عطاءالحق قاسمی کی ایم ڈی پی ٹی وی تقرری غیر قانونی قرار

زیرک نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 8, 2018

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    660
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    نوازشریف نے ٹبر نواز پالیسی کیا اختیار کی اسے ان کے ادوار میں تمام اداروں کے ارباب اختیار نے ایسا اپنایا کہ نئی مثالیں قائم کر دی گئیں۔ عطاءالحق قاسمی کے ایم ڈی پی ٹی وی کے دور سے پہلے پاکستان ٹیلی وژن کے سکرپٹ رائٹرز کو ساڑھے7 ہزار روپے فی 25 منٹ کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا تھا۔ عطاءالحق قاسمی نے بطور ایم ڈی پی ٹی وی حاتم طائی بنتے ہوئے یہ کمال دکھایا کہ اپنے بیٹے یاسر پیرزادہ کو جو کہ سی ڈی آے سلام آباد میں ملازمت کرتا تھا کو پی ٹی وی میں سکرپٹ رائٹر بنوا کر کا اس کا معاوضہ پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھا کر 80 ہزار فی 50 منٹ کر دیا گیا۔ انہوں نے تو''اندھا بانٹے ریوڑیاں اور دے اپنے اپنوں کو'' جیسے صدیوں پرانے محاورے کو صحیح معنوں میں سچ کر دکھایا۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    زیرک
    کیس کا کمرہ عدالت کے اندر کا حال۔ اس ملک کو ایک خاص سازش کے تحت لوٹا گیا۔ اب عدالت پکڑ پکڑ کر کرپٹ عناصر کو سزائیں سنا رہی ہے تو مخالفین کو سیاسی انتقام یاد آ گیاہے۔

