی۔ کوئی راہ گیر چلتا ہوا نظر آجاتا تھا۔

عمران بوتھ کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا اور پھر اسے اندر سے بولٹ کرنے کے بعد سوراخ میں سکہ ڈالا۔۔۔ دوسرے لمحے میں سکس ناٹ کو ڈائیل کر رہا تھا۔

"ہیلو!" دوسری طرف سے ایک بھاری آواز آئی۔

"میں روشی بول رہی ہوں۔" عمران نے ماؤتھ پیس میں کہا! اگر اس وقت روشی یہاں موجود ہوتی تو اسے عمران کی آواز سن کر غش ضرور آجاتا!

"روشی"

"ہاں! میں بہت پریشان ہوں۔"

"کیوں؟"

"اس نے پچھلی رات ایک آدمی کو مارڈ ڈالا ہے۔۔۔ وہ ہماری کار کی اسٹپنی میں چھپ گیا تھا۔۔۔ پھر ایک جگہ اس نے پچھلا شیشہ توڑ کر ہمیں ریوالور دکھایا۔ میں نہیں کہہ سکتی کہ اسے اس نے کس طرح نیچے گرادیا۔" عمران نے پورا واقعہ دہراتے ہوئے کہا۔ "میں بہت پریشان تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ پولیس کو اطلاع دے مگر اس نے انکار کر دیا۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں! بہرحال میں نے گھبراہٹ میں پولیس کو فون کر دیا تھا کہ فلاں نمبر کے گیراج میں ایک لاش ہے۔ لیکن میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کون ہوں۔"

"اسے علم ہے کہ تم نے پولیس کو فون کیا ہے۔"

"نہیں! میں نے اسے نہیں بتایا! میں بہت پریشان ہوں! وہ کوئی خطرناک آدمی معلوم ہوتا ہے۔۔۔ کون ہے؟ یہ میں نہیں جانتی!"

"تم اس وقت کہاں سے بول رہی ہو!"

"یہ نہیں بتاؤں گی! مجھے تم سے خوف معلوم ہوتا ہے۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
دوسری طرف سے ہلکے قہقہے کی آواز آئی او ربولنے والے نے کہا۔ "تم پبلک بوتھ نمبر چوبیس سے بول رہی ہو۔"

اور عمران کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

"میں جا رہی ہوں!" اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔

"نہیں ٹھہرو! اسی میں تمہاری بہتری ہے۔۔۔ ورنہ جانتی ہو کہ کیا ہوگا؟ اگر پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں تو۔۔۔ میرا تم سے کوئی جھگڑا نہیں بلکہ تم کئی بار نادانستہ طور پرمیرے کام بھی آچکی ہو۔۔۔ میں تمہیں اس جنجال سے بچانا چاہتا ہوں۔۔۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ تم بوتھ کے باہر ٹھہرو! آدھ گھنٹےکے اندر ہی اندر میراایک آدمی وہاں پہنچ جائے گا۔"

"کیوں۔۔۔ نہیں نہیں!" عمران نے احتجاجا کہا۔ "میں بالکل بے قصور ہوں میں کیا کروں وہ خوامخواہ میرے گلے پڑ گیا ہے۔"

"ڈرو نہیں روشی!" بولنے والے نے اسے چمکار کر کہا۔ "میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔"

عمران نے فورا ہی کوئی جواب نہیں دیا۔

"ہیلو!" دوسری طرف سے آواز آئی۔

"ہیلو" عمران کپکپائی ہوئی آواز میں بولا۔ "اچھا میں انتظار کروں گی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہے۔"

"بہت ڈر گئی ہو!" قہقہے کے ساتھ کہا گیا۔ "ارے اگر میں تمہیں مارنا چاہتا تو تم اب تک زندہ نہ ہوتیں۔ اچھا تم وہیں انتظار کرو۔"

سلسلہ منقطع کر دیا گیا! عمران بوتھ سے نکل آیا! اس کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ تھی اور داڑھی میں یہ مسکراہٹ نہ جانے کیوں خطرناک معلوم ہو رہی تھی۔

آدھے گھنٹے تک اسے انتظار کرنا تھا۔ وہ ٹہلتا ہوا سڑک کی دوسری جانب چلا گیا۔ ادھر چند سایہ دار درخت تھے۔

روشی کا انتظام اس نے پچھلی رات ہی کو کر لیا تھا! وہ اس وقت ایک غیر معروف سے ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھی اور عمران نے پچھلی رات اسی کے فلیٹ میں تنہا گذاری تھی!۔

وہ درختوں کے نیچے ٹہلتا رہا۔ بار بار اس کی نظر گھڑی کی طرف اٹھ جاتی تھی۔ بیس منٹ گذر گئے! اب وہ پھر بوتھ کی طرف جا رہا تھا!

زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ اس نے محسوس کیا کہ ایک کار قریب ہی اس کی پشت پر آکر رکی ہے۔

اچانک عمران پر کھانسیوں کا دورہ پڑا۔ وہ پیٹ دبائے ہوئے جھک کر کھانسنے لگا۔ پھر سیدھا کھڑا ہو کر بوتھ کی طرف مکا لہراتا ہوا غصیلی آواز میں بولا "سالی کبھی تو باہر نکلو گی۔"

"کیا بات ہے جناب۔" کسی نے پشت سے کہا۔

عمران چونک کر مڑا۔ اس کے تین یا چار فٹ کے فاصلے پر ایک نوارد نوجوان کھڑا تھا اور سڑک پر ایک خالی کار موجود تھی!