     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    جی۔ یہ صرف ایک سرکاری ادارہ کی آڈٹ رپورٹ کا نتیجہ ہے۔ جلد ہی باقی اداروں کی رپورٹ بھی منظر عام پر ہوگی۔ تب ان کی صحیح چیخیں نکلیں گی۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    عطاءالحق قاسمی صاحب کا آج کا کالم دیکھیں۔ نواز شریف کو چھوڑ کر خدا کی ترجمانی شروع کردی ہے:
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے!
    [​IMG]عطا ء الحق قاسمی
    میں کچھ لوگوں کو خدا کی زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتے دیکھتا ہوں، ان کا غرور دیکھتا ہوں، انہیں اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کم تر سمجھتے دیکھتا ہوں، تو خدا کے خوف سے مجھ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں ارب پتی کاروباری لوگ بھی ہیں، اعلیٰ عہدوں پر متمکن افراد بھی ہیں۔ چند ایک میڈیا کے لوگ ہیں، مقبول گائیک بھی ہیں اور یہ اور اس طرح کے باقی سب لوگ مستقل ڈرائونے دکھائی نہیں دیتے۔ ان سب کی فرعونیت عارضی ہوتی ہے۔ اس عارضی دور میں بھی لوگ ان کے شر سے ڈرتے ہیں۔ ان کے لئے کسی دل میں عزت نہیں ہوتی، ان میں کسی ایک کی بھی اپنے شعبے میں اتنی کنٹری بیوشن نہیں ہوتی کہ اپنی ڈرائونی سیٹوں سے محرومی یا اپنے انتقال پُر ملال کے بعد کوئی ان کی عزت کرنے والا بچا ہو اور انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرتا ہو۔ مستقل عزت اور مستقل اعترافِ خدمت صرف انہی لوگوں کا حصہ ہے جنہوں نے اپنے شعبے میں کوئی غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہوتی ہے مگر ہر نئی کامیابی انہیں عاجز سے عاجز تر بناتی چلی جاتی ہے اور یہ لوگ اپنی وفات کے بعد بھی صدیوں تک دلوں پر راج کرتے ہیں۔
    میں دنیا بھر کے ان سائنس دانوں، اسکالروں، ادیبوں، شاعروں، مصوروں، موسیقاروں، مدبروں اور سیاست دانوں کی مثال نہیں دیتا جنہوں نے اپنے کام اور اپنے عجز سے اپنی زندگی میں بھی دلوں پر راج کیا اور آج بھی ہمارے دل ان کی دہلیز پر پڑے ہیں، میں صرف ایک مثال دیتا ہوں، میں لندن میں ٹیلیفون کے موجد گراہم بیل کے گھر ایک رات ٹھہرا ہوں، جو اُن دنوں میرے عزیز اور انتہائی اعلیٰ انسان عبدالرحمٰن بزمی کی تحویل میں تھا ۔ باہر گراہم بیل کے نام کی تختی لگی تھی اور اس کے بیرونی حصے میں کسی قسم کے ردوبدل کی اجازت نہیں تھی۔ پرانے لوگ راوی تھے کہ گراہم بیل گلی میں سے گزرتے ہوئے عام راہگیروں سے بہت محبت سے ملتا تھا۔ اس میں تکبر نام کی کوئی چیز دور دور تک نہیں تھی۔ اسی طرح آئن اسٹائن کی ایک تصویر مجھے نہیں بھولتی جس میں اس کے کوٹ کی جیب سیاہی سے بھری ہوئی ہے۔ علامہ اقبال دھوتی اور بنیان پہنے بازار حکیماں کے تھڑے پر بیٹھ کر کھجوری پنکھے سے خود کو ہوا دیتے لوگوں سے گپ شپ کرتے نظر آتے تھے اور ان کے گھر میں ہر ایرا غیرا بھی ان کی محفل میں شریک ہو سکتا تھا۔ آج کل ہم کن چول لوگوں میں گھر گئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی مرتبہ ہے نہ مقام ہے نہ کوئی کنٹری بیوشن ہے مگر انہوں نے اپنا مقام خود متعین کیا ہوا ہے۔ کوئی پیر ہو، وزیر ہو، افسر ہو، میڈیا پرسن ہو، کسی عارضی مقبولیت کا حامل کوئی فرد ہو، یہ خود کو خدا سمجھے ہوئے ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں خلق خدا انہیں کیا سمجھتی ہے۔ مشرف بھی کچھ نہ کچھ تو تھا۔ ضیاء الحق بھی کچھ نہ کچھ تو تھا۔ یحییٰ خاں بھی کسی سے کم نہ تھا۔ جنرل نیازی تو خیر ’’ٹائیگر‘‘ تھا۔ ماضی بعید میں میر جعفر اور میر صادق بھی ہوتے تھے۔ اب ان کے محلات نشان عبرت کے طور پر محفوظ ہیں۔ تاریخ ان فرعونوں سے بھری پڑی ہے مگر یہ کچھ نہ کچھ تو بہرحال تھے مگر آج نفرت کی علامت ہیں لیکن ان دنوں جو اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھتے ہیں تاریخ تو کیا آنے والے دنوں میں کسی کو ان کا نام بھی یاد نہیں رہے گا۔ میں صدق دل سے چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو تھوڑی بہت صلاحیتیں دی ہیں وہ انہیں خلقِ خدا کی بہتری کے لئے استعمال کریں پھر دیکھیں ان کی مسند بھی قائم رہے گی اور دلوں میں ان کے لئے محبت بھی قائم ہو گی۔
    اس وقت ہمارے درمیان بلا مبالغہ ہزاروں کی تعداد میں انتہائی قابل احترام شخصیات مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔ روحانیت، ادب، میڈیا، حکومت، اپوزیشن، میڈیکل سائنس، دنیاوی مال و اسباب اور ویلفیئر کے شعبے ان سے بھرے پڑے ہیں لیکن آپ ان سے ملیں تو آپ کو یہی تاثر ملے گا کہ ایک انسان دوسرے انسان سے مل رہا ہے مگر دوسری طرف فرعون کے دربار بھی لگے ہوئے ہیں۔ یہ کتنے نادان لوگ ہیں۔ کیا انہیں لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے عزت اور محبت عزیز نہیں۔ یاد رکھیں اللہ کو عاجزی پسند ہے۔ اپنوں اور غیروں سب میں محبت تقسیم کریں۔ نفرت سے صرف نفرت جنم لیتی ہے۔ اپنے جسم نہیں، اپنی روح کی پرورش بھی کریں۔ اپنے ضمیر کو ساتھ رکھیں بے ضمیری عارضی طور پر بہت کچھ دیتی ہے۔ دائمی طور پر یہ صرف ذلت ہی دے سکتی ہے۔ ذلت کے خریدار نہ بنیں، دائمی عزت کو مدنظر رکھیں۔ پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے؟ عزت، ذلت اور رزق سب اس کے ہاتھ میں ہے یہ آپ پر ہے کہ آپ اس سے کیا مانگتے ہیں۔
     