"کیا بتاؤں جناب!" عمران اس طرح بولا جیسے کھانسیوں کے دوررے کی وجہ سے اس کی سانسیں الجھ رہی ہوں! وہ چند لمحے ہانپتا رہا پھر بولا۔ "ایک گھنٹے سے اندر گھسی ہوئی ہے۔ مجھے بھی ایک ضروری فون کرنا ہے۔۔۔ کئی بار دستک دے چکا ہوں! ہر بار یہی کہہ دیتی ہے کہ ایک منٹ ٹھہریئے! ایک منٹ کی ایسی کی تیسی ایک گھنٹہ ہو گیا۔۔۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"اوہ ٹھہریئے! میں دیکھتا ہوں!" نووارد آگے بڑھتا ہوا بولا۔ اس نے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا لیکن پھر اسے مڑنا نصیب نہیں ہوا۔ عمران کا ہاتھ اس کی گردن دبوچ چکا تھا!۔۔۔ اس نے اسے بوتھ کے اندر دھکا دے دیا اور خود بھی طوفان کی طرح اس پر جاپڑا۔

بوتھ کا دروازہ خودکار تھا اس لئے اسے بند کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی وہ ان دونوں کے داخل ہوتے ہی خود بخود بند ہو گیا تھا۔

تپھڑوں، گھونسوں اور لاتوں کا طوفان۔

ہاتھ کے ساتھ ہی ساتھ عمران کی زبان بھی چل رہی تھی۔

"میں روشی تمہاری ٹھکائی کر رہی ہوں مری جان! اپنے بلڈاگ سے کہہ دینا کہ میرے بقیہ نوٹ مجھے واپس کردے ورنہ ایک دن اسے بھی کسی چوہے دان میں بند کرکے ماروں گا۔۔۔ اور وہ سالی روشی۔۔۔ وہ بھی مجھے جل دے گئی۔ کل رات سے غائب ہے اور بیٹا کل رات میں نے تمہارے ایک ساتھی کی کمر توڑ دی ہے!"

عمران اس پر اچانک اس طرح ٹوٹ پڑا تھا کہ اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ پھر ایسی صورت میں چپ چاپ پٹتے رہنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں اس نے ہاتھ پاؤں ڈال دیئے۔

عمران نے اسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا لیکن اس کے پیر زمین پر ٹکتے ہی نہیں تھے!

"دیکھ بیٹا! اپنے بلڈاگ سے کہہ دینا کہ آج رات کو میرے بقیہ نوٹ واپس مل جانے چاہئیں۔۔۔ وہ جعلی ہیں! میں انہیں ابھی بازار میں نہیں لانا چاہتا تھا! مگر اس کتے کی وجہ سے میرا کھیل بگڑ گیا ہے! آخر وہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے والا ہوتا کون ہے۔ اس سے کہو آج رات مجھے نوٹ واپس ملنے چاہئیں۔ میں روشی ہی کے فلیٹ میں ہوں! وہ مجھ سے خائف ہو کر کہیں چھپ گئی ہے۔۔۔ آج رات کو۔۔۔ بھولنا نہیں۔۔۔ میں روشی ہی کے فلیٹ میں ملوں گا اور یہ بھی کہہ دینا اس چڑیمار سے کہ اے بی سی ہوٹل میں ایک پولیس آفیسر مچھلیوں کے شکار کے بہانے ٹھہرا ہوا ہے ہوشیار رہنا۔"

پھر اس نے اسے کھینچ کر بوتھ سے باہر نکالا۔

سڑک ویران پڑی تھی!۔۔۔ نووارد اگر چاہتا تو کھلی جگہ میں اس سے نپٹ سکتا تھا! مگر حقیقت تو یہ تھی کہ اب اس میں جدوجہد کی سکت نہیں رہ گئی تھی!

عمران نے اسے اسٹیرنگ پر بٹھا دیا۔

"جاؤ اب دفع ہو جاؤ!" عمران نے کہا۔ "ورنہ ہو سکتا ہے کہ مجھے تم پر پھر پیار آنے لگے۔ اپنے بلڈاگ تک میرا پیغام ضرور پہنچا دینا! نہیں تو پھر جانتے ہو مجھے جہاں بھی اندھیرے اجالے مل گئے تمہارا آملیٹ بنا کر رکھ دوں گا۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
O​

ہدہد کو عمران نے بالکل اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔ وہ سچ مچ تھوڑا سا بیوقوف تھا۔ لیکن عمران کے اشارے پر بالکل مشین کی طرح کام کرتا تھا۔ کاہل اور سست ہونے کے باوجود بھی کام کے وقت اس میں کافی پھرتیلا پن آجاتا تھا۔

مگر اس کام سے وہ بری طرح بیزار تھا جو آج کل اسے سونپا گیا تھا وہ اس کام کو کسی حد تک برداشت کر سکتا تھا! مگر کم از کم اے بی سی ہوٹل میں قیام کرنے کے لئے تیار نہیں تھا! لیکن عمران سے خوف معلوم ہوتا تھا اور وہ بے چارہ ابھی تک اس بات سے واقف نہیں تھا کہ اسے حقیقتا کرنا کیا ہے۔ ویسے محکمہ اسے مچھلی کا شکار کرنے کی تنخواہ تو دیتا نہیں تھا۔

کل وہ ہوٹل میں داخل ہوا تھا اور آج اسے عمران کی ہدایت کے مطابق شکار کے لئے صبح سے شام تک سمندر کے کنارے بیٹھنا تھا۔

لیکن وہ اے بی سی کی فضا اور ماحول سے سخت بیزار تھا! اسے وہاں ہروقت برے آدمی اور بری عورتیں نظر آتی تھیں۔