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    اگر ان کو خدا کا خوف ہوتا تو قومی خزانے کا اس طرح بے دریغ استعمال نہ کرتے۔ جھوٹ بولنے کی بھی حد ہوتی ہے۔ ان کی تو کوئی حد ہی نہیں۔
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    حسب عادت اپنے محبوب سیاست دان کا نام گول کر گئے۔ اسے کیوں فرعون نہیں کہتے؟
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    عطاءالحق قاسمی کے حق میں اور سپریم کورٹ کے خلاف یہ خوشامدی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔ اور دیکھیں کس طرح ان قلم کے سوداگروں نے نظریاتی طور پر ملک کو تباہ برباد کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی خوشامد کی خاطر جانبداری میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے تک نہیں مانتے۔ لیکن ووٹ کو عزت دو۔

    عطا الحق قاسمی کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ علم و فضل کی توہین ہے
    09/11/2018
    سید مجاہد علی
    [​IMG]

    کسی بھی ملک کی سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کےبارے میں رائے زنی کوئی معقول رویہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس فورم کو سیاست کرنے کا پلیٹ فارم بنانے پر تلی ہو تو اس سے مفر بھی ممکن نہیں ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی سیاست سے عام شہری کے علاوہ اعلیٰ عدالت کے ججوں کو بھی اتفاق یا اختلاف ہو سکتا ہے کیوں کہ عدلیہ کے ارکان بھی اس ملک کے شہری ہیں اور نظام کی کامیابی میں بطور شہری کردار ادا کرنا ان کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ تاہم یہ اظہار ووٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کی حمایت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ بطور جج جب تک کوئی شخص اس عہدہ جلیلہ پر متمکن رہتا ہے، اسے سیاسی تبصرے کرنے اور سیاسی معاملات میں اظہار خیال کا حق نہیں دیا جاسکتا۔

    کوئی جج یا چیف جسٹس اگر یہ حق زبردستی حاصل کرنے کے درپے ہو تو صرف اس لئے اس سے درگزر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ملک کے اعلیٰ عدالتی عہدہ پر فائز ہے۔ بلکہ ایسی صورت میں تو یہ نشاندہی کرتے ہوئے باور کروانا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ سپریم کورٹ یا کوئی بھی جج اپنی غلط روش کو ترک کرکے وہ کام کرے جو قانون اسے تفویض کرتا ہے۔ آج چیف جسٹس ثاقب نثار کی قیادت میں سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سابق چئیرمین عطا الحق قاسمی کی تقرری کے بارے میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس تقرری کو نہ صرف غیرقانونی قرار دیا ہے بلکہ بیس کروڑ کے لگ بھگ رقم قاسمی صاحب کے علاوہ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد سے وصول کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس فیصلہ کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ تو قانون دان لیں گے لیکن اس کے متن اور مطالب سے یہ سمجھنا ہرگز مشکل نہیں کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سیاسی نوعیت کا ہے جو سابقہ حکومت اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے بارے میں منفی تصویر کو راسخ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔

    عطا الحق قاسمی ملک کے ممتاز دانشور، کالم نگار، ادیب اور ڈرامہ نگار ہیں ۔ انہیں اس عہد کاصاحب طرز مزاح نگار سمجھا جاتا ہے۔ وہ طویل عرصہ تک استاد رہنے کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے مقبول ڈرامے لکھتے رہے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے بعض ڈرامے ٹیلی ویژن ڈرامہ میں لازوال حیثیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ناروے اور تھائی لینڈ میں پاکستان کا سفیر رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے ۔ اس حیثیت میں قاسمی صاحب نے پاکستان کی سفارت میں اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ ملکی ثقافت کو متعارف کروانے اور اردو ادب کا کا نام بلند کرنے کے لئے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔

    عطا الحق قاسمی نے گزشتہ دس پندرہ سال میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حمایت کا بیڑا اٹھایا ہے اور وہ نواز شریف کو ملک کا آئیڈیل لیڈر سمجھتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے بلاشبہ اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ ان کے اس طرز عمل سے اختلاف کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔ ان کے لکھے ہوئے متعدد کالموں اور ان میں ظاہر کی گئی رائے کو بھی غلط کہا جاسکتا ہے لیکن علم و ادب سے شناسائی رکھنے والا کوئی فرد تو کیا، اس ملک کا کوئی عام شہری بھی بطور ادیب ان کے مقام و مرتبہ سے انکار نہیں کرسکتا۔ قاسمی صاحب جیسے لوگ کسی بھی قوم کا سرمایہ اور اس کے لئے وجہ افتخار ہوتے ہیں۔ قومیں ایسی گراں مایہ شخصیات کے علم و فضل، تجربہ اور مشاہدہ سے استفادہ کرنا اعزاز کی بات سمجھتی ہیں ۔ تاہم پاکستان ایک ایسا انوکھا ملک ہے کہ یہاں کی سپریم کورٹ ایسے دانشور اور ملک دوست شخص کو پی ٹی وی کے چئیرمین جیسے معمولی عہدہ کے لئے نااہل قرار دے کر قلم کے ایک مزدور سے دس کروڑ کے لگ بھگ رقم واپس لینے کا حکم دے رہی ہے۔

    اگر عطا الحق قاسمی کا یہ قصور ہے کہ وہ نواز شریف کے حامی ہیں تو اس سے تو وہ خود بھی انکار نہیں کریں گے۔ لیکن انہوں نے یہ حمایت بطور صحافی اور قلم کار کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کوئی بھی صحافی ’غیر جانبدار‘ نہیں ہو سکتا۔ ان کی اس رائے سے بھی اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس سچائی سے کیسے انکار کیا جائے گا کہ دنیا میں اگر پاکستان چند گنے چنے لوگوں کے نام سے جانا جاتا ہے تو ان میں عطا الحق قاسمی کا اسم گرامی شامل ہوگا۔

    پاکستان کے ساتھ قاسمی صاحب کی وابستگی اور محبت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے متعدد مواقع ملنے کے باوجود بیرون ملک قیام کرنے اور اس طرح اپنے خاندان کے لئے سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنی تمام تر صلاحیتیں ملک و قوم کی خدمت میں صرف کرنے کو ترجیح دی۔ 1999 میں جب پرویز مشرف نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا تو قاسمی صاحب بنکاک میں پاکستان کے سفیر تھے۔ انہیں نواز شریف سے تعلق خاطر ہی کی وجہ سے اس عہدہ پر مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن عطا الحق قاسمی کو سفیر بنا کر شاید نواز شریف نے قاسمی صاحب پر نہیں بلکہ ملک کے وقار اور مفاد پر احسان کیا تھا۔ کسی ملک کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ایک نامور ادیب اس کی نمائیندگی کرے اور سفیر کے طور پر اس کے مفادات کے فروغ کے لئے کام کرے۔

    مشرف حکومت نے قاسمی صاحب سے سفارت واپس نہیں لی بلکہ انہوں نے خود ہی جب یہ دیکھا کہ ملک پر ایک فوجی آمر نے حکومت قائم کر لی ہے تو وہ استعفیٰ دے کر لاہور واپس آگئے۔ بالکل اسی طرح جیسے دسمبر 2017 میں سیکرٹری اطلاعات سے اختلافات کے سبب انہوں نے معاہدہ کی مدت پوری ہونے سے ایک سال پہلے ہی استعفیٰ دینا مناسب سمجھا۔ ملک کے بہت کم لکھاریوں اور کالم نگاروں نے مشرف کی آمریت کے خلاف اس حوصلہ کے ساتھ اظہار خیال کیا ہوگا جو عطا الحق قاسمی کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ آمریت کے خلاف قاسمی صاحب کی تحریروں کو نواز شریف کی حمایت یا خوشامد نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ ملک پر عوامی حاکمیت کے اصول کو سربلند کرنے کے لئے لکھی گئی تھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کی سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کی آڑ میں ایک آئین شکن کی حمایت اور اس کے جج اس کے نافذ کردہ پی سی او پر حلف اٹھا کر اپنی نوکریوں کا دفاع کر رہے تھے، تو قلم کا یہ مجاہد سفارت چھوڑ کر عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حق کے لئے آواز بلند کر رہا تھا۔