اس وقت وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا جلدی جلدی حلق میں چائے انڈیل رہا تھا! وہ جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا!۔۔۔ بات یہ تھی کہ اسے کاوئنٹر کے قریب وہی عورت نظر آگئی تھی جس نے پچھلی رات اسے بہت پریشان کیا تھا! رات وہ نشے میں تھی اور ہدہد کے سر ہو گئی تھی کہ وہ اسے فلم دیوداس کا گانا "بالم آبسو مورے من میں!" سنائے ہدہد کی بوکھلاہٹ دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس تفریح میں دلچسپی لینے لگے تھے۔

پتہ نہیں کس طرح ہدہد نے اس سے پیچھا چھڑایا تھا۔

اب اس وقت پھر اسے دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔

لیکن عورت جو اس وقت نشے میں نہیں تھی۔ کافی سنجیدہ نظر آرہی تھی! ہدہد نے جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا اور کمرے سے شکار کا سامان لے کر گھاٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔

ہدہد یہاں آنے کے مقصد سے تو واقف نہیں تھا! وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران کو اس علاقے میں کیوں دلچسپی ہوسکتی ہے! مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ خود اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ البتہ وہ اپنی آنکھیں ضرور کھلی رکھنا چاہتا تھا۔

اس حصے میں سمندر پرسکون تھا اور ادھر لانچوں اور کشتیوں کی بھی آمد و رفت نہیں رہتی تھی۔ اسے اپنے علاوہ دو تین آدمی اور بھی نظر آئے جو پانی میں ڈوریں ڈالے بیٹھے اونگھ رہے تھے۔

وہ ایک بجے تک جھک مارتا رہا۔ لیکن ایک مچھلی بھی اس کے کانٹے میں نہ لگی۔

لیکن وہ شاید اس بات سے بے خبر تھا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر ایک آدمی کھڑا خود اس کا شکار کرنے کی تاک میں ہے۔

وہ آدمی چند لمحے کھڑا سیگرٹ کے کش لیتا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ ہدہد کی طرف بڑھا۔

"آج کل شکار مشکل ہی سے ملتا ہے!" اس نے ہدہد سے کچھ فاصلے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

ہدہد چونک کر اسے گھورنے لگا۔یہ ایک دبلا پتلا اور دراز قد آدمی تھا۔ عمر تیس اور چالیس کے درمیان رہی ہوگی۔ اس نے شانے سے ایک کیمرہ لٹک رہا تھا۔

"جج جی ہاں!" ہدہد اپنے چہرے پر خوش اخلاقی کے آثار پیدا کرتا ہوا بولا۔

"آپ اس شوق کو کیسا سمجھتے ہیں۔" نووارد نے پوچھا!

"مم۔۔۔ معاف فرمائیے گا! مم۔۔۔ میں سمجھا نہیں۔"

"اوہ! میرے اس سوال کو کسی اور روشنی میں نہ لیجئے گا! میرا تعلق دراصل ایک باتصویر ماہنامے سے ہے، اور میرا کام یہ ہے کہ میں مختلف قسم کی ہابیز کے متعلق معلومات اور تصاویر فراہم کروں۔"

"یہ میرے ہابی نہیں بلکہ۔۔۔ پپ پیشہ ہے۔" ہدہد مسکرا کر بولا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
"میں نہیں یقین کر سکتا جناب!" نووارد بھی ہنسنے لگا۔ "ہمارے یہاں کے پیشہ ور سمندر میں جال ڈالتے ہیں اور ان کا لباس اتنا شاندار نہیں ہوتا۔۔۔ اور وہ تنکوں کے ہیٹ بھی نہیں لگاتے۔"

ہدہد بھی خوامخواہ ہنسنے لگا اور نووارد نے کہا۔" میں آپ کا شکر گذار ہوں گا! اگر آپ مجھے شکار کھیلتے ہوئے دو تین پوز دے دیں۔"

"یہاں اکیلا۔۔۔ مم۔۔۔ میں۔۔۔ ہی۔۔۔ تت تو نہیں ہوں۔"

"درست ہے! لیکن میں انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان کی تصویر کسی ایسے ماہنامے میں شائع ہو جو امریکہ، انگلینڈ، فرانس، جرمنی اور ہالینڈ جیسے ممالک میں جاتا ہو۔"

ہدہد گدھے کی طرح پھول گیا اور اس نے اپنے تین پوز دے دیئے! لیکن اس شوق کے متعلق اظہار خیال کرتے وقت وہ بری طرح ہکلانے لگا۔ظاہر ہے کہ اسے مچھلیوں کے متعلق صرف اتنا ہی معلوم تھا کہ ہر مچھلی لذیذ نہیں ہوتی اور خواہ وہ کسی قسم سے تعلق رکھتی ہو اس میں کانٹے ضرور ہوں گے۔

"میں زبانی۔۔۔ نن نہیں۔۔۔ بب۔۔۔ بب۔۔۔ بتا سکتا!" اس نے آخرکار تنگ آکر کہا۔ "لکھ کر۔۔۔ ددے۔۔۔ سکتا ہوں۔"

"ہوتا ہے۔۔۔ ہوتا ہے۔" نووارد سرہلا کر بولا۔" بعض لوگ لکھ سکتے ہیں بیان نہیں کرسکتے۔ اچھا کوئی بات نہیں! ۔۔۔ مجھے اس کے بارے میں جتنا بھی علم ہے خود ہی لکھ لوں گا! ویسے آپ مجھے اپنا نام اور پتہ لکھوا دیجیئے۔"

ہدہد نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس نے نام اور پتہ غلط ہی لکھوایا ہوگا۔

نووارد رخصت ہوگیا۔۔۔ لیکن اس نووارد کی گھات میں کوئی اور بھی تھا۔ جیسے ہی وہ دور ریتلے حصے کو پار کرکے بندرگاہ کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچا! ایک آدمی تودے کی اوٹ سے نکل کر اس کا تعاقب کرنے لگا اور یہ آدمی عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
O​

روشی اپنے اقامتی ہوٹل میں پچھلی رات سے عمران کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ اسے ہوٹل میں ٹھہرا کر جلدی ہی واپس آنے کا وعدہ کرکے رخصت ہو گیا تھا۔ روشی اس کے لئے بے حد متفکر تھی! لیکن اتنی ہمت بھی نہیں رکھتی تھی کہ اس کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی۔

اسے پولیس کا بھی خوف تھا اور وہ بھیانک آدمی تو تھا ہی اس کی تلاش میں۔۔۔ سارا دن گذر گیا لیکن عمران نہیں آیا۔ اس وقت شام کے چار بج رہے تھے اور روشی قطعی ناامید ہو چکی تھی اسے یقین تھا کہ عمران کسی نہ کسی مصیبت میں پھنس گیا ہے۔

یا تو وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا! یا پھر اس بھیانک آدمی نے۔۔۔ وہ اس خیال ہی سے کانپ اٹھی۔۔۔ اس کے تصور میں عمران کی لاش تھی۔

وہ پلنگ پر کروٹیں بدل رہی تھی! اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے! اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی اور روشی اچھل پڑی۔۔۔ لیکن پھر اس نے سوچا ممکن ہے ویٹر ہو کیوں کہ یہ چائے کا وقت تھا۔

"آجاؤ" روشی نے بے دلی سے کہا۔

دروازہ کھلا! عمران سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔

"تم!" روشی بے تحاشہ اچھل کر اسکی طرف لپکی۔ "تم کہاں تھے! میں تمہیں مار ڈالوں گی۔"

"ہائیں!" عمران اس طرح بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا جیسے اسے سچ مچ روشی کی طرف سے قاتلانہ حملے کا خدشہ ہو۔

روشی ہنسنے لگی۔۔۔ مگر اسے جھنجھوڑ کر بولی۔ "تم بڑے سور ہو بتاؤ کہاں تھے۔"

"چچی فرزانہ کا مکان تلاش کر رہا تھا۔" عمران سنجیدگی سے بولا۔

"کیوں؟ یہ کون ہیں؟"

"میں نہیں جانتا!" عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔ "مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک ایسے آدمی سے واقف ہیں جس کا بائیاں کان آدھا کٹا ہوا ہے۔"

"کرنے لگے بے تکی بکواس! تم مجھے اس طرح چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے۔"

"کیا تم مرنا چاہتی ہو۔"

"ہاں میں مرنا چاہتی ہوں۔" روشی جھلا گئی۔

"اچھا تو اردو کے عشقیہ ناول پڑھنا شروع کردو! تم بہت جلد بو ہو کر مر جاؤ گی۔"

"عمران! میں تمھیں گولی مار دوں گی۔"

"چلو بیٹھ جاؤ!" عمران اسے ایک آرام کرسی پر دھکیلتا ہوا بولا۔ "ہم دونوں کی زندگی کا انحصار صرف اس نامعلوم آدمی کی موت پر ہے۔"

روشی اسے خاموشی سے دیکھتی رہی پھر بولی۔ "تم آخر ہو کیا بلا۔۔۔ مجھے بتاؤ میں پاگل ہو جاؤں گی۔"

"میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا کل رات فون پر تم نے پولیس کو اطلاع دی تھی!"

"کس بات کی اطلاع!" روشی چونک پڑی۔

"یہی کہ گیراج نمبر تیرہ میں ایک لاش ہے۔"

"ہرگز نہیں! بھلا میں کیوں اطلاع دینے لگی۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"پتہ نہیں۔ پھر وہ عورت کون ہے۔ تم نے شام کا کوئی اخبار دیکھا۔"

"نہیں! میں نے نہیں دیکھا۔ مجھے پوری بات بتاؤ! الجھن میں نہ ڈالو۔"

"پولیس نے گیراج کا تالا توڑ دیا ہے اور لاش دریافت کر لی ہے۔ ڈرائیور زندہ ہی نکلا تھا۔ صرف بیہوش ہو گیا تھا۔ اخبار کی خبر ہے۔ پچھلی رات کسی نامعلوم عورت نے جو لہجے سے اینگلو انڈین معلوم ہوتی تھی فون پر اس کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔"

"میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔"

"مجھے یقین ہے کہ تم ایسی حرکت نہیں کر سکتیں۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ تم میری اجازت کے بغیر اس ہوٹل سے باہر قدم نہ نکالنا خواہ مجھے سے ایک ہفتے کے بعد ہی ملاقات کیوں نہ ہو۔"

"میں وعدہ نہیں کرسکتی۔"

"کیوں؟"

"میں تمہارے ساتھ ہی رہوں گی۔ تم مجھے تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔"

"یعنی تم چاہتی ہو کہ ہم دونوں کی گردنیں ساتھ ہی کٹیں۔"

"نہ جانے کیوں! مجھے تمہاری موجودگی میں کسی سے بھی خوف نہیں محسوس ہوتا۔"

"اچھا، صرف آج رات اور یہاں ٹھہر جاؤ!"

"آخرکیوں؟۔۔۔ تم کیا کرتے پھر رہے ہو۔ مجھے بتاؤ!"