    قاسمی صاحب کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ قانونی دستاویز سے زیادہ ذاتی ایجنڈے کا پلندہ ہے۔ اس میں ایک قومی ادارے کے سربراہ کی تقرری کو انسانی حقوق کا معاملہ قرار دے کر پہلی ٹھوکر کھائی گئی ہے۔ اس کے بعد عدالت کے فاضل جج خود ہی یہ طے کرتے ہیں کہ انہیں آئین کی شق 184 (3) کے تحت عطا الحق قاسمی کے معاملہ کو دیکھنے اور اس پر حکم صادر کرنے کا اختیار ہے۔ حالانکہ اس شق کی صراحت کا مطالبہ ملک کے ممتاز قانون دان اور وکلا تنظیمیں کرچکی ہیں۔ اس کے بعد یہ بتانے کی بجائے کہ کس وجہ سے قاسمی صاحب اس عہدہ کے قابل نہیں تھے، فیصلہ میں سرکاری کارروائی کی تفصیل بتا کر صراحت سے یہ بتایا گیا ہے کہ عطا الحق قاسمی نے بطور چئیرمین، سفر اور دفتری سہولتوں پر کس قدر وسائل صرف کئے۔ ان میں فون، اخبار کمپیوٹر اور پرنٹر کی سہولت کا ذکر بھی موجود ہے۔

    جس طرح یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ اگر عطا الحق قاسمی جیسا صحافی اور ٹی وی شناس پی ٹی وی کی سربراہی کا اہل نہیں ہے ، اسی طرح اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ صحافی اگر کاغذ ، قلم، فون اور اخبار طلب یا استعمال کرتا ہے تو اسے اصراف کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قاسمی پر یا ان کی طرف سے ہونے والے مصارف میں سفری اخراجات اور دفتر کی تزئین و آرائش کے اخراجات کا ذکر بھی کیا ہے۔ حالانکہ اس سال کے شروع میں ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول کئے گئے جج شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین پر ناجائز طور سے وسائل صرف کرنے کے ریفرنس میں شوکت صدیقی نے مطالبہ کیا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدالتوں کے باقی ججوں کی رہائش گاہوں پر ہونے والے مصارف کا حساب بھی طلب کرے۔ اس سوال کا جواب لینے کی کوشش کرنے کی بجائے اس ریفرنس کو نظر انداز کیا گیا لیکن چیف جسٹس کی نگرانی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے آئی ایس آئی کے خلاف بیان دینے پر شوکت صدیقی کو بہر طور ججی سے فارغ کر کے حساب برابر کردیا۔

    اگر حکومتوں کی غلطیوں کا حساب کرتے ہوئے مالی نقصان بعد از وقت اس کے اہل کاروں سے وصول کرنے کی روایت ڈالنا ہی مقصود ہے تو سپریم کورٹ اس بات کا حساب بھی کرلے کہ اس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کو کتنا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ اسٹیل مل اور ریکوڈک کیس میں عدالت عظمی کے فیصلوں سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ کیا جائے تو ججوں کی آنے والی سینکڑوں پیڑھیاں اس مالی نقصان کو پورا نہیں کرسکیں گی جو یہ قوم بھگت چکی ہے یا اسے بھگتنا پڑے گا۔ عطا الحق قاسمی کے خلاف فیصلہ میں ان کی تقرری کو ہی ناجائز نہیں کہاگیا بلکہ بطور چئیرمین پی ٹی وی انہوں نے جو احکامات جاری کئے تھے، انہیں بھی غلط اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ یہ حکم اسی سپریم کورٹ سے جاری ہؤا ہے جو ماضی میں جمہوریت کش اقدامات کو جائز اور آمروں کی آئین شکنی کو درست قرار دیتی رہی ہے اور کسی جج کو ابھی تک اس ماضی پر شرمندگی ظاہر کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

    عطا الحق قاسمی کے خلاف سپریم کورٹ کا حکم ناانصافی ہی نہیں ، علم و فضل کی توہین کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ لکھتے ہوئے یہ بھی سوچ لینا چاہئے تھا کہ جو قوم اپنے عالموں اور دانشوروں کی توقیر نہیں کرتی زمانہ بھی انہیں عزت نہیں دیتا۔
     
  8. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,524
    بلاشبہ عطاء الحق قاسمی صاحب اُردو زبان و ادب کا ایک معتبر نام ہیں بالخصوص اردو میں فکاہیہ کالم نگاری کے حوالے سے اُن کا نام صف اول میں شامل ہے۔ مزید یہ کہ وہ معتبر ادبی جرائد کے مدیر اعلیٰ بھی رہے۔ ڈراما نگاری کی تو خیر کیا ہی بات کی جائے۔ اس لحاظ سے وہ ہماری دانست میں پی ٹی وی کی چیئرمین شپ کے لیے نااہل فرد تصور نہیں کیے جا سکتے تھے۔ تاہم، یہ عدلیہ کا فیصلہ ہے اور اسے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ مجموعی حوالے سے کالم برا نہیں ہے۔ معاشرے کے ایک طبقے کے جذبات کا نپے تلے انداز میں اظہاریہ ہے۔
     