"نہیں روشی تم بہت اچھی ہو! تم آج رات یہیں قیام کرو گی! اچھا یہ بتاؤ کبھی تمہیں اے بی سی ہوٹل میں کوئی ایسا آدمی نظر آیا ہے جس کا با بائیاں کان آدھا کٹا ہوا ہو۔"

روشی پلکیں جھپکانے لگی۔ شاید وہ کچھ یاد کرنے کے لئے ذہن پر زور دے رہی تھی۔

"کیوں! تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو!" اس نے آہستہ سے پوچھا۔ "نہیں! میں نے وہاں ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا! لیکن میں ایسے ایک آدمی کو جانتی ضرور ہوں۔"

"اے بی سی سے تعلق ہے اس کا؟" عمران نے پوچھا۔

"نہیں! وہ اس حیثیت کا آدمی نہیں ہے کہ اس کا گذر اے بی سی جیسی مہنگی جگہوں میں ہوسکتے۔ وہ ماہی گیروں کی ایک کشتی پر ملازم ہے۔"

"تمہیں یقین ہے کہ اس کا بائیاں کان کٹا ہوا ہے۔"

"ہاں! لیکن تم۔۔۔!"

"شش ٹھہرو! مجھے بتاؤ کہ وہ اس وقت کہاں ملےگا ۔"

"میں بھلا کیسے بتا سکتی ہوں! مجھے اس کا گھر نہیں معلوم۔"

"تو اس کشتی ہی کا پتہ نشان بتاؤ جس پر کام کرتا ہے۔"

"ہرشفیلڈ فشریز!"

"ہرشفیلڈ فشریز!" عمران نے ایک طویل سانس لے کر آہستہ سے دہرایا۔ پھر اٹھتا ہوا بولا۔ "اچھا ٹاٹا۔۔۔ کل صبح ملاقات ہوگی۔"

"ٹھہرو! مجھے بتاؤ کہ تم کس چکر میں ہو۔"

"میں بقیہ نوٹ واپس لینا چاہتا ہوں۔"

"کچھ بھی ہو!" روشی اسے گھورتی ہوئی بولی۔ "اب تم مجھے اتنے احمق نہیں معلوم ہوتے جیسے اس شام اے بی سی میں معلوم ہوتے تھے۔"

"پھر احمق کہا!۔۔۔ تم خود احمق۔۔۔!"

عمران اسے گھونسہ دکھاتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
O​

روشی کا فلیٹ آج بہت زیادہ روشن نظر آرہا تھا! عمران نے چند مزید بلیوں کا اضافہ کیا تھا اور وہ فلیٹ میں تنہا تھا۔

اگر اس کے محکمے کے کسی آدمی کو اس کی ان حرکات کا علم ہو جاتا تو وہ اسے قطعی دیوانہ اور خبطی تصور کرلیتا۔

آج دن بھر وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتا رہا تھا! مجرموں میں سے ایک کا ہاتھ آجانا اور پھر اسے صرف معمولی سی مرمت کرکے واپس کردینا اصولا ایک بہت بڑی غلطی تھی! ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عمران اسے باقاعدہ طور پر گرفتار کرکے اسے اس کے دوسرے ساتھیوں کی نشاندہی پر مجبور کردیتا۔ پھر اس نے اسے ہدہد کے وجود سے آگاہ کردیا بلکہ اپنے متعلق بھی بتا دیا کہ روشی کے فلیٹ ہی میں رات بسر کرے گا۔

اور اب اس میں اس طرح چراغاں کیے بیٹھا تھا جیسے کسی خاص تقریب کے انتظامات میں مشغول ہو۔

کلاک نے بارہ بجائے اور اس نے دروازوں کی طرف دیکھا جو کھلے ہوئے تھے لیکن اسے کلک کی ٹک ٹک کے علاوہ اور کوئی آواز نہ سنائی دی۔

دروازے تو کیا آج اس نے کھڑکیاں تک کھلی رکھی تھیں حالانکہ آج سردی شباب پھر تھی۔

اچانک اسے راہداری میں قدموں کی آواز سنائی دی جو رفتہ رفتہ نزدیک ہوتی جا رہی تھی۔

پھر کسی نے گنگنا کر کہا۔ "روشی ڈارلنگ۔"

دوسرے ہی لمحے ایک نوعمر آدمی دروازے میں کھڑا احمقوں کی طرح پلکیں جھپکا رہا تھا۔

"فرمائیے!" عمران بڑے دلآویز انداز میں مسکرایا۔

"اوہ۔۔۔ معاف کیجئے گا!" اس نے شرمائے ہوئے لہجے میں کہا "یہاں پہلے روشی رہتی تھی!"

"اب بھی رہتی ہے! تشریف لائیے۔" عمران بولا۔

نوجوان کمرے میں چلا گیا۔

"روشی کہاں ہے؟"

"وہ آج کل اپنی خالہ کے یہاں مرغیوں کی دیکھ بھال کا طریقہ سیکھ رہی ہے۔"

"آپ کون ہیں"

"میں ایک شریف آدمی ہوں!"

"روشی!" نوجوان نے روشی کو آواز دی!

"میں کہہ رہا ہوں ناکہ وہ اس وقت یہاں نہیں ہے!" عمران بولا۔

"ارے وہ بڑی شریر ہے!" نوجوان ہنس کر بولا۔ "میری آواز سن کر چھپ گئی ہے! خیر میں ڈھونڈ لیتا ہوں۔"

نوجوان بڑی بے تکلفی سے روشی کی خوابگاہ میں داخل ہوگیا۔ عمران اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ نوجوان نے دو تین منٹ کے اند رہی اندر پورے فلیٹ کی تلاشی لے ڈالی۔۔۔ پھر دوسری طرف تاریک راہداری میں ٹارچ کی روشنی ڈالنے لگا۔

"بس کرو میرے لال!" عمران اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

"ابھی تمہارے منہ سے دودھ کی بو آتی ہے۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"کیا مطلب؟" نوجوان جھلا کر مڑا۔

"مطلب بھی بتاؤں گا۔۔ آؤ میرے ساتھ!" عمران نے کہا اور پھر اسے بیٹھنے کے کمرے میں واپس لایا۔۔۔ نوجوان اسے قہر آلود نظروں سے گھور رہا تھا۔

"تشریف رکھیئے جناب!" عمران نے غیر متوقع طور پر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔

"ابھی تم نے کیا کہا تھا۔" نوجوان نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

"میں نے عرض کیا تھا کہ آپ تلاشی لے چکے اور اب آپ کو یہ اطمینان ہو گیا کہ میرے ساتھ دوسرے آدمی نہیں ہیں۔۔۔ اب تشریف لیجائیے اور اپنے بلڈاگ سے کہہ دیجیئے کہ میرے نوٹ مجھے واپس کر دے۔ میں بہت برا آدمی ہوں! اپنے ساتھ بھیڑ بھاڑ نہیں رکھتا۔ تنہا کام کرتا ہوں! میں اس وقت فلیٹ میں تہنا ہوں! لیکن میرا دعوٰی ہے کہ تمہارا بلڈاگ میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ یہ دیکھو۔ میں نے سارے دروازے کھول رکھے ہیں۔۔۔ اور یہاں سارے بلب روشن ہیں!۔۔۔ لیکن۔۔۔ ہاہا۔۔۔ کچھ نہیں۔"

"میں سمجھا نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔"

"جاؤ یار بھیجا نہ چاٹو۔۔۔ اسے میرا پیغام پہنچا دو جس نے تمہیں بھیجا ہے۔ چلو اب کھسکو بھی ورنہ میرا ہاتھ تم پر بھی اٹھ جائے گا۔ آج ہی میں تمہارے ایک ساتھی کی اچھی خاصی مرمت کرچکا ہوں۔"

"میں تمہیں دیکھ لوں گا!" نوجوان اٹھتا ہوا بولا۔۔۔ اور آندھی کی طرح کمرے سے باہر نکل گیا۔

لیکن عمران اس طرح کھڑا تھا جیسے اسے ابھی کسی اور کا انتظار ہو۔ اس نے جیب سے چیونگم کا پیکٹ نکالا اور ایک منتخب کرکے اسے آہستہ آہستہ کچلنے لگا۔

سیکنڈ منٹوں اور منٹ گھنٹوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔ لیکن قریب یا دور کسی قسم کی بھی آواز نہ سنائی دی۔

اور پھر عمران خود کو سچ مچ احمق سمجھنے لگا! اسے توقع تھی کہ وہ نامعلوم آدمی ضرور آئے گا! لیکن اب دو بج رہے تھے اور کائنات پر سناٹے کی حکومت تھی۔

اس نے سوچا کہ اب اس حماقت کا خاتمہ کردے! ممکن ہے کہ وہ نوجوان روشی ہی کا کوئی گاہک رہا ہو!۔۔۔ عمران دروازے اور کھڑکیاں بندکرنے کے لئے اٹھا۔

ابھی وہ دروازے کے قریب بھی نہیں پہنچا تھا کہ راہداری میں قدموں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ کوئی بہت تیزی سے اسی طرف آرہا تھا۔ عمران بڑی پھرتی سے تین چار قدم پیچھے ہٹ آیا۔

لیکن دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ روشی دروازے میں کھڑی بری طرح ہانپ رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نہیں تھے۔

"تم نے میرا کہا نہیں مانا۔" عمران آنکھیں نکال کر بولا۔

"بس تم اسی طرح بکواس کیا کرو!" روشی ایک صوفے پر گرتی ہوئی بولی پھر اپنا وینٹی بیگ کھول کر دو پیکٹ نکالے اور انہیں عمران کی طرف اچھالتے ہوئے کہا۔ "اپنے بقیہ دو پیکٹ بھی سنبھالو۔"

عمران نے پیکٹوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر حیرت سے روشی کی طرف دیکھنے لگا۔

"کچھ دیر قبل میرا ہارٹ فیل ہوتے ہوتے بچا ہے۔" روشنی نے کہا۔

"کیوں؟ تمہیں یہ پیکٹ کہاں سے ملے!"

"بتاتی ہوں۔۔۔ ذرا دم لینے دو!" روشی نے کہا اور اٹھ کر الماری سے وہسکی کی بوتل نکالی۔۔۔ بڑے گلاس میں چھ انگل خالص وہسکی لے کر اس کی چسکیاں لینے لگی۔

پھر اس نے رومال سے ہونٹ خشک کرتے ہوئے کہا۔ "مجھے نیند نہیں آرہی تھی! ٹھیک ایک بجے کسی نے دروازے پر دستک دی۔ میں سمجھی تم ہو۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ لیکن وہ تم نہیں تھے!ایک دوسرا آدمی تھا اس نے مجھے یہ دونوں پیکٹ کیئے اور ایک لفافہ۔۔۔ جس پر میرا نام لکھا ہوا تھا۔۔۔۔ اور پھر اس نے مجھے پوچھنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ چپ چاپ واپس چلا گیا۔"

روشی نے وینٹی بیگ سے وہ لفافہ نکال کر عمران کی طرف بڑھا دیا!