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,640
    متفق۔ عطاءالحق قاسمی کے اردو زبان وادب میں مقام پر کسی کو اعتراض نہیں۔ اور نہ ہی اس پر عدالت نے کوئی قدغن لگائی ہے۔ اصل مسئلہ وہی سیاسی نوعیت کا ہے۔ یعنی اپنے اختیارات سے تجاوز ات کا۔ جس کے تحت عدالت عظمیٰ نے سزائیں سنائی ہیں۔
     
  10. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    660
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    محترم کیا کسی معتبر شخصیت کو قانون شکنی، اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت یا لائسنس ٹو کِل دیا جا سکتا ہے؟ یاد کیجئے وہ واقعہ کہ جبقبیلہ قریش کی ایک مخزوی عورت نے چوری کی تھی اور آپﷺ سے اس کی سزا کی معطلی کے لیے سفارش کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا تھا ''اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئےکہ ان میں سے جب کو کوئی معزز چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کر دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمدﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا''۔
     
  11. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,524
    آپ ہمارا مراسلہ دوبارہ پڑھیے۔ آپ کو ہماری کس بات پر اعتراض ہے؟
     
  12. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    660
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ایسے معززین جوقانون شکنی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کریں، ان کے لیے معزز کا لفظ استعمال کرنا بھی میرے نزیک جائز نہیں۔ قاسمی نے کیا لکھا، کیا کیا مجھے اس سے غرض نہیں، لیکن ایک پبلک فگر کی طرف سے اختیارات کا ناجائز استعمال عام لوگوں کو اسے اپنانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ جو کسی کے آئیدیل ہوتے ہیں اگر وہ غلط کام کرتے ہیں تو وہ کام پھر صرف غلط کام نہیں رہتا غلط العام بن جاتا ہے۔ میں نے اسی مناسبت سے حدیث کا حوالہ دیا تھا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ باپ سگریٹ پیے تو سب سے پہلے اسے اس کا بیٹا اپناتا ہے پہلے پہل وہ سگریٹ کی بجائے پنسل منہ میں رکھے گا پھر بار سگریٹ پینے پر جا رکے گی۔
     
  13. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,524
    بے جا اعتراض!
     
  14. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    660
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مقامِ حیرت ہے کہ موضوع کی مناسبت سے حدیث کوٹ کرنے کے بعد بھی آپ کو یہ بے جا نظر آ رہا ہے۔
     
  15. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,524
    ہمیں اب تک حیرت ہے کہ آپ کیا بات سمجھانا چاہ رہے ہیں۔ ارے بھئی! کسی نے جرم کیا ہے تو اسے سزا دیجیے تاہم ہمارا استدلال یہ ہے کہ انسان خیر اور شر کا مجموعہ ہے۔ کسی انسان کی شخصیت کا صرف ایک پہلو نہیں ہوتا ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ سزا بھی دی جائے اور اس فرد کی کسی اچھی بات کو بھی سامنے نہ لایا جائے تو پھر ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہم تو یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ کسی کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کے پیش نظر اس کے جرائم سے صرفِ نظر کیا جائے۔ وہ کیا ہے کہ دراصل ہم شاہ مدار نہیں ہیں نا! بات کو سمجھیے!
     
  16. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    660
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کس پوائنٹ کو میں نے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر بندہ جو کسی کا آئیڈیل ہو سکتا ہے کا جرم صرف جرم نہیں جرم العام بن سکتا ہے پھر سبھی بھیڑ چال میں اسی غلط العام کو نارمل چیز کی طرح لینا شروع ہو جاتے ہیں۔میں نے کبھی کسی عام بندے کے جرم کو اجاگر نہیں کیا، لیکن ایک پبلک فگر کا جرم ضرور اجاگر کیا کرتا ہوں۔
     
  17. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,524
    چلیے، آپ کی بات سامنے آ گئی اور ہمارا موقف بھی سامنے آ گیا۔ آپ کے وقت کا شکریہ!
     

اس صفحے کی تشہیر