عمران نے لفافے سے خط نکال کر میز پر پھیلاتے ہوئے ایک طویل سانس لی۔ تحریر تھا۔

"روشی! تمہارے دوست کے بقیہ دونوں پیکٹ واپس کر رہا ہوں لیکن تم انہیں کھول کر دیکھو گی نہیں! ہوٹل کے باہر ایک نیلے رنگ کی کار موجود ہے! چپ چاپ اس میں بیٹھ جاؤ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
وہ تمہیں تمہارے فلیٹ تک پہنچا دے گی! تم دونوں خواہ کہیں چھپو میری نظروں سے نہیں چھپ سکتے! مجھے تم دونوں سے کوئی پرخاش نہیں ہے ورنہ تم اب تک زندہ نہ ہوتے! تمہارا دوست معمولی سا مجرم ہے۔ جعلی نوٹوں کا دھندا کرتا ہے اور بس! اس سے کہو کہ چپ چاپ اس شہر سے چلا جائے! ورنہ تم تو مجھے عرصہ سے جاتنی ہو! میں اور کچھ نہیں چاہتا! یہاں سے اسی وقت چلی جاؤ!

عمران نے خط ختم کرکے روشی سے کہا "اورتم نیلی کار میں بیٹھ گئیںَ"

"کیا کرتی! میں نے سوچا کہ جب اس نے میری جائے رہائش کا پتہ لگا لیا تو مجھے کسی قسم کا نقصان پہنچانے میں اسے کیا عار ہوسکتا ہے!"

ٹھیک ہے تم نے عقلمندی سے کام لیا ۔

"مگر۔۔۔!" روشی عمران کو گھورتی ہوئی بولی۔ "کیا اس نے تمارے متعلق سچ لکھا ہے!"

"جھک مارتا ہے! اب میں اس سے اپنی توہین کا بدلہ لوں گا!"

"دیکھو طوطے۔۔۔ میں نے تمہارے متعلق بہت کچھ سوچا ہے اور ہاں۔۔۔ تم نے یہ چراغاں کس خوشی میں رکھا ہے!"

"میں بہت زیادہ روشنی چاہتا ہوں! مگر تم نے بھی میرے متعلق غلط ہی سوچا ہوگا اچھا اب تم مجھے یہاں کبھی نہیں دیکھو گی!"

"تو واقعی اس شہر سے جا رہے ہو!"

"میں کسی کے حکم کا پابند نہیں ہوں اور پھر بھلا اس مسخرے سے ڈر کر بھاگوں گا!"

"خدا کے لئے مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو!"

"ایک معمولی سا مجرم۔ کیا تمہیں اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔"

"نہیں مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔ ایک معمولی سا مجرم اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا۔۔۔ یہاں کے اچھے اچھے دل گردے والے اس کے تصور سے ہی کانپتے ہیں۔ تم میرے پیشے سے واقف ہی ہو! ہر قسم کے آدمیوں سے سابقہ پڑتا ہے!"

"میں ایک شریف آدمی ہوں! ممی اور ڈیڈی بچپن سے مجھے اس کا یقین دلاتے رہتے ہیں!" عمران نے مغموم لہجے میں کہا۔ "ویسے میں کبھی کبھی سچ مچ حماقتیں کربیٹھتا ہوں!جیسا کہ آج۔۔۔!"

عمران نے اپنا ٹیلیفون بوتھ والا کارنامہ دہرایا!۔۔۔ روشی بے تحاشہ ہنسنے لگی! اس نے کہا۔ "تم جھوٹے ہو! تم نے میری آواز کی نقل کیسے اتاری ہوگی۔"

"اس طرح۔۔۔ اس میں کیا مشکل ہے" عمران نے ہوبہو روشی کے لہجے اور آواز میں نقل اتاری۔

روشی چندلمحے اسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر بولی۔ "مگر اس حرکت کا مقصد کیاتھا!"

"تفریح!۔۔۔ اور کیا کہوں! مگر نتیجہ دیکھو! کہ اس نے خود ہی پیکٹ واپس کردیئے!"

"تمہاری عقل خبط ہو گئی ہے!" روشی نے کہا۔ "مجھے اس میں بھی کوئی چال معلوم ہوتی ہے۔"

"ہوسکتا ہے۔۔۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ اس کے آدمی ہر وقت پیچھے لگے رہتے ہیں! ورنہ اسے تمہارا پت
" کیسے معلوم ہوتا۔"

"یہی میں بھی سوچ رہی تھی!"

"یہ اسی وقت کی بات ہے جب میں آج شام تم سے ملا تھا! میرے ہی ذریعہ وہ تم تک پہنچا ہوگا۔"
 

قیصرانی

لائبریرین
"مگر عمران!۔۔۔ وہ آدمی۔۔۔ جو ان پیکٹوں کو لایا تھا!۔۔۔ جانتے ہو کون تھا۔۔۔؟ مجھے حیرت ہے۔۔۔ وہ وہی کان کٹا ماہی گیر تھا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے!"

عمران سنبھل کر بیٹھ گیا!

"کیا وہ تمہیں پہچانتا ہے۔" اس نے پوچھا۔

"یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتی! نہیں مجھے اس پہلے کبھی اس سے بات چیت کرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔"

عمران کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا! تھوڑی دیر بعد اس نے ایک طویل انگڑائی لے کر کہا۔ "جاؤ اب سو جاؤ! مجھے بھی نیند آرہی ہے اور اگر اب بھی مجھے بور کرو گی تو اسی وقت یہاں سے چلا جاؤں گا!"

روشی چپ چاپ اٹھی اور اپنی خواب گاہ میں چلی گئی۔

عمران دروازے اور کھڑکیاں بندکرکے تھوڑی دیر تک چیونگم سے شغل کرتا رہا پھر نوٹوں کے پیکٹ کھول دیئے۔۔۔ اسے توقع تھی کہ ان پیکٹوں میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا کیوں کہ روشی کواس کے خط میں پیکٹ کو نہ کھولنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اس کا خیال صحیح نکلا۔ ایک پیکٹ میں نوٹوں کے درمیان ایک تہہ کیا ہوا کاغذ کا ٹکڑانظر آیا! یہ بھی ایک خط تھا لیکن اس میں عمران کو مخاطب کیا گیا تھا۔

"دوست۔۔۔ بڑے جیالے معلوم ہوتے ہو! ساتھ ہی شاطر بھی! مگر جعلی نوٹوں کا دھندا چھچھورا پن ہے! اگر ترقی کی خواہش ہو تو کل رات گیارہ بجے اسی ویرانے میں ملو جہاں میں نے تم پر پہلا حملہ کیا تھا!۔۔۔ اے بی سی ہوٹل والے شکاری کے متعلق اطلاع فراہم کرنے کا شکریہ! اس نے صرف مچھلیوں کے شکار کے لئے وہاں قیام کیا ہے! لیکن مچھلیوں کے شکار کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا۔۔۔! تو کل رات کو تم ضرور مل رہے ہو۔۔۔ میں انتظار کروں گا۔۔۔"

عمران نے خط کو پرزے پرزے کرکے آتشدان میں ڈال دیا! اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔ وہ اٹھا اور دبے پاؤں روشی کے فلیٹ سے نکل گیا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
O​

بیہوشی کے بعد ہوش کیسے آتا ہے؟ کم از کم یہ کسی بیہوش ہونے والے کی سمجھ میں آنے والی چیز نہیں ہے!۔۔۔ بہرحال عمران کو نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ کس طرح ہوش میں آیا! لیکن آنکھ کھلنے پر شعور کی بیداری میں دیر نہیں لگی۔

وہ ایک کشادہ اور سجے سجائے کمرے میں تھا! لیکن تنہا نہیں۔۔۔ اس کے علاوہ کمرے میں چار آدمی اور بھی تھے۔ ان کے جسموں پر سیاہ رنگ کے لمبے لمبے چسٹر تھے۔۔۔ اور چہرے سیاہ نقابوں میں چھپے ہوئے تھے! ان میں سے ایک آدمی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا۔

"ہاں بھئی! کیا دیکھا؟" ان میں سے ایک نے اس سے پوچھا۔

آواز سے عمران نے اسے پہچان لیا! یہ وہی تھیا جس سے کچھ دیر قبل ٹیلوں کے درمیان اس نے گفتگو کی تھی۔

"جی ہاں آ پ کا خیال درست ہے! دوسرے آدمی نے کتاب پر نظر جماتے ہوئے کہا۔ "علی عمران ایم ایس سی، ڈی ایس سی لندن۔۔۔ آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹیز۔۔ فرام سینٹرل انٹیلی جینس بیورو۔۔۔"

"کیوں دوست کیا خیال ہے!" گمنام آدمی عمران کی طرف مڑ کر بولا۔

"ایم ایس سی، ڈی ایس سی نہیں بلکہ ایم ایس سی، پی ایچ ڈی!" عمران نے سنجیدگی سے کہا۔

"شپ اپ!" گمنام آدمی نے گرج کر کہا۔

"واقعی میں بڑا بیوقوف ہوں! روشی ٹھیک ہی کہتی تھی!" عمران اس طرح بڑبڑایا جیسے خود سے مخاتب ہو!

"تم ہمارے متعلق کیا جانتے ہو!" گمنام آدمی نے پوچھا۔

"یہی کہ تم سب پردہ نشین خواتین ہو اور مجھے خوامخواہ ڈرا رہی ہو۔"

"تم یہاں سے زندہ نہیں جاسکتے!" گمنام آدمی کی آواز میں غراہٹ تھی۔

"فکر نہ کرو! مرنے کے بعد چلا جاؤں گا۔" عمران نے لاپرواہی سے کہا۔

گمنام آدمی کی خوفناک آنکھیں چند لمحے نقاب سے عمران کو گھورتی رہیں پھر اس نے کہا"تمہیں بتانا ہی پڑے گا کہ تمہارے کتنے آدمی کہاں کہاں کام کر رہے ہیں۔"

"کیا تم لوگ واقعی سنجیدہ ہو؟" عمران اپنے چہرے پر حیرت کے آثار پیدا کرتا ہوا بولا۔

کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ اس وقت ان کی خاموشی بھی بڑی ڈراؤنی لگ رہی تھی۔

عمران پھر بولا۔ "تمہیں یقینا غلط فہمی ہوئی ہے!"

"بکواس!۔۔۔ ہمارے ہاں فائیل بہت احتیاط سے مرتب کئے جاتے ہیں!" گمنام آدمی نے کہا۔

"تب پھر تو میں ہی غلط ہو گیا ہوں۔" عمران نے مایوسی سے سر ہلا کر کہا۔ "کمال ہے۔۔۔ میں یعنی۔۔۔ واہ کیا بات ہے گویا اب اپنے لئے کہیں بھی جگہ نہیں ہے یارو یہ ظلم ہے کہ تم لوگ مجھے محکمہ سراغ رسانی سے منسلک کر رہے ہو۔"

"ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے!" گمنام آدمی غصیلے لہجے میں بولا۔ "تمہیں صبح تک کی مہلت دی جاتی ہے اپنے آدمیوں کے پتے اور نشان بتادو! ورنہ۔۔۔!"
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top